Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 11–20 of 176

11

يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءًۭ فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةًۭ فَلَهَا ٱلنِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٌۭ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخْوَةٌۭ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ ۗ ءَابَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًۭا ۚ فَرِيضَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

حق كا اعتراف اكثر حالات ميں اپني بڑائي كو كھونے كے هم معني هوتا هے۔ آدمي اپني بڑائي كو كھونا نهيں چاهتا۔ اس ليے وه حق كا اعتراف بھي نهيں كرتا۔ مگر حق كے آگے نه جھكنا خداكے آگے نه جھكنا هے۔ ايسے لوگوں كے لیے خدا كے يهاں سخت ترين عذاب هے۔

آدمي اگر چه تكبر كي بنا پر حق سے اعراض كرتا هے تاهم اپنے رويه كے جواز كے ليے وه نظرياتي دليل پيش كرتا هے۔ مگر اس دليل كي حقيقت جھوٹے الفاظ سے زياده نهيں هوتي۔ ايسا آدمي كسي چيز كو غلط مفهوم دے كر اس كو شوشه بناتاهے۔ اور اس شوشه كي بنياد پر حق كا اور اس کے داعي كا مذاق اڑانے لگتا هے۔ ايسے لوگ سخت ترين سزاكے مستحق هيں۔ كيوں كه وه بد عملي پر سركشي كا اضافه كررهے هيں۔ اس سركشي پر انھيں جو چيز آماده كرتي هے وه ان كي دنيوي حيثيت هے۔ مگر كسي كي دنيوي حيثيت آخرت ميں ا س كے كچھ كام آنے والي نهيں۔

12

۞ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌۭ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌۭ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌۭ يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمْرَأَةٌۭ وَلَهُۥٓ أَخٌ أَوْ أُخْتٌۭ فَلِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوٓا۟ أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِى ٱلثُّلُثِ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصَىٰ بِهَآ أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّۢ ۚ وَصِيَّةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌۭ

اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے

کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق کئی دوروں میں تدریجی طورپر ہوئی ہے۔ تدریجی تخلیق دوسرے لفظوں میں منصوبہ بند تخلیق ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق منصوبہ بند انداز میں ہوئی ہے تو یقینی ہے کہ اس کا ایک منصوبہ ساز ہو جس نے اپنے مقرر منصوبہ کے تحت اس کو ارادۃً بنایا ہو۔

اسی طرح یہاں زمین کے اوپر جگہ جگہ پہاڑ ہیں جو زمین کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں کروڑوں قسم کے ذی حیات ہیں۔ ہر ایک کو الگ الگ رزق درکار ہے۔ مگر ہر ایک کا رزق اس طرح کامل مطابقت کے ساتھ موجود ہے کہ جس کو جو روزی درکار ہے وہ اپنے قریب ہی اس کو پالیتا ہے۔ اسی طرح کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام چیزیں ابتداء ًمنتشر ایٹم کی صورت میں تھیں۔ پھر وہ مجتمع ہو کر الگ الگ اشیاء کی صورت میں متشکل ہوئیں۔ اسی طرح کائنات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وسیع کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی قانون فطرت میں نہایت محکم طورپر جکڑی ہوئی ہیں۔

یہ مشاہدات واضح طورپر ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کا خالق علیم اور خبیر ہے۔ وہ قوت اور غلبہ والا ہے۔ پھر دوسرا کون ہے جس کو انسان اپنا معبود قرار دے۔

13

تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے

آدمی جو قانون بناتا ہے اس میں کسی نہ کسی پہلو کی طرف جھکاؤ ہوجاتا ہے۔ قدیم قبائلی دور میں لڑکا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ وہ قبیلہ کے لیے طاقت کا ذریعہ تھا۔ اس ليے وراثت میں لڑکی کو محروم کرکے سارا حق لڑکے کو دے دیاگیا۔ موجودہ زمانے میں اس کا رد عمل ہوا تو لڑکا اور لڑکی دونوں برابر کرديے گئے۔ لیکن پچھلا اصول اگر غیر منصفانہ تھا تو موجودہ اصول غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کا علم وحکمت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ جو قانون دے وہ ہر قسم کی بے اعتدالی سے پاک ہو۔ اللہ نے اس سلسلہ میں جو ضابطے مقرر کيے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ سماجی انصاف کا حقیقی ذریعہ ہیں بلکہ آخرت کی زندگی سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے۔ یتیموں کے حقوق ادا کرنا، وصیت کی تعمیل کرنا، وراثت کو اس کے وارثوں تک پہنچانا ان امور میں سے ہیں جن پر آدمی کی دوزخ اور جنت کا انحصار ہے۔ 1/3 حصہ میں وصیت کرنا شرعاً جائزہے۔ لیکن کوئی شخص ایسی وصیت کرے جس کا مقصد حق دار کو وراثت سے محروم کرنا ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو اس کو جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے (مَنْ ضَارَّ فِي وَصِيَّتِهِ أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي وَادِي جَهَنَّمَ ) البحر المحيط لأبی حيان الأندلسی، جلد 3، صفحہ 549 ۔اس معاملہ میں آدمی کو خدا کے مقرر کیے ہوئے ضابطہ پر چلنا ہے، نہ کہ ذاتی خواہشوں اور خاندانی مصلحتوں کے اوپر۔

14

وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدْخِلْهُ نَارًا خَٰلِدًۭا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ

اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا اس کو خدا دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا

آدمی جو قانون بناتا ہے اس میں کسی نہ کسی پہلو کی طرف جھکاؤ ہوجاتا ہے۔ قدیم قبائلی دور میں لڑکا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ وہ قبیلہ کے لیے طاقت کا ذریعہ تھا۔ اس ليے وراثت میں لڑکی کو محروم کرکے سارا حق لڑکے کو دے دیاگیا۔ موجودہ زمانے میں اس کا رد عمل ہوا تو لڑکا اور لڑکی دونوں برابر کرديے گئے۔ لیکن پچھلا اصول اگر غیر منصفانہ تھا تو موجودہ اصول غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کا علم وحکمت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ جو قانون دے وہ ہر قسم کی بے اعتدالی سے پاک ہو۔ اللہ نے اس سلسلہ میں جو ضابطے مقرر کيے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ سماجی انصاف کا حقیقی ذریعہ ہیں بلکہ آخرت کی زندگی سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے۔ یتیموں کے حقوق ادا کرنا، وصیت کی تعمیل کرنا، وراثت کو اس کے وارثوں تک پہنچانا ان امور میں سے ہیں جن پر آدمی کی دوزخ اور جنت کا انحصار ہے۔ 1/3 حصہ میں وصیت کرنا شرعاً جائزہے۔ لیکن کوئی شخص ایسی وصیت کرے جس کا مقصد حق دار کو وراثت سے محروم کرنا ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو اس کو جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے (مَنْ ضَارَّ فِي وَصِيَّتِهِ أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي وَادِي جَهَنَّمَ ) البحر المحيط لأبی حيان الأندلسی، جلد 3، صفحہ 549 ۔اس معاملہ میں آدمی کو خدا کے مقرر کیے ہوئے ضابطہ پر چلنا ہے، نہ کہ ذاتی خواہشوں اور خاندانی مصلحتوں کے اوپر۔

15

وَٱلَّٰتِى يَأْتِينَ ٱلْفَٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمْ فَٱسْتَشْهِدُوا۟ عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةًۭ مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَأَمْسِكُوهُنَّ فِى ٱلْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّىٰهُنَّ ٱلْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ ٱللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًۭا

مسلمانو تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا خدا ان کے لئے کوئی اور سبیل (پیدا) کرے

قرآن كے يه مخاطبين جس معامله ميں شك ميں پڑےهوئے تھے وه خدا كے وجود كا معامله نه تھا۔ بلكه خدا كي توحيد كامعامله تھا۔ وه روايتي طورپر خدا كو مانتے هوئے عملاً اپنے اكابر كے دين پر قائم تھے۔

قرآن نے ان اكابر كو بے بنياد ثابت كيا۔ مگر وه اس كو ماننے كے ليے تيار نه هوئے۔ ايك طرف وه اپنے آپ كوبے دليل پارهے تھے۔ دوسري طرف اپنے اكابر كي عظمت كو اپنے ذهن سے نكالنا بھي انھيں ناممكن نظر آتا تھا۔ اس دو طرفه تقاضوں نے انھيں شك ميں مبتلا كر ديا۔ خدا كا داعي انھيں اس سے كم نظر آيا كه اس كے كهنے سے وه اپنے مفروضه اكابر كو چھوڑ ديں۔

جو لوگ نصيحت كے ذريعے حق كو نه مانيں وه اپنے آپ كو اس خطرے ميں ڈال رهے هيں كه ان كو عذاب كے ذريعه اسے ماننا پڑے۔ اس وقت وه اعتراف كريں گے۔ مگر اس وقت كا اعتراف كرنا ان كے كچھ كام نه آئے گا۔

16

وَٱلَّذَانِ يَأْتِيَٰنِهَا مِنكُمْ فَـَٔاذُوهُمَا ۖ فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابًۭا رَّحِيمًا

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے

قرآن كے يه مخاطبين جس معامله ميں شك ميں پڑےهوئے تھے وه خدا كے وجود كا معامله نه تھا۔ بلكه خدا كي توحيد كامعامله تھا۔ وه روايتي طورپر خدا كو مانتے هوئے عملاً اپنے اكابر كے دين پر قائم تھے۔

قرآن نے ان اكابر كو بے بنياد ثابت كيا۔ مگر وه اس كو ماننے كے ليے تيار نه هوئے۔ ايك طرف وه اپنے آپ كوبے دليل پارهے تھے۔ دوسري طرف اپنے اكابر كي عظمت كو اپنے ذهن سے نكالنا بھي انھيں ناممكن نظر آتا تھا۔ اس دو طرفه تقاضوں نے انھيں شك ميں مبتلا كر ديا۔ خدا كا داعي انھيں اس سے كم نظر آيا كه اس كے كهنے سے وه اپنے مفروضه اكابر كو چھوڑ ديں۔

جو لوگ نصيحت كے ذريعے حق كو نه مانيں وه اپنے آپ كو اس خطرے ميں ڈال رهے هيں كه ان كو عذاب كے ذريعه اسے ماننا پڑے۔ اس وقت وه اعتراف كريں گے۔ مگر اس وقت كا اعتراف كرنا ان كے كچھ كام نه آئے گا۔

17

إِنَّمَا ٱلتَّوْبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍۢ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھے ہیں۔ پھر جلد توبہ قبول کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

کوئی مرد یا عورت اگر ایسا فعل کر بیٹھے جو شریعت کے نزدیک گناہ ہو تب بھی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا وہ قانون کے مطابق کیا جائے گا، نہ کہ قانون سے آزاد ہو کر۔ قانون کے تقاضے پورا کیے بغیر کسی کو مجرم قرار دینا درست نہیں، کسی کا مجرم ہونا دوسرے کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرنے لگے۔ سزا کا مقصد عدل کا قیام ہے، اور عدل کا قیام ظلم اور بے انصافی کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ اور اگر گناہ کرنے والا تائب ہو اور اپنی اصلاح کرلے تو اس كے بعد تو لازم هوجاتا هے كه اس كے ساتھ شفقت اور درگزر كا معامله كيا جائے۔ كسي كے ماضي كي بنياد پر اس كو مطعون كرنا درست نهيں۔ جب الله توبه كرنے والوں كي توبه قبول كرتاهے اور اپني اصلاح كرلینے والوں کی طرف دوبارہ مہربانی کے ساتھ پلٹ آتا ہے تو انسانوں کو کیا حق ہے کہ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنائیں۔ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنا کر آدمی خود اپنے آپ کو مجرم ثابت کررہا ہے نہ کہ کسی دوسرے آدمی کو۔

توبہ زبان سے ’’توبہ‘‘ کا لفظ بولنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی گنہ گاری کے شدید احساس کا نام ہے۔ اور آدمی اگر اپنی توبہ میں سنجیدہ ہو اور واقعی شدت کے ساتھ اس نے اپنی گنہ گاری کو محسوس کیا ہو تو وہ آدمی کے لیے اتنا سخت معاملہ ہوتا ہے کہ توبہ آدمی کے لیے اپنی سزا آپ دینے کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت آدمی کے اندر اگر اللہ کے ڈر سے پیدا ہوئی ہو تو اللہ ضرور اس کو معاف کردیتا ہے۔ مگر ان لوگوں کے توبہ کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں جو اتنے جری ہو ں کہ جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کرتے رہيں۔ اور تنبیہ کے باوجود اس پر قائم رہیں، البتہ جب دنیا سے جانے کا وقت آجائے تو کهيں کہ ’’میں نے توبہ کی،‘‘ اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی بے فائدہ ہے جو آخرت میں عذاب کو سامنے دیکھ کر اپنے جرم کا اقرار کریںگے۔

توبہ کی حقیقت بندے کا اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے تاکہ اس کا رب بھی اس کی طرف پلٹے۔ توبہ اس شخص کے لیے ہے جو وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر بری حرکت کربیٹھے، پھر اس کا احتسابِ نفس جلد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس کرادے۔ وہ برائی کو چھوڑ کر دوبارہ نیکی کی روش اختیار کرے اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرلے۔ ایسا ہی آدمی توبہ کرنے والا ہے اور جو شخص اس طرح توبہ کرے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گھر کا بھٹکا ہوا آدمی دوبارہ اپنے گھر واپس آجائے۔

18

وَلَيْسَتِ ٱلتَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ حَتَّىٰٓ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ ٱلْمَوْتُ قَالَ إِنِّى تُبْتُ ٱلْـَٰٔنَ وَلَا ٱلَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی موت آموجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے

کوئی مرد یا عورت اگر ایسا فعل کر بیٹھے جو شریعت کے نزدیک گناہ ہو تب بھی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا وہ قانون کے مطابق کیا جائے گا، نہ کہ قانون سے آزاد ہو کر۔ قانون کے تقاضے پورا کیے بغیر کسی کو مجرم قرار دینا درست نہیں، کسی کا مجرم ہونا دوسرے کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرنے لگے۔ سزا کا مقصد عدل کا قیام ہے، اور عدل کا قیام ظلم اور بے انصافی کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ اور اگر گناہ کرنے والا تائب ہو اور اپنی اصلاح کرلے تو اس كے بعد تو لازم هوجاتا هے كه اس كے ساتھ شفقت اور درگزر كا معامله كيا جائے۔ كسي كے ماضي كي بنياد پر اس كو مطعون كرنا درست نهيں۔ جب الله توبه كرنے والوں كي توبه قبول كرتاهے اور اپني اصلاح كرلینے والوں کی طرف دوبارہ مہربانی کے ساتھ پلٹ آتا ہے تو انسانوں کو کیا حق ہے کہ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنائیں۔ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنا کر آدمی خود اپنے آپ کو مجرم ثابت کررہا ہے نہ کہ کسی دوسرے آدمی کو۔

توبہ زبان سے ’’توبہ‘‘ کا لفظ بولنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی گنہ گاری کے شدید احساس کا نام ہے۔ اور آدمی اگر اپنی توبہ میں سنجیدہ ہو اور واقعی شدت کے ساتھ اس نے اپنی گنہ گاری کو محسوس کیا ہو تو وہ آدمی کے لیے اتنا سخت معاملہ ہوتا ہے کہ توبہ آدمی کے لیے اپنی سزا آپ دینے کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت آدمی کے اندر اگر اللہ کے ڈر سے پیدا ہوئی ہو تو اللہ ضرور اس کو معاف کردیتا ہے۔ مگر ان لوگوں کے توبہ کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں جو اتنے جری ہو ں کہ جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کرتے رہيں۔ اور تنبیہ کے باوجود اس پر قائم رہیں، البتہ جب دنیا سے جانے کا وقت آجائے تو کهيں کہ ’’میں نے توبہ کی،‘‘ اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی بے فائدہ ہے جو آخرت میں عذاب کو سامنے دیکھ کر اپنے جرم کا اقرار کریںگے۔

توبہ کی حقیقت بندے کا اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے تاکہ اس کا رب بھی اس کی طرف پلٹے۔ توبہ اس شخص کے لیے ہے جو وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر بری حرکت کربیٹھے، پھر اس کا احتسابِ نفس جلد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس کرادے۔ وہ برائی کو چھوڑ کر دوبارہ نیکی کی روش اختیار کرے اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرلے۔ ایسا ہی آدمی توبہ کرنے والا ہے اور جو شخص اس طرح توبہ کرے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گھر کا بھٹکا ہوا آدمی دوبارہ اپنے گھر واپس آجائے۔

19

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا۟ ٱلنِّسَآءَ كَرْهًۭا ۖ وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا۟ بِبَعْضِ مَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّآ أَن يَأْتِينَ بِفَٰحِشَةٍۢ مُّبَيِّنَةٍۢ ۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْـًۭٔا وَيَجْعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيْرًۭا كَثِيرًۭا

مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے

مرنے والے کے مال میں یقیناًبعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے — عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لاکر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کونبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی واستحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر وبرداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنّتوں میں داخل کيے جائیں گے۔

جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کرکے علیٰحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتاہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عهد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہو تب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ تحریری عہد کی۔

’’جو ہوچکا سو ہوچکا ‘‘ کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔

’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نه ہو مگر اللہ نے اس کے اندر تمھارے لیے کوئی بڑی بھلائی رکھ دی ہو‘‘ — یہ فقرہ یہاں اگرچہ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم بتاتے ہوئے اس کے درمیان ایک ایسی کلی ہدایت دے دیتا ہے جس کا تعلق آدمی کی پوری زندگی سے ہو۔

دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا ناگزیر ہے۔ کوئی شخص بالکل اگ تھلگ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اب چوں کہ طبیعتیں الگ الگ ہیں، اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے ان کے درمیان لازماً شکایات پیدا ہوں گی۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک خرابی آدمی کے سامنے آتی ہے اور وہ بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں کوئی خیر کا پہلو موجود ہے۔ کبھی کسی واقعہ میں آدمی کے لیے صبر کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے۔ کبھی اس کے اندر اللہ کی طرف رجوع اور انابت کی غذا ہوتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی تکلیف میںکوئی بڑا سبق چھپا ہوا ہوتا ہے، وغیرہ۔

20

وَإِنْ أَرَدتُّمُ ٱسْتِبْدَالَ زَوْجٍۢ مَّكَانَ زَوْجٍۢ وَءَاتَيْتُمْ إِحْدَىٰهُنَّ قِنطَارًۭا فَلَا تَأْخُذُوا۟ مِنْهُ شَيْـًٔا ۚ أَتَأْخُذُونَهُۥ بُهْتَٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا

اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟

مرنے والے کے مال میں یقیناًبعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے — عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لاکر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کونبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی واستحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر وبرداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنّتوں میں داخل کيے جائیں گے۔

جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کرکے علیٰحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتاہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عهد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہو تب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ تحریری عہد کی۔

’’جو ہوچکا سو ہوچکا ‘‘ کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔

’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نه ہو مگر اللہ نے اس کے اندر تمھارے لیے کوئی بڑی بھلائی رکھ دی ہو‘‘ — یہ فقرہ یہاں اگرچہ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم بتاتے ہوئے اس کے درمیان ایک ایسی کلی ہدایت دے دیتا ہے جس کا تعلق آدمی کی پوری زندگی سے ہو۔

دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا ناگزیر ہے۔ کوئی شخص بالکل اگ تھلگ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اب چوں کہ طبیعتیں الگ الگ ہیں، اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے ان کے درمیان لازماً شکایات پیدا ہوں گی۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک خرابی آدمی کے سامنے آتی ہے اور وہ بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں کوئی خیر کا پہلو موجود ہے۔ کبھی کسی واقعہ میں آدمی کے لیے صبر کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے۔ کبھی اس کے اندر اللہ کی طرف رجوع اور انابت کی غذا ہوتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی تکلیف میںکوئی بڑا سبق چھپا ہوا ہوتا ہے، وغیرہ۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.