إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًۭا كَرِيمًۭا
اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے
(آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “۔ (4 : 31) ”
” اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کردیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے ۔
ذرا دیکھئے تو سہی ! کس قدر فیاض ہے یہ دین اور اس نظام میں کس قدر سہولتیں دی گئی ہیں ۔ ببانگ دہل دعوت دی جارہی ہے کہ انسانو ! آؤ بلندیوں کی طرف ‘ علو شان کی طرف پاکیزگی کی طرف اور ڈسپلن کی طرف ۔ یاد رکھو کہ تم پر جو فرائض عائد کئے جاتے ہیں ‘ تمہارے لئے جو حدود بھی مقرر ہوتے ہیں ‘ اور اوامر ونواہی کے جو جو احکام دیئے جاتے ہیں ‘ ان سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس جہان میں پاک وصاف نفوس پیدا کئے جائیں اور پھر ان نفوس طیبہ سے ایک پاک وصاف معاشرہ وجود میں لایا جائے ۔
لیکن یہ دعوت دیتے وقت اور یہ حدود وقیود عائد کرتے وقت انسان کی ضعیفی اور اس کی فطری کو تاہیاں بھی پیش نظر رکھی گئی ہیں ۔ یہ فرائض وواجبات اس کی فطری طاقت کے دائرے کے اندر اندر ہیں۔ ان میں اس کی فطرت ‘ اس کی طاقت کے حدود اور اس کے رجحانات کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ نیز انسانی زندگی کی راہوں کے نشیب و فراز کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں ‘ فرائض وواجبات عائد کرتے وقت ان فرائض اور انسانی مقدرت کے اندر ایک حسین امتزاج اور توازن رکھا گیا ہے ۔ انسانی ضروریات اور انسانی خواہشات کے درمیان بھی توازن موجود ہے ۔ میلانات اور رکاوٹوں کے درمیان بھی توازن ہے ‘ اوامر اور نواہی کے درمیان بھی توازن ہے ۔ ترغیب اور ترہیب کے درمیان توازن ہے ‘ اور اسی طرح ایک طرف عذاب الہی سے سخت ڈراوا ہے ۔ اگر معصیت کا ارتکاب کیا گیا اور دوسری جانب اگر کوئی پیشمان ہوجائے اور واپس لوٹنا چاہئے تو اس کے لئے بھی معافی کا دروازہ بند نہیں کیا گیا ۔
دین اسلام کا حقیقی مطلوب ومقصود صرف یہی ہے کہ وہ نفس انسانی کا قبلہ درست کرکے اس کا رخ اللہ کی طرف موڑ دے ‘ اور اس قبلہ رخی میں اسے مخلص ہونا چاہئے ۔ وہ حتی المقدور اپنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے ۔ اس کے بعد اللہ کی رحمت کی سرحد شروع ہوجاتی ہے ۔ اللہ کی رحمت ضعیف وناتواں سب کے شامل حال رہتی ہے ‘ وہ تقصیرات درگزر کرتی ہے ‘ وہ توبہ قبول کرتی ہے ‘ کمزوریوں سے صرف نظر کرتی ہے ‘ گناہ معاف کرتی ہے اور واپس آنے والوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیتی ہے اور بڑے انس و محبت سے آنے والوں کا استقبال کرتی ہے ۔
اس آیت میں حکم یہ دیا گیا ہے کہ تم کبائرے اجتناب کرو۔ گناہ کبیرہ ہمیشہ واضح ‘ کھلے اور عظیم ہوتے ہیں ‘ اس لئے کوئی شخص یہ عذر نہیں کرسکتا کہ اس نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا جن کا اسے علم نہ تھا کہ یہ گناہ ہیں ‘ یا وہ سمجھا ہی نہیں ہے اور گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے ‘ اس لئے کہ جو شخص ان گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے ‘ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے گناہ سے بچنے اور اجتناب کرنے کی سعی کی ہے ‘ یا اس نے اس کے ارتکاب کے خلاف پورا مقابلہ کیا ہے لیکن ان گناہوں کے ارتکاب کے بعد بھی اگر ایک شخص صحیح طرح پورے اخلاص کے ساتھ توبہ کرے تو بھی اللہ کے ہاں معافی ہو سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ بھی فرمایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
(آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون “۔ (3 : 135) ”
” اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معا اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ دیدہ و دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کی …