Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 120

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَوْفُوا۟ بِٱلْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلْأَنْعَٰمِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّى ٱلصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ

اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے

سوت کا شان نزول اور خلاصہ مضامین :- یہ سورة مائدہ کی ابتدائی آیت ہے۔ سورة مائدہ بالاتفاق مدنی سورة ہے اور مدنی سورتوں میں بھی آخر کی سورت ہے، یہاں تک کہ بعض حضرات نے اس کو قرآن کی آخری سورت بھی کہا ہے۔ مسند احمد میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر (رض) و اسماء بنت یزید منقول ہے کہ سورة مائدہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس وقت نازل ہوئی جب کہ آپ سفر میں عضبا نامی اونٹنی پر سوار تھے۔ نزول وحی کے وقت جو غیر معمولی ثقل اور بوجھ ہوا کرتا تھا حسب دستور اس وقت بھی ہوا۔ یہاں تک کہ اونٹنی عاجز ہوگئی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے نیچے اتر آئے۔ یہ سفر بظاہر حجة الوداع کا سفر ہے جیسا کہ بعض روایات سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ حجة الوداع ہجرت کے دسویں سال میں ہوا، اور اس سے واپسی کے بعد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیوی حیات تقریباً اسی (80) دن رہی۔ ابن حبان نے بحر محیط میں فرمایا کہ سورة مائدہ کے بعض اجزاء سفر حدیبیہ میں اور بعض فتح مکہ کے سفر میں اور بعض حجة الوداع کے سفر میں نازل ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سورت نزول قرآن کے آخری مراحل میں نازل ہوئی ہے۔ خواہ بالکل آخری سورت نہ ہو۔ - روح المعانی میں بحوالہ ابو عبید حضرت حمزہ بن حبیب اور عطیہ بن قیس کی یہ روایت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔ المائدة من اٰخر القراٰن تنزیلا فاحلو احلالہا وحترموا حرامھا۔ یعنی سورة مائدہ ان چیزوں میں سے ہے جو نزول قرآن کے آخری دور میں نازل کی گئی ہیں۔ اس میں جو چیز حلال کی گئی ہے اس کو ہمیشہ کے لئے حلال اور جو چیز حرام کی گئی ہے اس کو ہمیشہ کے لئے حرام سمجھو۔ - اسی قسم کی ایک روایت ابن کثیر نے مستدرک حاکم کے حوالہ سے حضرت جبیر بن نفیر (رض) سے نقل کی ہے کہ وہ حج کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا جبیر تم سورة مائدہ پڑھتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا ہاں پڑھتا ہوں۔ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ یہ قرآن پاک کی آخری سورة ہے اور اس میں جو احکام حلال و حرام کے آئے ہیں وہ محکم ہیں۔ ان میں نسخ کا احتمال نہیں ہے۔ ان کا خاص اہتمام کرو۔ سورة مائدہ میں بھی سورة نساء کی طرح فروعی احکام، معاملات، معاہدات وغیرہ کے زیادہ بیان کئے گئے ہیں۔ اسی لئے روح المعانی نے فرمایا ہے کہ سورة بقرہ اور سورة آل عمران باعتبار مضامین کے متحد ہیں۔ کیونکہ ان میں زیادہ تر احکام اصول عقائد، توحید، رسالت، قیامت وغیرہ کے آئے ہیں۔ فروعی احکام ضمنی ہیں اور سورة نساء اور مائدہ باعتبار مضامین کے متحد ہیں کہ ان دونوں میں بیشتر فروعی احکام کا بیان ہے، اصول کا بیان ضمنی ہے۔ سورة نساء میں باہمی معاملات اور حقوق العباد پر زور دیا گیا ہے۔ شوہر بیوی کے حقوق، یتیموں کے حقوق، والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے حقوق کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ سورة مائدہ کی پہلی آیت میں بھی ان تمام معاملات اور معاہدات کی پابندی اور ان کے پورا کرنے کی ہدایت آئی ہے۔ یا ایھا الذین اٰمنوا اوفوا بالعقود۔ اسی لئے سورة مائدہ کا دوسرا نام سورة عقود بھی ہے۔ (بحر محیط)- معاہدات اور معاملات کے بارے میں یہ سورة اور بالخصوص اس کی ابتدائی آیت ایک خاص حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب عمرو بن حزم (رض) کو یمن کا عامل (گورنر) بنا کر بھیجا اور ایک فرمان لکھ کر ان کے حوالہ کیا۔ تو اس فرمان کے سرنامہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تحریر فرمائی تھی۔- خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو (تمہارے ایمان کا مقتضا یہ ہے کہ) اپنے عہدوں کو (جو کہ ایمان کے ضمن میں تم نے خدا تعالیٰ سے کئے ہیں، پورا کرو (یعنی احکام شرعیہ کو بجا لاؤ کیونکہ ایمان لانے سے سب کا التزام ہوگیا اور التزام کا متقضی ایفاء ہے) تمہارے لئے تمام چوپائے جو مشابہ (ان) انعام (یعنی اونٹ، بکری، گائے) کے ہوں (جن کی حلت اس …

2

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحِلُّوا۟ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ وَلَا ٱلشَّهْرَ ٱلْحَرَامَ وَلَا ٱلْهَدْىَ وَلَا ٱلْقَلَٰٓئِدَ وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلْبَيْتَ ٱلْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَٰنًۭا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَٱصْطَادُوا۟ ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا۟ ۘ وَتَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت الله) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے

آیت نمبر ٢- ربط آیات - سورة مائدہ کی پہلی آیت میں معاہدات کے پورا کرنے کی تاکید تھی۔ ان معاہدات میں سے ایک معاہدہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حلال و حرام کی پابندی کی جائے۔ اس دوسری آیت میں اس معاہدہ کی دو اہم دفعات کا بیان ہے۔ ایک شعائر اللہ کی تعظیم اور ان کی بیحرمتی سے بچنے کی ہدایت، دوسرے اپنے اور غیر دوست اور دشمن سب کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ اور ظلم کا بدلہ ظلم سے لینے کی ممانعت۔ - اس آیت کے نزول کا سبب چند واقعات ہیں۔ پہلے ان کو سن لیجئے تاکہ آیت کا مضمون پوری طرح دلنشیں ہوسکے۔ ایک واقعہ حدیبیہ کا ہے جس کی تفصیل قرآن نے دوسری جگہ بیان فرمائی ہے۔ وہ یہ کہ ہجرت کے چھٹے سال میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام نے ارادہ کیا کہ عمرہ کریں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ساتھ احرام عمرہ باندھ کر بقصد مکہ معظمہ روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب مقام حدیبیہ میں پہنچ کر مکہ والوں کو اطلاع دی کہ ہم کسی جنگ یا جنگی مقصد کے لئے نہیں بلکہ صرف عمرہ کرنے کے لئے آ رہے ہیں۔ ہمیں اس کی اجازت دو ۔ مشرکین مکہ نے اجازت نہ دی۔ اور بڑی سخت اور کڑی شرطوں کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ اس وقت سب اپنے احرام کھول دیں اور واپس جائیں۔ آئندہ سال عمرہ کے لئے اس طرح آئیں کہ ہتھیار ساتھ نہ ہوں۔ صرف تین روز ٹھہریں۔ اور عمرہ کرکے چلے جائیں۔ اور بھی بہت سی ایسی شرائط تھیں جن کا تسلیم کرلینا بظاہر مسلمانوں کے وقار و عزت کے منافی تھا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر سب مطمئن ہو کر واپس ہوگئے۔ پھر ٧ ھ میں دوبارہ ماہ ذی قعدہ میں انہیں شرائط کی پابندی کے ساتھ یہ عمرہ قضا کیا گیا۔ بہر حال واقعہ حدیبیہ اور ان توہین آمیز شرائط نے صحابہ کے قلوب میں مشرکین مکہ کی طرف سے انتہائی نفرت و بغض کا بیج بو دیا تھا۔ دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ مشرکین مکہ میں سے حطیم بن ہند اپنا مال تجارت لے کر مدینہ طیبہ آیا اور مال فروخت کرنے کے بعد اپنا سامان اور آدمی مدینہ سے باہر چھوڑ کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور منافقانہ طور پر اپنا ارادہ اسلام لانے کا ظاہر کیا تاکہ مسلمان اس سے مطمئن ہوجائیں۔ لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے آنے سے پہلے ہی بذریعہ وحی خبر پاکر صحابہ کرام کو بتلا دیا تھا کہ ہمارے پاس ایک شخص آنے والا ہے جو شیطان کی زبان سے کلام کرے گا۔ اور جب یہ واپس گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ شخص کفر سے آیا اور دھوکہ و غداری کے ساتھ لوٹا ہے، یہ شخص آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس سے نکل کر سیدھا مدینہ سے باہر پہنچا۔ جہاں اہل مدینہ کے جانور چر رہے تھے ان کو ہنکا کر ساتھ لے گیا۔ صحابہ کرام کو اس کی اطلاع کچھ دیر میں ہوئی۔ تعاقب کے لئے نکلے تو وہ ان کی زد سے باہر جا چکا تھا۔ پھر جب ہجرت کے ساتویں سال آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام کے ساتھ عمرہ حدیبیہ کی قضا کے لئے جا رہے تھے تو دور سے تلبیہ کی آواز سنی اور دیکھا کہ یہی حطیم بن ہند اہل مدینہ کے ان جانوروں کو جو مدینہ سے لایا تھا بطور قربانی کے اپنے ساتھ لئے ہوئے عمرہ کرنے جا رہا ہے۔ اس وقت صحابہ کرام کا قصد ہوا کہ اس پر حملہ کرکے اپنے جانور چھین لیں اور اس کو یہیں ختم کردیں۔- تیسرا واقعہ یہ ہوا کہ ہجرت کے آٹھویں سال رمضان المبارک میں مکہ مکرمہ فتح ہوا، اور تقریباً پورے عرب پر اسلامی قبضہ ہوگیا۔ اور مشرکین مکہ کو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر کسی انتقام کے آزاد فرما دیا۔ وہ آزادی کے ساتھ اپنے سب کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اپنے جاہلانہ طرز پر حج وعمرہ کی رسوم بھی ادا کرتے رہے۔ اس وقت بعض صحابہ کرام کے دلوں میں واقعہ حدیبہ کا انتقام لینے کا خیال آیا کہ انہوں نے ہمیں جائز اور حق طریقہ پر عمرہ کرنے سے روک دیا تھا، ہم …

3

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحْمُ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلْمُنْخَنِقَةُ وَٱلْمَوْقُوذَةُ وَٱلْمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا۟ بِٱلْأَزْلَٰمِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ ٱلْيَوْمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِ ۚ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَٰمَ دِينًۭا ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ فِى مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍۢ لِّإِثْمٍۢ ۙ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

خلاصہ تفسیر - تم پر (یہ جانور وغیرہ) حرام کئے گئے ہیں مردار (جانور جو کہ باوجود واجب الذبح ہونے کے بلاوجہ شرعی مر جاوے) اور خون (جو بہتا ہو) اور خنزیر کا گوشت (اسی طرح اس کے سب اجزاء) اور جو جانور کہ (بقصد قربت) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرجاوے اور جو کسی ضرب سے مر جاوے اور جو اونچے سے گر کر مر جاوے (مثلاً پہاڑ سے یا کنوئیں میں) اور جو کسی کی ٹکر سے مرجاوے اور جس کو کوئی درندہ (پکڑ کر) کھانے لگے (اور اس کے صدمہ سے مرجاوے) لیکن (منخنقہ سے ما اکل السبع تک جن کا ذکر ہے ان میں سے) جس کو تم (دم نکلنے سے پہلے قاعدہ شرعیہ کے مطابق) ذبح کر ڈالو (وہ اس حرمت سے مستثنیٰ ہے) ۔ اور (نیز) جو جانور (غیر اللہ کی) پرستش گاہوں پر ذبح کیا جاوے (حرام ہے گو زبان سے غیر اللہ کے نامزد نہ کرے۔ کیونکہ مدار حرمت کا نیت خبیثہ پر ہے۔ اس کا ظہور کبھی قول سے ہوتا ہے کہ نامزد کرے کبھی فعل سے ہوتا ہے کہ ایسے مقامات پر ذبح کرے) اور یہ (بھی حرام ہے) کہ (گوشت وغیرہ) تقسیم کرو بذریعہ قرعہ کے تیروں کے یہ سب گناہ (اور حرام) ہیں آج کے دن (یعنی اب) ناامید ہوگئے کافر لوگ تمہارے دین (کے مغلوب و گم ہوجانے) سے (کیونکہ ماشاء اللہ اسلام کا خوب شیوع ہوگیا) سو ان (کفار) سے مت ڈرنا (کہ تمہارے دین کو گم کرسکیں) اور مجھ سے ڈرتے رہنا (یعنی میرے احکام کی مخالفت مت کرنا) آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو میں نے (ہر طرح) کامل کردیا (قوت میں بھی جس سے کفار کو مایوسی ہوئی اور احکام و قواعد میں بھی) اور (اس کمال سے) میں نے تم پر اپنا انعام تمام کردیا (دینی انعام بھی کہ احکام کی تکمیل ہوئی اور دنیوی انعام بھی کہ قوت حاصل ہوئی اور اکمال دین میں دونوں آگئے) اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لئے (ہمیشہ کو) پسند کرلیا (یعنی قیامت تک تمہارا یہی دین رہے گا۔ اس کو منسوخ کرکے دوسرا دین تجویز نہ کیا جاوے گا۔ پس تم کو چاہیے کہ میری نعمت کا شکر کرکے اس دین پر پورے پورے قائم رہو) پھر (اشیائے مذکورہ بالا کی حرمت دریافت کرلینے کے بعد یہ بھی معلوم کر لو کہ) جو شخص شدت کی بھوک میں بیتاب ہوجاوے (اور اس وجہ سے اشیائے بالا کو کھالے) بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ ہو (یعنی نہ قدر ضرورت سے زیادہ کھاوے اور نہ لذت مقصود ہو جس کو سورة بقرہ میں، غیر باغ ولا عاد، سے تعبیر فرمایا ہے) تو یقینا اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں (اگر قدر ضرورت کا پورا اندازہ نہ ہوا اور ایک آدھ لقمہ زیادہ بھی کھا گیا اور) رحمت والے ہیں (کہ ایسی حالت میں اجازت دے دی) ۔- معارف و مسائل - یہ سورة مائدہ کی تیسری آیت ہے۔ جس میں بہت سے اصول اور فروعی احکام و مسائل بیان کئے گئے ہیں۔ پہلا مسئلہ حلال و حرام جانوروں کا ہے۔ جن جانوروں کا گوشت انسان کے لئے مضر ہے، خواہ جسمانی طور پر کہ اس سے انسان کے بدن میں بیماری کا خطرہ ہے، یا روحانی طور پر کہ اس سے انسان کے اخلاق اور قلبی کیفیات خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ ان کو قرآن نے خبائث قرار دیا اور حرام کردیا، اور جن جانوروں میں کوئی جسمانی یا روحانی مضرت نہیں ہے، ان کو طیب اور حلال قرار دیا۔ - اس آیت میں فرمایا ہے کہ حرام کئے گئے تم پر مردار جانور۔ مردار سے مراد وہ جانور ہیں جو بغیر ذبح کے کسی بیماری کے سبب یا طبعی موت سے مر جائیں۔ ایسے مردار جانور کا گوشت ” طبعی “ طور پر بھی انسان کے لئے سخت مضر ہے اور روحانی طور پر بھی۔- البتہ حدیث شریف میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو چیزوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ایک ” مچھلی “ دوسرے ٹڈی۔ یہ حدیث مسند احمد، ابن ماجہ، دار قطنی، بیہقی وغیرہ نے روایت کی ہے۔- دوسری چیز جس کو اس آیت نے حرام قرار دیا ہے وہ خون ہے، اور قرآن کریم کی دوسری آیت میں اودما مسفوحا فرما کر یہ بتلا دیا گیا، کہ خون سے مراد بہنے والا خون ہے۔ اس لئے جگر اور تلی …

4

يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ ٱلْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُ ۖ فَكُلُوا۟ مِمَّآ أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَٱذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لیے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے) تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھا لیا کرو اور (شکاری جانوروں کو چھوڑتے وقت) خدا کا نام لے لیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

ربط آیات - پہلی آیات میں حلال و حرام جانوروں کا ذکر تھا۔ اس آیت میں اسی معاملہ کے متعلق ایک سوال کا جواب ہے۔ بعض صحابہ کرام نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکاری کتے اور باز سے شکار کرنے کا حکم دریافت کیا تھا، اس آیت میں اس کا جواب مذکور ہے۔- خلاصہ تفسیر - لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ (کُتے اور باز کے شکار کئے ہوئے جانوروں میں سے) کیا کیا جانور ان کے لئے حلال کئے گئے ہیں (یعنی جتنے حلال شکار ذبح سے حلال ہوجاتے ہیں۔ کیا کتے اور باز کے شکار کرنے سے وہ سب حلال رہتے ہیں یا ان میں سے کچھ مخصوص جانور حلال ہوتے ہیں یا مطلقاً کوئی حلال نہیں ہوتا اور جو حلال ہوتے ہیں تو کیا اس کے لئے کچھ شرط بھی ہے) آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ تمہارے لئے کل حلال جانور (جو از قسم شکار پہلے سے حلال ہیں، وہ سب کتے اور باز کے ذریعہ شکار کرنے سے بھی) حلال رکھے گئے ہیں (یہ سوال کے پہلے جز کا جواب ہے، آگے دوسرے جز کا جواب یہ ہے کہ کتے اور باز کے شکار حلال ہونے کے لیے کچھ شرائط ہیں وہ کہ) جن شکاری جانوروں کو (مثلاً کُتا، باز وغیرہ) تم (خاص طور پر جس کا بیان آگے آتا ہے) تعلیم دو (یہ ایک شرط ہے) اور تم ان کو (شکار پر) چھوڑو بھی (یہ دوسری شرط ہے) اور ان کو (جو تعلیم دینا اوپر ذکر کیا گیا ہے) اس طریقہ سے تعلیم دو جو تم کو اللہ نے (شریعت میں) تعلیم دی ہے (وہ طریقہ یہ ہے کہ کتے کو تو یہ تعلیم دی جائے کہ شکار پکڑ کر کھاوے نہیں، اور باز کو یہ تعلیم دی جائے کہ جب اس کو بلاؤ اگرچہ وہ شکار کے پیچھے جا رہا ہو فوراً واپس آجائے یہ شرط اول کا بیان ہے) تو ایسے شکاری جانور جس شکار کو تمہارے لئے پکڑیں اس کو کھالو۔ (یہ تیسری شرط ہے جس کی علامت طریقہ تعلیم میں بیان ہوچکی ہے، سو اگر کتا اس شکار کو کھانے لگے یا باز بلانے سے واپس نہ آئے تو سمجھا جائے گا کہ جب یہ جانور اس کے کہنے میں نہیں تو انہوں نے شکار بھی اس کے لئے نہیں پکڑا بلکہ خود اپنے لئے پکڑا ہے) اور (جب شکار پر اس شکاری جانور کو چھوڑنے لگو تو) اس (جانور) پر (یعنی اس کے چھوڑنے کے وقت) اللہ کا نام بھی لیا کرو۔ (یعنی بسم اللہ پڑھ کر چھوڑو۔ یہ چوتھی شرط ہے) اور (تمام امور میں) اللہ سے ڈرتے رہا کرو (مثلاً شکار میں ایسے منہمک مت ہو کہ نماز وغیرہ سے غفلت ہوجاوے یا اتنی حرص مت کرو کہ شرائط حلت کے بغیر بھی اس جانور کو کھا جاؤ) بیشک اللہ تعالیٰ جلدی حساب لینے والے ہیں۔- معارف و مسائل - مذکور الصدر جواب وسوال میں شکاری کتے اور باز وغیرہ کے ذریعہ شکار حلال ہونے کے لئے چار شرطیں ذکر کی گئی ہیں :۔- اول یہ کہ کتا یا باز سکھایا اور سدھایا ہوا ہو اور سکھانے سدھانے کا یہ اصول قرار دیا ہے کہ جب تم کتے کو شکار پر چھوڑو تو وہ شکار پکڑ کر تمہارے پاس لے آئے۔ خود اس کو کھانے نہ لگے۔ اور باز کے لئے یہ اصول مقرر کیا کہ جب تم اس کو واپس بلاؤ تو وہ فوراً آجائے اگرچہ وہ شکار کے پیچھے جا رہا ہو۔ جب یہ شکاری جانور ایسے سدھ جائیں تو اس سے ثابت ہوگا کہ وہ جو شکار کرتے ہیں تمہارے لئے کرتے ہیں اپنے لئے نہیں، اب ان شکاری جانوروں کا شکار خود تمہارا شکار سمجھا جائے گا۔ اور اگر کسی وقت وہ اس تعلیم کے خلاف کریں مثلاً کتا خود شکار کو کھانے لگے یا باز تمہارے بلانے پر واپس نہ آئے تو یہ شکار تمہارا نہیں رہا۔ اس لئے اس کا کھانا جائز نہیں۔- دوسری شرط یہ ہے کہ تم فوراً اپنے ارادہ سے کتے کو یا باز کو شکار کے پیچھے چھوڑو۔ یہ نہ ہو کہ وہ خود بخود کسی شکار کے پیچھے دوڑ کر اس کو شکار کرلیں۔ آیت مذکورہ میں اس شرط کا بیان لفظ مکلبین سے کیا گیا ہے۔ یہ لفظ دراصل تکلیب سے مشتق ہے، جس کے اصلی معنی کتوں کو سکھلانے کے ہیں۔ پھر عام شکاری جانوروں کو سکھلانے اور شکار پر چھوڑنے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ صاحب جلالین اس جگہ مکلبین کی تفسیر ارسال سے کرتے ہیں جس کے معنی ہیں شکار پر …

5

ٱلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ حِلٌّۭ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّۭ لَّهُمْ ۖ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِىٓ أَخْدَانٍۢ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِٱلْإِيمَٰنِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

آج تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جبکہ ان کا مہر دے دو۔ اور ان سے عفت قائم رکھنی مقصود ہو نہ کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا اس کے عمل ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا

خلاصہ تفسیر - آج (تم پر جیسے دینی ابدی انعام ہوا کہ اکمال دین سے مشرف کئے گئے۔ اسی طرح ایک معتدبہ دنیوی ابدی انعام بھی ہوا کہ) تمہارے لئے حلال چیزیں (کہ اس سے پہلے حلال کردی گئی تھیں ہمیشہ کے لئے) حلال رکھی گئیں (کہ کبھی منسوخ نہ ہوں گی) اور جو لوگ (تم سے پہلے آسمانی) کتاب دئے گئے ہیں (یعنی یہود و نصاریٰ ) ان کا ذبیحہ (بھی) تم کو حلال ہے اور (اس کا حلال ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسا) تمہارا ذبیحہ ان کو حلال ہے اور پارسا عورتیں بھی جو مسلمان ہوں (تم کو حلال ہیں) اور (جیسا مسلمان عورتوں کا حلال ہونا یقینی ہے اسی طرح) پارسا عورتیں ان لوگوں میں سے بھی جو تم سے پہلے کتاب (آسمانی) دئے گئے ہیں (تم کو حلال ہیں) جب تم ان کو ان کا معاوضہ دے دو (یعنی مہر دینا گو شرط نہیں مگر واجب ہے اور عورتیں مذکورہ جو حلال کی گئی ہیں تو) اس طرح سے کہ تم (ان کو) بیوی بناؤ (یعنی نکاح میں لاؤ جن کی شرطیں شرع میں معلوم ہیں) نہ تو علانیہ بدکاری کرو اور نہ خفیہ آشنائی کرو (یہ سب احکام شرعیہ ہیں جن پر ایمان لانا فرض ہے) اور جو شخص ایمان (لانے کی چیزوں) کے ساتھ کفر کرے گا (مثلاً حلال قطعی کی حلت کا یا حرام قطعی کی حرمت کا انکار کرے گا) تو اس شخص کا (ہر نیک) عمل غارت (اور اکارت) جاوے گا اور وہ شخص آخرت میں بالکل زیاں کار ہوگا (بس حلال کو حلال سمجھو اور حرام کو حرام سمجھو) ۔- معارف و مسائل - سورة مائدہ کی پہلی آیت میں بہیمة الانعام یعنی پالتو جانور بکری، گائے، بھینس وغیرہ کا حلال ہونا بیان فرمایا گیا ہے اور تیسری آیت میں نو قسم کے حرام جانوروں کی تفصیل ہے مگر اس تفصیل سے اس کے ابتدائی جملہ میں اس پورے باب کا خلاصہ اس طرح بیان فرما دیا ہے کہ اس میں جانوروں کی حلت و حرمت کا خاصہ بھی معلوم ہوگیا۔ اور اس کا ایک معیار و اصول بھی۔- ارشاد ہے : الیوم احل لکم الطیبت یعنی آج تمہارے لئے حلال ہوئیں سب صاف ستھری چیزیں۔ آج سے مراد وہ دن ہے جس میں یہ آیت اور اس سے پہلی آیات نازل ہوئی ہیں۔ یعنی حجة الوداع 10 ھ کا یوم عرفہ۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے آج تمہارے لئے دین کامل مکمل کردیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت تم پر مکمل ہوگئی، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ چیزیں جو پہلے بھی تمہارے لئے حلال تھیں، دائمی طور پر حلال رکھی گئیں۔ اور ان کے منسوخ ہونے کا احتمال ختم ہوا۔ کیونکہ سلسلہ وحی ختم ہونے والا ہے۔- اس جملہ میں طیبات حلال ہونے کا بیان ہے اور ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے : یحل لہم الطیبت ویحرم علیہم الخبائث۔ یعنی حلال کرتا ہے ان کے لئے طیبات اور حرام کرتا ہے ان پر خبائث۔ اس میں طیبات کے بالمقابل خبائث لاکر ان دونوں لفظوں کی حقیقت واضح کردی گئی۔ - لُغت میں طیبات صاف ستھری اور مرغوب چیزوں کو کہا جاتا ہے۔ اور خبائث اس کے بالمقابل گندی اور قابل نفرت چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ اس لئے آیت کے اس جملہ نے یہ بتلا دیا کہ جتنی چیزیں صاف ستھری مفید اور پاکیزہ ہیں وہ انسان کے لئے حلال کی گئیں، اور جو گندی قابل نفرت اور مضر ہیں وہ حرام کی گئی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انسان دوسرے جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا مقصد زندگی دنیا میں کھانے، پینے، سونے، جاگنے اور جینے مرنے تک محدود ہو۔ اس کو قدرت نے مخدوم کائنات کسی خاص مقصد سے بنایا ہے اور وہ مقصد اعلیٰ پاکیزہ اخلاق کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے بد اخلاق انسان در حقیقت انسان کہلانے کے قابل نہیں۔- اسی لئے قرآن کریم نے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : بل ہم اضل۔ یعنی وہ چوپاؤں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ اور جب انسان کی انسانیت کا مدار اصلاح اخلاق پر ہو تو ضروری ہے کہ جتنی چیزیں انسانی اخلاق کو گندہ اور خراب کرنے والی ہیں ان سے اس کا مکمل پرہیز کرایا جائے۔ انسان کے اخلاق پر اس کے گرد و پیش کی چیزوں اور اس کی سوسائٹی کا اثر پڑنا بدیہی طور پر ہر شخص جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے …

6

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغْسِلُوا۟ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى ٱلْمَرَافِقِ وَٱمْسَحُوا۟ بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى ٱلْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًۭا فَٱطَّهَّرُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌۭ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءًۭ فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًۭا طَيِّبًۭا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍۢ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو

ربط آیات - پچھلی آیات میں کچھ احکام شرعیہ وہ ذکر کر کیے گئے جن کا تعلق انسان کی دنیوی زندگی اور کھانے پینے سے ہے۔ اس آیت میں چند احکام شرعیہ متعلق عبادات کے ذکر کئے گئے ہیں۔- خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو جب تم نماز کو اٹھنے لگو (یعنی نماز پڑھنے کا ارادہ کرو اور تم کو اس وقت وضو نہ ہو) تو (وضو کرلو یعنی) اپنے چہروں کو دھوؤ اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت (دھوؤ) اور اپنے سروں پر (بھیگا) ہاتھ پھیرو۔ اور اپنے پیروں کو بھی ٹخنوں سمیت (دھوؤ) اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو (نماز سے پہلے) سارا بدن پاک کرلو اور اگر تم بیمار ہو (اور پانی کا استعمال مضر ہو) یا حالت سفر میں ہو (اور پانی نہیں ملتا جیسا آگے آتا ہے، یہ تو عذر کی حالت ہوئی) یا (اگر مرض و سفر کا عذر بھی نہ ہو بلکہ ویسے ہی وضو یا غسل ٹوٹ جاوے اس طرح سے کہ مثلاً ) تم میں سے کوئی شخص (پیشاب یا پائخانہ کے) استنجے سے (فارغ ہو کر) آیا ہو (جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے) یا تم نے بیبیوں سے قربت کی ہو (جس سے غسل ٹوٹ گیا ہو اور) پھر (ان ساری صورتوں میں) تم کو پانی (کے استعمال کا موقع) نہ ملے (خواہ بوجہ ضرر کے یا پانی نہ ملنے کے) تو (ان سب حالتوں میں) تم پاک زمین سے تیمم کرلیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر پھیرلیا کرو۔ اس زمین (کی جنس) پر سے (ہاتھ مار کر) اللہ تعالیٰ کو (ان احکام کے مقرر فرمانے سے) یہ منظور نہیں کہ تم پر کوئی تنگی ڈالیں (یعنی یہ منظور ہے کہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے، چناچہ احکام مذکورہ میں خصوصاً اور جمیع احکام شرعیہ میں عموماً رعایت سہولت و مصلحت کی ظاہر ہے) لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ تم کو پاک صاف رکھے (اس لئے طہارت کے قواعد اور طرق مشروع کئے اور کسی ایک طریق پر بس نہیں کیا گیا کہ اگر وہ نہ ہو تو طہارت ممکن ہی نہ ہو، مثلاً صرف پانی کو مطہر رکھا جاتا تو پانی نہ ہونے کے وقت طہارت حاصل نہ ہوسکتی، یہ طہارت ابدان تو خاص احکام طہارت ہی میں ہے۔ اور طہارت قلوب تمام اطاعات میں عام ہے پس یہ تطہیر دونوں کو شامل ہے اور اگر یہ احکام نہ ہوتے تو کوئی طہارت حاصل نہ ہوتی) اور یہ (منطور ہے) کہ تم پر اپنا انعام تام فرما دے۔- (اس لئے احکام کی تکمیل فرمائی تاکہ ہر حال میں طہارت بدنی و قلبی جس کا ثمرہ رضا و قرب ہے جو اعظم نعم ہے حاصل کرسکو) تاکہ تم (اس عنایت کا) شکر ادا کرو (شکر میں امتثال بھی داخل ہے) اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے انعام کو جو تم پر ہوا ہے یاد کرو (جس میں بڑا انعام یہ ہے کہ تمہاری فلاح کے طریقے تمہارے لئے شروع کر دئے) اور اس کے اس عہد کو بھی (یاد کرو) جس کا تم سے معاہدہ کیا ہے جبکہ تم نے (اس کا التزام بھی کرلیا تھا کہ عہد لینے کے وقت تم نے) کہا تھا کہ ہم نے (ان احکام کو) سُنا اور مان لیا (کیونکہ اسلام لانے کے وقت ہر شخص اسی مضمون کا عہد کرتا ہے) اور اللہ تعالیٰ (کی مخالفت) سے ڈرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ دلوں کی باتوں کی پوری خبر رکھتے ہیں (اس لئے جو کام کرو اس میں اخلاص و اعتقاد بھی ہونا چاہیے صرف منافقانہ امتثال کافی نہیں۔ مطلب یہ کہ ان احکام میں اول تو تمہارا ہی نفع پھر تم نے اپنے سر بھی رکھ لیا ہے۔ پھر مخالفت میں ضرر ان وجوہ سے امتثال ہی ضروری ہوا اور وہ بھی دل سے ہونا چاہیے ورنہ مثل عدم امتثال ہی کے ہے) ۔

7

وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَٰقَهُ ٱلَّذِى وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (خدا کا حکم) سن لیا اور قبول کیا۔ اور الله سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے

Explained together with ayah 6

8

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ ۚ ٱعْدِلُوا۟ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

اے ایمان والوں! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو اللہ تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لئے (احکام کی) پوری پابندی کرنے والے (اور شہادت کی نوبت آوے تو) انصاف کی شہادت ادا کرنے والے رہو، اور کسی خاص گروہ کی عداوت تم کو اس پر باعث نہ ہوجاوے کہ تم (ان کے معاملات میں) عدل نہ کرو (ضرور ہر معاملہ میں) عدل کیا کرو وہ (یعنی عدل کرنا) تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (یعنی اس سے تقویٰ کے ساتھ موصوف کہلاتا ہے) اور (تقویٰ اختیار کرنا تم پر فرض ہے، چناچہ حکم ہوا ہے کہ) اللہ تعالیٰ (کی مخالفت) سے ڈرو (یہی حقیقت ہے تقویٰ کی پس عدل جو کہ اس فرض تقویٰ کا موقوف علیہ ہے نیز فرض ہوگا) بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تمہارے سب اعمال کی پوری اطلاع ہے (پس مخالفین احکام کو سزا ہوجاوے تو بعید نہیں) اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے جو ایمان لے آئے اور ( انہوں نے) اچھے کام کئے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لئے مغفرت اور ثواب عظیم ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہمارے احکام کو جھوٹا بتلایا ایسے لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔- معارف ومسائل - مذکورہ تین آیتوں میں سے پہلی آیت کا مضمون تقریباً ان ہی الفاظ کے ساتھ سورة نساء میں بھی گذر چکا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ وہاں کونوا قوامین بالقسط شھداءللہ ارشاد ہوا تھا اور یہاں کونوا قومین للہ شھداء بالقسط فرمایا گیا ہے۔ ان دونوں آیتوں میں الفاظ کے تقدم اور تاخر کی ایک لطیف وجہ ابوحیان نے تفسیر بحر محیط میں ذکر کی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ - انسان کو عدل و انصاف سے روکنے اور ظلم وجود میں مبتلا کرنے کے عادتاً دو سبب ہوا کرتے ہیں ایک اپنے نفس یا اپنے دوستوں، عزیزوں کی طرف داری، دوسرے کسی شخص کی دشمنی و عداوت۔ سورة نساء کی آیت کا روئے سخن پہلے مضمون کی طرف ہے اور سورة مائدہ کی اس آیت کا روئے سخن دوسرے مضمون کی طرف۔ - اسی لئے سورة نساء میں اس کے بعد ارشاد ہے ولو علی انفسکم اوالوالدین و الاقربین یعنی عدل و انصاف پر قائم رہو، چاہے وہ عدل و انصاف کا حکم خود تمہارے نفوس یا تمہارے والدین اور عزیزوں و دوستوں کے خلاف پڑے۔ اور سورة مائدہ کی اس آیت میں جملہ مذکور کے بعد یہ ارشاد ہے ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا۔ یعنی کسی قوم کی عداوت و دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف کے خلاف کرنے لگو۔ - یہی وجہ ہے کہ سورة نساء کی آیت میں قسط یعنی انصاف کو مقدم کرکے ارشاد فرمایا : کونوا قوامین بالقسط شھداء للہ اور سورة مائدہ کی آیت میں للہ کو مقدم کرکے ارشاد فرمایا کونوا قومین للّٰہ شھداء بالقسط۔ اگرچہ انجام اور نتیجہ کے اعتبار سے یہ دونوں عنوان ایک ہی مقصد کو ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص انصاف پر کھڑا ہوگا، وہ اللہ ہی کے لئے کھڑا ہوگا۔ اور جو شخص اللہ ہی کے لئے کھڑا ہوا ہے وہ ضرور انصاف ہی کرے گا۔ لیکن اپنے نفس اور دوستوں عزیزوں کی رعایت کے مقام میں یہ خیال گزر سکتا ہے کہ ان تعلقات کی رعایت بھی تو اللہ ہی کے لئے ہے۔ اس لئے وہاں لفظ قسط کو مقدم لا کر اس کی طرف ہدایت کردی کہ وہ رعایت اللہ کے لئے نہیں ہو سکتی جو عدل و انصاف کے خلاف ہو۔ اور سورة مائدہ میں دشمنوں کے ساتھ عدل و انصاف برتنے کا حکم دینا تھا تو وہاں لفظ للہ کو مقدم لاکر انسانی فطرت کو جذبات میں مغلوب ہونے سے نکال دیا۔ کہ تم لوگ اللہ کے لئے کھڑے ہو جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کرو۔ - خلاصہ یہ ہے کہ سورة نساء اور مائدہ کی دونوں آیتوں میں دو چیزوں کی طرف ہدایت ہے۔ ایک یہ کہ خواہ معاملہ دوستوں سے ہو یا دشمنوں سے عدل و انصاف کے حکم پر قائم رہو۔ نہ کسی تعلق کی رعایت سے اس میں کمزوری آنی چاہیے اور نہ کسی دشمنی و عداوت سے۔ دوسری ہدایت ان دونوں آیتوں میں اس کی بھی ہے کہ سچی شہادت اور حق بات کے بیان کرنے سے پہلو تہی نہ کی جائے۔ تاکہ فیصلہ کرنے والوں کو حق اور صحیح فیصلہ کرنے میں دشواری پیش نہ آئے۔- قرآن کریم نے اس مضمون پر کئی …

9

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌ عَظِيمٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

Explained together with ayah 8

10

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

Explained together with ayah 8

Al-Maaida 5:10Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.