يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَسْـَٔلُوا۟ عَنْ أَشْيَآءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْـَٔلُوا۟ عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ ٱلْقُرْءَانُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا ٱللَّهُ عَنْهَا ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ
مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
(آیت) ” نمبر 101 تا 102۔
بعض صحابہ کرام ؓ اجمعین حضور ﷺ سے بہت سوالات کرتے تھے ‘ اور یہ سوالات ان باتوں کے متعلق ہوتے تھے جن میں کوئی امر یا نہی نازل نہ ہوئی تھی ۔ یہ لوگ بعض ایسے معاملات کی تفصیل میں زیادہ دلچسپی لیتے جن کو قرآن نے مجمل چھوڑا تھا اور اس اجمال کی وجہ سے لوگوں پر ایک قسم کی سہولت تھی ۔ بعض اوقات وہ ایسے معاملات کے بارے میں پوچھتے جن کے جوابات کی ضرورت ہی نہ تھی ‘ کیونکہ یہ ممکن تھا کہ خود سائل کو وہ انکشاف اچھا نہ لگے ۔ یہ اس سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت ملے ۔
روایات میں آتا ہے کہ فرضیت حج کی آیت پر کسی نے یہ پوچھا کہ کیا ہر سال حج فرض ہوگیا ہے ؟ تو حضور نے اس سوال پر بہت ہی ناراضگی کا اظہار فرمایا کیونکہ آیت حج میں اجمال تھا ۔
(آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ اللہ کی جانب سے لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے ‘ اس پر جو راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔ زندگی میں ایک بار حج کرکے اس آیت پر عمل ہوسکتا تھا ۔ اس طرح اگر حضور اس آیت کی یہ تفسیر کردیتے کہ ” ہر سال “ تو اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہوجاتیں حالانکہ اللہ نے لوگوں کو ان میں ڈالنا مناسب نہ سمجھا تھا ۔
ترمذی اور دارقطنی نے حضرت علی ؓ سے ایک حدیث مرسل روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ تو لوگوں نے پوچھا حضور ہر سال میں ؟ تو آپ خاموش ہوگئے ۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کیا ہر سال میں ؟ تو آپ نے فرمایا ” نہیں اگر میں کہتا کہ ” ہاں “ تو یہ ہمیشہ کے لئے فرض ہوجاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر حج فرض کردیا گیا ہے ۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور سوال کردیا کہ کیا ہر سال ؟ حضور ﷺ نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اس کے بعد اس نے پھر سوال کیا ” حضور ہر سال ؟ “ تو حضور ﷺ نے پوچھا یہ سائل کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتلایا کہ فلاں فلاں ہے ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں کہہ دیتا ہاں تو یہ ہر سال واجب ہوجاتا اور اگر ہر سال واجب ہوتا تو تم ہر گز اسے ادا نہ کرسکتے اور اگر تم نہ کرسکتے تو کافر ہوجاتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) ایک دوسری حدیث کا مضمون یہ ہے ‘ اور یہ امام مسلم نے صحیح مسلم میں نقل کی ہے ۔ وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آپ ﷺ نے ایک موقعہ پر فرمایا جب تک میں اس جگہ کھڑا ہوں پوچھو جو پوچھتے ہو ۔ میں تمہیں اطلاع دوں گا ۔ “ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا : حضور ﷺ میں کہاں داخل ہوں گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” آگ میں “ ۔ عبداللہ ابن حذافہ ؓ نے پوچھا : میرے باپ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے ۔ (ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ عبداللہ ابن حذافہ قدیم الاسلام تھے ۔ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ‘ بدر میں شریک ہوئے ‘ یہ نہایت ہی خوش مزاج تھے ، حضور ﷺ نے انہیں کسری کے پاس پیغام دے کر بھیجا تھا ۔ جب حضور ﷺ کے ساتھ اس کا یہ سوال و جواب ہوا کہ میرا باپ کون ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا حذافہ تو اس کی ماں نے کہا میں نے تم جیسا نافرمان بیٹا نہیں دیکھا ۔ ” کیا تم کو یہ اطمینان تھا کہ میں نے جاہلیت کی عورتوں کی طرح گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ؟ تم مجھے مجمع عام میں شرمندہ کرنا چاہتے تھے ؟ اس پر عبداللہ نے کہا : ” خدا کی قسم اگر حضور ﷺ مجھے ایک کالے غلام کا بیٹا بتلاتے تو میں اس کے ساتھ اپنا نسب ملا دیتا۔ “
ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے ۔ ایک دن حضور ﷺ نہایت ہی جلال میں تھے آپ ﷺ کا چہرہ سرخ تھا ۔ آپ منبر پر بیٹھے ۔ ایک شخص نے پوچھا حضور ﷺ میں کہاں ہوں گا تو آپ نے فرمایا ” آگ …