Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 101–110 of 120

101

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَسْـَٔلُوا۟ عَنْ أَشْيَآءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْـَٔلُوا۟ عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ ٱلْقُرْءَانُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا ٱللَّهُ عَنْهَا ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ

مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے

لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ ۔۔ : یعنی اگر بلا ضرورت سوال کرو گے اور اس کا جواب تمہاری آسانی کے خلاف اتر آیا تو خواہ مخواہ مشکل میں پڑجاؤ گے اور پھر بجا نہ لانے کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نافرمان قرار پاؤ گے۔ اب جب کہ قرآن اتر رہا ہے، تمہارے سوالوں کا جواب بھی اتر سکتا ہے، تو تم بہت سی چیزوں کو اپنے اوپر فرض یا حرام قرار دلوا لو گے۔ اس بنا پر متعدد روایات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زیادہ سوال کرنے سے منع فرمایا۔ سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے جرم کے لحاظ سے سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال کیا جو حرام قرار نہیں دی گئی تھی، پھر اس کے سوال کی وجہ سے حرام قرار دے دی گئی۔ “ [ بخاری، الاعتصام، باب ما یکرہ من کثرۃ السؤال۔۔ : ٧٢٨٩۔ مسلم : ٢٣٥٨ ] مزید دیکھیے سورة بقرہ (١٠٨) ۔- عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا ۭ: ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس سے پہلے جو سوال تم کرچکے اللہ تعالیٰ نے وہ معاف فرما دیے ہیں اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور معافی ہے کہ اس نے ان چیزوں سے در گزر کیا ہے، بیان نہیں فرمایا اور تمہارے لیے ان کے کرنے اور نہ کرنے کی گنجائش باقی چھوڑ دی۔ (رازی، ابن کثیر)

Al-Maaida 5:101Listen in Qur'an →
102

قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌۭ مِّن قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا۟ بِهَا كَٰفِرِينَ

اس طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہو گئے

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ۔۔ : یہ بنی اسرائیل کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ ان کا حال یہ تھا کہ اپنے انبیاء سے ایک چیز خواہ مخواہ کرید کرید کر دریافت کرتے اور جب وہ حرام قرار دے دی جاتی تو بجا نہ لاتے، اس طرح دونوں حالتوں میں نافرمان ٹھہرتے۔ یہ ساری آفت بلا ضرورت کثرت سوال سے پیش آتی۔ ان کی اس روش کی متعدد مثالیں سورة بقرہ میں گزر چکی ہیں۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : ” لوگو اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، لہٰذا حج کرو۔ “ تو ایک آدمی نے کہا : ” یا رسول اللہ کیا ہر سال ؟ “ آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ اس نے تین بار یہی بات کہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر میں ہاں کہہ دیتا تو فرض ہوجاتا اور تم نہ کرسکتے۔ “ پھر فرمایا : ” مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اپنے سوالوں کی کثرت اور انبیاء سے اختلاف کی وجہ ہی سے ہلاک ہوئے، تو جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس میں سے جتنا کرسکو کرو اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں تو اسے چھوڑ دو ۔ “ [ مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر : ١٣٣٧ ]

Al-Maaida 5:102Listen in Qur'an →
103

مَا جَعَلَ ٱللَّهُ مِنۢ بَحِيرَةٍۢ وَلَا سَآئِبَةٍۢ وَلَا وَصِيلَةٍۢ وَلَا حَامٍۢ ۙ وَلَٰكِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ

خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا ہے اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افترا کرتے ہیں اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ ۔۔ : اوپر کی آیات میں ایسی باتوں کو کرید کرنے اور ایسے سوال کرنے سے منع فرمایا جو لوگوں پر لازم نہیں کی گئیں، اب اس آیت میں ایسے کام اپنے اوپر لازم کرلینے سے منع فرمایا جو اللہ کی طرف سے لازم نہ ہوں۔ (کبیر) - اہل عرب زمانۂ جاہلیت میں بتوں کے نام پر جانور چھوڑ دیتے، پھر ان سے فائدہ اٹھانا حرام سمجھتے۔ یہاں چار قسم کے جانور بیان کیے ہیں، سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں : 1 ” بحیرہ “ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک لیا جاتا، پھر لوگوں میں سے کوئی اسے نہیں دوھتا تھا۔ 2 ” سائبہ “ وہ جسے وہ اپنے معبودوں کے لیے کھلا چھوڑ دیتے اور اس پر کوئی چیز نہیں لادی جاتی تھی۔ 3 ” وصیلہ “ وہ اونٹنی جو پہلی دفعہ مادہ بچہ دیتی، پھر دوسری بار بھی مادہ بچہ دیتی، وہ اسے اپنے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے ( کیونکہ وصیلہ وصل سے نکلا ہے) یہ نام اس لیے رکھتے کہ اس نے دو مادہ بچے یکے بعد دیگرے جنے ہیں، بیچ میں نر نہیں ہے۔ 4 ” حام “ وہ سانڈ اونٹ جس کے جفتی کرنے سے اونٹنیوں کی ایک مخصوص تعداد حاملہ ہوتی، اسے وہ اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس پر کوئی چیز نہ لادتے اور اس کا نام ” حامی “ رکھتے۔ سعید بن مسیب (رض) ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی انتڑیاں آگ میں کھینچ رہا تھا، یہ پہلا شخص تھا جس نے سائبہ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : ( ما جعل اللہ من بحیرۃ ۔۔ ) : ٤٦٢٣ ] بحیرہ، سائبہ وغیرہ کی یہ تفسیر سعید بن مسیب (رض) نے کی ہے، مشرکین عرب کسی ایک دین پر تو متفق تھے نہیں، خصوصاً بدعات ہر قبیلے کی الگ الگ ہوتی ہیں، اس لیے تابعین سے ان چاروں کی تفسیر اور بھی آئی ہے، چناچہ بعض نے فرمایا کہ بحیرہ وہ ہے جس کا کان بتوں کے نام پر پھاڑا ہوا ہو۔ یہ ” بحر “ سے ” فَعِیْلَۃٌ“ بمعنی ” مَفْعُوْلَۃٌ“ ہے، جس کا معنی شق یعنی پھاڑنا ہے۔ سائبہ آزاد چھوڑی ہوئی، جس اونٹنی کے پیٹ سے دس بچے سب کے سب مؤنث پیدا ہوتے تو اسے چھوڑ دیتے، نہ اس پر سواری کی جاتی نہ اس کے بچے اور مہمان کے سوا کوئی اس کا دودھ پیتا۔ وصیلہ دو مادہ بچے سات مرتبہ یکے بعد دیگرے لانے والی۔ حامی یعنی اپنی حفاظت کرنے والا، جس اونٹ کی پشت سے دس بچے پیدا ہوجاتے اسے سانڈ بنا کر چھوڑ دیتے کہ اس نے اپنی پشت محفوظ کرلی ہے، پھر اس پر نہ سواری کی جاتی نہ بوجھ لادا جاتا نہ اسے پانی یا چارے سے روکا جاتا۔ مزید ظلم یہ کرتے کہ ایسا کرنے کو اللہ کا حکم قرار دیتے۔ اللہ نے اس کی تردید ” مَا جَعَلَ اللّٰه “ کہہ کر فرمائی۔ ان کی دوسری تشریحات بھی تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں اور اس کی وجہ اوپر گزر چکی کہ عرب کے جاہلوں میں سے ہر ایک کا الگ ہی طریقہ تھا۔ غیر اللہ کے نام پر جانور چھوڑنے کا یہ سلسلہ اب بھی کفار کے علاوہ نام نہاد مسلمانوں میں جاری ہے، مثلاً پیروں کی گائیں، یا مختلف درباروں کے نام کے جانور جہاں چاہیں پھریں، انھیں کچھ نہیں کہا جاتا۔

Al-Maaida 5:103Listen in Qur'an →
104

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ قَالُوا۟ حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۚ أَوَلَوْ كَانَ ءَابَآؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْـًۭٔا وَلَا يَهْتَدُونَ

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟)

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۔۔ : اس آیت میں اگرچہ عرب کے مشرکین کی بات ہو رہی ہے مگر لفظ عام ہیں جن میں ان تمام لوگوں کی مذمت کی جا رہی ہے جو حق بات پر غور و فکر کرنے اور اسے مان لینے کے بجائے اپنے باپ دادا کے رسم و رواج یا مذہبی پیشواؤں کی تقلید کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات میں ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (١٧٠) ۔

Al-Maaida 5:104Listen in Qur'an →
105

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا ٱهْتَدَيْتُمْ ۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اے ایمان والو! اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا میں) کئے تھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے گا)

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚ۔۔ : یعنی توحید اور شریعت کے احکام کی اس قدر وضاحت اور بار بار ترغیب دلانے اور اللہ کے احکام کی نافرمانی اور اس کے عذاب سے ڈرانے کے باوجود اگر یہ لوگ اپنی جہالت پر اصرار کریں تو تم ان کی گمراہی اور جہالت کی پروا نہ کرو، خود سیدھے راستے پر رہو گے تو ان لوگوں کی جہالت کا تم پر کوئی وبال نہیں ہوگا۔ یعنی اپنی اصلاح کی سب سے پہلے فکر کرو، ایسا نہ ہو کہ دوسروں کی غلطیوں اور عیوب کی فکر میں لگ کر اپنی اصلاح کو بھول ہی جاؤ۔ اگر تم سیدھے راستے پر ہو گے تو گمراہ لوگ تمہارا کچھ نقصان نہیں کرسکیں گے۔ خود سیدھے راستے اور ہدایت پر رہنے میں یہ بھی شامل ہے کہ نیکی کا حکم دیتے رہو گے اور برائی سے منع کرتے رہو گے تو ان کی گمراہی قطعاً تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ انسان بس اپنی نجات کی فکر کرے، دوسروں کی اصلاح ضروری نہیں۔ چناچہ اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے ابوبکر صدیق (رض) نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : ” لوگو تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا غلط مطلب لیتے ہو، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے سنا ہے : ” جب لوگ ظالم کو دیکھیں، پھر اس کا ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب لے آئے۔ “ اسی حدیث میں ہے : ” کوئی قوم ایسی نہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر عمل کیا جاتا ہو، پھر وہ طاقت رکھتے ہوں کہ اسے بدل دیں، مگر وہ نہ بدلیں مگر قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ “ [ أبو داوٗد، الملاحم، باب الأمر والنہی : ٤٣٣٨ ] ” َ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ “ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ باوجود تمہارے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے لوگ باز نہ آئیں تو امر بالمعروف کرنے والوں پر کچھ بوجھ نہیں ہوگا۔ (ابن کثیر)

Al-Maaida 5:105Listen in Qur'an →
106

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ شَهَٰدَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ حِينَ ٱلْوَصِيَّةِ ٱثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍۢ مِّنكُمْ أَوْ ءَاخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَأَصَٰبَتْكُم مُّصِيبَةُ ٱلْمَوْتِ ۚ تَحْبِسُونَهُمَا مِنۢ بَعْدِ ٱلصَّلَوٰةِ فَيُقْسِمَانِ بِٱللَّهِ إِنِ ٱرْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِى بِهِۦ ثَمَنًۭا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَٰدَةَ ٱللَّهِ إِنَّآ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلْءَاثِمِينَ

مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو جب تم سفر کی حالت میں ہو اور تم پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں اور تمہارے پاس کوئی مال یا اثاثہ ہو تو اللہ کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے دو عدل و صدق والے آدمیوں کو اس پر گواہ بنادو ۔ جو میت کے وارثوں کے پاس مرنے والے کا سامان پہنچا دیں، اگر ان دونوں گواہوں کے بارے میں میت کے ورثا کو شبہ ہوجائے کہ انھوں نے خیانت کی ہے اور میت کا کچھ مال چھپالیا ہے تو انھیں نماز کے بعد حلف اٹھانے کے لیے روک لیا جائے گا، پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں گے اور کہیں گے کہ ہم مال کی وجہ سے اللہ کی جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے، چاہے جسے فائدہ پہنچانے کے لیے ہم قسم کھا رہے ہیں وہ ہمارا رشتے دار ہی کیوں نہ ہو اور جس گواہی کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے نہیں چھپائیں گے، اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً گناہ گاروں میں سے ہوں گے۔ اگر ان دونوں کے قسم کھا لینے کے بعد پتا چل جائے کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو میت کے رشتے داروں میں سے دو قریبی رشتے دار آگے بڑھیں گے اور حلف اٹھائیں گے کہ ہم دونوں کی گواہی کہ ان دونوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹی قسم کھائی ہے، ان دونوں کی گواہی سے زیادہ قابل قبول ہے اور یہ کہ ہم نے ان پر خیانت کی جو شہادت دی ہے تو اس میں ہم نے ان پر زیادتی نہیں کی، اگر ہم نے زیادتی کی ہے تو یقیناً ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس طرح حلف لینے کی حکمت و مصلحت بیان فرمائی کہ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ گواہ آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہوئے امر واقع میں کوئی تبدیلی لائے بغیر گواہی دیں گے اور خیانت کی شکل میں دو قریبی رشتہ داروں سے حلف لینے کی حکمت یہ ہے کہ حالت سفر کے گواہ ڈریں گے کہ اگر ہم نے جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ رد کردی جائے گی، کیونکہ قریبی رشتہ دار قسم کھائیں گے اور ہمارا جھوٹ لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائے گا۔ - ان آیات کی شان نزول یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ بنو سہم قبیلے کا ایک (مسلم) شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر کے لیے نکلا۔ ( یہ دونوں اس وقت نصرانی تھے) سہمی کو اس سر زمین پر موت آئی جہاں کوئی مسلمان نہ تھا جسے وہ وصیت کرتا، لہٰذا اس نے اپنا سامان تمیم داری اور عدی کے حوالے کردیا، پھر جب وہ دونوں اس کے ترکے کے ساتھ واپس آئے تو ورثا نے دیکھا کہ چاندی کا ایک جام، جس پر سونے کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے، غائب ہے۔ (مقدمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ گیا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمیم داری اور عدی سے قسم لی ( اور انھیں چھوڑ دیا) بعد میں وہ جام مکہ میں ملا، ان لوگوں نے ( جن کے پاس سے وہ جام ملا تھا) کہا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی بن بداء سے خریدا ہے، پھر اس سہمی کے ورثا میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے اور انھوں نے گواہی دی کہ یقیناً یہ جام ہمارے قریبی رشتے دار، یعنی سہمی کا جام ہے، چناچہ یہ آیت انھی کے بارے میں نازل ہوئی : (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ ) [ المائدۃ : ١٠٦ ] [ بخاری، الوصایا، باب قول اللہ عزوجل : ( یایھا الذین اٰمنوا شھادۃ بینکم۔۔ ) : ٢٧٨ ]

Al-Maaida 5:106Listen in Qur'an →
107

فَإِنْ عُثِرَ عَلَىٰٓ أَنَّهُمَا ٱسْتَحَقَّآ إِثْمًۭا فَـَٔاخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْأَوْلَيَٰنِ فَيُقْسِمَانِ بِٱللَّهِ لَشَهَٰدَتُنَآ أَحَقُّ مِن شَهَٰدَتِهِمَا وَمَا ٱعْتَدَيْنَآ إِنَّآ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں

Explained together with ayah 106

Al-Maaida 5:107Listen in Qur'an →
108

ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يَأْتُوا۟ بِٱلشَّهَٰدَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَآ أَوْ يَخَافُوٓا۟ أَن تُرَدَّ أَيْمَٰنٌۢ بَعْدَ أَيْمَٰنِهِمْ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱسْمَعُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٰسِقِينَ

اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گوشِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

Explained together with ayah 106

Al-Maaida 5:108Listen in Qur'an →
109

۞ يَوْمَ يَجْمَعُ ٱللَّهُ ٱلرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَآ أُجِبْتُمْ ۖ قَالُوا۟ لَا عِلْمَ لَنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ

(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں توہی غیب کی باتوں سے واقف ہے

يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ ۔۔ : دین کے کچھ مسائل اور احکام بیان کرنے کے بعد اب قیامت کے بعض احوال ذکر فرما دیے، تاکہ نافرمانی کرنے والوں کو تنبیہ ہو۔ (کبیر) مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن پیغمبروں کو جمع کرکے ان سے سوال ہوگا کہ جو دعوت تم نے دی تھی تمہاری امتوں نے اسے کس حد تک قبول کیا۔ پیغمبروں سے یہ سوال درحقیقت امتوں کو ڈانٹ ڈپٹ اور ملامت کے لیے ہوگا۔ (ابن کثیر) جیسا کہ آیت : (وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ )” جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا “ یہ سوال درحقیقت زندہ درگور کرنے والوں کو ذلیل کرنے کے لیے ہوگا۔ - قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ۭ۔۔ : وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امتوں کے اپنے اپنے رسولوں کو جواب کا کچھ علم تو پیغمبروں کو تھا، کیونکہ ان کی عمر انھی میں گزری تھی، تو وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں کچھ علم نہیں۔ اس سوال کا جواب (اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ ) میں موجود ہے، یعنی ہم تو صرف ان کے ظاہری جواب کی حد تک واقف ہیں، جو ہماری زندگی میں انھوں نے دیا اور پیغمبر شہادت بھی اسی کے متعلق دیں گے۔ (دیکھیے نساء : ٤١۔ بقرہ : ١٤٣) باقی رہا کہ انھوں نے فی الحقیقت ہماری دعوت کو دل سے قبول کیا یا نہیں اور ہمارے بعد ہماری امتیں اس دعوت پر کہاں تک ثابت قدم رہیں تو اس کا علم تیرے سوا کسی کو نہیں، کیونکہ چھپی ہوئی باتوں کو تو ہی خوب جاننے والا ہے، سو آیات میں بحمد اللہ کوئی تعارض نہیں۔ (کبیر) شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں کہ یہ ان کو سنایا جو پیغمبروں کی شفاعت پر مغرور ہیں، تاکہ معلوم کریں کہ اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی کسی کے دل پر گواہی نہیں دیتا اور کوئی کسی کی سفارش نہیں کرتا۔ (موضح)

Al-Maaida 5:109Listen in Qur'an →
110

إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱذْكُرْ نِعْمَتِى عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَٰلِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ تُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًۭا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ بِإِذْنِى فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِى ۖ وَتُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ بِإِذْنِى ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِى ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

جب خدا (عیسیٰ سے) فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرے ان احسانوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے جب میں نے روح القدس (یعنی جبرئیل) سے تمہاری مدد کی تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی نسق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کر دیتے تھے اور مردے کو میرے حکم سے (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا جب تم ان کے پاس کھلے نشان لے کر آئے تو جو ان میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ صریح جادو ہے

چونکہ پیغمبروں سے سوال امتوں کے سرکش لوگوں کو ڈانٹنے اور ملامت کرنے کے لیے ہوگا اور سب سے زیادہ ملامت کے لائق نصاریٰ ہوں گے جنھوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بنا لیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی اور اولاد ثابت کی تھی ( جس سے اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے) اس بنا پر تمام پیغمبروں کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) پر اپنے انعامات ذکر فرمائیں گے اور پھر ان سے سوال ہوگا، اس سے مقصد نصرانیوں کی تردید ہے۔ (کبیر) - اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۣ : یعنی جبریل (علیہ السلام) کو تمہاری مدد کے لیے مقرر کردیا تھا۔ پہلا احسان یہ ذکر فرمایا۔ - وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ : یہاں ” تَخْلُقُ “ کا لفظ صرف ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا : ( أَحْیُوْا مَا خَلَقْتُمْ ) ” جو تم نے خلق کیا ہے اسے زندہ کرو۔ “ [ بخاری، اللباس، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ : ٥٩٥١ ] پیدا کرنے اور زندگی دینے کے معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (٤٩) ۔ - كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ : اس آیت میں ” بِاِذْنِيْ “ ( میرے حکم سے) کا لفظ چار مرتبہ آیا ہے، جس سے بتانا یہ مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو عیسیٰ ( (علیہ السلام) ) یہ معجزات نہیں دکھا سکتے تھے اور یہی حال ہر نبی کے معجزات کا ہے، وہ نہ عالم الغیب ہوتے ہیں، نہ انھیں ہر کام کا اختیار ہوتا ہے، جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا جائے یا جس کام کا اختیار دیا جائے صرف وہی ان کے علم اور اختیار میں ہوتا ہے۔ - وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۔ : یہودیوں نے جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے شر سے محفوظ رکھا اور اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (٥٥) اور سورة نساء (١٥٨) یہ بھی احسان فرمایا۔ - اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ: عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے منکروں نے ان کے معجزات کو کھلا جادو قرار دیا۔ بدبخت اتنا نہ سمجھ سکے کہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفایاب اور مردے کو زندہ کرنا کسی جادوگر کے لیے ممکن نہیں، چاہے وہ جادو میں کتنا ہی کمال کیوں نہ رکھتا ہو اور یوں بھی جادو کرنا اور کرانا فاسق و بدکار قسم کے لوگوں کا کام ہے، حالانکہ وہ خود دیکھ رہے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) انھیں ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کا حکم دیتے تھے۔ یہود کی اس حرکت کی بنیاد حسد تھی اور سچ ہے کہ ” کُلُّ ذِیْ نِعْمَۃٍ مَحْسُوْدٌ“ ہر صاحب نعمت پر لوگ حسد کرتے ہیں۔

Al-Maaida 5:110Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.