وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًۭا
اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا بے پروا اور سزاوار حمدوثنا ہے
وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ : گزشتہ آیات میں عورتوں اور یتیم بچوں سے متعلق احکام بیان کیے گئے تھے، اب جو یہ فرمایا کہ زمین و آسمان کی ہر شے اللہ کی ہے، تو اس سے لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ ان احکام پر عمل کرنے میں تمہارا ہی فائدہ ہے، اللہ تعالیٰ کسی کے فائدے اور نقصان سے بےنیاز ہے۔ - وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ۔۔ : یعنی تم سے پہلے لوگوں کو اور تم سب کو اس بات کا تاکیداً حکم دیا گیا کہ اللہ سے ڈرو، یعنی اس کے دیے گئے احکام پر عمل کرو۔ یہ جملہ ” اتَّقُوا اللّٰهَ “ قرآن کی تمام آیات کے لیے بمنزلہ رحی (چکی) کے ہے کہ اسی کی لٹھ پر تمام آیات گھومتی ہیں۔ ابن عاشور (رض) نے فرمایا : ” قرآن مجید میں اللہ کے اسماء کے بعد سب سے زیادہ اسی کا ذکر ہوا ہے۔ “ - 3 شاہ عبدالقادر (رض) لکھتے ہیں : ” تین بار فرمایا کہ اللہ کا ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے، پہلی بار کشائش ( کھلا رزق دینے) کا بیان ہے کہ علیحدگی کی صورت میں اللہ تعالیٰ دونوں کو غنی کر دے گا، کیونکہ جو کچھ بھی ہے اللہ ہی کا ہے، جسے جس طرح چاہے دیتا ہے) دوسری دفعہ اس کی بےپروائی کا بیان ہے کہ اگر تم کفر کرو، منکر بنو تو اللہ بھی بےپروا ہے، کیونکہ سبھی کچھ اس کا ہے اور تیسری بار اللہ کے کارساز ہونے کا بیان ہے کہ اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو وہ کافی وکیل ہے۔