يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَسْـَٔلُوا۟ عَنْ أَشْيَآءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْـَٔلُوا۟ عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ ٱلْقُرْءَانُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا ٱللَّهُ عَنْهَا ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ
مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
[١٤٩] یعنی ایسے سوال رسول اللہ سے نہ کیا کرو جن میں نہ تمہارا کوئی دینی فائدہ ہو اور نہ دنیوی کیونکہ خواہ مخواہ سوال پوچھنے سے انسان کو نقصان ہی ہوتا ہے یا اس پر کوئی پابندی عائد ہوجاتی ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔- ١۔ کثرت سوال کی ممانعت :۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگوں نے آپ سے ایسی باتیں پوچھیں کہ آپ کو برا معلوم ہوا۔ جب بہت سوال جواب ہوئے تو آپ کو غصہ آگیا۔ آپ نے فرمایا اب جو چاہو پوچھتے جاؤ۔ ایک شخص (عبداللہ بن حذافہ، جسے لوگ متہم کرتے تھے) نے کہا : میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر دوسرا شخص (سعد بن سالم) کہنے لگا : یا رسول اللہ میرا باپ کون ہے ؟ فرمایا تیرا باپ سالم ہے شیبہ کا غلام۔ جب سیدنا عمر نے آپ کے چہرہ مبارک کے غصہ کو دیکھا تو کہنے لگے یا رسول اللہ ہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب العلم۔ باب الغضب فی الموعظۃ والتعلیم اذا رای مایکرہ) - ٢۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک شخص نے پوچھا : میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا دوزخ میں (بخاری۔ کتاب الاعتصام۔ باب مایکرہ من کثرۃ السوال )- ٣۔ سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بڑا قصور وار وہ مسلمان ہے جو ایک بات پوچھے جو حرام نہ ہو لیکن اس کے پوچھنے کی وجہ سے حرام ہوجائے (حوالہ ایضاً )- ٤۔ آپ نے منع فرمایا : بےفائدہ بک بک کرنے، زیادہ سوال کرنے، مال و دولت ضائع کرنے، ماؤں کو ستانے، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے، دوسروں کا حق دبانے سے۔ (بحوالہ ایضاً )- ٥۔ ایک شخص (اقرع بن حابس) نے پوچھا : یا رسول اللہ کیا حج ہر سال فرض ہے ؟ آپ چپ رہے۔ سائل نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا نہیں۔ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج واجب ہوجاتا (اور تم نباہ نہ سکتے) اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)- ٦۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی نے فرمایا کہ جو میں چھوڑوں یعنی اس کا ذکر نہ کروں تم بھی اس کا ذکر نہ کرو۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی بنا پر تباہ ہوگئے۔ (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب توقیرہ و ترک اکثار سوالہ ممالا ضرورۃ الیہ۔۔ الخ)- ٧۔ سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس کام سے میں تمہیں منع کروں اس سے باز رہو اور جس کام کا حکم دوں اسے جہاں تک ہو سکے بجا لاؤ کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے پیغمبروں سے اختلاف کرنے کی وجہ سے تباہ ہوگئے (مسلم حوالہ ایضاً )- آپ نے فرمایا اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو (ٹھیک طرح سے بجا لاؤ) اور کچھ چیزیں حرام کی ہیں ان کے پاس نہ پھٹکو، کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے اس کو بھول لاحق ہو لہذا انکی کرید نہ کرو۔ (بیہقی بحوالہ الموافقات للشاطبی اردو ترجمہ ج ١ ص ٢٩١)