Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 81–90 of 176

81

وَيَقُولُونَ طَاعَةٌۭ فَإِذَا بَرَزُوا۟ مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَآئِفَةٌۭ مِّنْهُمْ غَيْرَ ٱلَّذِى تَقُولُ ۖ وَٱللَّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ ۖ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے

(آیت) ” ویقولون طاعۃ فاذا برزوا من عندک بیت طائفۃ منھم غیر الذی تقول واللہ یکتب ما یبیتون فاعرض عنھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (81) افلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (82) (4 : 81۔ 82)

” وہ منہ پر کہتے ہیں ہم مطیع فرمان ہیں مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے ‘ اللہ انکی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے ‘ تم انکی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو ‘ وہی بھروسہ کے لئے کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کی سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی ۔

یہ گروہ ایسا تھا کہ جب یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود ہوتا اور آپ سے قرآن سنتا اور قرآنی فرائض کو سمجھتا تو کہتا کہ ہم مطیع فرمان ہیں ‘ وہ اس طرح جامع اور مانع اطاعت کا اعلان کرتے ‘ بےقید اطاعت کا اقرار کرتے ۔ اس میں نہ ہو کوئی اعتراض کرتے ‘ نہ کسی قسم کی توضیحات طلب کرتے ‘ نہ کوئی استثناء رکھتے ‘ لیکن جونہی وہ حضور کی مجلس سے اٹھتے ‘ ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر آپ کی باتوں کے خلاف مشورے کرنے لگ جاتا ۔ اور یہ فیصلہ کرتا کہ حضور نے جو کچھ فرمایا ہے اس پر عمل نہ کیا جائے اور کوئی ایسا منصوبہ اپنایا جائے کہ اس پر عمل نہ ہو اور گلو خلاصی ہوجائے ۔

اس کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت من حیث الجماعت تو یہ کہتی ہے کہ ہم اطاعت کریں گے لیکن ان میں سے ایک گروہ رات کے وقت نکل کر وہ سازش کرتا ہے جو جماعت مسلمہ کے قول کے خلاف ہوتی ہے ۔ اور اس گروہ منافقین کا مقصد اس جماعت کے اندر افراتفری اور بےچینی پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ بہرحال دونوں صورتوں میں یہ گروہ منافقین سازش کر رہا ہوتا ہے ۔ ان کی سرگرمیاں اسلامی صفوں کے اندر بےچینی پیدا کرتی ہیں جبکہ جماعت مسلمہ ان سازشوں کے خلاف ہر میدان میں معرکہ آرا ہوتی ہے اور اپنی پوری قوت ان کے مقابلے میں صرف کرتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور حضور نبی کریم ﷺ کو یہ اطمینان دلاتے ہیں کہ اللہ کی نظروں سے یہ سازشی ٹولہ اوجھل نہیں ہے اور اس کی مکاری سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے ۔ یہ شعور اور احساس کہ ان سازشیوں کی سازشوں سے اللہ اچھی طرح خبردار ہے اہل ایمان کے دلوں کے اندر اطمینان اور قوت پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے ۔ ان کے اندر یہ سکون پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کی نظر ہوتے ہوئے یہ سازشیں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں ۔ دوسری جانب سے ان سازشیوں کو بھی یہ سخت تنبیہ ہے کہ وہ ان سازشوں میں ہر گز کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

(آیت) ” واللہ یکتب ما یبیتون “۔ (اور اللہ ان کی یہ تمام سرگوشیاں لکھ رہا ہے) اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو منافقین کے ساتھ معاملہ کرنے کا جو منصوبہ دیا تھا وہ یہ تھا کہ آپ ان کے ساتھ ان کی ظاہری حالت کے مطابق معاملہ کریں گے اور ان کے ساتھ ان کی نیتوں کے مطابق سلوک نہ ہوگا ۔ انکی خفیہ سازشوں سے اغماض برتا جائے گا اور اعراض کیا جائے گا ۔ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس کے مطابق آخر کار وہ منتشر ہوگئے کمزور ہوگئے اور ان میں سے جو باقی رہ گئے تھے وہ تتربتر ہوگئے اور چھپ گئے ۔ اس منصوبے کا ایک حصہ یہ تھا۔

(آیت) ” فاعرض عنھم “ (آپ ان کی پرواہ نہ کریں) ان سے چشم پوشی کرنے کے ساتھ ساتھ رسول کو مطمئن کیا جاتا ہے کہ اللہ کی حفاظت اور پاسبانی پر مکمل بھروسہ رکھو۔

(آیت) ” و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا “۔ (اور اللہ پر بھروسہ رکھو ‘ اللہ بھروسے کے لئے کافی ہے) بالکل درست اللہ بھروسے کے لئے کافی ہے ‘ جس کا وکیل اللہ ہو اسے کوئی بھی گزند نہیں پہنچا سکتا ۔ نہ اسے کوئی سازش گزند پہنچا سکتی ہے ‘ نہ خفیہ سازش ان کے خلاف چل سکتی ہے ۔ ‘ اور نہ ظاہری سازش ۔

سوال یہ ہے کہ یہ گروہ حضور ﷺ کے سامنے اقرار اطاعت کرتا اور واپس ہو کر رات …

82

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُوا۟ فِيهِ ٱخْتِلَٰفًۭا كَثِيرًۭا

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

(آیت) ” افلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (4 : 82)

” کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کی سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی ۔

اس بیان اور ہدایت کے اندر انسانیت کے لئے انتہائی عزوشرف کا مقام پوشیدہ ہے ۔ اس میں انسان کے ادراک پر مکمل بھروسہ کیا گیا ہے ۔ اور اس کی شخصیت کو بہت ہی اہمیت دی گئی ہے ۔ نیز اس میں عدالت عقل میں فیصلہ لے جانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور یہ بھی ایک ایسے مظہر میں جس کا سمجھنا انسانی عقل کے لئے زیادہ دشوار نہیں ہے ۔

قرآن کے اندر پائی جانے والی مکمل ‘ جامع اور بےقید ہم آہنگی ایک ایسا مظہر ہے جو اس شخص کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا جو اس کتاب پر تدبر کرے ۔ اس مظہر کی سطح اور اس کا دائرہ مختلف لوگوں کی فہم کے مطابق وسیع اور تنگ ہو سکتا ہے ۔ مختلف نسلوں اور مختلف قسم کے ذہین لوگوں کے نتائج فکر مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ہر عقل اور ہر نسل اور ہر دور کے لوگوں کو اپنی بساط کے مطابق اس سے کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے اور یہ کمی بیشی لوگوں کے فہم ان کی عقل اور ان کے علم و ثقافت کے اعتبار سے ہو سکتی ہے ۔ اس سلسلے میں مختلف لوگوں کا نتیجہ فکر ان کے تجربے صلاحیت اور تقوی کے مطابق محدود یا لامحدود ہو سکتا ہے ۔

یہ وجہ ہے کہ ہر شخص اس آیت کا مخاطب ہے ‘ ہر نسل اس کی مخاطب ہے ‘ اور درست منہاج فکر و تدبر کے مطابق وہ اس مظہر کا ادراک کرسکتا ہے ۔ یعنی یہ وصف کہ قرآن کے اندر خلاف بیانی نہیں ہے اور اس کے اندر مکمل ہم آہنگی اور تناسق پایا جاتا ہے ۔ البتہ جس طرح ہم نے کہا یہ فہم انسان کی صلاحیت اس کے علمی مقام تجربے اور تقوی کے حدود کے اندر رہتا ہے ۔ یہ گروہ ‘ جسے اس وقت کی موجودہ نسل کی صورت میں مخاطب کیا گیا تھا ‘ ایک ایسے کلام سے مخاطب کیا جارہا تھا جسے وہ خوب سمجھتا تھا ۔ اور اپنے فہم وادراک کے ذریعے وہ اسے عمل میں لاتا تھا ‘ جس قدر اس کی طاقت کے حدود میں ہوتا تھا ۔

یہ مظہر اور یہ صفت یعنی مکمل اتحاد فکر اور ہم آہنگی کی صفت کا اظہار سب سے پہلے قرآن کریم کے انداز تعبیر میں ہوتا ہے ۔ قرآن کی طرز ادا اور فنی طریقہ اظہار مدعا کے اندر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ انسانی کلام ہمارے سامنے ہیں ‘ بڑے سے بڑے ادب پاروں میں نشیب و فراز بھی ہوتے ہیں ‘ ہم آہنگی بھی ہوتی ہے اور لغزش کلام بھی ہوتی ہے ۔ ایک حصہ اگر پر زور ہوتا ہے تو دوسرے میں جھول ہوتی ہے ۔ ایک میں اگر فکری تخلیق ہے تو دوسرے حصہ میں پیش پا افتادہ ہوتا ہے ‘ ایک حصہ اگر رواں ہوتا ہے تو دوسرا نہایت ہی گنجلک ہوتا ہے ۔ ایک اگر نہایت ہی روشن ہے تو دوسرا حصہ تاریک ہے غرض کلام کی فصاحت وبلاغت اور نقص کے سلسلے میں جو اوصاف ہوتے ہیں ان کے اعتبار سے انسانی کلام میں نشیب و فراز ہوتا ہے ۔ نقائص کلام میں سے اہم نقص کلام کے اندر روانی اور ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے جس میں بات جلدی جلدی ایک معیار سے گرتی ہے یا گرے ہوئے معیار سے اوپر کو اٹھتی ہے ۔ ہر انسانی کلام کے اندر یہ مظہر قدم قدم پر سامنے آتا ہے ‘ کسی ایک ادیب کے اگر ادبی کردار کو لیں ‘ یا اس کے انکار کو لیں ‘ یا کسی ایک ہی ادیب کے فن پاروں کو لیں یا کسی ایک سیاست دان کی پالیسیوں کو لیں یا کسی ایک جرنیل کی جنگی چالوں ‘ یا کسی ایک شخص کی صنعت کاری کو لیں ‘ اس میں معیار کا یہ تفاوت قدم قدم پر نظر آئے گا ۔ معیار تعبیر کے اندر زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا ۔

قرآن کریم کے اندر یہ صفت نہایت ہی واضح ہیں اور پوری طرح منعکس ہے ‘ یعنی کلام میں پختگی اور ہم آہنگی ۔ پورے قرآن کے اندر یہ صفت ملحوظ رکھی گئی ہے ۔ ہم یہاں جو بات کر رہے ہیں وہ صرف لفظی اور تعبیر کی ہم آہنگی کے ذاویے سے ہے ۔ اس پوری کتاب کے اندر کلام اور اسلوب اظہار کا ایک ہی میعار ہے ‘ اسی وجہ سے یہ کتاب معجزانہ شان لئے ہوئے …

83

وَإِذَا جَآءَهُمْ أَمْرٌۭ مِّنَ ٱلْأَمْنِ أَوِ ٱلْخَوْفِ أَذَاعُوا۟ بِهِۦ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسْتَنۢبِطُونَهُۥ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ لَٱتَّبَعْتُمُ ٱلشَّيْطَٰنَ إِلَّا قَلِيلًۭا

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

اب سیاق کلام ذرا آگے بڑھتا ہے اور ایک دوسرے گروہ کو لیا جاتا ہے جو اسلامی معاشرے میں پایا جاتا ہے ۔

(آیت) ” واذا جاء ھم امر من الامن اوالخوف اذا عوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطن الا قلیلا (83)

” یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں ‘ حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں ‘ تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے ۔ “

یہاں جس گروہ کے بارے میں کہا گیا ہے یہ بھی اسلامی کیمپ میں موجود ایک گروہ ہے لیکن یہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو ابھی تک اسلامی نظام کے راہ ورسم سے اچھی طرح واقف نہیں ہے ۔ اور اس گروہ کو ابھی تک اس بات کی سمجھ نہ تھی کہ اسلامی کیمپ میں بےچینی پھیلنے کے نتائج کس قدر خطرناک اور کس قدر تباہ کن ہو سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ افواہیں افواہیں ہوتی ہیں ‘ واقعات نہیں ہوتے ۔ حالات بعض اوقات ایسے سنجیدہ ہوتے ہیں کہ ایک سرسری بات کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ کسی ایک شخص کے بارے میں ‘ کسی گروہ یا جماعت کے بارے میں بعض ایسے نتائج رونما ہوتے ہیں کہ سرسری ریمارک پاس کرنیو الا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ اگر یہ واقعات ونتائج برآمد ہوجائیں تو پھر ان کا تدارک اور تلافی کسی صورت میں بھی نہیں کی جاسکتی اور یہ لوگ یہ باتیں اس لئے کرتے ہیں کہ اسلامی کیمپ کے افراد کے اندر پیدا ہونے والی اخوت اور بھائی چارے کا تصور ابھی تک ان کے ذہن میں واضح نہ تھا ۔ یہ لوگ اس بات کو اہمیت نہ دیتے تھے کہ آخر کار ایسی غیر ذمہ دارانہ گفتگوؤں کے کیا نتائج نکلنے والے ہیں اور ایسی باتوں کی اشاعت سے نقصان کیا ہوتا ہے کہ جب یہ باتیں ایک منہ سے دوسرے منہ میں چلتی رہتی ہیں ‘ چاہے یہ باتیں امن کے حالات سے متعلق ہوں یا بےچینی اور خوف کے حالات سے متعلق ہوں ۔ دونوں حالات کے اندر بعض خبروں کا پھیل جانا نہایت ہی مہلک اور فساد انگیز ہوتا ہے ۔ مثلا ایک چوکنے ‘ تیار اور محتاط کیمپ کے اندر دشمن کی سرگرمیوں کو کم کرکے دکھانا غفلت کا باعث ہو سکتا ہے اور اس میں دشمن متحرک ہوسکتا ہے ۔ ایسے حالات میں امن کے بارے میں لوگوں کو مطمئن کردینا لوگوں کو غافل اور سست بنا سکتا ہے اگرچہ متعلقہ ذمہ داران کی طرف سے بار بار احتیاط کی تنبیہ کی جاتی رہے ۔ اس لئے کہ اگر خطرہ سروں پر ہو تو ایک انسان کا دشمن کے مقابلے میں چوکنا ہوجانا ‘ ایسی صورت حال سے بالکل مختلف ہوتا ہے کہ محض ذمہ داران کے احکام کی اساس پر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ۔ اس قسم کی سستی اور لاپرواہی بعض اوقات معاملے کا حتمی فیصلہ کردیتی ہے ۔ اسی طرح اگر ایک کیمپ اپنی قوت پر مطمئن ہو اور اپنے اطمینان کی وجہ سے ثابت قدم ہو اس کے اندر خوف پھیلایا جائے ‘ تو ایسے کیمپ میں خوفناک خبروں کی اشاعت سے بےچینی افراتفری پیدا ہوتی ہے اور لوگ ایسی حرکات کرتے ہیں جن کی ضرورت نہیں ہوتی اور جن کی وجہ سے لوگوں میں خواہ مخواہ خوف وہراس پیدا ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسی چیزیں نہایت ہی برے نتائج پیدا کردیتی ہیں ۔

بہرحال یہ ایک ایسے کیمپ کی خصوصیت ہے جس کا نظم ونسق ابھی تک مکمل نہیں ہوا یا اس کیمپ کے افراد کے اندر اپنی قیادت کے ساتھ وفاداری ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ‘ یا یہ دونوں کمزوریاں پائی جاتی ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اسلامی معاشرے میں یہ دونون باتیں پائی جاتی تھیں اس لئے کہ اس ابتدائی دور میں اسلامی معاشرے میں ایمان کے اعتبار سے مختلف سطح کے لوگ موجود تھے ۔ مختلف فہم وادراک کے حامل لوگ موجود تھے اور محبت …

84

فَقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًۭا وَأَشَدُّ تَنكِيلًۭا

تو (اے محمدﷺ) تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کردے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے

(آیت) ” نمبر 84۔

اس آیت اور اس سے ماقبل کی آیت کے اندر ہمیں اس وقت کی موجودہ جماعت مسلمہ کے خدوخال اچھی طرح نظر آتے ہیں جس طرح ہر دور میں پائے جانے والے انسانی نفوس کے خدوخال نظر آتے ہیں ۔

(الف) ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت اسلامی صفوں کے اندر سخت بےچینی پائی جاتی تھی اور مکمل اتحاد نہ تھا جنگ سے پہلو تہی ‘ اس کی راہ میں رکاوٹیں اور جنگ سے پیچھے رہنے کی کمزوریاں ابھی تک اسلامی صفوں میں موجود تھیں ۔ یہاں تک کہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے اور جوش دلانے کی خاطر یہاں نبی ﷺ کی ذات مبارک کو حکم دیا گیا کہ آپ جہاد کریں اگرچہ آپ اکیلے ہوں ۔ آپ خود اپنے نفس کے ذمہ دار ہیں ۔ ہاں اس کے ساتھ ساتھ آپ مسلمانوں کو بھی ابھاریں لیکن آپ کی ذات کی طرف سے جہاد میں شرک اس پر موقوف نہیں ہے کہ دوسرے لوگ اس کام کے لئے اٹھتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ عملا یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان نبی ﷺ کی پکار کو سب کے سب رد کردیتے لیکن یہاں اس انداز میں کلام کرنے کا مقصد یہ تھا کہ فریضہ بنیادی طور پر آپ پر عائد ہوتا ہے ‘ جس طرح اسلامی تصور حیات کا یہ ایک اساسی اصول ہے کہ ہر شخص اپنی ذات کا ذمہ دار ہے کسی ایک کی ذمہ داری کسی دوسرے پر نہ ہوگی ۔ ہاں دوسروں کو جنگ کے لئے ابھارنا اپنی جگہ پر ہے ۔

(ب) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مشرکین کے ساتھ جنگ چھیڑنے میں لوگ کس قدر خطرات محسوس کرتے تھے اور اس راہ میں کس قدر مشکلات تھیں ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود مسلمانوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ کافروں کا زور توڑ دے گا اور اس طرح مسلمان خود اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحفظ کے زیر سایہ ہوں گے ساتھ ساتھ یہ یقین بھی دلایا جاتا ہے کہ اللہ زبردست قوت والا ہے اور جب وہ کسی کو سزا دیتا ہے تو اس کی سزا بہت ہی سخت ہوتی ہے ۔ یہ الفاظ کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے گا ‘ اس بات کا مظہر ہیں کہ اس وقت اہل کفر زور آور تھے ۔

ان کی قوت کی وجہ سے اسلامی صفوں میں خوف محسوس کیا جاتا تھا اور یہ حالات احد اور خندق کے درمیانی دور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ احد سے لے کر خندق تک کا دور وہ دور ہے جس میں مدینہ طیبہ کے اندر مسلمان نہایت ہی مشکلات اور خطرات سے دو چار تھے ۔ ان کے اندر منافقین گھسے ہوئے تھے ‘ ان کے اردگرد یہودی پھیلے ہوئے تھے اور ہر وقت مشرکین کو فساد پر آمادہ کرتے رہتے تھے ۔ اور اسلامی صفوں کے اندر اسلامی تصور حیات ابھی تک جاگزیں اور واضح نہ تھا ۔

(ج) اس سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان کو مشکلات میں قدم رکھنا ہوتا ہے تو اس کا سہارا صرف ذات باری ہوتی ہے اور اللہ کا سایہ عاطفت ہی باعث اطمینان ہوتا ہے ۔ اس وقت صرف اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ کام دیتا ہے ۔ جب خطرات اپنی آخری انتہاؤں کو چھوتے ہیں اور تمام وسائل کام نہیں کرتے تو پھر ذات باری ہی کام دیتی ہے اور یہ تمام حقائق ایسے ہیں جن کو اسلامی نظام پیش نظر رکھتا ہے ۔ اس لئے کہ نفس انسانی کا خالق اللہ ہے اور اللہ اپنے پیدا کردہ نفس انسانی کو اچھی طرح جانتا ہے کہ سک طرح اس کی تربیت کی جائے گی اور کس طرح اسے بچایا جائے گا اور کس طرح اسے جوش دلایا جائے گا اور کس طرح وہ مشکلات کو انگیز کرنے کے لئے تیار ہوگا ۔

اس سبق کے آخر میں حضور ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ اہل ایمان کو جنگ پر ابھاریں جنگ سے پہلو تہی کرنے والوں اور پیچھے رہنے والوں کا ذکر بھی ہوا تھا ۔ اب یہاں ایک عام اصول بتا دیا جاتا ہے کہ ہر شخص نیکی اور بھلائی کے کام کے لئے سفارش کرے اور لوگوں کو نصیحت کرے لوگوں کو بھلائی کی ہدایات دے ‘ نصیحت کرے اور بھلائی پر تعاون کی تلقین کرے ۔

85

مَّن يَشْفَعْ شَفَٰعَةً حَسَنَةًۭ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٌۭ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَٰعَةًۭ سَيِّئَةًۭ يَكُن لَّهُۥ كِفْلٌۭ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ مُّقِيتًۭا

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

(آیت) ” نمبر 85۔

اب جو شخص لوگوں کو قتال پر ابھارتا ہے ‘ اس مقصد کے لئے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور دعوت جہاد دیتا ہے ‘ اسے اس دعوت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے کام کا پورا پورا اجر ملے گا ۔ اور جو شخص پہلو تہی کرتا ہے اور پیچھے رہتا ہے اور اس کے اگر برے نتائج نکلتے ہیں تو یہ شخص بھی ذمہ دار ہے ۔ ” کف “ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیچھے رہنے والا نتائج بد کا ذمہ دار ہوگا ۔

اسی اصول کا اطلاق ہر اچھی سفارش پر ہوگا اور بری سفارش پر بھی یہی اصول منطبق ہوگا ۔ اگرچہ یہ اصول خاص حالات کے اندر ذکر ہوا ہے لیکن یہ قرآن کریم کا انداز بیان ہے کہ وہ ایک مخصوص واقعہ کے ضمن میں ایک کلی قاعدہ بیان کردیتا ہے اور اس جزئی واقعہ کو بھی اس قاعدہ کلیہ کے ایک جزو کے طور پر پیش کرتا ہے اور پھر تمام امور کو ذات باری سے مربوط کردیتا ہے جو ہر چیز کا نگہبان اور رازق ہے ۔ جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور لفظ (مقیت) میں یہ مفاہیم داخل ہیں ۔

(آیت) ” وکان اللہ علی کل شییء مقیتا “۔ (4 : 85) (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے) اچھے کاموں کی سفارش کے بعد یہ کہا جاتا ہے اگر کوئی تمہیں سلام کرے تو یا تو اس سلام جیسا جواب دو یا اس سے اچھا جواب دو ۔ کسی بھی معاشرے میں سلام ایک ایسا فعل ہے جس سے زندگی کی گاڑی نہایت ہی سکون اور سہولت کے ساتھ چلتی ہے اگر آداب سلام کو اچھی طرح ملحوظ رکھا جائے ، سلام اور اچھائی کی سفارش کے درمیان گہرا ربط پایا جاتا ہے ۔ اگر کسی معاشرے میں دو فرد ایک دوسرے کو سلام نہیں کرتے تو وہ ایک دوسرے کو مزید کیا ہدایت دیں گے ۔

86

وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍۢ فَحَيُّوا۟ بِأَحْسَنَ مِنْهَآ أَوْ رُدُّوهَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَسِيبًا

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو بےشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

(آیت) ” نمبر 86۔

اسلام نے اپنا ایک خاص سلام اسلامی معاشرے کو دیا ۔ جس سے ایک مسلمان اور مسلمان معاشرہ غیر مسلم اور غیر مسلم معاشروں سے ممتاز ہوگیا ۔ یہ سلام کو بالکل منفرد اور متمیز بنا دیتا ہے ‘ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں ممتاز صفات کا مالک بن جاتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے دوسرے معاشروں میں مدغم اور گھل مل نہیں جاتا ‘ نہ کان نمک میں نمک بن جاتا ہے ۔

اسلام نے تین الفاظ دیئے ہیں۔ السلام علیکم ‘ السلام علیکم ورحمتۃ اللہ اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ اور جواب سلام یا تو ویسا ہوگا یا اس سے زیادہ ہوگا ماسوائے تیسرے لفظ کے ۔ مثلا السلام علیکم ‘ کا جواب یا تو وعلیکم السلام ہے یا اس سے بہتر وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ۔ دوسرے لفظ پر وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہوگا ۔ اور تیسرے کا جواب ویسا ہی ہوگا ۔ اس لئے کہ اس میں الفاظ پورے استعمال ہوگئے۔ اس لئے تیسرے کا جواب ویسا ہی ہوگا ۔ حضور ﷺ سے ایسی ہی روایت ہے ۔

اس میں ایک تو وہ انفرادیت ہے ‘ جو اسلامی معاشرے کا خاص رنگ ہے ۔ اسلام چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والوں کے خاص خدوخال ہوں ‘ ان کی خاص عادات ہوں ‘ جس طرح اسلام نے ایک مخصوص قانونی تنظیمی نظام دیا ہے ۔ اس موضوع پر ہم تحویل قبلہ کے موقعے پر بات کر آئے ہیں کہ اسلام نے اس امت کو جس طرح ایک نظریہ حیات دیا ہے ‘ اسی طرح اسے ایک مخصوص قبلہ بھی دیا ہے ۔ (دیکھئے سورت بقرہ پارہ دوئم)

دوسری یہ کہ اسلام نے امت مسلمہ کے افراد کے اندر نہایت پختہ محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ مثلا سلام کا عام کرنا ‘ اور سلام کا جواب سلام سے زیادہ اچھا ہو اور دوسرے تعلقات جن کی وجہ سے اسلامی سوسائٹی کے اندر نہایت ہی پختہ روابط اخوت ومودت پیدا ہوئے ۔ حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل اچھا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا ” یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور چاہے جاننے والا ہو یا نہ جاننے والا ہو ‘ اسے سلام کرو۔ “ یہ تو حکم ہے کہ جماعت مسلمہ کے اندر سلام کرو ‘ اور یہ سنت ہے ‘ رہا سلام کا جواب تو وہ اس آیت کی رو سے فرض ہے ۔ اسلامی معاشرے میں سلام کرنے کی عادت کے اثرات کا اندازہ عملا اس وقت ہوتا ہے جب سلام کے ذریعے غیر متعارف لوگ باہم متعارف ہو کر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور جو لوگ ایک دوسرے کو علیک سلیک کرتے رہتے ہیں ان کے باہم روابط قائم ہوجاتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جو ہر اس شخص پر ظاہر ہوجاتی ہے جو اس عادت کے آثار کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کے نتائج پر غور کرتا ہے ۔

تیسرے یہ کہ آیات قتال کے درمیان میں باہم دوستانہ تعلقات کے لئے یہ آیت بادنسیم ہے اور اس میں اسلام کے اصل الاصول کی طرف اشارہ کردیا گیا کہ اسلام کا اصل الاصول یہ ہے کہ ملک کے اندر امن وامان قائم ہو ‘ اس لئے کہ اسلام دین امن ہے ۔ اسلام کی جنگ بھی دراصل امن کے لئے ہے یعنی کرہ ارض پرامن قائم کرنا اور یہ امن وسیع معنوں میں مطلوب ہے ۔ ایسا امن جو اسلامی نظام حیات پر مبنی ہو ۔

درس نمبر 37 ایک نظر میں :

اس سبق میں اسلامی تصورحیات کے ایک نبی ادی اصول کا تذکرہ کیا گیا ہے یعنی عقیدہ توحید اور اللہ تعالیٰ کو اس کی حاکمیت میں وحدہ لاشریک سمجھنا ۔ پھر اس اصول کے مطابق اسلامی سوسائٹی اور اسلامی معاشرے کے تعلقات دوسرے کیمپوں کے ساتھ متعین کئے گئے ہیں لیکن دوسرے معاشروں کے ساتھ اسلامی معاشرے کے تعلق کی نوعیت کے تعین سے بھی پہلے اس سبق میں خود مسلمانوں پر سخت تنقید کی گئی ہے کہ وہ منافقین کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ منافقین مدینہ میں رہنے والے منافقین سے کوئی علیحدہ گروہ تھا ۔ یہ احکام اسلام کے اصل الاصول پر قائم ہیں اور یہ تنقید بھی اسی اصول کے مطابق ہے جس پر اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام قائم ہے ۔ اس اصول کا ذکر ہر وقت ہوتا رہتا ہے جب بھی اسلامی نظام کوئی ہدایت دیتا ہے یا کوئی …

87

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثًۭا

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟

درس نمبر 37 تشریح آیات :

87۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 94۔

اس سبق کا آغاز اس اصول سے ہوتا ہے جس کے اوپر اسلامی نظام کی عمارت استوار ہے اور اس کے تمام پہلو اس اصول سے ماخوذ ہیں ۔

(آیت) ” نمبر 87۔

اسلامی نظام زندگی کا پہلا قدم عقیدہ توحید ہے اور عقیدہ توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ وحدہ حاکم ہے ۔ اس اسلامی قونون وضع کریں ‘ یا اسلامی انتظامیہ قائم کریں ۔ قانون نظام کا تعلق اسلامی معاشرے کے داخلی امور سے ہو یا بین الاقوامی قانون سے ہو جس کے مطابق اسلامی سوسائٹی دوسری سوسائٹیوں کے ساتھ برتاؤ کرتی ہے ۔ چناچہ زیر بحث آیت بعض داخلی اور بین الاقوامی قوانین کا افتتاحیہ ہے۔

نفس انسانی کی تربیت کا سفر اس عقیدے سے شروع ہوتا ہے کہ تمام بندوں کو ایک دن اللہ میدان حشر میں اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس دنیا میں اس نے انسانوں کو جو اختیارات دیئے تھے ان کے صحیح استعمال کے سلسلے میں باز پرس کرے گا ۔ وہاں اس بات کی پرسش بھی ہوگی کہ اللہ کی ہدایات اور اس کے قوانین پر تم نے کس حد تک عمل کیا اور دنیا میں اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے معاملات کے اندر کس حد تک تم نے اسلامی ضوابط کی پابندی کی کو ین کہ تمہیں بہرحال وہاں اسی آزمائش اور امتحان کے لئے تو بھیجا گیا تھا ۔ آخرت میں صغیر وکبیر ہر معاملے کا حساب و کتاب ہوگا ۔ حساب و کتاب اور جواب دہی کا یہی اخروی تصو رہے جو شریعت کے انتظامی اور قانونی ضابطوں پر عمل پیرا ہونے کا ضامن ہے اس لئے کہ ہر شخص کے ضمیر کے اندر ایک جیتا جاگتا چوکیدار بیٹھا ہوا ہوتا ہے اور اس وقت بھی نگران ونگہبان ہوتا ہے جب حکومت کے چوکیدار سو جاتے ہیں۔

اور یہ بات اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

(آیت) ” ومن اصدق من اللہ حدیثا (4 : 87) (اور اللہ سے زیادہ سچی کس کی بات ہے) اور یہ آپ کا وعدہ ہے جس کے خلاف نہیں ہوسکتا ۔

مسلمانوں کے دلوں کو یہ احساس دینے کے بعد اب اصل بات شروع ہوتی ہے ۔ یہ احساس دلانا اسلامی منہاج تربیت کا ایک عام طریق کار ہے اور اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کی پوری نظریاتی اور عملی عمارت اس عقیدے پر قائم ہے ۔ غرض یہ احساس دلانے کے بعد اب اس بات پر تعجب کا اظہار کیا جارہا کہ مسلمان نفاق اور منافقین کے بارے میں یکسو نہیں ہیں اور ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز اختیار نہیں کرتے حالانکہ حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ فیصلہ کن اور دو ٹوک بات کی جائیں ۔ یکسوئی تو اور بات ہے مسلمان ان کے بارے میں واضح طور پر دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر ایک کی اپنی رائے ہے ۔ یہ اختلاف رائے مدینہ سے باہر بسنے والے بعض منافقین کے بارے میں پیدا ہوگیا تھا ۔ جس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں ۔ استفہام انکاری کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان معاملات کے بارے میں فکری ہم آہنگی کیوں نہیں ہے ۔ اس سے اس بات کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ معاملات کے اندر فیصلہ کن اور دو ٹوک موقف اختیار کیا جائے اور منافقین کے ساتھ تعلق اور ان کی نسبت نقطہ نظر رکھنے میں یکسوئی اختیار کی جائے اور ان کے ظاہری امور کو دیکھ کر ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے بشرطیکہ کوئی منصوبہ طے شدہ ہو اور اس کے ساتھ نرمی کی ضرورت ہو۔

88

۞ فَمَا لَكُمْ فِى ٱلْمُنَٰفِقِينَ فِئَتَيْنِ وَٱللَّهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓا۟ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُوا۟ مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلًۭا

تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو رستے پر لے آؤ اور جس شخص کو خدا گمراہ کردے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہیں پاؤ گے

(آیت) ” نمبر 88 تا 89۔

یہ لوگ کون تھے ان کے بارے میں کئی روایات آتی ہیں جن میں سے دو روایتیں اہم ہیں ۔

امام احمد (رح) نے بہز ‘ شعبہ ‘ عدی ابن ثابت ‘ عبداللہ ابن زید ؓ کی سند سے زید ابن ثابت ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ احد کی طرف نکلے ‘ کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے وہ واپس ہوگئے ‘ ان کے بارے میں حضور ﷺ کے ساتھی دو گروہوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کردیا جانا چاہئے اور ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ قتل تو جائز نہیں ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” یہ پاک ہے اور یہ ناپاک لوگوں کو اس طرح نکال پھینکے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے ۔ (صحیحین نے اسے شعبہ سے روایت کیا ہے) ۔

عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بظاہر مسلمان ہوگئے تھے اور مکہ میں مشرکین کی امداد بھی کرتے تھے ۔ یہ لوگ مکہ سے اپنی کسی ضرورت کے لئے نکلے ۔ وہ دل میں کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں حضرت محمد ﷺ کے ساتھی مل گئے تو ہمیں ان کا کوئی ڈر نہ ہوگا ‘ جب مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ یہ لوگ سفر پر ہیں تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے یہ کہا کہ نکلو اور ان بزدلوں کو قتل کر دو اس لئے کہ یہ لوگ ہمارے دشمن مشرکین کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کے ایک دوسرے گروہ نے کہا : سبحان اللہ “ (یا جس طرح انہوں نے کہا) کیا تم ایسے گروہ کو قتل کرتے ہو کہ انہوں نے وہ الفاظ ادا کئے جو تم نے ادا کئے ہیں ؟ محض اس لئجے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے وطن کو نہیں چھوڑا ہم ان کی جان ومال کو حلال کرلیں ۔ اس طرح اس مسئلے پر مسلمانوں کے دو فریق بن گئے ۔ حضور ﷺ موجود تھے ۔ آپ نے دونوں میں سے کسی کی رائے کی تردید نہ کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) (روایت ابن ابو حاتم) اب سلمہ ‘ عکرمہ ‘ مجاہد اور ضحاک ؓ اجمعین وغیرہ سے ایسی ہی روایات منقول ہیں ۔

اگرچہ سند اور روایت کے اعتبار سے پہلی روایت زیادہ قوی ہے ‘ لیکن ہم دوسری روایت کے مضمون کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ منافقین مدینہ کے خلاف کسی وقت بھی قتال کا حکم صادر نہیں ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے نہ ان کے ساتھ جنگ کی ہے اور نہ انہیں قتل فرمایا ہے ۔ ان کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک دوسرا منصوبہ تھا ۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کی جائے اور خود مدینہ کی اسلامی سوسائٹی کو یہ موقعہ دیا جائے کہ وہ ان کو اگل کر رکھ دے ۔ حضور ﷺ جو کچھ کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ مدینہ کے اردگرد منافقین کے جو رابطے تھے انہیں کاٹ دیں ۔ مثلا یہودی جو ان منافقین کو ورغلاتے تھے اور ان کے حامی تھے ان کو مدینہ اور پھر پورے جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا جائے ۔ رہی آیت زیر بحث تو اس میں تو حکم دیا جارہا ہے کہ زیر بحث منافقین کو قید کیا جائے جہاں ملیں انہیں قتل کردیا جائے ‘ لہذا یہ مناقین مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے علاوہ کوئی اور گروہ ہوگا ۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کی پکڑ دھکڑ کا ہجرت تک موقوف ومشروط ہے کیونکہ آیت میں ہے ۔

(آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم “۔ (4 : 89)

” لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ ہجرت سے منہ موڑیں تو ان کو پکڑو اور جہاں بھی ان کو پاؤ قتل کرو “۔

یہ تہدید ان لوگوں کے حق میں اس لئے آئی تاکہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے حالات سے نکل آئے ہوں ‘ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں یہ حکم نافذ نہیں فرمایا تھا لیکن (یھاجروا) کے لفظ سے یہ بات تو قطعا ثابت ہوجاتی ہے کہ زیر بحث منافقین اہل مدینہ سے نہ تھے ۔ مقصد یہ …

89

وَدُّوا۟ لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا۟ فَتَكُونُونَ سَوَآءًۭ ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنْهُمْ أَوْلِيَآءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنْهُمْ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًا

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

(آیت) ” نمبر 88 تا 89۔

یہ لوگ کون تھے ان کے بارے میں کئی روایات آتی ہیں جن میں سے دو روایتیں اہم ہیں ۔

امام احمد (رح) نے بہز ‘ شعبہ ‘ عدی ابن ثابت ‘ عبداللہ ابن زید ؓ کی سند سے زید ابن ثابت ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ احد کی طرف نکلے ‘ کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے وہ واپس ہوگئے ‘ ان کے بارے میں حضور ﷺ کے ساتھی دو گروہوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کردیا جانا چاہئے اور ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ قتل تو جائز نہیں ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” یہ پاک ہے اور یہ ناپاک لوگوں کو اس طرح نکال پھینکے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے ۔ (صحیحین نے اسے شعبہ سے روایت کیا ہے) ۔

عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بظاہر مسلمان ہوگئے تھے اور مکہ میں مشرکین کی امداد بھی کرتے تھے ۔ یہ لوگ مکہ سے اپنی کسی ضرورت کے لئے نکلے ۔ وہ دل میں کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں حضرت محمد ﷺ کے ساتھی مل گئے تو ہمیں ان کا کوئی ڈر نہ ہوگا ‘ جب مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ یہ لوگ سفر پر ہیں تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے یہ کہا کہ نکلو اور ان بزدلوں کو قتل کر دو اس لئے کہ یہ لوگ ہمارے دشمن مشرکین کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کے ایک دوسرے گروہ نے کہا : سبحان اللہ “ (یا جس طرح انہوں نے کہا) کیا تم ایسے گروہ کو قتل کرتے ہو کہ انہوں نے وہ الفاظ ادا کئے جو تم نے ادا کئے ہیں ؟ محض اس لئجے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے وطن کو نہیں چھوڑا ہم ان کی جان ومال کو حلال کرلیں ۔ اس طرح اس مسئلے پر مسلمانوں کے دو فریق بن گئے ۔ حضور ﷺ موجود تھے ۔ آپ نے دونوں میں سے کسی کی رائے کی تردید نہ کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) (روایت ابن ابو حاتم) اب سلمہ ‘ عکرمہ ‘ مجاہد اور ضحاک ؓ اجمعین وغیرہ سے ایسی ہی روایات منقول ہیں ۔

اگرچہ سند اور روایت کے اعتبار سے پہلی روایت زیادہ قوی ہے ‘ لیکن ہم دوسری روایت کے مضمون کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ منافقین مدینہ کے خلاف کسی وقت بھی قتال کا حکم صادر نہیں ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے نہ ان کے ساتھ جنگ کی ہے اور نہ انہیں قتل فرمایا ہے ۔ ان کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک دوسرا منصوبہ تھا ۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کی جائے اور خود مدینہ کی اسلامی سوسائٹی کو یہ موقعہ دیا جائے کہ وہ ان کو اگل کر رکھ دے ۔ حضور ﷺ جو کچھ کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ مدینہ کے اردگرد منافقین کے جو رابطے تھے انہیں کاٹ دیں ۔ مثلا یہودی جو ان منافقین کو ورغلاتے تھے اور ان کے حامی تھے ان کو مدینہ اور پھر پورے جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا جائے ۔ رہی آیت زیر بحث تو اس میں تو حکم دیا جارہا ہے کہ زیر بحث منافقین کو قید کیا جائے جہاں ملیں انہیں قتل کردیا جائے ‘ لہذا یہ مناقین مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے علاوہ کوئی اور گروہ ہوگا ۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کی پکڑ دھکڑ کا ہجرت تک موقوف ومشروط ہے کیونکہ آیت میں ہے ۔

(آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم “۔ (4 : 89)

” لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ ہجرت سے منہ موڑیں تو ان کو پکڑو اور جہاں بھی ان کو پاؤ قتل کرو “۔

یہ تہدید ان لوگوں کے حق میں اس لئے آئی تاکہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے حالات سے نکل آئے ہوں ‘ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں یہ حکم نافذ نہیں فرمایا تھا لیکن (یھاجروا) کے لفظ سے یہ بات تو قطعا ثابت ہوجاتی ہے کہ زیر بحث منافقین اہل مدینہ سے نہ تھے ۔ مقصد یہ …

90

إِلَّا ٱلَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌ أَوْ جَآءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَٰتِلُوكُمْ أَوْ يُقَٰتِلُوا۟ قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَٰتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ ٱعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَٰتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًۭا

مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی

(آیت) ” نمبر 90۔

ایسے لوگوں کو قید کرنے اور انہیں قتل کرنے کے حکم میں ایک استثنائی صورت بھی ہے ۔ اگر یہ منافقین جو دشمنان اسلام کی معاونت کرتے ہیں اگر کسی ایسی مملکت یا ایسی سرزمین کے اندر رہائش پذیر ہیں جن کا اسلامی تحریک یا اسلامی حکومت کے ساتھ عہد و پیمان ہوچکا ہے ‘ چاہے یہ عہد معاہدہ امن ہو یا معاہدہ تخالف ہو ‘ تو اس صورت میں ان کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے عہد طے پاچکا ہے ۔

(آیت) ” الا الذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق “۔ (البتہ وہ منافق اس سے مستثنی ہیں جو کسی ایسی قوم سے جاملیں جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے) اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر امن کے مواقع ہوں اور کوئی معاہدہ امن اسلام کے اساسی نظریات کے ساتھ متعارض نہ ہو ‘ اس کی وجہ سے اسلام کو قبول کرنے کی آزادی اور اسلام کی تبلیغ کی آزادی سلب نہ ہو رہی ہو اور دعوت اسلامی کی راہ میں بذریعہ قوت رکاوٹیں کھڑی نہ کی جاتی ہوں ‘ اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو امن نصیب ہو رہا ہو اور وہ فتنوں اور مشکلات سے بچ رہے ہوں اور دعوت اسلامی کو جمود کا خطرہ بھی نہ ہو تو ایسی صورتوں میں اسلام معاہدہ امن کرسکتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جو دشمن بھی کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جائے جس کے ساتھ معاہدہ امن ہے یا معاہدہ دوستی ہے تو ایسی صورت میں ان معاہدات کا اطلاق اس شخص پر بھی ہوگا ان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوگا اور وہ لوگ ویسے ہی امن میں رہیں گے ۔ ایسے احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر امن اور سلامتی اور صلح کی روح نہایت ہی واضح ہے ۔

اسی طرح قیدی بنائے جانے اور قتل کردیئے جانے کے حکم سے وہ منافق لوگ بھی مستثنی ہیں جن کا تعلق ایسے لوگوں ایسے قبائل اور ایسے گرہوں کے ساتھ ہے جو اسلامی مملکت کے بارے میں غیر جانبدار ہیں ۔ وہ نہ مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے ساتھ محار بے کے وقت اپنی اقوام کی امداد کرتے ہیں یعنی یہ لوگ اپنی قوم کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنا بھی مناسب نہیں سمجھتے ۔ یہ لوگ دونوں فریقوں کے ساتھ بھی نہیں ملتے ۔ نہ ان کے ساتھ اور نہ ان کے ساتھ ۔

(آیت) ” اوجاء وکم حصرت صدورھم ان یقاتلوکم اویقاتلوا قومھم “۔ (اسی طرح وہ منافق بھی مستثنی ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے)

اس حکم سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اسلام ہر صورت میں قتل ومقاتلے سے اجتناب چاہتا ہے بشرطیکہ دوسرے لوگ لڑنا نہ چاہیں ‘ دعوت اسلامی کے راستے میں روڑے نہ اٹکائیں اور تحریک اسلامی اور اس کے مخالفین کے درمیان غیر جانبدار ہوجائیں ۔ ایسے لوگ جو نہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے اور نہ ہی اپنی قوم کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے ‘ جزیرۃ العرب میں اس وقت موجود تھے بلکہ خود قریش کے اندر بھی موجود تھے اور نہ ہی اپنی قوم کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے ‘ جزیرۃ العرب میں اس وقت موجود تھے بلکہ خود قریش کے اندر بھی موجود تھے ۔ ایسے لوگوں پر اسلام نے یہ پابندی عائد نہیں کہ کہ وہ اسلامی کیمپ کے ساتھ مل کر لڑیں یا مخالف کیمپ کے ساتھ مل کر لڑیں ۔ اسلام کے لئے یہ بات بھی کافی تھی کہ وہ اسلام کے خلاف جنگ نہ کریں ۔ (فتح مکہ کے بعد جب سورة توبہ نازل ہوئی تو عملی تجربے نے یہ ثابت کردیا کہ مرکز اسلام جزیرۃ العرب میں اسلام کے مقابلے میں کسی دوسرے دین کا موجود رہنا درست نہیں ہے ۔ اس لئے ان احکام کے اندر معمولی تبدیلی کی گئی تھی) نیز یہ توقع تھی کہ اگر مشکلات دور ہوجائیں تو یہ لوگ اسلامی کیمپ میں آجائیں گے جیسا کہ بعد میں عملا ایسا ہی ہوا ۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتے ہیں کہ ان غیر جانبدار لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ تمہارے لئے بہت ہی مفید ہے ۔ اگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو وہ فرض کرلیں کہ اس سے بہتر دوسری صورت کیا ہو سکتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.