أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًۭا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَٰٓؤُلَآءِ أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ سَبِيلًا
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں
(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے احبار کی اطاعت کرتے تھے جو ان کے لئے ایسے قوانین بناتے تھے جن پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہ ہوتی تھی ۔ وہ طاغوت پر ایمان لاتے تھے (طاغوت وہ نظام حکومت اور قانونی نظام ہے جو شریعت پر مبنی نہ ہو ) اسے طاغوت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں طغیان اور دست درازی پائی جاتی ہے ۔ مثلا کوئی انسان اپنے لئے ان خصوصیات کا مدعی ہوجاتا ہے جو اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی اہم خصوصیات ہیں اور یہ انسان اپنے آپ کو شریعت کے ضابطے کی اطاعت سے باہر نکال لیتا ہے ‘ جس کے مطابق عدل کرنا اس پر لازمی تھا ۔ یہ عمل ہے طغیان کا اور ایسا شخص طاغوت ہے اور اس طاغوت کے مطیع اور اس پر ایمان لانے والے مشرک ہیں یا کافر ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں کہ وہ یہ فعل مکروہ اس کے باوجود کرتے ہیں کہ ان کو اس سے قبل کتاب دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اس کتاب کی پیروی نہ کی ۔
جبت (ہرقسم کی وہمیات) اور طاغوت پر ایمان لانے پر مزید انہوں نے یہ کیا کہ کفار اور مشرکین کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور ان مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوگئے جن کو اللہ نے کتاب دی ہے ۔
(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولآء اھدی من الذین امنوا سبیلا (4 : 51) ” اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں ۔ “
ابن اسحاق نے بواسطہ محمد ابن ابی محمد ‘ عکرمہ اور سعید ابن جبیر ‘ حضرت ابن عباس ؓ اجمعین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش ‘ غطفان ‘ بنی قریظہ کے جن لوگوں نے جنگ احزاب میں تمام پارٹیوں اور احزاب کو جمع کیا تھا ان میں حیی ابن اخطب ‘ سلام ابن الحقیق ‘ ابو رافع ‘ ربیع ابن الحقیق ‘ ابو عامر ‘ وحوح ابن عامر اور ہوذہ ابن قیس تھے ۔ جب یہ لوگ قریش کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : ” یہ لوگ یہودیوں کے احبار اور علماء ہٰں اور یہ لوگ پہلی کتاب کے ماہرین علماء ہیں آپ لوگ ان سے جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں کہ تمہارا دین اچھا ہے یا محمد ﷺ کا دین اچھا ہے ۔ قریش نے ان سے پوچھا انہوں نے جواب دیا : تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے اور جو لوگ محمد کے تابع ہوگئے ہیں تم ان سے زیادہ ہدایت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب) سے لے کر (واتینھم ملکا عظیما) (4 : 54) اور یہ ان لوگوں پر لعن طعن ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا ‘ یہ لوگ اب مشرکین سے امداد چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مشرکین کو زیادہ ہدایت یافتہ اس لئے کہا تاکہ ان کو اپنی امداد کے لئے مائل کرلیں ۔ چناچہ انہوں نے انکی دعوت قبول کرلی اور یوم الاحزاب میں یہ لوگ لشکر لے کر آگئے ۔ اس جنگ میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین نے مدینہ کے اردگر خندق کھودی اور ان لوگوں کے اس عظیم شرکا دفعیہ صرف اللہ نے کیا اور (اللہ نے ان لوگوں کو بھاری غم واندوہ کے ساتھ لوٹا دیا جنہوں نے کفر کیا تھا ‘ اور وہ کچھ خیر نہ پاسکے اور اللہ تعالیٰ مومنین کی مدد کے لئے کافی تھا ۔ وہ تو بہت قوی اور غالب تھا) ۔
یہ بات تعجب انگیز تھی کہ یہودی یہ کہنے پر اتر آئیں کہ مشرکین کا دین ‘ دین …