Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 121–130 of 176

121

أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًۭا

ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ وہاں سے مخلصی نہیں پاسکیں گے

Explained together with ayah 120

An-Nisaa 4:121Listen in Qur'an →
122

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّۭا ۚ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ قِيلًۭا

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ابدالآباد ان میں رہیں گے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے

جس طرح شیطان اپنی پیروی کرنے والوں سے وعدے کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے نیک بندوں سے جنت اور بلند درجات کے وعدے فرماتا ہے اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدے اور بات میں کون سچا ہوسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : ( وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا ) [ النساء : ٨٧ ] ” اور اللہ سے زیادہ بات میں کون سچا ہے۔ “

An-Nisaa 4:122Listen in Qur'an →
123

لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَآ أَمَانِىِّ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوٓءًۭا يُجْزَ بِهِۦ وَلَا يَجِدْ لَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًۭا

(نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی (طرح) کا بدلا دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مددگار

لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ ۔۔ : اہل کتاب کا خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں، جن گناہوں پر لوگ پکڑے جائیں گے ہم نہیں پکڑے جائیں گے، ہمارے پیغمبر ہماری حمایت کریں گے، ہم صرف چند دن جہنم میں رہیں گے۔ ( دیکھیے البقرۃ : ٨٠) جنت میں صرف ہم جائیں گے۔ ( البقرۃ : ١١١) آج کل کچھ نادان مسلمان بھی اپنے حق میں یہ خیال رکھتے ہیں، سو اللہ نے فرمایا کہ برا جو کرے گا، کوئی ہو، سزا پائے گا، کسی کی حمایت کام نہیں آئے گی۔ اللہ کا پکڑا وہی چھوڑے تو چھوٹے۔ دنیا کی مصیبت پر آدمی قیاس کرلے۔ - مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِهٖ ۙ ۔۔ : خوش فہمیاں اور خام خیالیاں سزا کو دفع نہیں کرسکتیں، سزا ضرور ملے گی، خواہ دنیا میں ملے یا آخرت میں، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کی وجہ سے، یا کسی نیک عمل کی وجہ سے، یا دنیا میں آنے والی مصیبتوں کی وجہ سے، معاف فرما دے۔ خلاصہ یہ کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہاں اسے کوئی اپنے زور سے چھڑوا لے گا : ( وَلَا يَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا ) ” اور وہ اللہ کے سوا اپنے لیے نہ کوئی دوست پائے گا اور نہ کوئی مدد گار “ ہاں، اللہ تعالیٰ خود ہی دنیا کی تکلیفوں کو اس کے لیے کفارہ بنا دے، یا اس کے توحید و سنت پر گامزن ہونے کی وجہ سے اس سے درگزر کر دے تو وہ مالک و مختار ہے۔

An-Nisaa 4:123Listen in Qur'an →
124

وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًۭا

اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

نقیراً : نقیر اس چھوٹے سے گڑھے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کی پشت پر ہوتا ہے، یعنی مرد ہو یا عورت اگر ایمان اور عمل صالح موجود ہے تو جنت میں جائیں گے اور ان پر تھوڑے سے تھوڑا ظلم بھی نہیں کیا جائے گا۔

An-Nisaa 4:124Listen in Qur'an →
125

وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًۭا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌۭ وَٱتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۗ وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبْرَٰهِيمَ خَلِيلًۭا

اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا

وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عمل کی قبولیت کے معیار مقرر فرمائے ہیں، پہلا یہ کہ اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کے تابع کر دے۔ دوسرا یہ کہ وہ محسن ہو، تیسرا ملت ابراہیم کی پیروی کرے، جو حنیف تھے۔ چہرہ تابع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کر دے، اپنی مرضی ختم کر کے اس کی مرضی پر چلے، یہ ایمان ہے۔ محسن ہونے کا مطلب ہے کہ ہر عمل خالص اللہ کے لیے کرے، جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احسان کے بارے میں فرمایا : ( اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ ) [ بخاری، الایمان، باب سؤال جبریل النبیّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ٥٠ ] اور ملت ابراہیم کی پیروی کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پوری طرح فرماں بردار ہوجائے، کیونکہ اب قیامت تک ملت ابراہیم پر قائم صرف امت مسلمہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ وَھٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ) [ آل عمران : ٦٨ ] ” بیشک سب لوگوں سے ابراہیم کے قریب یقیناً وہی لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔ “ اور دیکھیے سورة نحل (١٢٣) اگر ایمان نہیں تو کوئی عمل قبول نہیں، احسان و خلوص نہیں تو ریا ہے، جو شرک ہے اور نبی کے طریقے پر نہیں تو سنت نہیں، بلکہ بدعت ہے۔ - 2 خَلِيْلًا : جس کی دوستی دل کے درمیان پہنچ جائے اور اس میں کسی پہلو سے بھی کوئی خامی نہ رہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی خلیل بنایا ہے جس طرح اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا۔ “ [ مسلم، المساجد، باب النھی عن بناء المساجد علی القبور۔۔ : ٥٢٨ ]

An-Nisaa 4:125Listen in Qur'an →
126

وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍۢ مُّحِيطًۭا

اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے

یعنی اللہ تعالیٰ کے ابراہیم (علیہ السلام) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوست بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح دوست برابر ہوتے ہیں، ان کی ملکیت بھی ایک ہی سمجھی جاتی ہے، اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے خلیل تھے، نہیں بلکہ آسمان و زمین کی ملکیت اب بھی اللہ ہی کے پاس ہے اور ہر شے کا احاطہ بھی اسی کے پاس ہے، یہ تو اس کا فضل و کرم ہے کہ اپنے ان خاص بندوں کو اپنا خلیل قرار دے کر ان کی عزت افزائی فرمائی۔ دلیل چاہو تو ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آذر اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابو لہب کا معاملہ دیکھ لو۔

An-Nisaa 4:126Listen in Qur'an →
127

وَيَسْتَفْتُونَكَ فِى ٱلنِّسَآءِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِى ٱلْكِتَٰبِ فِى يَتَٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّٰتِى لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلْوِلْدَٰنِ وَأَن تَقُومُوا۟ لِلْيَتَٰمَىٰ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمًۭا

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاۗءِ ۭ ۔۔ : گو یہاں یہ صراحت نہیں ہے کہ عورتوں کے بارے میں کیا سوال کر رہے تھے، لیکن اگلی چار آیات میں جو فتویٰ دیا گیا ہے اس سے اس سوال کا خود بخود پتا چل جاتا ہے۔ - قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ ۙ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ ۔۔ : یہاں دراصل کچھ سوالوں کے جواب کے لیے پچھلی آیات کا حوالہ دیا ہے کہ کتاب کی اسی سورت میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ اسی سے متعلق ہے، مثلاً آیت (٣) اور اس کے بعد کی آیات یتیم لڑکیوں کے نکاح سے متعلق ہیں، پھر عورتوں کے حقوق اور نابالغ بچوں کی نگہداشت اور ان کا مال کھانے سے اجتناب اور ان کا ورثہ دینا یہ سب اسی کے بارے میں ہے۔ - وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ : ” اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو “ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے کہ جب ” ترغبون “ کا صلہ ” فِیْ “ محذوف مانا جائے، جس کا معنی رغبت کرنا ہے اور اگر اس کا صلہ ” عَنْ “ محذوف مانا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ تم ان سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے۔ عائشہ (رض) کی حدیث سے اس دوسرے ترجمے کی تائید ہوتی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں یتیم بچیوں پر دونوں طرح کا ظلم کیا جاتا تھا۔ ابتدا سورت میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ (قرطبی) اس آیت کے مطلب میں شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اس سورت کے اول میں یتیم کے حق کا ذکر تھا اور فرمایا تھا کہ یتیم لڑکی، جس کا کوئی ولی نہ ہو مگر اس کا چچا زاد، سو وہ اگر سمجھے کہ میں اس کا حق ادا نہ کرسکوں گا تو وہ اسے اپنے نکاح میں نہ لائے، کسی دوسرے سے اس کا نکاح کر دے اور خود اس کا ولی بن جائے۔ اب مسلمانوں نے ایسی عورتوں کو نکاح میں لانا موقوف کردیا، پھر دیکھا گیا کہ بعض اوقات لڑکی کے ولی ہی کے لیے اسے اپنے نکاح میں رکھنا بہتر ہوتا ہے، اس بنا پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رخصت مانگی گئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اجازت مل گئی اور فرمایا کہ وہ جو کتاب میں منع کیا گیا تھا وہ اس وقت ہے کہ اس کا حق پورا نہ دو ، اگر ان کے حق کی بہتری کی سوچو تو رخصت ہے۔ “ (موضح) - وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ : یعنی ان کے بارے میں بھی اپنے احکام یاد دلاتا ہے جو اس سورت کے شروع میں میراث کے تحت دیے گئے ہیں۔ [ دیکھیے النساء : ١٠، ١١ ]

An-Nisaa 4:127Listen in Qur'an →
128

وَإِنِ ٱمْرَأَةٌ خَافَتْ مِنۢ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًۭا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًۭا ۚ وَٱلصُّلْحُ خَيْرٌۭ ۗ وَأُحْضِرَتِ ٱلْأَنفُسُ ٱلشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا

اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ ۔۔ : ” نشوزا “ کا مطلب ہے زیادتی، لڑائی جھگڑا، اعراض، بےرخی۔ نشوز یا اعراض یہ ہے کہ اس سے بدسلوکی کرے، اس کو حقیر سمجھے، اس کے پاس سونا بیٹھنا چھوڑ دے، اسے نان و نفقہ نہ دے، مارنے کے لیے بہانے تراشے، یا اس کے پاس اور بیوی ہے جسے وہ زیادہ چاہتا ہے، اس لیے اس کی طرف توجہ کم ہے، تو اس صورت میں دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں، ایک تو یہ کہ عورت سمجھے کہ میں اسی شخص کے نکاح میں رہوں تو میرے حق میں بہتر ہے، خواہ مجھے اپنے کچھ حقوق چھوڑنے پڑیں۔ دوسری یہ کہ وہ اس سے علیحدہ ہوجائے آیت (١٢٨) میں پہلی صورت کا ذکر ہے اور آیت (١٣٠) میں دوسری صورت کا ذکر ہے۔ - اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا : ” صلحاً “ کی تنکیر ( کسی طرح کی صلح) سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں کسی طریقے سے بھی صلح کرلیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : ” کسی مرد کے پاس کوئی عورت ہوتی اور اب وہ اسے مزید نہ رکھنا چاہتا اور طلاق دینے کا ارادہ کرتا تو وہ عورت کہہ دیتی کہ ( مجھے طلاق نہ دے، اپنے نکاح میں رہنے دے) میں اپنی باری کے بارے میں تمہیں اجازت دیتی ہوں (کہ تو جس بیوی کے پاس چاہے رہے) چناچہ یہ آیت اس سلسلے میں نازل ہوئی۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب (وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَت۔۔ ) : ٤٦٠١ ]- عبد اللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ سودہ (رض) کو اندیشہ لاحق ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں طلاق دے دیں گے تو انھوں نے عرض کیا : ” اے اللہ کے رسول میری باری کا دن عائشہ کو دے دیں مگر مجھے طلاق نہ دیں، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کیا، اس پر یہ آیت اتری : ( وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا ) ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” وہ دونوں جس چیز پر صلح کرلیں وہ جائز ہے۔ “ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة النساء : ٣٠٤٠ ] عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب سودہ بنت زمعہ (رض) عمر رسیدہ ہوگئیں تو انھوں نے اپنا دن عائشہ (رض) کو ہبہ کردیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا دن بھی عائشہ کے پاس گزارتے تھے۔ [ بخاری، النکاح، باب المرء ۃ تہب یومہا من زوجھا۔۔ : ٥٢١٢ ]- وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۭ : یعنی صلح ہر حال میں بہتر ہے، کیونکہ شیطان اپنے کارندوں میں سے اس کارندے کو اپنے قریب کر کے شاباش دیتا ہے جو میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دے۔ [ مسلم، صفات المنافقین و أحکامھم، باب تحریش الشیطان ۔۔ : ٦٧؍٢٨١٣ ] - وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ۭ : ” الشح “ کا معنی ہے بخل، جس کے ساتھ حرص بھی ہو، یعنی انسان کا بخل اور لالچ تو فطری امر ہے، مرد کا شح یہ ہے کہ عورت سے فائدہ اٹھائے مگر اس کے پورے حقوق ادا نہ کرے اور عورت کا شح یہ ہے کہ مہر اور نان و نفقہ تو پورا وصول کرے مگر حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرے۔ - وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا ۔۔ : یعنی اس لالچ کے جذبے کے باوجود اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے احسان اور فیاضی کا سلوک کریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں تو اللہ کے ہاں اس کا اجر ضرور پائیں گے، جو ان کے ہر عمل سے پورا باخبر ہے۔

An-Nisaa 4:128Listen in Qur'an →
129

وَلَن تَسْتَطِيعُوٓا۟ أَن تَعْدِلُوا۟ بَيْنَ ٱلنِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا۟ كُلَّ ٱلْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَٱلْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور تم خوا کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر ہوا میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا ۔۔ : یعنی دو یا دو سے زیادہ بیویوں کے درمیان ہر لحاظ سے پوری پوری مساوات برتنا انسانی طاقت سے باہر ہے، کیونکہ عورتوں میں اپنی طبیعتوں، اخلاق و عادات، حسن صورت اور عمر وغیرہ میں ایک دوسری سے فرق ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر مرد کا میلان ایک کی طرف زیادہ اور دوسری کی طرف کم ہو تو یہ ایک فطری امر ہے، جس پر وہ چاہے بھی تو قابو نہیں پاسکتا۔ لہٰذا قرآن نے اس بات پر زور دیا کہ ایک سے زیادہ بیویاں ہونے کی صورت میں ایک کی طرف اس طرح جھک جانا کہ دوسری معلق (لٹکی ہوئی) ہو کر رہ جائے، گویا اس کا کوئی شوہر ہی نہیں اور نہ وہ غیر شادی شدہ ہے کہ کہیں اور نکاح کرلے، تو یہ حرام ہے، ظاہری حقوق میں عورتوں سے مساوی سلوک کیا جائے، دل کے میلان پر گرفت نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے : ” یا اللہ یہ میری بیویوں کے درمیان اس چیز کی تقسیم ہے جس کا میں اختیار رکھتا ہوں ( یعنی کھانا پینا، کپڑا، سونا بیٹھنا وغیرہ) لہٰذا تو مجھے اس چیز پر ملامت نہ فرما جس کا میں اختیار نہیں رکھتا ( یعنی دلی میلان اور محبت) ۔ “ [ أبو داوٗد، النکاح، باب فی القسم بین النساء : ٢١٣٤۔ ترمذی : ١١٤٠ ]- 2 بعض لوگوں نے اس آیت اور اس سورت کی آیت (٣) دونوں کو ملا کر نتیجہ نکالا ہے کہ ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان عدل ممکن ہی نہیں۔ دوسرا حکم ہے کہ اگر عدل نہ کرسکنے کا خوف ہو تو بس ایک بیوی یا لونڈی رکھو۔ معلوم ہوا کہ ایک سے زیادہ نکاح جائز نہیں۔ اس کے جواب کے لیے سورة نساء کی آیت (٣) کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔ بلکہ زیر تفسیر آیت میں تو عورتوں کے درمیان عدل میں اتنی رعایت دی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے منع نہ کیا ہوتا تو آدمی چار سے زیادہ بیویاں بھی رکھ سکتا تھا، بشرطیکہ کوئی عورت ایسی لٹکی ہوئی نہ ہوتی کہ خاوند اس کے پاس چکر ہی نہ لگاتا، نہ اس کے کھانے پینے کی فکر کرتا۔ اگر آدمی اصلاح کرے اور ڈرے تو جو کمی بیشی ہے وہ اللہ معاف کر دے گا۔

An-Nisaa 4:129Listen in Qur'an →
130

وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ ٱللَّهُ كُلًّۭا مِّن سَعَتِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ وَٰسِعًا حَكِيمًۭا

اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے

وَاِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ ۭ : یہ دوسری صورت ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوئی صورت باقی ہی نہیں رہی تو اچھے طریقے سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ مرد کو دوسری بیوی مل جائے گی، جو اسے پسند ہو اور عورت کو دوسرا شوہر مل جائے گا جو اس سے محبت کرے اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھے۔ (قرطبی) اس سے اسلام کے احکام کی حکمت، وسعت اور رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعض مذاہب میں طلاق کو حرام قرار دیا گیا ہے، ایک دفعہ جب نکاح ہوگیا اب وہ خواہ ایک دوسرے سے کتنے متنفر ہوجائیں، خواہ ان کی زندگی جہنم کا نمونہ بن جائے، طلاق نہیں دے سکتے۔ نہیں ہرگز نہیں، جب تعلق روگ بن جائے تو اس کا ٹوٹنا ہی اچھا ہے۔ اسلام نے دونوں کے لیے علیحدگی کا راستہ رکھا ہے، جس کے ذریعے سے وہ نئی زندگی شروع کر کے امن و اطمینان سے زندگی بسر کرسکتے ہیں، رہی وہ حدیث جس میں ہے : ( اَبْغَضُ الْحَلاَلِ عِنْدَ اللّٰہِ الطَّلاَقُ ) ( اللہ کے نزدیک حلال میں سب سے ناپسندیدہ طلاق ہے) تو یہ حدیث صحیح سند سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں۔ شیخ ناصر الدین البانی (رض) نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [ دیکھیے إرواء الغلیل : ٧؍١٠٦، ح : ٢٠٤٠ ]- وَكَان اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيْمًا : یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ کسی کا رزق میرے ہاتھ میں ہے، اگر میں نہ دوں گا تو وہ بھوکا مرجائے گا۔ اللہ تعالیٰ رازق مطلق ہے اور اس کے انتظامات انسانی سمجھ سے بالاتر ہیں، اس نے جس طرح ملاپ میں حکمت رکھی ہے، جدائی میں بھی رکھی ہے۔

An-Nisaa 4:130Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.