Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 176

31

إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًۭا كَرِيمًۭا

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

(آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “۔ (4 : 31) ”

” اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کردیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے ۔

ذرا دیکھئے تو سہی ! کس قدر فیاض ہے یہ دین اور اس نظام میں کس قدر سہولتیں دی گئی ہیں ۔ ببانگ دہل دعوت دی جارہی ہے کہ انسانو ! آؤ بلندیوں کی طرف ‘ علو شان کی طرف پاکیزگی کی طرف اور ڈسپلن کی طرف ۔ یاد رکھو کہ تم پر جو فرائض عائد کئے جاتے ہیں ‘ تمہارے لئے جو حدود بھی مقرر ہوتے ہیں ‘ اور اوامر ونواہی کے جو جو احکام دیئے جاتے ہیں ‘ ان سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس جہان میں پاک وصاف نفوس پیدا کئے جائیں اور پھر ان نفوس طیبہ سے ایک پاک وصاف معاشرہ وجود میں لایا جائے ۔

لیکن یہ دعوت دیتے وقت اور یہ حدود وقیود عائد کرتے وقت انسان کی ضعیفی اور اس کی فطری کو تاہیاں بھی پیش نظر رکھی گئی ہیں ۔ یہ فرائض وواجبات اس کی فطری طاقت کے دائرے کے اندر اندر ہیں۔ ان میں اس کی فطرت ‘ اس کی طاقت کے حدود اور اس کے رجحانات کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ نیز انسانی زندگی کی راہوں کے نشیب و فراز کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں ‘ فرائض وواجبات عائد کرتے وقت ان فرائض اور انسانی مقدرت کے اندر ایک حسین امتزاج اور توازن رکھا گیا ہے ۔ انسانی ضروریات اور انسانی خواہشات کے درمیان بھی توازن موجود ہے ۔ میلانات اور رکاوٹوں کے درمیان بھی توازن ہے ‘ اوامر اور نواہی کے درمیان بھی توازن ہے ۔ ترغیب اور ترہیب کے درمیان توازن ہے ‘ اور اسی طرح ایک طرف عذاب الہی سے سخت ڈراوا ہے ۔ اگر معصیت کا ارتکاب کیا گیا اور دوسری جانب اگر کوئی پیشمان ہوجائے اور واپس لوٹنا چاہئے تو اس کے لئے بھی معافی کا دروازہ بند نہیں کیا گیا ۔

دین اسلام کا حقیقی مطلوب ومقصود صرف یہی ہے کہ وہ نفس انسانی کا قبلہ درست کرکے اس کا رخ اللہ کی طرف موڑ دے ‘ اور اس قبلہ رخی میں اسے مخلص ہونا چاہئے ۔ وہ حتی المقدور اپنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے ۔ اس کے بعد اللہ کی رحمت کی سرحد شروع ہوجاتی ہے ۔ اللہ کی رحمت ضعیف وناتواں سب کے شامل حال رہتی ہے ‘ وہ تقصیرات درگزر کرتی ہے ‘ وہ توبہ قبول کرتی ہے ‘ کمزوریوں سے صرف نظر کرتی ہے ‘ گناہ معاف کرتی ہے اور واپس آنے والوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیتی ہے اور بڑے انس و محبت سے آنے والوں کا استقبال کرتی ہے ۔

اس آیت میں حکم یہ دیا گیا ہے کہ تم کبائرے اجتناب کرو۔ گناہ کبیرہ ہمیشہ واضح ‘ کھلے اور عظیم ہوتے ہیں ‘ اس لئے کوئی شخص یہ عذر نہیں کرسکتا کہ اس نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا جن کا اسے علم نہ تھا کہ یہ گناہ ہیں ‘ یا وہ سمجھا ہی نہیں ہے اور گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے ‘ اس لئے کہ جو شخص ان گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے ‘ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے گناہ سے بچنے اور اجتناب کرنے کی سعی کی ہے ‘ یا اس نے اس کے ارتکاب کے خلاف پورا مقابلہ کیا ہے لیکن ان گناہوں کے ارتکاب کے بعد بھی اگر ایک شخص صحیح طرح پورے اخلاص کے ساتھ توبہ کرے تو بھی اللہ کے ہاں معافی ہو سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ بھی فرمایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

(آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون “۔ (3 : 135) ”

” اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معا اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ دیدہ و دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کی …

32

وَلَا تَتَمَنَّوْا۟ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبُوا۟ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبْنَ ۚ وَسْـَٔلُوا۟ ٱللَّهَ مِن فَضْلِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًۭا

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

(آیت) ” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنسآء نصیب مما اکتسبن واسئلوا اللہ من فضلہ ان اللہ کان بکل شیء علیما (32) ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدن والا قربون والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا (33) (4 : 32۔ 33)

” اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی نسبت تمنا نہ کرو ‘ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ‘ اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو ‘ یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ اور ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں ‘ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ‘ یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے ۔ “

اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو جو فضیلت دی ہے اس کی تمنا کرنے سے اہل اسلام کو منع کیا گیا ہے اور یہ نص اس بارے میں عام ہے کہ یہ فضیلت کیسی بھی ہو ۔ مثلا عہدہ و مرتبہ میں فضیلت ‘ صلاحیت و قابلیت میں فضیلت ‘ مال واسباب میں فضیلت ‘ غرض اس زندگی میں نصیبہ کے اعتبار سے جو بھی فرق و امتیاز موجود ہو ‘ اس بارے میں دوسروں کے مقابلے میں تمنائیں نہیں کرنی چاہئیں ۔ جو کچھ مانگنا ہے ‘ اللہ سے مانگا جائے اور ہر امر کی طلب براہ راست اللہ سے ہونی چاہئے اور یہ نہ ہونا چاہئے کہ دوسروں کی فضیلتون پر خواہ مخواہ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر دل کی حسرتوں کی آماجگاہ بنا لے ‘ اور اس کے بعد اس غلط تمنا کے ساتھ حسد وکینہ اور بغض وانتقام کے برے جذبات اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ انسانوں پر حملہ آور ہوں ‘ یا ان کے اندر محرومیت ‘ ہلاکت اور تباہی کے جذبات اور مہلک احسانات پیدا ہوں ۔ ان جذبات کے بعد پھر ہر کسی کے خلاف بدظنی پیدا ہو ‘ اور پھر خدا اور مخلوق دونوں سے یہ شکایت پیدا ہو کہ انہیں کم دیا گیا ہے ۔ یہ صورت حال اس قدر تباہ کن ہوگی کہ معاشرے میں امن و سکون کا نام ونشان نہ رہے گا ‘ ہر شخص ذہنی پریشانی اور قلق کا شکار ہوگا ‘ انسانی قوتیں غلط رجحانات اور بدی کی راہوں میں صرف ہو کر ضائع ہوں گی جبکہ اس کے مقابلے میں یہ رجحان کہ سب کچھ عطا کرنے والا اللہ ہے ‘ وہی فضل وکرم اور داد ودہش کا منبع ہے کیا خوب ہے ۔ اور یہ عقیدہ کہ عطا اور داد ودہش سے اس کے خزانوں میں کوئی کمی پیدا نہیں ہوتی ، اور اس کی درگاہ اس قدر وسیع ہے کہ اگر تمام کائنات کے سوالی اس پر اژدہام کرلیں تب بھی اس میں تنگی نہیں آتی ‘ امن و اطمینان بھی اس کی درگاہ سے ملتا ہے ‘ امید وآسرا بھی وہیں سے دستیاب ہے ۔ اسباب کی تلاش اور جدوجہد میں وہی مثبت راہ بتلاتا ہے ‘ جس راستے میں ایک دوسرے کے خلاف عداوت ‘ جلن ‘ اختلاف اور دشمنی بھی پیدا نہیں ہوتی ۔

ایک عام ہدایت دیتے ہوئے یہ آیت اپنے مفہوم میں عام ہے لیکن سیاق کلام میں اس کا مفہوم خاص ہوجاتا ہے اور اس کے اسباب نزول کے سلسلے میں بعض روایات بھی وارد ہیں جن کی وجہ سے آیت کا مفہوم عموم کسی قدر خاص ہو کر اس میں فرق آجاتا ہے اور بعض امور کی فضیلت متعین ہوجاتی ہے ۔ یہ آیت انہیں امور کو متعین کرتی ہے ۔ مثلا مردوں اور عورتوں کے حصے میں فرق ہے ۔ مردوں کا حصہ میراث میں زیادہ متعین ہوا ہے ‘ جس کا اظہار اس آیت سے بھی ہوتا ہے اور سیاق کلام سے بھی ہوتا ہے اور سیاق کلام سے بھی ہوتا ہے ۔ لیکن یہ پہلو یعنی بعض امور میں مرد وزن کے درمیان مقام و مرتبہ میں خصوصی تفاوت اس آیت کی عمومیت پر اثر انداز نہیں ہوتی اس لئے کہ مرد و زن کے تعلقات کی درستی اور ان کے درمیان باہم مکمل تعاون اور تکافل اور اسلامی معاشرے میں ایک خاندان کی تشکیل اور افراد معاشرہ کی باہم رضا مندی اور پورے معاشرے کی درمیان نظم کے قیام کے لئے اس تفاوت کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس لئے کہ اس تفاوت اور فرق مراتب کی وجہ سے …

33

وَلِكُلٍّۢ جَعَلْنَا مَوَٰلِىَ مِمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ ۚ وَٱلَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَٰنُكُمْ فَـَٔاتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدًا

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو بےشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

(آیت) ” ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدن والا قربون والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا (4 : 33)

” اور ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں ‘ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ‘ یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے ۔ “

اس کلیہ کے بعد کہ مردوں نے جو کمایا ان کا ہے اور عورتوں نے جو کمایا ان کا ہے اور اس حوالے کے بعد کہ قانون میراث کے مطابق مردوں اور عورتوں کے حصص بھی مقرر ہوچکے ہیں اب فرماتے ہیں کہ ہر شخص کے رشتہ داروں میں سے ہم نے اس کے وارث مقرر کردیئے ہیں ‘ جو اس کی میراث پائیں گے اور یہ وارث اس شخص کے اس ترکے کے حقدار ہوں گے جو اسے اپنے والدین اور اقرباء سے ملا ۔ یہ مال اس نظام میراث کے مطابق نسلا بعد نسل منتقل ہوتا رہے گا ۔ وراثت پانے والے پائیں گے پھر وہ اپنے اس موروثی مال میں مزید اپنی کمائی جمع کریں گے ۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں دولت کی گردش کس طرح عمل میں آتی ہے ۔ یہ گردش کسی نسل میں نہیں رکتی اور نہ یہ دولت کسی ایک گھرانے اور ایک فرد کے پاس جمع اور مرتکز ہوتی ہے بلکہ نظام میراث ہمیشہ اپنا کام کرتا رہتا ہے ۔ ایک مسلسل تقسیم ہے جو جاری وساری ہے ۔ اموال کے مالک اس میں کوئی ترمیم نہیں کرسکتے ۔ نہ وارثوں کے حصص میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے ۔ وقفے وقفے کے بعد تقسیم کا یہ خود کار عمل جاری رہتا ہے ۔

اس کے بعد ان سابقہ معاہدوں کی بات ہوئی جن کو شریعت اسلامیہ نے برقرار رکھا ہے اور جن کے مطابق میراث کے حقدار کبھی کبھار غیر اقرباء بھی ہوجاتے تھے ۔ ان معاہدوں کو عقود موالات کہا جاتا تھا ۔ جب اسلامی معاشرے کا آغاز ہوا تو اس میں ان میں سے بعض پائے جاتے تھے مثلا :

(1) معاہدہ موالات عتق ‘ جو شخص غلام کو آزاد کو آزاد کرتا وہ اس کی جانب سے دیت بھی ادا کرتا ‘ اگر کسی وقت اس پر عائد ہوجائے یعنی جب وہ کوئی جرم کرتا جیسا کہ اپنے اہل نسب کے درمیان دیت کی ادائیگی ہوا کرتی تھی ۔ اور اگر کوئی شخص مر جاتا تو اگر اس کے عصبات نہ ہوتے تو پھر یہ مالک اس کی میراث کا بھی حقدار ہوتا ۔

(2) دوسرا عقد موالات ‘ وہ یوں کہ ایک غیر عربی کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرلیتا جبکہ اس کے اقرباء عرب میں نہ ہوتے ‘ اس معاہدے کے نتیجے میں یہ غیر عربی کسی بھی عرب خاندان کسی بھی عرب خاندان کا ایک فرد ہوجاتا ۔ ولی بھی اس کی جانب سے دیت ادا کرتا اگر اس سے کوئی جرم سرزد ہوجاتا اور یہ شخص جب مرجاتا تو اس کی میراث کا حقدار وہ ولی ہوتا ۔

(3) وہ معاہدہ جو ابتدائے ہجرت کے ایام میں حضور ﷺ نے انصار ومہاجرین کے درمیان کرایا تھا ۔ اس طرح مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے ‘ اگر انصار کے اہل مسلمان ہوتے ورنہ ان کے درمیان وارثت نہ ہوتی ۔

(4) ایسے معاہدے جاہلیت میں ہوتے تھے کہ دو شخص ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کرتے کہ ہم ایک دوسرے کی وارثت کے حقدار ہوں گے ۔

اسلام نے ان تمام معاہدوں کو کالعدم کردیا ‘ خصوصا تیسرے اور چھو تھے معاہدے کو اور یہ قرار دیا کہ وراثت کے اندر حقیقی عامل قرابت اور صرف قرابت ہے لیکن اسلام نے اول الذکر دو معاہدوں کو بحال رکھا اور یہ حکم دیا کہ آئندہ ایسے معاہدے نہ کئے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم “۔ (4 : 33) (وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں ان کا حصہ انہیں دو ) اور اس بارے میں سخت تاکید بھی کی گئی اور ان معاہدوں اور ان کے تصرفات کے بارے اپنی شہادت تحریر فرمائی ۔ (آیت) ” ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا “۔ (4 : 33)

(یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا حلف فی الاسلام ایما حلف فی الجاھلیۃ لم یزدہ الاسلام الاشدہ “ (اسلام میں کوئی معاہدہ ولا نہ ہوگا لیکن جو معاہدے جاہلیت کے دور میں ہوئے ہیں …

34

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ وَبِمَآ أَنفَقُوا۟ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ ۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٌۭ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ ۚ وَٱلَّٰتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُوهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا۟ عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيًّۭا كَبِيرًۭا

مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے

ان قرآنی نصوص کی تفسیر اور تشریح شروع کرنے پہلے اور ان کی نفسیاتی اور اجتماعی اغراض کے بیان سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ خاندان کے بارے میں اسلام کا اجمالی نقطہ نظر بیان کردیا جائے اور یہ بتا دیا جائے کہ اسلام خاندان کی تعمیر کس منہاج پر کرتا ہے اور پھر اس کے بچاؤ کے لئے کیا تدابیر اختیار کرتا ہے ۔ اور پھر یہ کہ اس انتظام سے اسلام کے پیش نظر کیا اہداف اور مقاصد ہیں ۔ یہ بیان ہم حتی الوسع اجمالی طور پر کریں گے ‘ اس لئے کہ اس موضوع پر مفصل بحث کے لئے زیادہ صفحات درکار ہوں گے ۔

جس ذات نے انسان کو پیدا کیا اس نے اس کے اندر وہی ازدواجی فطرت ودیعت کی جو اس نے تمام چیزون کے اندر رکھی ہے جو اس نے پیدا کیں۔

(آیت) ” ومن کل شیء خلقلنا زوجین لعلکم تذکرون) (اور جو چیزیں ہم نے پیدا کیں ان کے ہم نے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت پکڑو) انسان کے اندر بھی اللہ تعالیٰ نے جوڑا پیدا کیا لیکن اس جوڑے کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ۔

(آیت) ” یایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا “۔ (4 : 1) ” لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا “۔ اس جوڑے کے ملاب کے اندر اللہ تعالیٰ نے زندگی کے تمام راز رکھ دیئے ہیں ۔ اس ملاپ کے اندر نفسیاتی سکون ‘ اعصابی ٹھہراؤ ‘ روحانی اطمینان اور جسمانی راحت اور آرام کا انتظام کیا ۔ پھر اس ملاپ کے اندر دونوں کا پردہ ‘ عفت مابی اور گناہوں سے بچاؤ کا سامان رکھا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ ملاپ نسل کے لئے کھیت کا کام بھی دیتا ہے ۔ اور اس کے ذریعے زندگی کے اندر تسلسل قائم ہوتا ہے اور اس کے بعد طریقہ ہائے زندگی کی ترقی کا راز بھی اسی میں ہے لیکن اسلام نے اس پورے نظام کو ایک تربیت گاہ ایک نرسری ‘ ایک باپردہ اور پرسکوں خاندان کی شکل میں بنایا جس کی ابتداء زوجین سے ہوتی ہے ۔

(آیت) ” ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ وراحمۃ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون “۔ (30 : 31)

” اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تمہارے جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کی ۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور وفکر کرتے ہیں) (آیت) ” ھن لباس لکم وانتم لباس لھن “ (وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو)

(آیت) ” نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم وقدموا لانفسکم واتقوا اللہ) ” تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو ‘ جاؤ اور اپنے مستقبل کا بھی سروسامان کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو)

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا وقودھا الناس والحجارۃ) ” اے لوگو ‘ جو ایمان لائے ہو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ۔ “

(آیت) ” والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم وما التنھم من عملھم من شیئ) (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کرتی رہی ان کی اس اولاد کو بھی ہم ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ہم ان کے اعمال کے صلے میں سے کچھ کم نہ کریں گے)

نفس انسانی کے دونوں اطراف مرد وزن کا مقام اللہ کے ہاں کیا ہے ؟ انسانیت میں وہ دونوں برابر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نفس انسان کو مکرم بنایا جس میں عورت میں شامل ہے اور مرد بھی اللہ تعالیٰ مرد و عورت دونوں کا اپنے اپنے اعمال پر پوری جزاء دے گا ۔ اللہ کے قانون میں جس طرح مرد ملکیت رکھ سکتا ہے ‘ اسی طرح عورت بھی ملکیت رکھ سکتی ہے ۔

مرد حق میراث رکھتا ہے تو عورت بھی حق میراث رکھتی ہے ۔ مرد ایک قانونی شخصیت ہے تو عورت علیحدہ قانونی شخصیت ہے اور ان تمام نکات پر بحث ہم اس سبق میں اس سے پہلے کر آئے ہیں ۔

چونکہ ادارہ خاندان کو وجود میں لانے کے لئے نفس انسانی کے دونوں اجزاء کا …

35

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوا۟ حَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهِۦ وَحَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصْلَٰحًۭا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيْنَهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًۭا

اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

(آیت) ” نمبر 35

اسلام یہ مشورہ نہیں دیتا کہ عورت کی جانب سے سرکشی شروع ہوتے ہی تم اس سرکشی اور نفرت کے سامنے ہتھیار ڈال دو اور نہ اسلام یہ مشورہ دیتا ہے کہ بس فورا معاہدہ نکاح کو ختم کر دو اور خاندان کی ہنڈیا ان لوگوں کے سر پر لا کر پھوڑ دو جن کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں ہے ‘ اس لئے اسلام اس کی اہمیت کی خاطر اسے از سر نو جدید اینٹوں کی مدد سے تعمیر کرتا ہے تاکہ وہ دوبارہ نشوونما حاصل کرسکے ۔

اب اسلامی نظام ادارہ نکاح کے ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوتے ہیں اپنی آخری کوشش شروع کردیتا ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ ایک ثالث مرد کی مرضی کا مقرر ہو اور ایک ثالث عورت کی مرضی کا مقرر ہو اور وہ دونوں ان کے درمیان مصالحت کرانے کی سعی کریں ۔ یہ لوگ نہایت ہی ٹھنڈے ماحول میں جمع ہوں ۔ وہ اپنے ذاتی میلانات کو سامنے نہ رکھیں ‘ اپنے شعور اور احساس کے بوجھ سے الگ ہوجائیں اور معاشی حالات ومفادات کو نظر انداز کردیں ‘ جن کی وجہ سے زوجین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ۔ یہ حکم ان حالات سے ہٹ کر سوچیں جن کی وجہ سے زندگی کے ماحول میں کدورت پیدا ہوئی یا جن کی وجہ سے فریقین کے درمیان پیچیدگی پیدا ہوئی اور جن کی وجہ سے زوجین کے درمیان مشترکہ زندگی کے اچھے عوامل غیر موثر ہوگئے ۔ ان ثالثوں کو کوشش کرنا چائیے کہ وہ زوجین کے دونوں خاندانوں کی شہرت اور عزت کا بھی خیال رکھیں اور زوجین کے چھوٹے بچے ہوں تو ان کے مستقبل کا بھی خیال رکھیں اور وہ اپنے دل سے یہ خواہش نکال دیں کہ ان میں سے کوئی فریق کامیاب رہتا ہے یا ناکام ۔ کیونکہ ایسے حالات میں زوجین میں سے ہر ایک اپنی بات منوانا اپنے لئے باعث عزت سمجھتا ہے ۔ بلکہ ان ثالثوں کو زوجین کے مفادات ‘ ان کے بچوں کے مفادات اور اس ادارے کے مفادات کا خیال رکھنا چاہئے جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ زوجین کے رازوں کے بھی امین ہوں گے کیونکہ یہ دونوں حکم ‘ دونوں خاندانوں اور زوجین کے نمائندے ہوں گے ۔ فریقین کو یہ خوف نہ ہوگا کہ ان سے ان کے راز افشا ہوں گے اور نہ ہونا چاہئیں کیونکہ رازوں کی تشہیر میں دونوں کی مصلحت نہیں ہوتی بلکہ دونوں کی مصلحت تو اس میں ہوتی ہے کہ ان کے راز پس پردہ ہی رہیں۔

ان ثالثوں کا اجتماع زوجین کے درمیان اصلاح کی خاطر ہوگا بشرطیکہ زوجین کے درمیان اصلاح احوال کی حقیقی خواہش ہو اور یہ خواہش اصلاح محض غصے کے نیچے دب گئی ہو ۔ اگر ثالثوں کے دلوں میں حقیقی خواہش ہو اور وہ مخلص ہوں تو اللہ تعالیٰ زوجین کو اصلاح احوال کی توفیق دے دے گا ۔

(آیت) ” ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما “ (4 : 35) ” اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا “۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ وہ صدق دل سے اصلاح چاہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبولیت بخشتا ہے اور اصلاح کی توفیق دیتا ہے ۔

یہ ہے لوگوں کی سعی اور انکے دلوں کا رابطہ اللہ کی تقدیر اور اس کی مشیت کے ساتھ ۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی قضا ہی لوگوں کی زندگیوں میں موثر ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ کی تقدیر نے لوگوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ ہو کوشش کریں اور اصلاح احوال کی سعی کریں ۔ ان کی اس کوشش کے جو نتائج نکلیں گے وہ اللہ کی تقدیر کے مطابق ہی ہوں گے ۔

جو نتائج بھی نکلیں گے وہ گہرے علم اور دور اندیشانہ مصلحت پر مبنی ہوں گے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان علیما خبیرا “ (4 : 35) ” (اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے)

غرض اس سبق میں یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اسلام زوجین کے درمیان اس تعلق کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ادارہ خاندان کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے ۔ ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام انسانی زندگی کے اس پہلو کی تنظیم پر کس قدر زور دیتا ہے ۔ پھر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ابتدائی دور کی تحریک اسلامی میں زندگی کے اس پہلو کو …

36

۞ وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًۭا فَخُورًا

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

(آیت) ” نمبر 36 تا 43۔

یہ پیرا گراف اس حکم سے شروع ہوتا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ حکم واؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو حرف عطف ہے ۔ حرف عطف اس امر اور نہی کو سابقہ احکام کے ساتھ مربوط کردیتا ہے جو ادارہ خاندان کی تنظیم اور شیرازہ بندی سے متعلق ہیں اور جن کا ذکر سابقہ سبق کے آخر تک ہوا ۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کا ایک ہی کلیہ اور اصول ہے اور وہی تمام امور کے درمیان رابطہ ہے یعنی پوری زندگی میں بندگی صرف اللہ کی کی جانی چاہئے اور یہ کہ اسلام صرف عقیدے اور چند نظریات کا نام نہیں ہے جو کسی انسان کے ضمیر میں پختہ طور پر بیٹھے ہوں نہ اسلام چند مراسم عبودیت کا نام ہے جو مسجد میں سرانجام دیئے جاتے ہوں اور نہ اسلام صرف دنیوی کاروبار کا نام ہے جس کا تعلق عقیدے اور رسوم پرستش سے بالکل نہ ہو ‘ بلکہ وہ ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر یہ سب چیزیں موجود ہیں پھر اس کے تمام اجزاء بھی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور پھر یہ سب اجزاء اپنے اصل الاصول یعنی نظریہ توحید کے ساتھ مربوط ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ سے ہدایت حاصل کرنا اور اس کے سوا کسی سے کوئی ہدایت نہ لینا یعنی مراسم عبادت میں اللہ کو الہ و معبود سمجھنا اور اسی طرح حاکمیت اور قانون سازی میں بھی اسے الہ وحاکم سمجھنا یہ دونوں چیزیں نظریہ توحید میں شامل ہیں ۔ ان دونوں میں توحید اسلام کا جزء ہے اور یہی خدا کا دین ہے ۔

توحید کے حکم اور شرک کی نفی کے ساتھ ہی حکم دیا جاتا ہے کہ احسان کرو اور یہ حکم ایک خاندان کو بھی دیا جاتا ہے ۔ اور پورے انسانی خاندان یعنی معاشرے کو بھی دیا جاتا ہے ۔ بخل فخر اور تکبر کی مذمت کی جاتی ہے ‘ نیز لوگوں کو بخل پر آمادہ کرنے کی بھی مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ کے فضل کو چھپانا بھی ایک مذموم حرکت ہے۔ اللہ کا فضل عام ہے ‘ چاہے مالی فضل ہو یا اخلاقی اور دینی فضل ہو ۔ پھر شیطان کی اطاعت سے ڈرایا جاتا ہے ۔ اب روئے سخن آخرت کی طرف پھرجاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دن نہایت ہی شرمندہ کرنے والا اور توہین آمیز ہوگا ۔ ان سب امور کو عقیدہ توحید سے مربوط کردیا جاتا ہے اور وہ مصدر ومنبع متعین کردیا جاتا ہے جس سے ان لوگوں نے ہدایت لینی ہے جو اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور وہ مصدر ہے بھی یکتا اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ ہدایت لینے کا ذریعہ بھی وہ ہے اور قانون ساز بھی وہ ہے ۔ اس کی حاکمیت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے اور اس کی بندگی اور عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے ۔

(آیت) ” واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربی والیتمی والمسکین والجار ذی القربی والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم (4 : 36)

” اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ‘ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ‘ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ‘ اور پڑوسی رشتہ دار سے ‘ اجنبی ہمسایہ سے ‘ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں ‘۔

اسلامی نظام حیات میں پرستش کے بارے میں ہدایات اور قانون سازی کے بارے میں ہدایات ایک ہی مرجع Sonrce سے اخذ ہوتی ہیں اور وہ ایک ہی محور کے اردگرد گھومتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں ایمان باللہ سے اخذ ہوتی ہیں اور ایمان باللہ کا ارتکاز نقطہ توحید پر ہے اس لئے اسلام میں تمام ہدایات اور تمام تشریعات Law Making باہم جڑی ہوئی اور ہم آہنگ ہیں۔ اسلامی نظام میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے ایک جزء کو دوسرے سے علیحدہ کردیا جائے ۔ اور اگر کوئی شخص اسلام کے کسی جزء کو اس کے نقطہ ارتکاز یعنی عقیدہ توحید سے علیحدہ کرکے سمجھنے کی سعی کرے گا تو اس کی سمجھ ناقص ہوگی ۔ اسی طرح عملی میدان میں بھی اسلام کے ایک جزئیہ …

37

ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

(آیت) ” نمبر 36 تا 43۔

یہ پیرا گراف اس حکم سے شروع ہوتا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ حکم واؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو حرف عطف ہے ۔ حرف عطف اس امر اور نہی کو سابقہ احکام کے ساتھ مربوط کردیتا ہے جو ادارہ خاندان کی تنظیم اور شیرازہ بندی سے متعلق ہیں اور جن کا ذکر سابقہ سبق کے آخر تک ہوا ۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کا ایک ہی کلیہ اور اصول ہے اور وہی تمام امور کے درمیان رابطہ ہے یعنی پوری زندگی میں بندگی صرف اللہ کی کی جانی چاہئے اور یہ کہ اسلام صرف عقیدے اور چند نظریات کا نام نہیں ہے جو کسی انسان کے ضمیر میں پختہ طور پر بیٹھے ہوں نہ اسلام چند مراسم عبودیت کا نام ہے جو مسجد میں سرانجام دیئے جاتے ہوں اور نہ اسلام صرف دنیوی کاروبار کا نام ہے جس کا تعلق عقیدے اور رسوم پرستش سے بالکل نہ ہو ‘ بلکہ وہ ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر یہ سب چیزیں موجود ہیں پھر اس کے تمام اجزاء بھی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور پھر یہ سب اجزاء اپنے اصل الاصول یعنی نظریہ توحید کے ساتھ مربوط ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ سے ہدایت حاصل کرنا اور اس کے سوا کسی سے کوئی ہدایت نہ لینا یعنی مراسم عبادت میں اللہ کو الہ و معبود سمجھنا اور اسی طرح حاکمیت اور قانون سازی میں بھی اسے الہ وحاکم سمجھنا یہ دونوں چیزیں نظریہ توحید میں شامل ہیں ۔ ان دونوں میں توحید اسلام کا جزء ہے اور یہی خدا کا دین ہے ۔

توحید کے حکم اور شرک کی نفی کے ساتھ ہی حکم دیا جاتا ہے کہ احسان کرو اور یہ حکم ایک خاندان کو بھی دیا جاتا ہے ۔ اور پورے انسانی خاندان یعنی معاشرے کو بھی دیا جاتا ہے ۔ بخل فخر اور تکبر کی مذمت کی جاتی ہے ‘ نیز لوگوں کو بخل پر آمادہ کرنے کی بھی مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ کے فضل کو چھپانا بھی ایک مذموم حرکت ہے۔ اللہ کا فضل عام ہے ‘ چاہے مالی فضل ہو یا اخلاقی اور دینی فضل ہو ۔ پھر شیطان کی اطاعت سے ڈرایا جاتا ہے ۔ اب روئے سخن آخرت کی طرف پھرجاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دن نہایت ہی شرمندہ کرنے والا اور توہین آمیز ہوگا ۔ ان سب امور کو عقیدہ توحید سے مربوط کردیا جاتا ہے اور وہ مصدر ومنبع متعین کردیا جاتا ہے جس سے ان لوگوں نے ہدایت لینی ہے جو اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور وہ مصدر ہے بھی یکتا اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ ہدایت لینے کا ذریعہ بھی وہ ہے اور قانون ساز بھی وہ ہے ۔ اس کی حاکمیت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے اور اس کی بندگی اور عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے ۔

(آیت) ” واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربی والیتمی والمسکین والجار ذی القربی والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم (4 : 36)

” اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ‘ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ‘ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ‘ اور پڑوسی رشتہ دار سے ‘ اجنبی ہمسایہ سے ‘ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں ‘۔

اسلامی نظام حیات میں پرستش کے بارے میں ہدایات اور قانون سازی کے بارے میں ہدایات ایک ہی مرجع Sonrce سے اخذ ہوتی ہیں اور وہ ایک ہی محور کے اردگرد گھومتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں ایمان باللہ سے اخذ ہوتی ہیں اور ایمان باللہ کا ارتکاز نقطہ توحید پر ہے اس لئے اسلام میں تمام ہدایات اور تمام تشریعات Law Making باہم جڑی ہوئی اور ہم آہنگ ہیں۔ اسلامی نظام میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے ایک جزء کو دوسرے سے علیحدہ کردیا جائے ۔ اور اگر کوئی شخص اسلام کے کسی جزء کو اس کے نقطہ ارتکاز یعنی عقیدہ توحید سے علیحدہ کرکے سمجھنے کی سعی کرے گا تو اس کی سمجھ ناقص ہوگی ۔ اسی طرح عملی میدان میں بھی اسلام کے ایک جزئیہ …

38

وَٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۗ وَمَن يَكُنِ ٱلشَّيْطَٰنُ لَهُۥ قَرِينًۭا فَسَآءَ قَرِينًۭا

اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لئے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کو ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے

(آیت) ” نمبر 36 تا 43۔

یہ پیرا گراف اس حکم سے شروع ہوتا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ حکم واؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو حرف عطف ہے ۔ حرف عطف اس امر اور نہی کو سابقہ احکام کے ساتھ مربوط کردیتا ہے جو ادارہ خاندان کی تنظیم اور شیرازہ بندی سے متعلق ہیں اور جن کا ذکر سابقہ سبق کے آخر تک ہوا ۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کا ایک ہی کلیہ اور اصول ہے اور وہی تمام امور کے درمیان رابطہ ہے یعنی پوری زندگی میں بندگی صرف اللہ کی کی جانی چاہئے اور یہ کہ اسلام صرف عقیدے اور چند نظریات کا نام نہیں ہے جو کسی انسان کے ضمیر میں پختہ طور پر بیٹھے ہوں نہ اسلام چند مراسم عبودیت کا نام ہے جو مسجد میں سرانجام دیئے جاتے ہوں اور نہ اسلام صرف دنیوی کاروبار کا نام ہے جس کا تعلق عقیدے اور رسوم پرستش سے بالکل نہ ہو ‘ بلکہ وہ ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر یہ سب چیزیں موجود ہیں پھر اس کے تمام اجزاء بھی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور پھر یہ سب اجزاء اپنے اصل الاصول یعنی نظریہ توحید کے ساتھ مربوط ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ سے ہدایت حاصل کرنا اور اس کے سوا کسی سے کوئی ہدایت نہ لینا یعنی مراسم عبادت میں اللہ کو الہ و معبود سمجھنا اور اسی طرح حاکمیت اور قانون سازی میں بھی اسے الہ وحاکم سمجھنا یہ دونوں چیزیں نظریہ توحید میں شامل ہیں ۔ ان دونوں میں توحید اسلام کا جزء ہے اور یہی خدا کا دین ہے ۔

توحید کے حکم اور شرک کی نفی کے ساتھ ہی حکم دیا جاتا ہے کہ احسان کرو اور یہ حکم ایک خاندان کو بھی دیا جاتا ہے ۔ اور پورے انسانی خاندان یعنی معاشرے کو بھی دیا جاتا ہے ۔ بخل فخر اور تکبر کی مذمت کی جاتی ہے ‘ نیز لوگوں کو بخل پر آمادہ کرنے کی بھی مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ کے فضل کو چھپانا بھی ایک مذموم حرکت ہے۔ اللہ کا فضل عام ہے ‘ چاہے مالی فضل ہو یا اخلاقی اور دینی فضل ہو ۔ پھر شیطان کی اطاعت سے ڈرایا جاتا ہے ۔ اب روئے سخن آخرت کی طرف پھرجاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دن نہایت ہی شرمندہ کرنے والا اور توہین آمیز ہوگا ۔ ان سب امور کو عقیدہ توحید سے مربوط کردیا جاتا ہے اور وہ مصدر ومنبع متعین کردیا جاتا ہے جس سے ان لوگوں نے ہدایت لینی ہے جو اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور وہ مصدر ہے بھی یکتا اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ ہدایت لینے کا ذریعہ بھی وہ ہے اور قانون ساز بھی وہ ہے ۔ اس کی حاکمیت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے اور اس کی بندگی اور عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے ۔

(آیت) ” واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربی والیتمی والمسکین والجار ذی القربی والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم (4 : 36)

” اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ‘ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ‘ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ‘ اور پڑوسی رشتہ دار سے ‘ اجنبی ہمسایہ سے ‘ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں ‘۔

اسلامی نظام حیات میں پرستش کے بارے میں ہدایات اور قانون سازی کے بارے میں ہدایات ایک ہی مرجع Sonrce سے اخذ ہوتی ہیں اور وہ ایک ہی محور کے اردگرد گھومتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں ایمان باللہ سے اخذ ہوتی ہیں اور ایمان باللہ کا ارتکاز نقطہ توحید پر ہے اس لئے اسلام میں تمام ہدایات اور تمام تشریعات Law Making باہم جڑی ہوئی اور ہم آہنگ ہیں۔ اسلامی نظام میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے ایک جزء کو دوسرے سے علیحدہ کردیا جائے ۔ اور اگر کوئی شخص اسلام کے کسی جزء کو اس کے نقطہ ارتکاز یعنی عقیدہ توحید سے علیحدہ کرکے سمجھنے کی سعی کرے گا تو اس کی سمجھ ناقص ہوگی ۔ اسی طرح عملی میدان میں بھی اسلام کے ایک جزئیہ …

39

وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِهِمْ عَلِيمًا

اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے

(آیت) ” وما ذا علیھم لو امنوا باللہ والیوم الاخر وانفقوا مما رزقھم اللہ وکان اللہ بھم علیما (39) ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضعفھا ویوت من لدنہ اجرا عظیما (40) (4 (39۔ 40)

” آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا ۔ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ‘ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اسے دوچند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے ۔

ہاں ‘ انہیں کیا ہوجاتا ۔ وہ کیا نقصان ہے ‘ جس کی بابت وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے سے ڈرتے ہیں ۔ جس کی بابت وہ انفاق کرنے سے ڈرتے ہیں ‘ یعنی اللہ کا دیا ہوا ‘ اللہ کے راستے میں ‘ اللہ تو اس چیز کو بھی جانتا ہے جو وہ خرچ کرتے ہیں اور ان اسباب اور دواعی سے بھی باخبر ہے جن کی وجہ سے وہ خرچ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو ذرہ برابر کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔ اس لئے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ اللہ کو ان کے ایمان اور ان کے انفاق کے بارے میں علم نہ ہو سکے گا ۔ اس لئے اللہ انہیں جو جزاء دے گا اس میں ظلم نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اس میں خاص اضافہ فرمائے گا ۔ نیکیاں زیادہ کردی جائیں گی اور اللہ اپنی جانب سے بلاحساب دے گا ۔

ایمان کا راستہ ہر صورت میں محفوظ اور مفید ہے ۔ یعنی مادی مفادات ونقصانات کے نقطہ نظر سے بھی ۔ اگر خالص مادی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو ایمان پھر بھی مفید اور محفوظ راستہ ہے ۔ اس لئے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں کیا نقصان ہوگا اگر وہ اللہ پر ایمان لائیں اور یوم آخرت پر یقین رکھیں اور انہیں اللہ نے جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کریں ۔ اس لئے کہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں ‘ اس میں سے کوئی چیز انکی پیدا کردہ نہیں ہے ۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ بطور برواحسان خرچ کرنے والوں کو کئی گنا اجر دیتا ہے اور اس پر اس کا فضل وکرم مستزاد ہوگا حالانکہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں وہ اللہ کے دیئے ہوئے سے خرچ کر رہے ہیں ۔ کیا ہی عظیم ہے اللہ کا فضل وکرم ۔ کیا ہی بہترین سودا ہے یہ ۔ اس سے تو کوئی جاہل ہی باز رہ سکتا ہے ۔

آخر میں اوامر اونوہی اور ترغیب اور تحریک کا خاتمہ مشاہد قیامت میں سے ایک منظر پر ہوتا ہے ۔ یہاں ان کے موقف کو مجسم شکل میں اور حرکت کرتے ہوئے زندہ کرداروں میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس طرح قرآن کریم ہمیشہ مشاہدات قیامت کو زندہ اور متحرک شکل میں پیش کرتا ہے ۔

40

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةًۭ يُضَٰعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًۭا

خدا کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا اور اگر نیکی (کی) ہوگی تو اس کو دوچند کردے گا اور اپنے ہاں سے اجرعظیم بخشے گا

(آیت) ” وما ذا علیھم لو امنوا باللہ والیوم الاخر وانفقوا مما رزقھم اللہ وکان اللہ بھم علیما (39) ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضعفھا ویوت من لدنہ اجرا عظیما (40) (4 (39۔ 40)

” آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا ۔ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ‘ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اسے دوچند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے ۔

ہاں ‘ انہیں کیا ہوجاتا ۔ وہ کیا نقصان ہے ‘ جس کی بابت وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے سے ڈرتے ہیں ۔ جس کی بابت وہ انفاق کرنے سے ڈرتے ہیں ‘ یعنی اللہ کا دیا ہوا ‘ اللہ کے راستے میں ‘ اللہ تو اس چیز کو بھی جانتا ہے جو وہ خرچ کرتے ہیں اور ان اسباب اور دواعی سے بھی باخبر ہے جن کی وجہ سے وہ خرچ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو ذرہ برابر کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔ اس لئے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ اللہ کو ان کے ایمان اور ان کے انفاق کے بارے میں علم نہ ہو سکے گا ۔ اس لئے اللہ انہیں جو جزاء دے گا اس میں ظلم نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اس میں خاص اضافہ فرمائے گا ۔ نیکیاں زیادہ کردی جائیں گی اور اللہ اپنی جانب سے بلاحساب دے گا ۔

ایمان کا راستہ ہر صورت میں محفوظ اور مفید ہے ۔ یعنی مادی مفادات ونقصانات کے نقطہ نظر سے بھی ۔ اگر خالص مادی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو ایمان پھر بھی مفید اور محفوظ راستہ ہے ۔ اس لئے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں کیا نقصان ہوگا اگر وہ اللہ پر ایمان لائیں اور یوم آخرت پر یقین رکھیں اور انہیں اللہ نے جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کریں ۔ اس لئے کہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں ‘ اس میں سے کوئی چیز انکی پیدا کردہ نہیں ہے ۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ بطور برواحسان خرچ کرنے والوں کو کئی گنا اجر دیتا ہے اور اس پر اس کا فضل وکرم مستزاد ہوگا حالانکہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں وہ اللہ کے دیئے ہوئے سے خرچ کر رہے ہیں ۔ کیا ہی عظیم ہے اللہ کا فضل وکرم ۔ کیا ہی بہترین سودا ہے یہ ۔ اس سے تو کوئی جاہل ہی باز رہ سکتا ہے ۔

آخر میں اوامر اونوہی اور ترغیب اور تحریک کا خاتمہ مشاہد قیامت میں سے ایک منظر پر ہوتا ہے ۔ یہاں ان کے موقف کو مجسم شکل میں اور حرکت کرتے ہوئے زندہ کرداروں میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس طرح قرآن کریم ہمیشہ مشاہدات قیامت کو زندہ اور متحرک شکل میں پیش کرتا ہے ۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.