Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 1–10 of 120

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَوْفُوا۟ بِٱلْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلْأَنْعَٰمِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّى ٱلصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ

اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے

(آیت) ” نمبر 1۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ بندشوں کی پوری پابندی کرو) ۔ زندگی کے بسر کرنے کے لئے کچھ ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خود انسان اور اس کے نفس کے درمیان جو تعلق ہے اسکے لئے بھی کچھ اصول اور ضوابط ہوتے ہیں۔ پھر ایک انسان اور انسان کے درمیان تعلق کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور پھر انسان اور تمام دوسری زندہ مخلوق اور غیر زندہ اشیاء کے درمیان بھی تعلق کے ضابطے ہوتے ہیں ۔ لوگوں میں سے رشتہ داروں سے تعلقات ‘ غیر رشتہ داروں اور دور کے لوگوں کے ساتھ تعلقات ‘ خاندان اور قوم کے لوگوں کے ساتھ تعلقات ‘ جماعت کے ساتھ تعلقات اور پھر پوری امت کے ساتھ ایک فرد کا تعلق ‘ دشمنوں کے ساتھ تعلق ‘ دوستوں کے ساتھ تعلق ‘ دنیا کی ان زندہ جیروں کے ساتھ تعلق جنہیں اللہ نے انسان کے قابو میں رکھا ہے اور ان کے ساتھ تعلق جو بےتعلق جو بےقابو ہیں اور اس وسیع و عریض کائنات کی تمام اشیاء کے ساتھ انسان کے تعلق کے اصول و ضوابط اسلامی نظام زندگی کے اندر پورے کے پورے موجود ہیں ۔ پھر انسان کی زندگی کا ربط اپنے رب کے ساتھ ‘ اپنے آقا کے ساتھ تو ایک ایسا تعلق ہے جو زندگی کی بنیادی قدر ہے ۔ یہ تمام امور اس نظام کے اندر مقرر اور منضبط ہیں ۔

اسلامی نظام ان تمام ضوابط اور تعلقات کو انسانی زندگی کے اندر عملا ثابت کرتا ہے ۔ وہ ان تعلقات کو قائم کرتا ہے ‘ ان کے لئے حدود قیود متعین کرتا ہے اور ان کی پوری پوری وضاحت کرتا ہے ۔ اور یہ تمام رابطے رب ذوالجلال کے عنوان سے ہوتے ہیں ۔ وہ ان تمام رابطوں کے احترام کی ضمانت دیتا ہے ۔ ان کی بےحرمتی اور ان کے ساتھ مذاق کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ ان روابط کے بارے میں اسلامی نظام یہ صورت حال برداشت نہیں کرتا کہ انہیں بدلتی ہوئی خواہشات نفسانیہ کے حوالے کر دے یا ان اغراض ومقاصد کے نابع کر دے جن کا تعلق کسی ایک فرد کی خواہش اور سوچ سے ہو ۔ یا کوئی جماعت ان اغراض اور خواہشات میں دلچسپی رکھتی ہو یا اقوام عالم میں سے کسی قوم میں یہ اغراض پائی جاتی ہوں یا تاریخ انسانی کی نسلوں میں سے کوئی نسل ان میں دلچسپی رکھتی ہو اور ان اسباب کی وجہ سے انہیں توڑ دینا چاہتی ہو۔ ان تمام روابط ہی میں انسان کی مصلحت ہے بشرطیکہ ان روابط کو اللہ اور رسول نے لوگوں کے لئے وضع کیا ہو ‘ اگرچہ کوئی فرد ‘ کوئی جماعت ‘ کوئی قوم یا کوئی نسل یہ سمجھتی ہو کہ ان میں انسانوں کی مصلحت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ خوب جانتا ہے ۔

اور لوگوں کا علم محدود ہے ۔ جو فیصلہ اللہ کرتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو خود لوگ کرتے ہیں ۔ اللہ میاں کے ادب واحترام کا پہلا زینہ یہ ہے کہ انسان اپنے ذاتی اندازے کو اللہ کی تقدیر کے مقابلے میں نہ لائے اور یہ سمجھے کہ بہتر وہی ہے جو اللہ نے قرار دیا ۔ اور جو اللہ نے قرار دیا ‘ اس کے آگے سرتسلیم خم کر دے ‘ نہایت ہی رضامندی ‘ نہایت ہی وثوق اور پورے اطمینان کے ساتھ ۔

یہ تمام ضوابط جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ‘ ان کی تعبیر اللہ تعالیٰ لفظ ” العقود “ سے فرماتے ہیں اور اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان عقود کی پوری پوری پابندی کریں ۔ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ بندشوں اور عقود کی پابندی کرو اور اس کے بعد پھر حلال و حرام کا بیان شروع کردیا ۔ کھانے پینے میں سے محرمات کو بیان کردیا ۔ نکاح میں جو محرمات ہیں ان کو بیان کردیا اور ان کے بعد دوسرے شرع احکام اور عبادات کے طریقوں کی تفصیلات بیان کیں ۔ اس کے والا صحیح عقائد ونظریات کی تشریح بھی کی گئی ۔ بندگی اور عبادت کے طریقے بھی بیان ہوئے اور اللہ کی حاکمیت کی تفصیلات بھی دی گئیں ۔

پھر امت مسلمہ اور دوسری امم کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا تذکرہ بھی ہوا اور احکام بھی ذکر ہوئے ۔ امت مسلمہ کا فریضہ ہے کہ وہ شہادت حق ادا کرے ۔ دنیا میں انصاف قائم کرے ۔ پوری انسانیت کی نگرانی کرے ‘ اس لئے کہ اس کی کتاب بھی تمام کتب پر حاوی اور نگہبان ہے ۔ اور پھر …

2

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحِلُّوا۟ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ وَلَا ٱلشَّهْرَ ٱلْحَرَامَ وَلَا ٱلْهَدْىَ وَلَا ٱلْقَلَٰٓئِدَ وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلْبَيْتَ ٱلْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَٰنًۭا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَٱصْطَادُوا۟ ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا۟ ۘ وَتَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت الله) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے

قابل ذبح جانوروں میں تحریم وتحلیل ‘ مختلف چیزوں میں سے حلال و حرام مختلف جگہوں میں حلال و حرام ‘ مختلف اوقات میں حلال و حرام کی یہ حدود وقیود سب کی سب عقود ہیں۔ یہ تمام عقود اور عہد و پیمان ایمان کی بنیاد پر قائم ہیں اس لئے جو لوگ ایمان لائے ہیں ‘ ان کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حلال و حرام کی بابت تمام ہدایات اللہ سے اخذا کریں اور اس معاملے میں غیر اللہ سے کچھ نہ لیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بیان کے آغاز ہی میں کہا گیا کہ عقود اور بندشوں کی پوری طرح پابندی کرو اب اس کے بعد حلال و حرام کا بیان شروع ہوتا ہے ۔ (آیت) ” احلت لکم بھیمۃ الانعام الا ما یتلی علیکم) (تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کئے گئے ‘ سوائے ان کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے)

یعنی اس وجہ سے کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا اور اس وجہ سے کہ اس حلت کو اللہ نے تمہارے لئے بیان کیا ہے ‘ کسی اور حلال و حرام کرنے والے نے نہیں کیا ‘ تمہارے لئے ان تمام جانوروں کا کھانا جائز ہوگیا جو مویشیوں کی قسم کے ہوں یعنی مذبوحہ جانور اور شکار کے جانور سوائے ان کے جن کی حرمت آگے خود اللہ تعالیٰ بیان فرما رہے ہیں اور آئندہ جن کی حرمت بیان کی جانے والی ہے ‘ وہ یا تو کسی وقت کے ساتھ مخصوص ہے یا کسی جگہ کے ساتھ مخصوص ہے یا وہ مطلق حرمت ہے اور ہر زمان ومکان کے ساتھ اس کا تعلق ہے ۔ بہیمۃ الانعام کے لفظ میں اونٹ ‘ گائے اور بکری وغیرہ آتے ہیں ۔ ان جیسے وحشی جانور بھی ان میں داخل ہیں مثلا وحشی گائے ‘ ہر نی اور جنگلی گدھے وغیرہ ۔

اب اس عمومی حلت کے حکم سے بعض استثنائی صورتوں کو پیش کیا جاتا ہے اور پہلی صورت یہ ہے کہ احرام میں شکار کرنا حرام قرار دیا گیا ہے ۔ (غیر محلی الصید وانتم حرم (105) (لیکن احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لئے حلال نہ کرلو) اس تحریم کا اطلاق شکار کرنے کے فعل پر ہوگا ۔ حج اور عمرہ کے لئے احرام باندھتے ہی انسان معمول کی زندگی ترک کرکے اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔ وہ زندگی کے نئے انداز سے اللہ کے گھر میں داخل ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس گھر کے لئے کچھ آداب مقرر فرمائے ہیں ۔ اسے دارالامن اور دار الامان قرار دیا ہے ۔ اس کی حدود کے اندر جو شخص بھی آتا ہے ‘ اس کے لئے کسی بھی زندہ چیز پر ہاتھ اٹھانا حرام قرار دیا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی وقفہ ہوتا ہے اور نفس انسانی کے لئے ایسے وقفے ضروری ہوتے ہیں ۔ اس طرح تمام زندہ اشیاء کا تعلق زندگی بخشنے والے کے ساتھ استوار ہوتا ہے اس عرصے میں اور اس مقام کے حدود کے اندر کوئی زندہ پر کسی قسم کی دست درازی نہیں کرسکتا ۔ اس حکم کے ذریعے انسانی ضروریات کا دائرہ بھی محدود کردیا جاتا ہے ‘ جسکی وجہ سے شکار کا کھانا جائز قرار دیا گیا تھا اور دوسرے حیوانات کا کھانا حلال کیا گیا تھا تاکہ انسان اس عرصے میں عام جاری زندگی سے ذرا بلند ہو کر اللہ کے گھر میں زمینی کثافتوں سے اوپر اٹھے اور اس کی نظریں بلند اور روشن افق پر ہوں ۔

اور آگے بڑھنے اور حلال و حرام کی تفصیلات میں جانے سے پہلے اس عقد کو اس عظیم عقد سے مربوط کردیا جاتا ہے اور جو ہر مومن اور ہر انسان نے اللہ کے ساتھ کیا تھا ۔ اہل ایمان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ بڑا معاہدہ اللہ کے ساتھ ہوا تھا اور اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ یحکم ما یرید “۔ (5 : 1) (بےشک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے) اللہ کی مشیت آزاد ہے ۔ اس کا ارادہ ہی اصل حاکم ہے ‘ وہ اس حق حکمرانی میں اکیلا ہے لہذا جو چاہے حکم دے ، کوئی دوسرا نہیں ہے جو اس کے ارادے میں شریک ہو ۔ اس کے علاوہ دوسرے کو بھی حکم حکمرانی نہیں ہے ۔ کوئی اس کے احکام کو مسترد کرنے والا نہیں ہے اور یہاں بھی وہ جسے چاہے حرام کر دے اور جسے چاہے حلال کر دے کیونکہ وہی قانون ساز ہے ۔ اس کے بعد مزید بیان ہوتا ہے اور تاکید کی جاتی ہے کہ اللہ کے ہاں محترم چیزوں کی بےحرمتی …

3

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحْمُ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلْمُنْخَنِقَةُ وَٱلْمَوْقُوذَةُ وَٱلْمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا۟ بِٱلْأَزْلَٰمِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ ٱلْيَوْمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِ ۚ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَٰمَ دِينًۭا ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ فِى مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍۢ لِّإِثْمٍۢ ۙ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

ان دونوں اقوال میں کس قدر فرق ہے زمین و آسمان کا فرق :

اب یہاں مویشیوں میں سے حلال جانوروں کے کھانے کے اجازت عامہ سے بعض ایسی شکلوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو حلال نہیں ہیں ۔

(آیت) ” حُرِّمَتْ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّہِ بِہِ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ وَمَا أَکَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَکَّیْْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُواْ بِالأَزْلاَمِ ذَلِکُمْ فِسْقٌ الْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن دِیْنِکُمْ فَلاَ تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(3)

تم پر حرام کیا گیا مردار ‘ خون ‘ سور کا گوشت ‘ وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ‘ وہ جو گلا گھٹ کر یا چوٹ کھا کر ‘ یا بلندی سے گر کر ‘ یا ٹکر کھا کر مرا ہو ‘ یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو ؛۔۔۔ سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ۔ نیز یہ بھی تمہارے لئے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعے اپنی قسمت معلوم کرو ۔ یہ سب افعال فسق ہیں ۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے لہذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے ۔ (لہذا حرام و حلال کی جو قیود تم پر عائد کی گئی ہیں ان کی پابندی کرو) البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی چیز کھالے ‘ بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ )

مردار ‘ خون اور خنزیر کے گوشت کا حکم اس سے پہلے بھی گزر چکا ہے ۔ (دیکھئے بقرہ آیت 172) نیز انسانی علم جس قدر حکمت تشریع اسلامی کا ادراک کرسکتا ہے ‘ اس کا بیان بھی وہاں ہوا ۔ انسانی علم چاہے قانون الہی کی حکمت کا ادراک کرسکے یا نہ کرسکے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ بہرحال کردیا ہے کہ یہ چیزیں خوراک کے لئے پاکیزہ نہیں ہیں ۔ ہمارے لئے تو صرف حکم الہی ہی کافی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ صرف انہیں چیزوں کو حرام قرار دیتے ہی جو ناپاک ہوتی ہیں ‘ اور ان میں انسانی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کے اعتبار سے ضرر بھی ہوتا ہے چاہے لوگوں کو اس مضرت کا علم نہ ہو ۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا لوگوں نے ان تمام چیزوں کو معلوم کرلیا ہے جو انکے لئے مضر ہیں یا مفید ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح ۔

(آیت) ” وما اھل لغیر اللہ بہ “۔ (5 : 3) یعنی جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کئے گئے ہوں اس لئے حرام ہیں کہ وہ بنیادی طور پر ایمانی تصور کے خلاف ہیں ۔ ان کی بنیاد ہی اس عقیدے کے خلاف ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ وہی حاکم اور الہ ہے اور وہی نفع ونقصان کا مالک ہے ۔ اس عقیدہ توحید کے پھر کچھ تقاضے ہیں ۔ اس کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ہر ارادے ‘ ہر نیت اور ہر عمل کا رخ صرف اللہ کی طرف کر دے ۔ وہ ہر چیز پر صرف اللہ کا نام لے ۔ ہر عمل اور ہر حرکت کو صرف اللہ کے نام سے شروع کرے اس لئے ہر وہ حرکت وعمل جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لگ جائے ‘ اسی طرح ہر وہ ذبیحہ جس پر کسی کا نام ہی نہ لیا جائے ‘ نہ غیر اللہ کا اور نہ اللہ کا تو وہ بھی حرام ہے اس لئے کہ یہ عمل ایمان کی بنیادوں کے ساتھ متصاد ہے ۔ اگر کسی کے دل میں صحیح ایمان ہو تو اس سے یہ فعل صادر ہی نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے کہ یہ ناپاک عمل ہے اور چونکہ یہ فعل عقیدۃ ناپاک ہے اس لئے اس کو بھی ان ناپاک …

4

يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ ٱلْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُ ۖ فَكُلُوا۟ مِمَّآ أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَٱذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لیے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے) تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھا لیا کرو اور (شکاری جانوروں کو چھوڑتے وقت) خدا کا نام لے لیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

(آیت) ” نمبر 4 تا 5۔

یہ سوال ان لوگوں کی طرف سے ہے ایمان لائے اور یہ اس بارے میں ہے کہ ان کے لئے کیا کیا حلال ہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت امت مختارہ کی نفسیانی کیفیت کیا تھی ۔ یہ امت جو پہلی مرتبہ خطاب الہی کا اعزاز پا رہی تھی اس کے اس سوال سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے نفوس طیبہ کے اندر ہر وقت احتیاط اور خدا ترسی کے جذبات موجزن تھے اور وہ ان تمام کاموں کے بارے میں حرج محسوس کرتے تھے جو دور جاہلیت میں معمول بہ تھے ان کے دل میں یہ خوف رہتا تھا کہ کہیں اسلام نے ان چیزوں کو حرام قرار نہ دے دیا ہو ‘ اس لئے یہ امت ہر وقت پوچھنے پر مجبور تھی کہ آیا کوئی درپیش بات جائز ہے یا ناجائز ہے ۔

تاریخ اسلام کا آج کا طالب علم اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ اسلام نے امت مسلمہ کے اندر کس قدر عظیم انقلاب برپا کردیا تھا ۔ اسلام نے اس امت کو اس قدر سختی سے جھنجوڑا کہ اس پر سے دور جاہلیت کا تمام گرد و غبار جھاڑ دیا ، جن مسلمانوں کو اسلام نے جاہلیت کی پستیوں سے اٹھایا تھا ‘ ان کے ذہن میں یہ احساس تازہ تھا کہ اسلام کے ذریعے انہیں بالکل ایک نیا جنم ملا ہے ۔ وہ از سر نو نشوونما پا رہے ہیں ‘ نیز ان لوگوں کو گہرا احساس اور شعور تھا کہ ان کے اندر ایک عظیم انقلاب پیدا ہوگیا ہے ‘ انہوں ایک بہت بڑی چھلانک لگائی ہے ‘ وہ بہت رفیع الشان بلندیوں تک پہنچ گئے ہیں اور ان کو بلند مرتبہ نعمت سے نوازا گیا ہے ۔ اس گہرے اور پختہ شعور اور اس شدید جھٹکے نے ان کے اندر ایک شدید بیداری اور احتیاط پیدا کردی تھی اور ہو جاہلیت کی ہر چیز کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے تھے ، جب انہوں نے ان آیات کو سنا جن میں بعض چیزوں کو حرام قرار دیا گیا تھا تو انہوں نے حضور ﷺ سے حلال چیزوں کے بارے میں بھی پوچھنا شروع کردیا ۔

(آیت) ” یسئلونک ماذا احل لھم “ (ان کے لئے کیا حلال کیا گیا ہے ) اور اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” قل احل لکم الطیبت “ (کہو تمہارے لئے تمام پاک چیزیں کردی گئی ہیں) یہ ایک ایسا جواب ہے جو قابل غور ہے ۔ ان کے احساس میں یہ بات ڈال دی گئی کہ تمہارے لئے کوئی پاک چیز حرام نہیں کی گئی اور نہ انہیں پاک چیزوں کے استعمال سے منع کیا گیا ہے ، تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال ہیں ۔ صرف نجس اور ناپاک اشیاء حرام کردی گئی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جن چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے ‘ ازروئے طبیعی احساس بھی انسان ان کو پسند نہیں کرتا ۔ مثلا مردار ‘ خون اور خنزیر ‘ یا دل مومن ان کو پسند نہیں کرتا مثلا وہ چیزیں جن کو اللہ کے نام کے سوا کسی اور کے نام اور استھان پر ذبح کیا گیا ہو یا بتوں پر ان کو ذبح کیا گیا ہو یا جن کے گوشت کی تقسیم بذریعہ ازلام ہوئی ہو ‘ اس لئے کہ یہ بھی ایک قسم کا جوا ہے ۔

اب طبیات کی عمومی اجازت کے بعد ان میں سے ایک محسوس چیز کا ذکر کیا جاتا ہے ، یہ تخصیص بعد از تعمیم ہے ۔ یعنی وہ شکار ‘ جس کو سدھائے ہوئے کتے یا درندے پکڑتے ہیں ۔ مثلا کتے ، باز اور شکرے یا مثلا سدھائے ہوئے چیتے اور شیر پکڑتے ہیں جن کو مالکوں نے سدھایا ہو کہ شکار کو اس طرح پکڑا جاتا ہے اور اس طرح اسے قید میں رکھا جاتا ہے ۔

(آیت) ’ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُونَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّہُ فَکُلُواْ مِمَّا أَمْسَکْنَ عَلَیْْکُمْ وَاذْکُرُواْ اسْمَ اللّہِ عَلَیْْہِ وَاتَّقُواْ اللّہَ إِنَّ اللّہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (4)

” اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو ۔۔۔۔۔ جن کو خدا کے دیئے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو ۔۔۔۔۔۔ وہ جس جانور کو تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو بھی تم کھاسکتے ہو البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی ۔

حلال ہونا اس شرط کے ساتھ مشروع ہے کہ یہ شکاری جانور اس قدر سدھائے …

5

ٱلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ حِلٌّۭ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّۭ لَّهُمْ ۖ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِىٓ أَخْدَانٍۢ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِٱلْإِيمَٰنِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

آج تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جبکہ ان کا مہر دے دو۔ اور ان سے عفت قائم رکھنی مقصود ہو نہ کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا اس کے عمل ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا

(آیت) ” الْیَوْمَ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلُّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ إِذَا آتَیْْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْْرَ مُسَافِحِیْنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْ أَخْدَانٍ ۔

” آج تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں ، اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے ۔ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ‘ بشرطیکہ تم انکے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ بنو ‘ نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو)

اب پھر وہ چیزیں گنوائی جاتی ہیں جو حلال ہیں ۔۔۔۔ (آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں) اس سے اس مفہوم کی طرف تاکیدی اشارہ ملتا ہے جس کی طرف ہم نے قارئین کو اوپر متوجہ کیا تھا ۔ اب طیبات کی فہرست میں کچھ مزید چیزوں کو شامل کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بھی طیب ہیں ۔

یہاں اسلام کی رواداری کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے ۔ اسلامی معاشرے میں غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کی ایک خصوصی صورت بتائی جاتی ہے ۔ ایسے لوگ جو دارالاسلام میں رہتے ہیں اور اہل الذمہ ہیں اور مملکت اسلامیہ کے شہری ہیں اور ہیں اہل کتاب میں سے ۔

اسلام اہل کتاب غیر مسلموں کو صرف مذہبی آزادی دے کر معاشرے کے اندر الگ تھلک نہیں کردیتا نہ انہیں اسلامی معاشرے میں قابل نفرت حد تک دور پھینک دیتا ہے ۔ وہ انہیں اجتماعی شرکت اور محبت کا احساس بھی دیتا ہے اور انہیں اسلامی معاشرے میں ضم ہونے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے ۔ اسلام ان کا کھانا اہل اسلام کے لئے حلال قرار دیتا ہے ۔ اہل اسلام کے لئے یہ بھی جائز قرار دیتا ہے کہ وہ اپنا کھانا بھی اہل کتاب کو پیش کرسکتے ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے سے ملاقات کرسکیں ‘ ایک دوسرے کے مہمان بن سکیں اور باہم مل کر کھا پی سکیں اور معاشرے کے اندر محبت اور رواداری کی فضا وجود میں آئے ۔ اسی طرح اسلام اہل کتاب میں سے پاک دامن عورتوں کے ساتھ اہل اسلام کو نکاح کی بھی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ وہ محصنات ہوں یعنی پاکدامن ہوں ۔ یہ مسلمانوں کے لئے جائز ہیں ، یہاں مسلمان پاک دامن عورتوں کے ساتھ اہل کتاب پاکدامن عورتوں کا ذکر یکجا کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسی رواداری ہے جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب کے ہاں شاذو نادر ہی ملتی ہوگی ۔ اس لئے کہ عیسائیوں میں سے بھی کیتھولک فرقہ آرتھوڈکس کے ساتھ نکاح کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ اسی طرح پروٹسٹنٹ اور مارونیہ کے ساتھ بھی وہ نکاح جائز نہیں سمجھتے اور اگر عیسائی معاشرے میں کوئی ایسے نکاح کرتا ہے تو عیسائی آرتھوڈکس اسے صحیح نہیں بلکہ بدعمل سمجھتے ہیں ۔

معلوم ہوا کہ یہ صرف اسلام ہی ہے جو ایک عالمی معاشرہ قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ اسلام نے اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان مکمل علیحدگی قائم نہیں کی نہ مختلف عاقد رکھنے والوں کے درمیاں مستقل پردے ڈالے ۔ وہ اہل عقائد جو اسلامی مملکت کے شہری ہوتے ہیں حسن معاشرت کے نقطہ نظر سے وہ مسلمانوں کے ساتھ اور مسلمان ان کے ساتھ رابطہ رکھ سکتے ہیں ۔ (رہی یہ بات کہ ان لوگوں کے ساتھ خفیہ دوستیاں قائم کرنا جائز ہیں یہ نہیں تو اس کا حکم آگے آرہا ہے) رہی یہ شرط کہ کتابیات محصنہ ہوں تو یہ شرط مومنات کے لئے بھی ہیں کہ ہو محصنہ ہوں۔

(آیت) ” اذا اتیتموھن اجورھن محصنین غیر مسفحین ولا متخذی اخدان “ (5 : 5)

” بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنایاں کرو)

وہ اس طرح کہ انہیں مہر ادا کرو ‘ ان کے ساتھ شرعی نکاح کرو ‘ جس میں مرد عورت کو حصار نکاح میں لاتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے …

6

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغْسِلُوا۟ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى ٱلْمَرَافِقِ وَٱمْسَحُوا۟ بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى ٱلْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًۭا فَٱطَّهَّرُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌۭ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءًۭ فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًۭا طَيِّبًۭا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍۢ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو

اسلام میں نماز کی حیثیت اللہ کے ساتھ ملاقات کی ہے ۔ انسان اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑا ہوتا ہے ‘ اللہ سے دعا کرتا ہے ۔ اللہ کے ساتھ راز ونیاز ہوتا ہے اس لئے اس مقام پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب تیاری کی ضرورت ہے ۔

روحانی تطہیر سے پہلے اس بات کی ضرورت تھی کہ جسمانی پاکیزگی بھی ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ وضو کا حکم دیا گیا ۔ جہاں تک ہم سمجھے ہیں اصل حکمت تو اللہ کے علم میں ہے ۔ بہرحال وضو میں درج ذلیل چیزیں شامل ہیں چہرے کا دھونا ‘ ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا اور سر کا مسح کرنا اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا ۔ ان فرائض کے بارے میں معمولی فقہی اختلافات بھی ہیں ۔ اہم اختلاف یہ ہے کہ آیا یہ فرائض وضو اسی طرح ادا کئے جائیں گے جس ترتیب سے ان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے یا اس ترتیب کے سوا وضو ہوجاتا ہے ۔ اس بارے میں دو اقوال ہیں ۔

یہ وضو تو اس ناپاکی سے ہے جس میں وضو فرض ہے ۔ رہی جنابت چاہے وہ عورت کے ساتھ مباشرت کی وجہ سے لازم ہو یا احتلام کی وجہ سے تو اس پر غسل واجب ہے ۔ فرائض غسل اور فرائض وضو بیان کرنے کے بعد یہاں تیمم کا ذکر بھی کردیا گیا ۔ تیمم کی اجازت درج ذلیل حالات کے ساتھ مشروط ہے ۔

مثلا یہ کہ پانی سرے سے موجود ہی نہ ہو یا یہ کہ کوئی شخص مریض ہو اور وہ وضو پر قادر نہ ہو یا اس پر غسل واجب ہو پانی اس کے لئے موجب اذیت ہو۔ مسافر جو محتاج وضو ہو یا اس پر غسل واجب ہو اور پانی میسر نہ ہو ۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے وضو کی موجب ناپاکی کی تعبیر کی ہے ۔ (آیت) ” او جآء احد منکم من الغآئط (5 : 6) (یا تم میں سے کوئی نشیبی جگہ سے آیا ہو) غائط کے معنی نشیبی جگہ کے ہوتے ہیں جہاں اکثر لوگ قضائے حاجت کے لئے جاتے ہیں ‘ چاہے وہ پیشاب ہی کرے اور نشیبی جگہ نہ جائے ۔

اور غسل واجب ہونے کی ناپاکی کی تعبیر (آیت) ” اولمستم النسآء “ (5 : 6) (یا تم عورتوں کے ساتھ ہاتھ لگاؤ) یہ شریفانہ انداز بیان مباشرت کے لئے ہے ۔ ایسے حالات میں جن میں حاجت وضو ہو یا حاجت غسل کی کو نماز کے قریب جانے کی اجازت نہیں ‘ الا یہ کہ وہ تیمم کرلے اور پاک مٹی کا ارادہ کرے ۔ یعنی ایسی چیز پر تھپکی دے جو زمین سے ہو اور پاک ہو ۔ چاہے یہ مٹی سواری کی پشت پر ہو ‘ چاہے کہ اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ مٹی وغیرہ پر تھپکی دے ‘ پھر دونوں ہاتھ جھاڑ دے اور منہ پر مسح کرلے اور پھر اپنے ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کرلے ۔ ایک بار تھپکی دے پورے تیمم کے لئے یا دو بار تھپکی دے ۔ دو فقہی اقوال کے مطابق لفظ (آیت) ” اولمستم النسآء “۔ (5 : 6) کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے ۔ کیا اس سے مراد صرف لمس ہے یا مباشرت ہے ۔ یا اس سے مراد مطلق لمس ہے چاہے شہوت اور لذت کے ساتھ ہو یا اس کے کے بغیر ہو۔ اس میں بھی فقہی اختلافات ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ مطلق مرض میں تیمم جائز ہے یا ایسے مرض میں جس میں تکلیف ہو یا تکلیف بڑھ جانے کا خطرہ ہو ۔

پھر یہ بھی مختلف فیہ ہے کہ مرض نہ ہو لیکن پانی شدید ٹھنڈا ہو اور اس سے بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ہو تو تیمم جائز ہے ۔ راجح بات یہی ہے کہ جائز ہے ۔ اس آیت کے اختتام پر یہ تعقیب آتی ہے ۔

(آیت) ” مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـکِن یُرِیْدُ لِیُطَہَّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (6)

” اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ‘ شاید کہ تم شکر گزار بنو)

جیسا کہ ہم نے بیان کیا اللہ کی ملاقات کی حالت میں صفائی شریعت میں واجب کی گئی ہے ۔ وضو اور غسل میں جسمانی اور روحانی صفائی حاصل ہوتی ہے ۔ رہا تیمم تو اس میں کم از کم روحانی صفائی حاصل ہوتی ہے ۔ اور صفائی کے لئے وہ وضو اور غسل کا قائم مقام ہوتا ہے جب پانی نہ ملے یا پانی کے استعمال میں ضرر کا احتمال ہو ۔ یہ اس لئے جائز کیا گیا ہے کہ …

7

وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَٰقَهُ ٱلَّذِى وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (خدا کا حکم) سن لیا اور قبول کیا۔ اور الله سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے

(آیت) ” نمبر 7۔

جن لوگوں کو سب سے پہلے قرآن نے خطاب کیا تھا وہ اس دین کی قدروقیمت کو اچھی طرح جانتے تھے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں اس لئے کہ وہ اس دین کی حقیقت اپنی ذات اور شخصیت کے اندر زندہ طور پر دیکھ رہے تھے ۔ یہ دین ان کی زندگی ‘ ان کی سوسائٹی اور ان کے اردگرد پوری بشریت میں اس کے مقام کے حوالے سے ان کی آنکھوں کے سامنے تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسمت کی طرف صرف اشارہ ہی ان کے لئے کافی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ بسہولت اس عظیم حقیقت کی طرف متوجہ ہو سکتے تھے جو ان کی زندگی اور ماحول میں موجود تھی ۔

اسی طرح اس میں اس میثاق کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا ۔ اور یہاں اس کی طرف اس لئے اشارہ کیا گیا کہ یہ بھی ایک واضح حقیقت تھی جسے وہ جانتے تھے اور اس پر وہ بہت فخر کرتے تھے ۔ اس معاہدے کا فریق اول اللہ تھا ۔ اور فریق دوئم وہ تھے اور یہ بات ان کے لئے نہایت ہی قابل قدر اور قابل عزت تھی ‘ اور یہ بات نہایت عظیم تھی اور وہ اس کی اہمیت اور حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے ۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خدا ترسی کے حوالے کرتے ہیں اور دل کے اندر اللہ کے خوف کا احساس کرنے اور خفیہ خطرات کے مقابلے میں ان کو بیدار کیا جاتا ہے ۔

(آیت) ” واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون “ (اللہ سے ڈرو ‘ اللہ ان باتوں سے خبردار ہے جو تم کرتے ہو) انداز تعبیر (آیت) ” بذات الصدور “۔ (5 : 7) باتصویر اور مفہوم کو تیزی سے منتقل کرنے والی ہے ۔ مناسب ہوگا کہ اس میں جو خوبصورتی ‘ معنی خیزی اور گہرائی ہے اس کی طرف اشارہ کیا جائے ۔ ذات الصدور کا مفہوم عربی میں ” دلوں کی مالکہ “ جو دلوں میں چسپاں ہو ‘ کنایتہ مراد وہ خفیہ جذبات ہیں جو دلوں میں پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ پوشیدہ میلانات ‘ دلوں کے خلجان ‘ خفیہ راز ایسے راز جو دلوں کے ساتھ چسپاں ہیں۔ یہ خفیہ راز بھی اللہ کے سامنے بالکل کھلے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ دلوں میں چھپی باتوں کا بھی جاننے والا ہے ۔

وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے لیا ہے ‘ اس میں یہ بات بھی ہے کہ یہ امت پوری انسانیت کے لئے عدل و انصاف کی نگران ہوگی ۔ ایسا انصاف کہ اس کے ترازو کا کوئی پلڑا دوستی اور دشمنی کی وجہ سے جھک نہ جائے ، اس پر رشتہ داری اور خواہشات نفسانیہ کے اثرات بھی نہ ہوں اور نہ وہ کسی مصلحت سے متاثر ہو ۔ یہ عدل صرف ذات باری کی رضا کے لئے ہو اور اس میں انصاف کرنے والا موثرات دنیا میں سے کسی موثر سے اثر نہ لے اور یہ انصاف اس شعور کے تحت ہو کہ اللہ رقیب اور نگہبان ہے اور خفیہ ترین گوشوں سے باخبر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی پکار یہ ہے ۔

8

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ ۚ ٱعْدِلُوا۟ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

اے ایمان والوں! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

(آیت) ” نمبر 8۔

اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات سے روکا تھا کہ وہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے کہ انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا تھا ‘ بےانصاف کرنے سے ہاتھ کھینچ لیں اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ کر بیٹھیں ضبط نفس اور رواداری کی یہ انتہا تھی جہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو پہنچانا چاہتے تھے اور یہ اللہ کا نہایت ہی مضبوط منہاج تربیت تھا ۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس بات سے روکتے ہیں کہ وہ دشمنی کی وجہ سے عدل سے رک نہ جائیں ۔ یہ ایک نہایت ہی اعلی چوٹی ہے اور اس قدر مشکل اور دشوار گزار راہ ہے کہ اس پر چلنا نفس کے لئے نہایت ہی باعث مشقت ہے۔ پہلی آیت میں تھا کہ تم دشمنی کی وجہ سے ظلم نہ کرو اور یہ مرحلہ اس سے آگے کا ہے کہ دشمنی کے باوجود انصاف کرو ‘ یعنی باوجود اس کے کہ ان کے خلاف تمہارے جذبات مشتعل ہیں اور تم کراہت محسوس کرتے ہو پھر بھی عدل کرو۔ پہلا حکم بہت ہی آسان تھا اس لئے کہ وہ منفی کام تھا ‘ انسان اس سے رک سکتا تھا کہ ظلم نہ کرے ۔ رہا دوسرا حکم کہ ان ظالموں کے ساتھ اور دشمنوں کے ساتھ عدل و انصاف کرو یہ ایک مثبت اور پر مشقت کام ہے یعنی انفس انسانی کو ایسے مبغوض اور قابل نفرت لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے پر مجبور کرنا ۔

اسلام کا حکیمانہ نظام تربیت اپنے تربیت یافتہ لوگوں سے ایسا مشکل کام کروا سکتا تھا اس لئے اسلام حکم دیتا ہے ۔

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ لِلّہِ شُہَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہوں اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ ۔ عدل کرو ‘ یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور اس کے بعد وہ بات بتائی جاتی ہے جو اس مشکل کام کے لئے معین و مددگار ہے ۔

(آیت) ” واتقوا اللہ ، ان اللہ خبیر بما تعملون “۔ (5 : 8) اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ سے پوری طرح باخبر ہے ۔ ) انسان کا نفس اس قدر بلندی تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا ‘ الا یہ کہ اس کام کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست ہو ‘ جس وقت انسان صرف اللہ کے لئے کھڑا ہوجائے اور اللہ کے سوا ہر چیز کو چھوڑ دے ۔ جس وقت انسان کو خدا خوفی کا شعور ہو اور اسے یہ احسان ہو کہ اللہ کی نظروں سے کوئی خفیہ بات بھی بلند کرسکتی ہے۔

دنیا میں کوئی ایسا نظام نہیں ہے جو انسانوں کو ایسا انصاف دے سکتا ہو جس میں دوست اور دشمن برابر ہوں ۔ یہ صرف دین اسلام کا کام ہے جو اہل ایمان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ انصاف کے معاملے میں محض اللہ کے لئے کھڑے ہوجائیں اور وہ انصاف کے لئے ماسوائے انصاف کے ہر سوچ (ConsiderAtion) ترک کردیں ۔

یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جن کی وجہ سے اس دین کو دین انسانیت اور عالمی دین قرار دیا گیا ہے ۔ اس کا نظام تمام لوگوں کے لئے بالکل کافی ہے ‘ چاہے وہ لوگ اس دین کے ماننے والے ہوں یا نہ ماننے والے ہوں۔ تمام لوگ اس کے زیر سایہ عدل و انصاف کی زندگی گزار سکتے ہیں ۔ انصاف قائم کرنا ان لوگوں پر فرض ہے جو اس دین کے ماننے والے ہیں اور اس قیام عدل میں ان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ ہے ‘ اگرچہ وہ انصاف چاہنے والوں کے ظلم وعدوان کا شکار رہے ہوں اور ان کے دل میں ان کی دشمنی ہو ۔ یہ اس امت کا فریضہ ہے جسے اس پوری انسانیت کا نگران بنایا گیا ہے ۔ اگرچہ اس عدل کے قیام میں اسے مشکلات پیش آئیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس امت نے یہ فریضہ تاریخ میں بہت ہی اچھی طرح ادا کیا ہے ۔ اس نے اس کی راہ میں عظیم مشقتیں برداشت کی ہیں ‘ جبکہ اسلام قائم تھا اور یہ اس امت کی زندگی میں محض وعظ اور نصیحت کا کام نہ تھا ۔ نہ اعلی نمونوں کی چند مثالیں تھیں ‘ بلکہ یہ اس …

9

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌ عَظِيمٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

(آیت) ” نمبر 9 تا 10۔

یہ وہ جزاء ہے جو ان برگزیدہ لوگوں کے لئے ہے جن سے دنیاوی لذات اور مفادات فوت ہوجاتے ہیں ۔ انہیں دنیا میں عیش کوشی کا موقع نہیں ملتا ۔ وہ دنیا میں اسلامی انقلاب کے فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں اور اس انعام کے ہوتے ہوئے دنیا میں بشریت کی نگہبانی کے فرائض بہت ہی کم نظر آتے ہیں اور انسان بشری میلانات ‘ انسانی حسد وعناد اور اس دنیا کے لالچ کو خاطر میں نہیں لاتا ۔ پھر اس سے اللہ کی صفت عدل کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں اور اشرار کو ایک ہی سطح پر نہیں رکھتے ۔

اس بات کی ضرورت ہے کہ انقلابی مومنین کی نظریں اللہ کی اس جزاء کے ساتھ اٹکی ہوئی ہوں اور ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ اس طرح ہو کہ ان کی راہ میں رکاوٹوں میں سے کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے ۔ زندگی کے حالات میں اور مختلف احوال میں بھی ۔ بعض دل تو ایسے ہوتے ہیں کہ محض جذبہ حصول رضائے الہی ان کے لئے کافی ہوتا ہے اور وہ اس کو چکھ کر خوب چٹخارے لیتے ہیں جس طرح انہیں اللہ کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو ایفا کرنے میں خوب مزہ آتا ہے ۔ لیکن اسلامی نظام ان اولوالعزم لوگوں کے علاوہ عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کو مزاج بھی اللہ کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کا مزاج بھی اللہ کی پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کے ساتھ اجر عظیم کا وعدہ بھی ضروری ہے ۔ اسی طرح عوام الناس کو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ یہ جانیں کہ جھٹلانے والوں کا انجام وسزا کیا ہوگی اس لئے کہ عوام الناس اسی پر راضی ہوتے ہیں اور یہی ان کا مزاج ہوتا ہے ۔ اس لئے عوام الناس اپنی جزا اور کفار کی سزا کا حکم سن کر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح اشرار کے کاموں پر ان کے دل میں جو غیض وغضب پیدا ہوتا ہے وہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے ۔ خصوصا ایسے مواقع پر جب اہل ایمان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کریں ۔ خصوصا ایسے حالات میں جبکہ ان کے ہاتھوں اہل ایمان نے مکروفریب اور ایذاء رسانی اور نیش زنی کو برداشت کیا ہو۔ اسلامی نظام زندگی انسانیت کو اسی طرح لیتا ہے جس طرح انسانوں کی فطرت ہے اور اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتے ہیں ۔ اسلام انسانوں کو ایسا نعرہ اور ایسی دعوت دیتا ہے کہ جس سے ان کے شعور کے دریچے کھلتے ہیں اور جس پر ان کی جان اور روح لبیک کہتی ہے ۔ پھر یہ انعام یعنی مغفرت اور اجر عظیم اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہے ۔

سیاق کلام میں ذرا آگے جائیں اور عدل انصاف اور رواداری کی روح اب جماعت مسلمہ کے اندر نہایت ہی قوی پائیں ۔ اس کے اندر زیادتی ‘ کینہ پروری ‘ اور یک رخی کا شعور ختم کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یاد دلاتے ہیں کہ ان پر اللہ کا یہ کس قدر عظیم کرم ہے کہ اللہ نے ان کے خلاف مشرکین کی تمام کاروائیاں بند کرادیں جبکہ حدیبیہ کے موقع پر اور دوسرے مواقع پر وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہ کرسکے ۔

10

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

(آیت) ” نمبر 9 تا 10۔

یہ وہ جزاء ہے جو ان برگزیدہ لوگوں کے لئے ہے جن سے دنیاوی لذات اور مفادات فوت ہوجاتے ہیں ۔ انہیں دنیا میں عیش کوشی کا موقع نہیں ملتا ۔ وہ دنیا میں اسلامی انقلاب کے فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں اور اس انعام کے ہوتے ہوئے دنیا میں بشریت کی نگہبانی کے فرائض بہت ہی کم نظر آتے ہیں اور انسان بشری میلانات ‘ انسانی حسد وعناد اور اس دنیا کے لالچ کو خاطر میں نہیں لاتا ۔ پھر اس سے اللہ کی صفت عدل کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں اور اشرار کو ایک ہی سطح پر نہیں رکھتے ۔

اس بات کی ضرورت ہے کہ انقلابی مومنین کی نظریں اللہ کی اس جزاء کے ساتھ اٹکی ہوئی ہوں اور ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ اس طرح ہو کہ ان کی راہ میں رکاوٹوں میں سے کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے ۔ زندگی کے حالات میں اور مختلف احوال میں بھی ۔ بعض دل تو ایسے ہوتے ہیں کہ محض جذبہ حصول رضائے الہی ان کے لئے کافی ہوتا ہے اور وہ اس کو چکھ کر خوب چٹخارے لیتے ہیں جس طرح انہیں اللہ کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو ایفا کرنے میں خوب مزہ آتا ہے ۔ لیکن اسلامی نظام ان اولوالعزم لوگوں کے علاوہ عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کو مزاج بھی اللہ کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کا مزاج بھی اللہ کی پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کے ساتھ اجر عظیم کا وعدہ بھی ضروری ہے ۔ اسی طرح عوام الناس کو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ یہ جانیں کہ جھٹلانے والوں کا انجام وسزا کیا ہوگی اس لئے کہ عوام الناس اسی پر راضی ہوتے ہیں اور یہی ان کا مزاج ہوتا ہے ۔ اس لئے عوام الناس اپنی جزا اور کفار کی سزا کا حکم سن کر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح اشرار کے کاموں پر ان کے دل میں جو غیض وغضب پیدا ہوتا ہے وہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے ۔ خصوصا ایسے مواقع پر جب اہل ایمان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کریں ۔ خصوصا ایسے حالات میں جبکہ ان کے ہاتھوں اہل ایمان نے مکروفریب اور ایذاء رسانی اور نیش زنی کو برداشت کیا ہو۔ اسلامی نظام زندگی انسانیت کو اسی طرح لیتا ہے جس طرح انسانوں کی فطرت ہے اور اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتے ہیں ۔ اسلام انسانوں کو ایسا نعرہ اور ایسی دعوت دیتا ہے کہ جس سے ان کے شعور کے دریچے کھلتے ہیں اور جس پر ان کی جان اور روح لبیک کہتی ہے ۔ پھر یہ انعام یعنی مغفرت اور اجر عظیم اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہے ۔

سیاق کلام میں ذرا آگے جائیں اور عدل انصاف اور رواداری کی روح اب جماعت مسلمہ کے اندر نہایت ہی قوی پائیں ۔ اس کے اندر زیادتی ‘ کینہ پروری ‘ اور یک رخی کا شعور ختم کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یاد دلاتے ہیں کہ ان پر اللہ کا یہ کس قدر عظیم کرم ہے کہ اللہ نے ان کے خلاف مشرکین کی تمام کاروائیاں بند کرادیں جبکہ حدیبیہ کے موقع پر اور دوسرے مواقع پر وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہ کرسکے ۔

Al-Maaida 5:10Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.