Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 101–110 of 120

101

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَسْـَٔلُوا۟ عَنْ أَشْيَآءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْـَٔلُوا۟ عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ ٱلْقُرْءَانُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا ٱللَّهُ عَنْهَا ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ

مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے

(آیت) ” نمبر 101 تا 102۔

بعض صحابہ کرام ؓ اجمعین حضور ﷺ سے بہت سوالات کرتے تھے ‘ اور یہ سوالات ان باتوں کے متعلق ہوتے تھے جن میں کوئی امر یا نہی نازل نہ ہوئی تھی ۔ یہ لوگ بعض ایسے معاملات کی تفصیل میں زیادہ دلچسپی لیتے جن کو قرآن نے مجمل چھوڑا تھا اور اس اجمال کی وجہ سے لوگوں پر ایک قسم کی سہولت تھی ۔ بعض اوقات وہ ایسے معاملات کے بارے میں پوچھتے جن کے جوابات کی ضرورت ہی نہ تھی ‘ کیونکہ یہ ممکن تھا کہ خود سائل کو وہ انکشاف اچھا نہ لگے ۔ یہ اس سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت ملے ۔

روایات میں آتا ہے کہ فرضیت حج کی آیت پر کسی نے یہ پوچھا کہ کیا ہر سال حج فرض ہوگیا ہے ؟ تو حضور نے اس سوال پر بہت ہی ناراضگی کا اظہار فرمایا کیونکہ آیت حج میں اجمال تھا ۔

(آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ اللہ کی جانب سے لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے ‘ اس پر جو راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔ زندگی میں ایک بار حج کرکے اس آیت پر عمل ہوسکتا تھا ۔ اس طرح اگر حضور اس آیت کی یہ تفسیر کردیتے کہ ” ہر سال “ تو اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہوجاتیں حالانکہ اللہ نے لوگوں کو ان میں ڈالنا مناسب نہ سمجھا تھا ۔

ترمذی اور دارقطنی نے حضرت علی ؓ سے ایک حدیث مرسل روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔

(آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ تو لوگوں نے پوچھا حضور ہر سال میں ؟ تو آپ خاموش ہوگئے ۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کیا ہر سال میں ؟ تو آپ نے فرمایا ” نہیں اگر میں کہتا کہ ” ہاں “ تو یہ ہمیشہ کے لئے فرض ہوجاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر حج فرض کردیا گیا ہے ۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور سوال کردیا کہ کیا ہر سال ؟ حضور ﷺ نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اس کے بعد اس نے پھر سوال کیا ” حضور ہر سال ؟ “ تو حضور ﷺ نے پوچھا یہ سائل کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتلایا کہ فلاں فلاں ہے ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں کہہ دیتا ہاں تو یہ ہر سال واجب ہوجاتا اور اگر ہر سال واجب ہوتا تو تم ہر گز اسے ادا نہ کرسکتے اور اگر تم نہ کرسکتے تو کافر ہوجاتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) ایک دوسری حدیث کا مضمون یہ ہے ‘ اور یہ امام مسلم نے صحیح مسلم میں نقل کی ہے ۔ وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آپ ﷺ نے ایک موقعہ پر فرمایا جب تک میں اس جگہ کھڑا ہوں پوچھو جو پوچھتے ہو ۔ میں تمہیں اطلاع دوں گا ۔ “ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا : حضور ﷺ میں کہاں داخل ہوں گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” آگ میں “ ۔ عبداللہ ابن حذافہ ؓ نے پوچھا : میرے باپ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے ۔ (ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ عبداللہ ابن حذافہ قدیم الاسلام تھے ۔ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ‘ بدر میں شریک ہوئے ‘ یہ نہایت ہی خوش مزاج تھے ، حضور ﷺ نے انہیں کسری کے پاس پیغام دے کر بھیجا تھا ۔ جب حضور ﷺ کے ساتھ اس کا یہ سوال و جواب ہوا کہ میرا باپ کون ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا حذافہ تو اس کی ماں نے کہا میں نے تم جیسا نافرمان بیٹا نہیں دیکھا ۔ ” کیا تم کو یہ اطمینان تھا کہ میں نے جاہلیت کی عورتوں کی طرح گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ؟ تم مجھے مجمع عام میں شرمندہ کرنا چاہتے تھے ؟ اس پر عبداللہ نے کہا : ” خدا کی قسم اگر حضور ﷺ مجھے ایک کالے غلام کا بیٹا بتلاتے تو میں اس کے ساتھ اپنا نسب ملا دیتا۔ “

ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے ۔ ایک دن حضور ﷺ نہایت ہی جلال میں تھے آپ ﷺ کا چہرہ سرخ تھا ۔ آپ منبر پر بیٹھے ۔ ایک شخص نے پوچھا حضور ﷺ میں کہاں ہوں گا تو آپ نے فرمایا ” آگ …

Al-Maaida 5:101Listen in Qur'an →
102

قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌۭ مِّن قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا۟ بِهَا كَٰفِرِينَ

اس طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہو گئے

(آیت) ” نمبر 101 تا 102۔

بعض صحابہ کرام ؓ اجمعین حضور ﷺ سے بہت سوالات کرتے تھے ‘ اور یہ سوالات ان باتوں کے متعلق ہوتے تھے جن میں کوئی امر یا نہی نازل نہ ہوئی تھی ۔ یہ لوگ بعض ایسے معاملات کی تفصیل میں زیادہ دلچسپی لیتے جن کو قرآن نے مجمل چھوڑا تھا اور اس اجمال کی وجہ سے لوگوں پر ایک قسم کی سہولت تھی ۔ بعض اوقات وہ ایسے معاملات کے بارے میں پوچھتے جن کے جوابات کی ضرورت ہی نہ تھی ‘ کیونکہ یہ ممکن تھا کہ خود سائل کو وہ انکشاف اچھا نہ لگے ۔ یہ اس سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت ملے ۔

روایات میں آتا ہے کہ فرضیت حج کی آیت پر کسی نے یہ پوچھا کہ کیا ہر سال حج فرض ہوگیا ہے ؟ تو حضور نے اس سوال پر بہت ہی ناراضگی کا اظہار فرمایا کیونکہ آیت حج میں اجمال تھا ۔

(آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ اللہ کی جانب سے لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے ‘ اس پر جو راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔ زندگی میں ایک بار حج کرکے اس آیت پر عمل ہوسکتا تھا ۔ اس طرح اگر حضور اس آیت کی یہ تفسیر کردیتے کہ ” ہر سال “ تو اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہوجاتیں حالانکہ اللہ نے لوگوں کو ان میں ڈالنا مناسب نہ سمجھا تھا ۔

ترمذی اور دارقطنی نے حضرت علی ؓ سے ایک حدیث مرسل روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔

(آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ تو لوگوں نے پوچھا حضور ہر سال میں ؟ تو آپ خاموش ہوگئے ۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کیا ہر سال میں ؟ تو آپ نے فرمایا ” نہیں اگر میں کہتا کہ ” ہاں “ تو یہ ہمیشہ کے لئے فرض ہوجاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر حج فرض کردیا گیا ہے ۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور سوال کردیا کہ کیا ہر سال ؟ حضور ﷺ نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اس کے بعد اس نے پھر سوال کیا ” حضور ہر سال ؟ “ تو حضور ﷺ نے پوچھا یہ سائل کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتلایا کہ فلاں فلاں ہے ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں کہہ دیتا ہاں تو یہ ہر سال واجب ہوجاتا اور اگر ہر سال واجب ہوتا تو تم ہر گز اسے ادا نہ کرسکتے اور اگر تم نہ کرسکتے تو کافر ہوجاتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) ایک دوسری حدیث کا مضمون یہ ہے ‘ اور یہ امام مسلم نے صحیح مسلم میں نقل کی ہے ۔ وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آپ ﷺ نے ایک موقعہ پر فرمایا جب تک میں اس جگہ کھڑا ہوں پوچھو جو پوچھتے ہو ۔ میں تمہیں اطلاع دوں گا ۔ “ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا : حضور ﷺ میں کہاں داخل ہوں گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” آگ میں “ ۔ عبداللہ ابن حذافہ ؓ نے پوچھا : میرے باپ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے ۔ (ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ عبداللہ ابن حذافہ قدیم الاسلام تھے ۔ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ‘ بدر میں شریک ہوئے ‘ یہ نہایت ہی خوش مزاج تھے ، حضور ﷺ نے انہیں کسری کے پاس پیغام دے کر بھیجا تھا ۔ جب حضور ﷺ کے ساتھ اس کا یہ سوال و جواب ہوا کہ میرا باپ کون ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا حذافہ تو اس کی ماں نے کہا میں نے تم جیسا نافرمان بیٹا نہیں دیکھا ۔ ” کیا تم کو یہ اطمینان تھا کہ میں نے جاہلیت کی عورتوں کی طرح گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ؟ تم مجھے مجمع عام میں شرمندہ کرنا چاہتے تھے ؟ اس پر عبداللہ نے کہا : ” خدا کی قسم اگر حضور ﷺ مجھے ایک کالے غلام کا بیٹا بتلاتے تو میں اس کے ساتھ اپنا نسب ملا دیتا۔ “

ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے ۔ ایک دن حضور ﷺ نہایت ہی جلال میں تھے آپ ﷺ کا چہرہ سرخ تھا ۔ آپ منبر پر بیٹھے ۔ ایک شخص نے پوچھا حضور ﷺ میں کہاں ہوں گا تو آپ نے فرمایا ” آگ …

Al-Maaida 5:102Listen in Qur'an →
103

مَا جَعَلَ ٱللَّهُ مِنۢ بَحِيرَةٍۢ وَلَا سَآئِبَةٍۢ وَلَا وَصِيلَةٍۢ وَلَا حَامٍۢ ۙ وَلَٰكِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ

خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا ہے اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افترا کرتے ہیں اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے

(آیت) ” نمبر 103 تا 104۔

انسانوں کے دل و دماغ یا تو اس صورت پر قائم ہوں گے جس پر انہیں اللہ نے پیدا کیا ۔ وہ صرف ایک الہ کی معرفت پائیں گے ‘ ایک رب العالمین کی غلامی کریں گے ‘ اسی کی شریعت کے تابع ہوں گے اور اللہ کے علاوہ تمام دوسرے شرائع وقوانین کو ترک کردیں گے ۔ تمام دوسرے الہوں کی ربوبیت کو ترک کردیں گے اور کسی اور سر چشمے سے اپنے قوانین اور ضوابط نہ لیں گے ۔ یہ ایک نہایت ہی فطری صورت حال ہوگی ‘ بندے کا اپنے رب کے ساتھ جوڑ ہوگا ‘ اس کی عبادت اور رب کریم کے ساتھ اس کے روابط نہایت ہی سادہ ہوں گے ورنہ وہ جاہلیت کی پیچ در پیچ گزر گاہوں میں سرگرداں رہے گا ۔ کبھی بت پرست ہوگا اور تہ بہ تہ کلمات کے اندر گم کردہ راہ رہے گا ۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایک وہم اور تخیل اسے نچا رہا ہوگا ۔ جاہلیت کا ہر بت اس سے اپنے مراسم عبودیت ادا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہوگا ‘ ہر بت کا مطالبہ یہ ہوگا کہ وہ اسے راضی کرے پھر عبادات اور قربانیوں کے مراسم بھی متعدد اور متضاد ہوں گے اور ایک بت پرست کے ذہن میں کوئی اصول نہ ہوگا ۔ وہ عبادات کے مراسم کو ادا کرتا چلا جائے گا اور اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے گی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ؟ مختلف اور متفرق ارباب کی بندگی اسے تھکا کر چور چور کر دے گی اور اس کی انسانیت کا وہ شرف بھی ختم ہوجائے گا جو اللہ نے انسان کو دیا تھا ۔

جب اسلام آیا تو انسانیت موخر الذکر حالت میں تھی ۔ اس نے لوگوں کے سامنے نظریہ توحید پیش کیا اور بتایا کہ قوت حاکمہ ایک ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے ۔ اس نے صرف ایک رب کی بندگی کا نظریہ دیا تاکہ لوگ ایک دوسرے کی بندگی اور غلامی سے نجات پالیں ۔ نظریہ توحید کے ذریعے انسان کو متفرق الہوں کی بندگی سے نجات ملی اور انسانی ضمیر ادہام وخرامات کے ناقابل برداشت بوجھ سے نجات پا گیا ۔

انسانی فہم ودراک اور عقلمندی نے اپنا اصل مقام و مرتبہ پایا اور انسان کو مختلف اور متضاد مراسم عبودیت سے نجات ملی ۔ پھر انسان نے بت پرستی کے خلاف جہاد شروع کیا اور اس کی تمام شکلوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ۔ اس کے بعد زندگی کے تمام نشیب و فراز میں اس کا پیچھا کیا ‘ دل کی گہرائیوں ‘ عبادت کے طریقوں ‘ زندگی کی رسومات اور نظام قانون اور نظام حکومت ہر جگہ سے بت پرستی کا قلع قمع کردیا گیا ۔

افکار جاہلیت میں سے یہ ایک ٹیڑھی فکر تھی ‘ جس کا قرآن کریم یہاں علاج کر رہا ہے تاکہ اسے سیدھا کر دے ‘ دیا جلا کر اس ٹیڑھی راہ کو روشن کر دے اور فکر ونظر کے اسلامی اصولوں کا دیا جلا دے ۔ اصول شریعت اور اصول نظام زندگی ۔

(آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ وَلَـکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَأَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ (103)

” اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام ۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں ۔

یہ جانوروں کی اقسام تھیں جنہیں وہ اپنے الہوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے ۔ ان کی کچھ خاص شرائط ہوتی تھیں اور یہ شرائط انہوں نے فکر ونظر کی تاریخ کے تہ بہ تہ پردوں ادہام اور خرافات سے اخذ کی تھیں ۔ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کیا تھے ؟ اور ان کے بارے میں جو ادہام و خرافات عربوں میں رائج تھے ان کا مصدر اور منبع کیا تھا ؟

ان کی تعریف میں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات کا یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا ۔ زہری نے سعید ابن مسیب سے یہ روایت کی ہے ۔ بحیرہ اونٹوں میں سے وہ قسم ہوتی ہے جس کا دودھ مالک خود استعمال نہیں کرتا تھا ۔ یہ صرف الہوں کے لئے ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ الہوں کا مال مذہبی پیشواؤں ہی کے لئے ہوتا ہوگا ۔ سائبہ وہ ہے جو وہ اپنے بتوں کی نذر کرتے تھے ۔ وصیلہ وہ ہوتی تھی جس کا پہلی بار کا بچہ مادہ ہو پھر دوبارہ بھی بچہ مادہ ہو یعنی دونوں …

Al-Maaida 5:103Listen in Qur'an →
104

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ قَالُوا۟ حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۚ أَوَلَوْ كَانَ ءَابَآؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْـًۭٔا وَلَا يَهْتَدُونَ

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟)

(آیت) ” نمبر 103 تا 104۔

انسانوں کے دل و دماغ یا تو اس صورت پر قائم ہوں گے جس پر انہیں اللہ نے پیدا کیا ۔ وہ صرف ایک الہ کی معرفت پائیں گے ‘ ایک رب العالمین کی غلامی کریں گے ‘ اسی کی شریعت کے تابع ہوں گے اور اللہ کے علاوہ تمام دوسرے شرائع وقوانین کو ترک کردیں گے ۔ تمام دوسرے الہوں کی ربوبیت کو ترک کردیں گے اور کسی اور سر چشمے سے اپنے قوانین اور ضوابط نہ لیں گے ۔ یہ ایک نہایت ہی فطری صورت حال ہوگی ‘ بندے کا اپنے رب کے ساتھ جوڑ ہوگا ‘ اس کی عبادت اور رب کریم کے ساتھ اس کے روابط نہایت ہی سادہ ہوں گے ورنہ وہ جاہلیت کی پیچ در پیچ گزر گاہوں میں سرگرداں رہے گا ۔ کبھی بت پرست ہوگا اور تہ بہ تہ کلمات کے اندر گم کردہ راہ رہے گا ۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایک وہم اور تخیل اسے نچا رہا ہوگا ۔ جاہلیت کا ہر بت اس سے اپنے مراسم عبودیت ادا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہوگا ‘ ہر بت کا مطالبہ یہ ہوگا کہ وہ اسے راضی کرے پھر عبادات اور قربانیوں کے مراسم بھی متعدد اور متضاد ہوں گے اور ایک بت پرست کے ذہن میں کوئی اصول نہ ہوگا ۔ وہ عبادات کے مراسم کو ادا کرتا چلا جائے گا اور اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے گی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ؟ مختلف اور متفرق ارباب کی بندگی اسے تھکا کر چور چور کر دے گی اور اس کی انسانیت کا وہ شرف بھی ختم ہوجائے گا جو اللہ نے انسان کو دیا تھا ۔

جب اسلام آیا تو انسانیت موخر الذکر حالت میں تھی ۔ اس نے لوگوں کے سامنے نظریہ توحید پیش کیا اور بتایا کہ قوت حاکمہ ایک ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے ۔ اس نے صرف ایک رب کی بندگی کا نظریہ دیا تاکہ لوگ ایک دوسرے کی بندگی اور غلامی سے نجات پالیں ۔ نظریہ توحید کے ذریعے انسان کو متفرق الہوں کی بندگی سے نجات ملی اور انسانی ضمیر ادہام وخرامات کے ناقابل برداشت بوجھ سے نجات پا گیا ۔

انسانی فہم ودراک اور عقلمندی نے اپنا اصل مقام و مرتبہ پایا اور انسان کو مختلف اور متضاد مراسم عبودیت سے نجات ملی ۔ پھر انسان نے بت پرستی کے خلاف جہاد شروع کیا اور اس کی تمام شکلوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ۔ اس کے بعد زندگی کے تمام نشیب و فراز میں اس کا پیچھا کیا ‘ دل کی گہرائیوں ‘ عبادت کے طریقوں ‘ زندگی کی رسومات اور نظام قانون اور نظام حکومت ہر جگہ سے بت پرستی کا قلع قمع کردیا گیا ۔

افکار جاہلیت میں سے یہ ایک ٹیڑھی فکر تھی ‘ جس کا قرآن کریم یہاں علاج کر رہا ہے تاکہ اسے سیدھا کر دے ‘ دیا جلا کر اس ٹیڑھی راہ کو روشن کر دے اور فکر ونظر کے اسلامی اصولوں کا دیا جلا دے ۔ اصول شریعت اور اصول نظام زندگی ۔

(آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ وَلَـکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَأَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ (103)

” اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام ۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں ۔

یہ جانوروں کی اقسام تھیں جنہیں وہ اپنے الہوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے ۔ ان کی کچھ خاص شرائط ہوتی تھیں اور یہ شرائط انہوں نے فکر ونظر کی تاریخ کے تہ بہ تہ پردوں ادہام اور خرافات سے اخذ کی تھیں ۔ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کیا تھے ؟ اور ان کے بارے میں جو ادہام و خرافات عربوں میں رائج تھے ان کا مصدر اور منبع کیا تھا ؟

ان کی تعریف میں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات کا یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا ۔ زہری نے سعید ابن مسیب سے یہ روایت کی ہے ۔ بحیرہ اونٹوں میں سے وہ قسم ہوتی ہے جس کا دودھ مالک خود استعمال نہیں کرتا تھا ۔ یہ صرف الہوں کے لئے ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ الہوں کا مال مذہبی پیشواؤں ہی کے لئے ہوتا ہوگا ۔ سائبہ وہ ہے جو وہ اپنے بتوں کی نذر کرتے تھے ۔ وصیلہ وہ ہوتی تھی جس کا پہلی بار کا بچہ مادہ ہو پھر دوبارہ بھی بچہ مادہ ہو یعنی دونوں …

Al-Maaida 5:104Listen in Qur'an →
105

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا ٱهْتَدَيْتُمْ ۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اے ایمان والو! اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا میں) کئے تھے آگاہ کرے گا (اور ان کا بدلہ دے گا)

(آیت) ” نمبر : 105۔

یہ اہل ایمان اور ان کے مخالف کیمپ کے درمیان ایک مکمل جدائی ہے اور ان کے اپنے درمیان باہم کفالت اور ضمانت ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یہ کہ وہ ایک امت اور ایک جماعت ہیں ۔

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ (5 : 105)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اپنی فکر کرو ‘ کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا “۔ تم ایک اکائی ہو اور تم دوسروں سے علیحدہ اور ممتاز ہو ۔ تم باہم متضامن اور متکافل ہو ‘ اس لئے تم اپنے محور کے گرد جمے رہو۔ اپنے آپ کو پاک رکھو۔ اپنا تزکیہ کرو ‘ اپنی جماعت اور اپنی جمعیت کی فکر کرو ‘ اگر تم راہ ہدایت پر جمے رہے تو کسی کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہ دے سکے گی ۔ اس لئے کہ تم ایک علیحدہ جمعیت ہو اور دوسروں سے الگ ہو ۔ تم ایک دوسرے کے دوست ہمدرد اور باہم کفیل ہو۔ تمہاری دوسری امتوں کے ساتھ دوستی نہیں ہے اور نہ ان کے ساتھ دلی ربط ہے ۔

یہ ایک آیت ہی واضح کردیتی ہے کہ اس امت اور دوسری امم کے باہم ربط وتعلق کے اصول کیا ہوں گے ؟ اور دوسری اقوام کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی ۔

امت مسلمہ اللہ کی پارٹی ہے اور امت کی علاوہ جو بھی امتیں ہیں وہ شیطان کی پارٹیاں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ اور دوسری امتوں کے درمیان دوستی اور باہم تضامن قائم نہیں ہو سکتا اس لئے امت مسلمہ اور دوسری امم کے درمیان کوئی نظریاتی اشتراک نہیں ہے ۔ نہ مقاصد کا اشتراک ہے اور نہ وسائل ومقاصد میں ان کے درمیان یگانگت ہے ۔ نہ ذمہ داریوں اور نہ انکی جزاء میں اتحاد ہے ۔

امت مسلمہ کا فرض یہ ہے کہ وہ باہم متضامن اور کفیل ہوں اور اس کے افراد ایک دورے کے ہمدرد اور مخلص ہوں ۔ وہ اللہ کی ہدایت پر چلتے رہیں اس لئے کہ اللہ ہی نے تو انہیں ایک علیحدہ امت قرار دیا ہے ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو دنیا کی کوئی قوت انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گی اگرچہ ان کے اردگرد تمام لوگ گمراہی کو اختیار کرلیں ۔ لیکن یہ اصول اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک امت ہدایت پر ہو اور قائم ہو ۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت مسلمہ فریضہ دعوت دین سے ہاتھ کھینچ لے ۔ اس کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو دین اور ہدایت کی طرف بلائے کیونکہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلانا ہی ہمارا دین ہے ۔ یہی ہمارا نظام ہے ۔ جب امت اس کرہ ارض پر کہیں اپنا نظام قائم کرلے تو پھر اس کا فرض ہے کہ وہ تمام انسانوں کو اس دین کی طرف دعوت دے ۔ اور پھر انہیں ہدایت دینے کی سعی کرے ۔ یہ فرض اس پر بہرحال رہتا ہے کہ وہ انہیں عدل و انصاف کی راہ پر چلائے ۔ عدل کی نگرانی کرے اور انسانوں کو مزید گمراہی کے راستے پر چلنے سے بچائے ۔ انہیں اس جاہلیت میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے جس سے اللہ نے انہیں نکالا ۔

یہ بات کہ امت اپنے نفس ہی کی ذمہ دار ہے اور اگر وہ ہدایت پر ہو تو دوسروں کی گمراہی سے اس کو کوئی نہ ہوگا ۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ امر بالعروف اور نہی عن المنکر میں کوتاہی کرے تو اس سے کوئی محاسبہ نہ ہوگا اس پر یہ فرض ہے کہ پہلے امت کی صفوں کے اندر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرے اور اس کے بعد پورے کرہ ارض پر یہ فریضہ ادا کرے ۔ یہاں سب سے پہلا اور اہم معروف یہ ہے کہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے اور اللہ کی شریعت کو قانون تسلیم کیا جائے ۔ سب سے بڑا منکر جاہلیت اور اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی ہے ۔ جاہلیت کا حکم بھی طاغوت کا حکم ہے اور طاغوت کی حکومت ہونی ہی وہ ہے جس میں اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی ہو جبکہ امت مسلمہ پہلے خود اپنے اوپر قوام ہے اور پھر پوری انسانیت پر قوام ہے ۔

اس آیت کا مفہوم و مراد وہ نہیں ہے جس طرح بعض قدیم مفسرین نے سمجھا ہے اور جس طرح بعض جدید لوگ سمجھتے ہیں یعنی یہ کہ ایک فرد امر بالمعروف اور …

Al-Maaida 5:105Listen in Qur'an →
106

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ شَهَٰدَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ حِينَ ٱلْوَصِيَّةِ ٱثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍۢ مِّنكُمْ أَوْ ءَاخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَأَصَٰبَتْكُم مُّصِيبَةُ ٱلْمَوْتِ ۚ تَحْبِسُونَهُمَا مِنۢ بَعْدِ ٱلصَّلَوٰةِ فَيُقْسِمَانِ بِٱللَّهِ إِنِ ٱرْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِى بِهِۦ ثَمَنًۭا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَٰدَةَ ٱللَّهِ إِنَّآ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلْءَاثِمِينَ

مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے

(آیت) ” 106 تا 108۔

ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔

اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر رہے تو ان گواہوں کو نماز کی ادائیگی کے بعد یا ان کے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کے بعد یہ حلف دیا جائے گا کہ وہ یہ شہادت اپنی یا کسی اور کے کسی مفاد کے لئے نہیں دے رہے اگرچہ کوئی رشتہ دار ہو اور یہ کہ انہوں نے کوئی امر مخفی نہیں رکھا ہے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو یقینا گناہگار ہوں گے ۔ اس قسم کے حلف کے بعد ان کی شہادت ثابت اور نافذ تصور ہوگی ۔

اب اس حلف کے بعد اگر یہ ثابت ہوجائے کہ انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور جھوٹی شہادت دی ہے اور امانت میں خیانت کی ہے تو وارثان میں سے دو افراد یہ حلف اٹھائیں گے کہ ان کی شہادت پہلے دو گواہوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے اور یہ کہ وہ یہ حلف اٹھا کر زیادتی نہیں کر رہے ہیں ۔ اس ثبوت اور حلف کے بعد پہلے دو گواہوں کی شہادت ختم تصور ہوگی اور ان دوسرے گواہوں کی شہادت نافذ ہوگی ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان انتظامات کے ذریعے کسی امر کی اچھی طرح چھان بین ہو سکے گی اور لوگ شہادت دے سکیں گے اور نیز لوگوں کو یہ خوف نہ رہے گا کہ ان کی شہادت کے خلاف اور شہادت قائم ہوگی ۔

(آیت) ” ذَلِکَ أَدْنَی أَن یَأْتُواْ بِالشَّہَادَۃِ عَلَی وَجْہِہَا أَوْ یَخَافُواْ أَن تُرَدَّ أَیْْمَانٌ بَعْدَ أَیْْمَانِہِمْ ۔ (5 : 108)

” اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے ۔ “

آخر میں تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خدا ترسی کا رویہ اختیار کریں اور اس بات کا احساس کریں کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اس سے ڈریں اور اس کے حکام کی اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ اللہ ان لوگوں کو راست نہیں دکھاتا جو اس کے نافرمان ہیں اور نہ ان کی راہنمائی بھلائی کی طرف کرتا ہے ۔

(آیت) ” وَاتَّقُوا اللّہَ وَاسْمَعُواْ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ (108)

” اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ “

ان تین آیتوں کی شان نزول کے بارے میں امام قرطبی فرماتے ہیں : اس بارے میں کوئی اختلاف میرے علم کی حد تک نہیں ہے کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ بخاری اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کو آتے جاتے تھے ۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان جو بنی سہم قبیلے کا تھا سفر پر نکلا ۔ وہ ایسی سرزمین میں فوت ہوا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور انہوں نے اس کا ترکہ اس نوجوان کے وارثوں تک پہنچایا ۔ انہوں نے ایک چاندی کا جام روک لیا جسے سونے سے مزین کیا گیا تھا ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ نے قسم دی کہ نہ تو انہوں نے اسے چھپایا ہے اور نہ اس کو اس کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد یہ جام مکہ میں پایا گیا تو جن لوگوں سے ملا انہوں نے کہا ہم نے تمیم اور عدی سے خریدا ہے ۔ اب سہمی متوفی نوجوان کے وارث آئے ۔ انہوں نے یہ حلف اٹھایا کہ یہی جام سہمی کی ملکیت تھا ۔ اور یہ کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ معتبر ہے اور یہ کہ ہم …

Al-Maaida 5:106Listen in Qur'an →
107

فَإِنْ عُثِرَ عَلَىٰٓ أَنَّهُمَا ٱسْتَحَقَّآ إِثْمًۭا فَـَٔاخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْأَوْلَيَٰنِ فَيُقْسِمَانِ بِٱللَّهِ لَشَهَٰدَتُنَآ أَحَقُّ مِن شَهَٰدَتِهِمَا وَمَا ٱعْتَدَيْنَآ إِنَّآ إِذًۭا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں

(آیت) ” 106 تا 108۔

ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔

اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر رہے تو ان گواہوں کو نماز کی ادائیگی کے بعد یا ان کے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کے بعد یہ حلف دیا جائے گا کہ وہ یہ شہادت اپنی یا کسی اور کے کسی مفاد کے لئے نہیں دے رہے اگرچہ کوئی رشتہ دار ہو اور یہ کہ انہوں نے کوئی امر مخفی نہیں رکھا ہے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو یقینا گناہگار ہوں گے ۔ اس قسم کے حلف کے بعد ان کی شہادت ثابت اور نافذ تصور ہوگی ۔

اب اس حلف کے بعد اگر یہ ثابت ہوجائے کہ انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور جھوٹی شہادت دی ہے اور امانت میں خیانت کی ہے تو وارثان میں سے دو افراد یہ حلف اٹھائیں گے کہ ان کی شہادت پہلے دو گواہوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے اور یہ کہ وہ یہ حلف اٹھا کر زیادتی نہیں کر رہے ہیں ۔ اس ثبوت اور حلف کے بعد پہلے دو گواہوں کی شہادت ختم تصور ہوگی اور ان دوسرے گواہوں کی شہادت نافذ ہوگی ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان انتظامات کے ذریعے کسی امر کی اچھی طرح چھان بین ہو سکے گی اور لوگ شہادت دے سکیں گے اور نیز لوگوں کو یہ خوف نہ رہے گا کہ ان کی شہادت کے خلاف اور شہادت قائم ہوگی ۔

(آیت) ” ذَلِکَ أَدْنَی أَن یَأْتُواْ بِالشَّہَادَۃِ عَلَی وَجْہِہَا أَوْ یَخَافُواْ أَن تُرَدَّ أَیْْمَانٌ بَعْدَ أَیْْمَانِہِمْ ۔ (5 : 108)

” اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے ۔ “

آخر میں تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خدا ترسی کا رویہ اختیار کریں اور اس بات کا احساس کریں کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اس سے ڈریں اور اس کے حکام کی اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ اللہ ان لوگوں کو راست نہیں دکھاتا جو اس کے نافرمان ہیں اور نہ ان کی راہنمائی بھلائی کی طرف کرتا ہے ۔

(آیت) ” وَاتَّقُوا اللّہَ وَاسْمَعُواْ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ (108)

” اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ “

ان تین آیتوں کی شان نزول کے بارے میں امام قرطبی فرماتے ہیں : اس بارے میں کوئی اختلاف میرے علم کی حد تک نہیں ہے کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ بخاری اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کو آتے جاتے تھے ۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان جو بنی سہم قبیلے کا تھا سفر پر نکلا ۔ وہ ایسی سرزمین میں فوت ہوا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور انہوں نے اس کا ترکہ اس نوجوان کے وارثوں تک پہنچایا ۔ انہوں نے ایک چاندی کا جام روک لیا جسے سونے سے مزین کیا گیا تھا ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ نے قسم دی کہ نہ تو انہوں نے اسے چھپایا ہے اور نہ اس کو اس کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد یہ جام مکہ میں پایا گیا تو جن لوگوں سے ملا انہوں نے کہا ہم نے تمیم اور عدی سے خریدا ہے ۔ اب سہمی متوفی نوجوان کے وارث آئے ۔ انہوں نے یہ حلف اٹھایا کہ یہی جام سہمی کی ملکیت تھا ۔ اور یہ کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ معتبر ہے اور یہ کہ ہم …

Al-Maaida 5:107Listen in Qur'an →
108

ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يَأْتُوا۟ بِٱلشَّهَٰدَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَآ أَوْ يَخَافُوٓا۟ أَن تُرَدَّ أَيْمَٰنٌۢ بَعْدَ أَيْمَٰنِهِمْ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱسْمَعُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَٰسِقِينَ

اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گوشِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

(آیت) ” 106 تا 108۔

ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔

اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر رہے تو ان گواہوں کو نماز کی ادائیگی کے بعد یا ان کے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کے بعد یہ حلف دیا جائے گا کہ وہ یہ شہادت اپنی یا کسی اور کے کسی مفاد کے لئے نہیں دے رہے اگرچہ کوئی رشتہ دار ہو اور یہ کہ انہوں نے کوئی امر مخفی نہیں رکھا ہے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو یقینا گناہگار ہوں گے ۔ اس قسم کے حلف کے بعد ان کی شہادت ثابت اور نافذ تصور ہوگی ۔

اب اس حلف کے بعد اگر یہ ثابت ہوجائے کہ انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور جھوٹی شہادت دی ہے اور امانت میں خیانت کی ہے تو وارثان میں سے دو افراد یہ حلف اٹھائیں گے کہ ان کی شہادت پہلے دو گواہوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے اور یہ کہ وہ یہ حلف اٹھا کر زیادتی نہیں کر رہے ہیں ۔ اس ثبوت اور حلف کے بعد پہلے دو گواہوں کی شہادت ختم تصور ہوگی اور ان دوسرے گواہوں کی شہادت نافذ ہوگی ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان انتظامات کے ذریعے کسی امر کی اچھی طرح چھان بین ہو سکے گی اور لوگ شہادت دے سکیں گے اور نیز لوگوں کو یہ خوف نہ رہے گا کہ ان کی شہادت کے خلاف اور شہادت قائم ہوگی ۔

(آیت) ” ذَلِکَ أَدْنَی أَن یَأْتُواْ بِالشَّہَادَۃِ عَلَی وَجْہِہَا أَوْ یَخَافُواْ أَن تُرَدَّ أَیْْمَانٌ بَعْدَ أَیْْمَانِہِمْ ۔ (5 : 108)

” اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے ۔ “

آخر میں تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خدا ترسی کا رویہ اختیار کریں اور اس بات کا احساس کریں کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اس سے ڈریں اور اس کے حکام کی اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ اللہ ان لوگوں کو راست نہیں دکھاتا جو اس کے نافرمان ہیں اور نہ ان کی راہنمائی بھلائی کی طرف کرتا ہے ۔

(آیت) ” وَاتَّقُوا اللّہَ وَاسْمَعُواْ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ (108)

” اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ “

ان تین آیتوں کی شان نزول کے بارے میں امام قرطبی فرماتے ہیں : اس بارے میں کوئی اختلاف میرے علم کی حد تک نہیں ہے کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ بخاری اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کو آتے جاتے تھے ۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان جو بنی سہم قبیلے کا تھا سفر پر نکلا ۔ وہ ایسی سرزمین میں فوت ہوا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور انہوں نے اس کا ترکہ اس نوجوان کے وارثوں تک پہنچایا ۔ انہوں نے ایک چاندی کا جام روک لیا جسے سونے سے مزین کیا گیا تھا ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ نے قسم دی کہ نہ تو انہوں نے اسے چھپایا ہے اور نہ اس کو اس کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد یہ جام مکہ میں پایا گیا تو جن لوگوں سے ملا انہوں نے کہا ہم نے تمیم اور عدی سے خریدا ہے ۔ اب سہمی متوفی نوجوان کے وارث آئے ۔ انہوں نے یہ حلف اٹھایا کہ یہی جام سہمی کی ملکیت تھا ۔ اور یہ کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ معتبر ہے اور یہ کہ ہم …

Al-Maaida 5:108Listen in Qur'an →
109

۞ يَوْمَ يَجْمَعُ ٱللَّهُ ٱلرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَآ أُجِبْتُمْ ۖ قَالُوا۟ لَا عِلْمَ لَنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ

(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں توہی غیب کی باتوں سے واقف ہے

(آیت) ” نمبر 109 تا 111۔

یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر ہونے والی انعامات کی یاد دہانی ہے ۔ یہ کہ روح القدس کے ذریعہ ان کی امداد کی گئی ۔ یہ کہ گہوارے کے اندر انہیں لوگوں کے ساتھ بات کرنے کی قدرت دی گئی اور اس طرح انہوں نے اپنی ماں کو تہمتوں سے بری الذمہ قرار دیا ۔ کیونکہ ان کی بےمثال ولادت کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں بیشمار شبہات پیدا ہوگئے تھے اور پھر بڑے ہو کر بھی ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں دعوت الی اللہ دی ۔ دعوت اسلامی میں بھی حضرت جبرائیل ان کی تائید کرتے رہے اور آپ کو کتاب کی تعلیم دیتے رہے ۔ جب وہ اس جہان پر اترے تھے تو ان کے پاس کوئی علم نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنا سکھایا ‘ انہیں معاملات کے اندر فیصلے کرنے کی حکمت عطا کی ۔ اللہ نے انہیں تورات کا علم بھی عطا کیا ‘ جو بنی اسرائیل کے پاس موجود تھی ۔ انجیل کا علم بھی دیا جو ان پر نازل ہوئی اور اس نے بھی تورات کی تصدیق کی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انکو ایسے خارق العادات معجزات دیئے جن کا صدور اذن الہی کے سوا ممکن نہ تھا ۔ دیکھئے کہ وہ کیچڑ پرندہ بناتے ہیں اور پھر یہ اذن الہی سے ہوتا ہے کہ آپ اس کے منہ میں پھونکتے ہیں اور وہ زندہ ہوجاتا ہے ۔ ہمیں ان معجزات کی ماہیت کا پتہ نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ہم تو آج تک یہ نہیں جان سکے کہ حیات کی حقیقت کیا ہے ؟ اور یہ حیات زندہ چیزوں کے اندر کس طرح پھیل جاتی ہے ۔ اب دیکھئے مادر زاد اندھا آتا ہے اور اللہ کے حکم سے اسے بینائی ملتی ہے جبکہ آج تک اطباء اس بات کو پا نہیں سکے کہ مادر زاد اندھے کو بینائی کس طرح مل گئی ۔ لیکن اللہ جس نے بینائی کا اصل نظام پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ کسی کو از سر نو بینائی دے دے ۔ مرض کا علاج آپ بغیر کسی دوائی کے کرتے تھے ۔ دوا تو ایک وسیلہ ہے جب کا اثر بھی اللہ کے اذن سے ہوتا ہے لیکن اللہ کے حکم سے وسیلہ بدل بھی سکتا ہے ‘ اور اللہ بلاوسیلہ براہ راست بھی ایک حقیقت کو وجود میں لا سکتا ہے ۔ اللہ اپنے حکم سے مردے کو زندہ کرسکتا ہے ‘ وہ زندگی بخشنے والا ہے ۔ وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ وہ دلائل وبینات اور خوارق ومعجزات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے اور انہوں نے پھر بھی آپ کو جھٹلایا اور انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ یہ معجزات واضح سحر ہے ۔ اس لئے کہ وہ ان معجزات کے وقوع کا انکار تو کر نہ سکتے تھے ۔ ہزاروں انسانوں نے ان معجزات کو دیکھا ہوا تھا ۔ یہ لوگ محض عناد اور غرور کی وجہ سے ان معجزات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ پھر انہوں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو بچایا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یاد دلاتے ہیں کہ ایسے مشکل حالات میں حواریوں نے جرات کی اور وہ ایمان لائے اور شہادت دی اور صحیح مسلمان بن گئے اور اللہ کو گواہ ٹھہرایا کہ وہ سرتسلیم خم کرنے والے ہیں ۔

(آیت) ” وَإِذْ أَوْحَیْْتُ إِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ أَنْ آمِنُواْ بِیْ وَبِرَسُولِیْ قَالُوَاْ آمَنَّا وَاشْہَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ (111)

” اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب انہوں نے کہا ” ہم ایمان لائے اور گواہ روہ کہ ہم مسلم ہیں۔ یہ ہیں وہ انعامات جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) پر کیے اور یہ ان کے لئے شواہد وبینات تھے لیکن ان کے متبعین کی اکثریت کے لئے یہ گمراہی اور ضلالت کا باعث بن گئے اور ان کی وجہ سے انہوں نے عظیم گمراہیاں گھڑ لیں اور دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عالم بالا کے اس منظر میں اس کی جواب طلبی کرتے ہیں ‘ اس منظر میں انبیاء ورسل موجود ہیں اور تمام دنیا کے لوگ بھی حاضر ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تمام قوم بھی موجود ہے ۔ ان کے سامنے یہ حقائق پیش کئے جاتے …

Al-Maaida 5:109Listen in Qur'an →
110

إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱذْكُرْ نِعْمَتِى عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَٰلِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ تُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًۭا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ بِإِذْنِى فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِى ۖ وَتُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ بِإِذْنِى ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِى ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

جب خدا (عیسیٰ سے) فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرے ان احسانوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے جب میں نے روح القدس (یعنی جبرئیل) سے تمہاری مدد کی تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی نسق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کر دیتے تھے اور مردے کو میرے حکم سے (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا جب تم ان کے پاس کھلے نشان لے کر آئے تو جو ان میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ صریح جادو ہے

(آیت) ” نمبر 109 تا 111۔

یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر ہونے والی انعامات کی یاد دہانی ہے ۔ یہ کہ روح القدس کے ذریعہ ان کی امداد کی گئی ۔ یہ کہ گہوارے کے اندر انہیں لوگوں کے ساتھ بات کرنے کی قدرت دی گئی اور اس طرح انہوں نے اپنی ماں کو تہمتوں سے بری الذمہ قرار دیا ۔ کیونکہ ان کی بےمثال ولادت کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں بیشمار شبہات پیدا ہوگئے تھے اور پھر بڑے ہو کر بھی ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں دعوت الی اللہ دی ۔ دعوت اسلامی میں بھی حضرت جبرائیل ان کی تائید کرتے رہے اور آپ کو کتاب کی تعلیم دیتے رہے ۔ جب وہ اس جہان پر اترے تھے تو ان کے پاس کوئی علم نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنا سکھایا ‘ انہیں معاملات کے اندر فیصلے کرنے کی حکمت عطا کی ۔ اللہ نے انہیں تورات کا علم بھی عطا کیا ‘ جو بنی اسرائیل کے پاس موجود تھی ۔ انجیل کا علم بھی دیا جو ان پر نازل ہوئی اور اس نے بھی تورات کی تصدیق کی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انکو ایسے خارق العادات معجزات دیئے جن کا صدور اذن الہی کے سوا ممکن نہ تھا ۔ دیکھئے کہ وہ کیچڑ پرندہ بناتے ہیں اور پھر یہ اذن الہی سے ہوتا ہے کہ آپ اس کے منہ میں پھونکتے ہیں اور وہ زندہ ہوجاتا ہے ۔ ہمیں ان معجزات کی ماہیت کا پتہ نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ہم تو آج تک یہ نہیں جان سکے کہ حیات کی حقیقت کیا ہے ؟ اور یہ حیات زندہ چیزوں کے اندر کس طرح پھیل جاتی ہے ۔ اب دیکھئے مادر زاد اندھا آتا ہے اور اللہ کے حکم سے اسے بینائی ملتی ہے جبکہ آج تک اطباء اس بات کو پا نہیں سکے کہ مادر زاد اندھے کو بینائی کس طرح مل گئی ۔ لیکن اللہ جس نے بینائی کا اصل نظام پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ کسی کو از سر نو بینائی دے دے ۔ مرض کا علاج آپ بغیر کسی دوائی کے کرتے تھے ۔ دوا تو ایک وسیلہ ہے جب کا اثر بھی اللہ کے اذن سے ہوتا ہے لیکن اللہ کے حکم سے وسیلہ بدل بھی سکتا ہے ‘ اور اللہ بلاوسیلہ براہ راست بھی ایک حقیقت کو وجود میں لا سکتا ہے ۔ اللہ اپنے حکم سے مردے کو زندہ کرسکتا ہے ‘ وہ زندگی بخشنے والا ہے ۔ وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ وہ دلائل وبینات اور خوارق ومعجزات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے اور انہوں نے پھر بھی آپ کو جھٹلایا اور انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ یہ معجزات واضح سحر ہے ۔ اس لئے کہ وہ ان معجزات کے وقوع کا انکار تو کر نہ سکتے تھے ۔ ہزاروں انسانوں نے ان معجزات کو دیکھا ہوا تھا ۔ یہ لوگ محض عناد اور غرور کی وجہ سے ان معجزات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ پھر انہوں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو بچایا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یاد دلاتے ہیں کہ ایسے مشکل حالات میں حواریوں نے جرات کی اور وہ ایمان لائے اور شہادت دی اور صحیح مسلمان بن گئے اور اللہ کو گواہ ٹھہرایا کہ وہ سرتسلیم خم کرنے والے ہیں ۔

(آیت) ” وَإِذْ أَوْحَیْْتُ إِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ أَنْ آمِنُواْ بِیْ وَبِرَسُولِیْ قَالُوَاْ آمَنَّا وَاشْہَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ (111)

” اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب انہوں نے کہا ” ہم ایمان لائے اور گواہ روہ کہ ہم مسلم ہیں۔ یہ ہیں وہ انعامات جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) پر کیے اور یہ ان کے لئے شواہد وبینات تھے لیکن ان کے متبعین کی اکثریت کے لئے یہ گمراہی اور ضلالت کا باعث بن گئے اور ان کی وجہ سے انہوں نے عظیم گمراہیاں گھڑ لیں اور دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عالم بالا کے اس منظر میں اس کی جواب طلبی کرتے ہیں ‘ اس منظر میں انبیاء ورسل موجود ہیں اور تمام دنیا کے لوگ بھی حاضر ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تمام قوم بھی موجود ہے ۔ ان کے سامنے یہ حقائق پیش کئے جاتے …

Al-Maaida 5:110Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.