Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 11–20 of 176

11

يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءًۭ فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةًۭ فَلَهَا ٱلنِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٌۭ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخْوَةٌۭ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ ۗ ءَابَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًۭا ۚ فَرِيضَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

(آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “ اور اس فقرے کے بعد پھر تمام وارثوں کے حصص کا بیان ہوتا ہے ۔ اور یہ تقسیم اور تقرری اس عمومی اصول کے تحت ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہدایت اور وصیت ہے ۔ اس کی تفصیلات دو طویل آیات میں دی گئی ہیں ۔ پہلی آیت میں اصول اور فروع کے درمیان تقسیم میراث ہے ۔ یعنی آیا اور اولاد کے درمیان ‘ اور دوسری آیت میں ازدواجی رشتہ اور کلالہ کے حصص میراث کا بیان ہے ۔ اور پھر بعض تتمہ احکام اس سورت کے آخر میں کلالہ کے بارے میں آتے ہیں (تفصیلات آرہی ہیں ۔ )

(آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین فان کن نسآء فوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک وان کانت واحدة فلھا النصف ولابویہ لکل واحد منھما السدس مما ترک ان کان لہ ولد ، فان لم یکن لہ ولد وورثہ ابوہ فلامہ الثلث فان کان لہ اخوة فلامہ السدس من بعد وصیة یوصی بھا او دین ابآوکم وابنآوکم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعا فریضة من اللہ ان اللہ کان علیما حکیما (11) ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھا اودین ، ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد ، فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون بھا دین ، وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ او اخت فلکل واحد منھما السدس فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضآر وصیة من اللہ ، واللہ علیم حلیم “۔ (21)

ترجمہ :” تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت اور اللہ دانا وبینا اور نرم خو ہے “۔

یہ دو آیات اور اس سورت کی تیسری آیت میں علم میراث کے اصولی قواعد کو منضبط کیا گیا ہے ، اس سورت کی تیسری آیت یہ ہے ۔

(آیت) ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللة ان امرو¿ا ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلھا نصف ما ترک وھو یرثھا ان لم یکن لھا ولد فان کانتا اثنتین فلھما الثلثن مما ترک وان کانوا اخوة رجالا ونسآء فللذکر مثل حظ الانثیین ، یبین اللہ لکم ان تضلوا ، واللہ بکل شیء علیم (671)

ترجمہ : ” لوگ تم سے کلالہ کے معاملے میں فتوی پوچھتے ہیں ‘ کہو اللہ تمہیں فتوی دیتا ہے ‘ اگر کوئی شخص بےاولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی اور اگر بہن بےاولاد مر جائے تو بھائی اس کا وارث ہوگا ۔ اگر میت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی اور اگر بھائی اور بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا دوہرا حصہ ہوگا ۔ اللہ تمہارے لئے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ “

ان تین آیات میں علم میراث کے اصولوں کو منضبط کردیا گیا ہے ۔ ان اصولوں کے مزید فروعی مسائل کی وضاحت سنت رسول ﷺ میں اور اقوال صحابہ میں کی گئی ہے ۔ اور اس کے بعد ان اصول و فروع سے فقہائے کرام نے اجتہاد کر کے تفصیلی مسائل بیان کئے ہیں ۔ ان فروعی مسائل کی تفصیلات کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے ۔ تفصیلات کا مطالعہ کتب فقہ میں کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں فی ضلال القرآن میں ہم فقط ان آیات کی تشریح کریں گے ۔ نیز ان آیات کے آخر میں جو تعقیبات ہیں اور ان میں اسلامی نظام زندگی کے جو اصولی نظریات بیان ہوئے ہیں ہم انکی تشریح کریں گے ۔

(آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “۔ ” تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں اللہ وصیت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا ۔ “

اس افتتاحی آیت سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں کہ علم میراث کا یہ اصل الاصول ہے ۔ اور یہ کہ اس علم کا منبع کیا ہے ۔ اور یہ کہ یہ علم کس مصدر سے نکلا ہے ۔ اور اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ وادین سے بھی زیادہ رحیم اور شفیق ہے ۔ اور اس نے ان کیلئے جو حصص تجویز کئے ہیں تو یہی ان کے مفاد میں ہیں ۔ اور اس …

12

۞ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌۭ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌۭ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌۭ يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمْرَأَةٌۭ وَلَهُۥٓ أَخٌ أَوْ أُخْتٌۭ فَلِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوٓا۟ أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِى ٱلثُّلُثِ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصَىٰ بِهَآ أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّۢ ۚ وَصِيَّةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌۭ

اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے

اس کے بعد باقی حصص یوں متعین ہوتے ہیں ۔

(آیت) ” ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھا اودین ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن کم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون بھا اودین “۔

ترجمہ : ” اگر خاوند بلا اولاد مر جائے تو بیوی کا حصہ چوتھائی ہے ‘ اگر اولاد ہو ‘ لڑکے یا لڑکیاں ایک یا متعدد ‘ اس عورت سے ہو یا کسی اور عورت سے ‘ یا حقیقی بیٹے کے لڑکے ہوں تو ان صورتوں میں بیوی کا حصہ چوتھائی سے آٹھواں ہوجائے گا ۔ قرض کی ادائیگی اور وصیت بہرحال پہلے ہوگی ۔

نیز دو بیویاں ‘ تین بیویاں اور چار بیویاں ایک ہی بیوی شمار ہوں گی ۔ وہ سب کی سب چہارم یا ہشتم میں شریک ہوں گی اور اب حکم میراث کے سلسلے میں آخری حکم ہے جو مسئلہ کلالہ کے نام سے مشہور ہے ۔

(آیت) ” وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ اواخت فلکل واحد منھما السدس ، فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضآر “۔

کلالہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص اپنے جوانب سے میراث کا حقدار ہو ‘ حقدار کا سبب اصول میں سے ہونا یا فروع میں سے ہونا نہ ہو ‘ یعنی تعلق ضعیف ہو ‘ اس قدر قوی نہ ہو جس طرح اصول و فروع کا تعلق قوی ہوتا ہے ۔ کسی نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے فرمایا :” میں اس سلسلے میں بات اپنی رائے کے مطابق کروں گا ‘ اگر یہ رائے درست ہو تو اللہ کی جانب سے ہوئی اور اگر غلط ہو تو شیطان کا القاء ہوگا ۔ اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ اس کے ذمہ دار نہ ہوں گے ۔ کلالہ وہ ہے جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین ہوں ۔ “ جو حضرت ابوبکر ؓ کے بعد حضرت عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں حضرت ابوبکر ؓ کی رائے کی مخالفت کروں “۔ (اس روایت کو ابن جریر نے شعبی سے نقل کیا ہے)

علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” حضرت علی ؓ ‘ ابن مسعود ؓ ‘ ابن عباس ؓ ’ زید بن ثابت ؓ ‘ سے منقول ہے ۔ شعبی ‘ نخعی ، حسن ؓ ‘ قتادہ ؓ ‘ جابر ؓ ‘ ابن زید ؓ ‘ اور حکم کی رائے بھی یہی ہے ۔ اہل مدینہ ‘ اہل کوفہ اہل بصرہ کی بھی یہی رائے ہے ۔ فقہائے سبعہ کی رائے بھی یہی ہے ۔ ائمہ اربعہ کی رائے بھی یہی ہے ۔ اور متقدمین ومتاخرین سب کا اس پر اتفاق ہے بلکہ بہت سے لوگوں سے منقول ہے کہ اس پر اجماع منعقد ہوگیا ہے ۔ “

(آیت) ” وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ اواخت فلکل واحد منھما السدس فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکاء فی الثلث “۔

ترجمہ : ” اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم طلب ہے کلالہ ہو (بےاولاد ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں) مگر اس کا ایک بھائی یا بہن موجود ہو تو بھائی بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے ۔

یہاں ” اس کا ایک بھائی اور ایک بہن “ سے مراد وہ بھائی اور بہن ہیں جو میت کے ساتھ صرف ماں کی جانب سے رشتہ رکھتے ہوں یعنی اخیافی بہن بھائی ۔ اگر حقیقی بہن بھائی ہوں یا یہ بہن بھائی صرف والد کی جانب سے ہوں تو ان کی وارثت اس سورت کی آخری آیت کے مطابق ہوگی اور اس میں بھائیوں کا حصہ بہن کے مقابلے میں دوگنا ہوگا اور اس آیت کی طرح نہ ہوگا کہ ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا چاہے مرد ہو یا عورت تو یہ حکم گویا اخیافی بہن بھائیوں کیلئے ہوگا ۔ اس لئے کہ اخیافی بہن بھائی صرف بحیثیت ذوالفروض (Sharer) یعنی ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ میراث پاتے ہیں ‘ بطور عصبہ ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ ذوالعصبات وہ ہوتے ہیں جو تمام ترکہ یا وہ جو ذوالفروض (Sharer) سے بچ جائے کو بطور (Rosiduc) پاتے ہیں ۔

(آیت) ” وان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث

ترجمہ : ” اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ میں سے ایک تہائی میں شریک ہوں گے ۔ “

چاہے ان کی …

13

تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے

یہ نظام میراث اور یہ قانونی شریعت جو تقسیم میراث کیلئے وضع کی گئی ہے اور جسے اللہ نے اپنے علم و حکمت کے مطابق وضع فرمایا ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک خاندان کے اندر خاندانی نظام کو منظم کیا جائے اور معاشرے کے اجتماعی اور اقتصادی تعلقات مستحکم ہوجائیں ۔ ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ “ اور یہ حدیں اس لئے قائم کی گئی ہیں کہ وہ ان عائلی واقتصادی تعلقات میں سنگ میل ہوں اور ترکہ کی تقسیم میں فیصلہ کن ہوں ۔

جو لوگ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت کریں گے وہ ہمیشہ جنگ میں رہیں گے اور یہ ان کی عظیم کامیابی ہے ۔ اور جو لوگ ان حدوں کو توڑیں گے اور اس معاملے میں اللہ اور رسول اللہ کی نافرمانی کریں گے جہنم میں داخل ہوں گے ‘ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور یہ ان کیلئے دردناک اور توہین آمیز عذاب ہوگا ۔

یہ کیوں ہوگا ؟ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت یا اللہ کی معصیت کے نتیجے میں اس قدر عظیم نتائج کیوں مرتب ہوں گے ‘ حالانکہ قانون میراث نظام شریعت کا بہرحال ایک چھوٹا سا حصہ ہی تو ہے ۔ صرف ایک حصہ اور ایک حصے میں اس قدر شدید سزا ؟

بظاہر یہ خوفناک سزا اس جرم سے بہت زیادہ نظر آتی ہے ۔ لیکن یہ اس شخص کو زیادہ نظر آتی ہے جو اس بات کی حقیقت اور گہرائی تک نہیں پہنچ سکا ہے ۔

اس حقیقت کے اظہار کیلئے اس سورت کی بہت سی آیات مسلسل گویا ہیں اور ان کی تشریح و تفسیر آگے آرہی اور اس امر کی جانب ہم نے اس سورت کا تعارف پیش کرتے ہوئے اشارہ کیا تھا ۔ یہ وہ آیات ہیں جن میں لفظ دین کا مفہوم سمجھایا گیا ۔ ایمان کی شرائط بیان ہوئی ہیں اور جن میں اسلام کی تعریف کی گئی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود مناسب ہے کہ ہم اس امر کے بارے میں مختصرا یہاں بھی ایک نوٹ دیدیں جس قدر ان دو آیات کی تشریح و تفہیم کیلئے ضروری ہے جو آیات میراث کا اختتامیہ اور تبصرہ ہیں ۔

اس دین ‘ دین اسلام بلکہ ان تمام ادیان جو اس پوری تاریخ انسانیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ بھیجے ہیں یعنی تمام سماوی ادیان الہیہ کا بنیادی سوال یہی رہا ہے کہ اس کرہ ارض پر حاکمیت کا حق کس کو حاصل ہے ؟ ان لوگوں کا رب کون ہے ؟ ان دو سوالوں کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے اور اس دین کے تمام معاملات ان جوابات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں اور لوگوں کے تمام امور انہیں جوابات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں ۔

اب اس سوال کا کیا جواب ہے ۔ اس کرہ ارض پر حاکمیت اور ربوبیت کا حق کس کو حاصل ہے ؟ صرف اللہ وعدہ کو ‘ اس حق میں اس کے ساتھ ‘ اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہے ۔ یہی عین ایمان ہے ، یہی عین اسلام ہے ۔ اور یہی دین اسلام ہے ۔ اور اگر حاکمیت اور ربوبیت کا یہ حق کسی مخلوق کو دیا جائے اور انہیں اللہ کی ساتھ شریک کیا جائے یا اللہ کے سوا مستقلا میں یہ حق دیا تو یہ صریح شرک اور واضح کفر ہے ۔

حاکمیت اور ربوبیت یا تو صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ہوگی ‘ تو اس صورت میں لوگ صرف اللہ وحدہ کے دین میں داخل ہوں گے اور صرف اللہ وحدہ کی اطاعت میں داخل ہوں گے اور اس کی عملی صورت یہی ہوگی کہ لوگ اسلامی نظام زندگی پر عمل پیرا ہوں ۔ کیونکہ اس صورت میں یہ حق صرف اللہ ہی کو حاصل ہوگا کہ وہ لوگوں کیلئے نظام زندگی تجویز کریں اور یہ صرف اللہ وحدہ ہی ہوگا جو لوگوں کیلئے طور طریقے اور قوانین اور ضابطے وضع کریں ، پھر یہ صرف اللہ ہی ہوگا جو لوگوں کیلئے حسن وقبح کے معیار متعین کرے گا اور ان کی زندگی کے تفصیلی طور طریقے اور تنظیم کرے گا ۔ اور اللہ کے سوا کوئی فرد ہو یا کوئی سوسائٹی ہو اس کیلئے ایسے کچھ حقوق بھی نہ ہوں گے اور ان کیلئے صرف یہی چارہ کار ہوگا کہ وہ شریعت الہیہ کی اطاعت کریں کیونکہ یہ اطاعت اللہ کی الوہیت حاکمیت اور ربوبیت کا منطقی تقاضا ہے اور اس تقاضے کا واحد مظہر اور خاص رنگ نظام شریعت ہے ۔

اور اگر یہ صورت حال نہیں ہے تو پھر دوسری صورت یہی ہے کہ حاکمیت اور ربوبیت …

14

وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدْخِلْهُ نَارًا خَٰلِدًۭا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ

اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا اس کو خدا دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا

یہ نظام میراث اور یہ قانونی شریعت جو تقسیم میراث کیلئے وضع کی گئی ہے اور جسے اللہ نے اپنے علم و حکمت کے مطابق وضع فرمایا ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک خاندان کے اندر خاندانی نظام کو منظم کیا جائے اور معاشرے کے اجتماعی اور اقتصادی تعلقات مستحکم ہوجائیں ۔ ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ “ اور یہ حدیں اس لئے قائم کی گئی ہیں کہ وہ ان عائلی واقتصادی تعلقات میں سنگ میل ہوں اور ترکہ کی تقسیم میں فیصلہ کن ہوں ۔

جو لوگ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت کریں گے وہ ہمیشہ جنگ میں رہیں گے اور یہ ان کی عظیم کامیابی ہے ۔ اور جو لوگ ان حدوں کو توڑیں گے اور اس معاملے میں اللہ اور رسول اللہ کی نافرمانی کریں گے جہنم میں داخل ہوں گے ‘ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور یہ ان کیلئے دردناک اور توہین آمیز عذاب ہوگا ۔

یہ کیوں ہوگا ؟ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت یا اللہ کی معصیت کے نتیجے میں اس قدر عظیم نتائج کیوں مرتب ہوں گے ‘ حالانکہ قانون میراث نظام شریعت کا بہرحال ایک چھوٹا سا حصہ ہی تو ہے ۔ صرف ایک حصہ اور ایک حصے میں اس قدر شدید سزا ؟

بظاہر یہ خوفناک سزا اس جرم سے بہت زیادہ نظر آتی ہے ۔ لیکن یہ اس شخص کو زیادہ نظر آتی ہے جو اس بات کی حقیقت اور گہرائی تک نہیں پہنچ سکا ہے ۔

اس حقیقت کے اظہار کیلئے اس سورت کی بہت سی آیات مسلسل گویا ہیں اور ان کی تشریح و تفسیر آگے آرہی اور اس امر کی جانب ہم نے اس سورت کا تعارف پیش کرتے ہوئے اشارہ کیا تھا ۔ یہ وہ آیات ہیں جن میں لفظ دین کا مفہوم سمجھایا گیا ۔ ایمان کی شرائط بیان ہوئی ہیں اور جن میں اسلام کی تعریف کی گئی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود مناسب ہے کہ ہم اس امر کے بارے میں مختصرا یہاں بھی ایک نوٹ دیدیں جس قدر ان دو آیات کی تشریح و تفہیم کیلئے ضروری ہے جو آیات میراث کا اختتامیہ اور تبصرہ ہیں ۔

اس دین ‘ دین اسلام بلکہ ان تمام ادیان جو اس پوری تاریخ انسانیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ بھیجے ہیں یعنی تمام سماوی ادیان الہیہ کا بنیادی سوال یہی رہا ہے کہ اس کرہ ارض پر حاکمیت کا حق کس کو حاصل ہے ؟ ان لوگوں کا رب کون ہے ؟ ان دو سوالوں کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے اور اس دین کے تمام معاملات ان جوابات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں اور لوگوں کے تمام امور انہیں جوابات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں ۔

اب اس سوال کا کیا جواب ہے ۔ اس کرہ ارض پر حاکمیت اور ربوبیت کا حق کس کو حاصل ہے ؟ صرف اللہ وعدہ کو ‘ اس حق میں اس کے ساتھ ‘ اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہے ۔ یہی عین ایمان ہے ، یہی عین اسلام ہے ۔ اور یہی دین اسلام ہے ۔ اور اگر حاکمیت اور ربوبیت کا یہ حق کسی مخلوق کو دیا جائے اور انہیں اللہ کی ساتھ شریک کیا جائے یا اللہ کے سوا مستقلا میں یہ حق دیا تو یہ صریح شرک اور واضح کفر ہے ۔

حاکمیت اور ربوبیت یا تو صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ہوگی ‘ تو اس صورت میں لوگ صرف اللہ وحدہ کے دین میں داخل ہوں گے اور صرف اللہ وحدہ کی اطاعت میں داخل ہوں گے اور اس کی عملی صورت یہی ہوگی کہ لوگ اسلامی نظام زندگی پر عمل پیرا ہوں ۔ کیونکہ اس صورت میں یہ حق صرف اللہ ہی کو حاصل ہوگا کہ وہ لوگوں کیلئے نظام زندگی تجویز کریں اور یہ صرف اللہ وحدہ ہی ہوگا جو لوگوں کیلئے طور طریقے اور قوانین اور ضابطے وضع کریں ، پھر یہ صرف اللہ ہی ہوگا جو لوگوں کیلئے حسن وقبح کے معیار متعین کرے گا اور ان کی زندگی کے تفصیلی طور طریقے اور تنظیم کرے گا ۔ اور اللہ کے سوا کوئی فرد ہو یا کوئی سوسائٹی ہو اس کیلئے ایسے کچھ حقوق بھی نہ ہوں گے اور ان کیلئے صرف یہی چارہ کار ہوگا کہ وہ شریعت الہیہ کی اطاعت کریں کیونکہ یہ اطاعت اللہ کی الوہیت حاکمیت اور ربوبیت کا منطقی تقاضا ہے اور اس تقاضے کا واحد مظہر اور خاص رنگ نظام شریعت ہے ۔

اور اگر یہ صورت حال نہیں ہے تو پھر دوسری صورت یہی ہے کہ حاکمیت اور ربوبیت …

15

وَٱلَّٰتِى يَأْتِينَ ٱلْفَٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمْ فَٱسْتَشْهِدُوا۟ عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةًۭ مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَأَمْسِكُوهُنَّ فِى ٱلْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّىٰهُنَّ ٱلْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ ٱللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًۭا

مسلمانو تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا خدا ان کے لئے کوئی اور سبیل (پیدا) کرے

سبق 13 تشریح آیات :

آیت نمبر 51 تا 32 :

فحاشی کو روکنے کی خاطر اور اس کی پاکیزگی اور تنظیم کی خاطر بھی اسلام نے اپنا مخصوص انداز اختیار کیا ۔ سب سے پہلے اس نے فاحشہ عورتوں کو نظر بند کرنے اور انہیں معاشرہ سے دور رکھنے کے اقدامات کئے بشرطیکہ ان پر یہ جرم ثابت ہوجائے ۔ اس کے بعد اس نے غیر فطری فعل کا ارتکاب کرنے والے مردوں یعنی لوطیوں کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں ایذا دی جائے لیکن اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی ۔ اور اس کے بعد ان لوگوں کے لئے ایک ہی سزا فرمائی یعنی سزائے حد کی سزا جس کا ذکر سورة نور میں ہوا ۔ یعنی سوکوڑے سزا اور اس کے علاوہ وہ سزائے رجم مقرر کی جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے ۔ ان سب اقدامات کا مقصد وحدی صرف یہ تھا کہ معاشرے کو بدکاری سے پاک کیا جائے اور معاشرے کی پاکی ‘ شرافت اور عفت مالی کی حفاظت کی جائے ۔

لیکن سزا دہی کے تمام حالات میں ‘ شریعت نے ملزموں کے لئے تحفظ کا پورا پورا انتظام کیا ہے ۔ ایسا انتظام کہ جس کے ہوتے ہوئے کسی غلطی ‘ کسی ظلم اور محض ظن و گمان کی اساس پر سزا دہی ممکن ہی نہیں رہتی ۔ خصوصا ان خطرناک جرائم میں جن کے اثرات لوگوں کی رواں دواں زندگی پر پڑے ہیں ۔

(آیت) ”۔ والتی یاتین الفاحشة من نسآئکم فاستشھدوا علیھن اربعة منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت اویجعل اللہ لھن سبیلا ۔ (51)

ترجمہ : ” تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو ‘ اور اگر چار آدمی گواہی دیدیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کیلئے کوئی راستہ نکال دے ۔ “

آیت میں نہایت ہی محتاط انداز میں قانون سازی کی گئی ہے ۔ جن عورتوں پر یہ جرم عائد کیا گیا ہے ‘ کی تحدید کردی گئی ہے ۔ (آیت) ” من نسآئکم “ یعنی مسلم عورتیں ۔ اسی طرح ان کے خلاف جو شہادت قائم ہوگی اس کی بھی تحدید کردی گئی ہے ۔ (آیت) ” منکم “ یعنی گواہ بھی مسلمان ہوں ۔

چناچہ جن ملزموں کو سزا دی جائے گی وہ صرف وہ ہوں گے جن کا جرم ثابت ہوجائے اور جن لوگوں کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا ‘ ان کا مسلمان ہونا ضروری ہے ۔ اگر مسلمان عورتوں میں سے کوئی فحاشی کا ارتکاب کرے تو ان کے خلاف غیر مسلمانوں کی شہادت قبول نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ گواہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ تعداد میں بھی چار ہوں ۔ یعنی مسلم معاشرے سے ہوں ‘ اس معاشرے میں بس رہے ہوں ‘ وہ شریعت اسلامی کے تابع ہوں ۔ وہ اسلامی قیادت کے مطیع ہوں ۔ ان کے دلوں میں اسلامی شریعت کا احساس ہو ۔ اور وہ اس معاشرے کے حقوق وذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہوں ۔ اس لئے اس معاملے میں غیر مسلمانوں کی شہادت قبول نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک غیر مسلم ایک مسلمان عورت کو محض مقدمہ میں پھنسانے کے لئے شہادت دے دے ۔ نیز ایک غیر مسلم کی امانت ‘ دیانت خدا خوفی اور مصلحت وغیرہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے کہ ایک غیر مسلم کو اسلامی معاشرے کی پاکیزگی سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ نہ اسے یہ دلچسپی ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے میں نظام عدالت کا میاب ہو ۔ شہادت کے سلسلے میں یہ حدود وقیود بہر حال اس وقت بھی باقی رہیں جب سزا میں تبدیلی ہوگی یعنی بعد میں جب سزا کوڑوں اور رجم میں بدل گئی ۔

(آیت) ” فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت “۔ اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو “۔ وہ معاشرہ میں اختلاط نہ رکھیں ‘ اسے مزید گندہ نہ کریں ‘ اس میں نکاح نہ کریں اور نہ کوئی اور سرگرمی دکھائیں ۔ (آیت) ” حتی یتوفاھن الموت “۔ یہاں تک کہ انہیں موت آجائے ۔ “ وہ اسی طرح قید میں مرجائیں ۔ گھروں میں بند ہوں ۔ (آیت) ” اویجعل اللہ لھن سبیلا “۔ یا اللہ ان کے لئے کوئی راستہ نکال دے “۔ یعنی ان کی حالت میں تبدیلی کر دے یا سزا میں تبدیلی کردے ۔ یا ان کے معاملات میں کوئی اور تبدیلی لے آئے ۔ ان الفاظ سے اچھی طرح واضح …

16

وَٱلَّذَانِ يَأْتِيَٰنِهَا مِنكُمْ فَـَٔاذُوهُمَا ۖ فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابًۭا رَّحِيمًا

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے

سبق 13 تشریح آیات :

آیت نمبر 51 تا 32 :

فحاشی کو روکنے کی خاطر اور اس کی پاکیزگی اور تنظیم کی خاطر بھی اسلام نے اپنا مخصوص انداز اختیار کیا ۔ سب سے پہلے اس نے فاحشہ عورتوں کو نظر بند کرنے اور انہیں معاشرہ سے دور رکھنے کے اقدامات کئے بشرطیکہ ان پر یہ جرم ثابت ہوجائے ۔ اس کے بعد اس نے غیر فطری فعل کا ارتکاب کرنے والے مردوں یعنی لوطیوں کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں ایذا دی جائے لیکن اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی ۔ اور اس کے بعد ان لوگوں کے لئے ایک ہی سزا فرمائی یعنی سزائے حد کی سزا جس کا ذکر سورة نور میں ہوا ۔ یعنی سوکوڑے سزا اور اس کے علاوہ وہ سزائے رجم مقرر کی جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے ۔ ان سب اقدامات کا مقصد وحدی صرف یہ تھا کہ معاشرے کو بدکاری سے پاک کیا جائے اور معاشرے کی پاکی ‘ شرافت اور عفت مالی کی حفاظت کی جائے ۔

لیکن سزا دہی کے تمام حالات میں ‘ شریعت نے ملزموں کے لئے تحفظ کا پورا پورا انتظام کیا ہے ۔ ایسا انتظام کہ جس کے ہوتے ہوئے کسی غلطی ‘ کسی ظلم اور محض ظن و گمان کی اساس پر سزا دہی ممکن ہی نہیں رہتی ۔ خصوصا ان خطرناک جرائم میں جن کے اثرات لوگوں کی رواں دواں زندگی پر پڑے ہیں ۔

(آیت) ”۔ والتی یاتین الفاحشة من نسآئکم فاستشھدوا علیھن اربعة منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت اویجعل اللہ لھن سبیلا ۔ (51)

ترجمہ : ” تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو ‘ اور اگر چار آدمی گواہی دیدیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کیلئے کوئی راستہ نکال دے ۔ “

آیت میں نہایت ہی محتاط انداز میں قانون سازی کی گئی ہے ۔ جن عورتوں پر یہ جرم عائد کیا گیا ہے ‘ کی تحدید کردی گئی ہے ۔ (آیت) ” من نسآئکم “ یعنی مسلم عورتیں ۔ اسی طرح ان کے خلاف جو شہادت قائم ہوگی اس کی بھی تحدید کردی گئی ہے ۔ (آیت) ” منکم “ یعنی گواہ بھی مسلمان ہوں ۔

چناچہ جن ملزموں کو سزا دی جائے گی وہ صرف وہ ہوں گے جن کا جرم ثابت ہوجائے اور جن لوگوں کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا ‘ ان کا مسلمان ہونا ضروری ہے ۔ اگر مسلمان عورتوں میں سے کوئی فحاشی کا ارتکاب کرے تو ان کے خلاف غیر مسلمانوں کی شہادت قبول نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ گواہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ تعداد میں بھی چار ہوں ۔ یعنی مسلم معاشرے سے ہوں ‘ اس معاشرے میں بس رہے ہوں ‘ وہ شریعت اسلامی کے تابع ہوں ۔ وہ اسلامی قیادت کے مطیع ہوں ۔ ان کے دلوں میں اسلامی شریعت کا احساس ہو ۔ اور وہ اس معاشرے کے حقوق وذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہوں ۔ اس لئے اس معاملے میں غیر مسلمانوں کی شہادت قبول نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک غیر مسلم ایک مسلمان عورت کو محض مقدمہ میں پھنسانے کے لئے شہادت دے دے ۔ نیز ایک غیر مسلم کی امانت ‘ دیانت خدا خوفی اور مصلحت وغیرہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے کہ ایک غیر مسلم کو اسلامی معاشرے کی پاکیزگی سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ نہ اسے یہ دلچسپی ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے میں نظام عدالت کا میاب ہو ۔ شہادت کے سلسلے میں یہ حدود وقیود بہر حال اس وقت بھی باقی رہیں جب سزا میں تبدیلی ہوگی یعنی بعد میں جب سزا کوڑوں اور رجم میں بدل گئی ۔

(آیت) ” فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت “۔ اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو “۔ وہ معاشرہ میں اختلاط نہ رکھیں ‘ اسے مزید گندہ نہ کریں ‘ اس میں نکاح نہ کریں اور نہ کوئی اور سرگرمی دکھائیں ۔ (آیت) ” حتی یتوفاھن الموت “۔ یہاں تک کہ انہیں موت آجائے ۔ “ وہ اسی طرح قید میں مرجائیں ۔ گھروں میں بند ہوں ۔ (آیت) ” اویجعل اللہ لھن سبیلا “۔ یا اللہ ان کے لئے کوئی راستہ نکال دے “۔ یعنی ان کی حالت میں تبدیلی کر دے یا سزا میں تبدیلی کردے ۔ یا ان کے معاملات میں کوئی اور تبدیلی لے آئے ۔ ان الفاظ سے اچھی طرح واضح …

17

إِنَّمَا ٱلتَّوْبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍۢ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھے ہیں۔ پھر جلد توبہ قبول کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

(آیت) ” انما التوبة علی اللہ للذین یعملون السوٓء بجھالة ثم یتوبون من قریب فاولئک یتوب اللہ علیھم ، وکان اللہ علیما حکیما ، (71) ولیست التوبة للذین یعملون السیات ، حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الئن ولا الذین یموتون وھم کفار ، اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما (81)

اسی بارے میں ہم فی ضلال القرآن میں سورة آل عمران کی تشریح کرتے ہوئے توبہ پر بات کر آئے ہیں وہاں آیت ”۔ والذین اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم “ ” وہ لوگ جو کوئی فحش فعل کرلیتے ہیں یا اپنے نفسوں کے اوپر ظلم کر گزرتے ہیں ‘ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور فورا اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں “ ۔

وہ پوری بحث اس آیت کی تفسیر میں بھی نقل کی جاسکتی ہے ۔ لیکن یہاں توبہ کے لئے جو انداز کلام اختیار کیا گیا ہے ‘ اس سے پیش نظر کوئی اور مقصد ہے ۔ یہاں زیادہ زور اس پر ہے کہ توبہ کی حقیقت کیا ہے ؟

وہ توبہ جسے اللہ قبول کرتا ہے اور جس کی قبولیت اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کردی ہے ۔ (از راہ کرم) وہ توبہ وہ ہے جو نفس کی گہرائیوں سے اٹھے جس سے معلوم ہو کہ اس نفس انسانی نے ایک نیا جنم لیا ہے ‘ ندامت نے اسے گہرائیوں تک جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور اسے اس قدر ہلایا ہے کہ وہ اپنی سمت بدل گیا ہے ‘ وہ اللہ کی طرف مڑ گیا ہے توبہ اس معنی میں پوری عمر کے لئے رجوع ہے ‘ ایک نئی امید کی کرن ہے ۔ اس میں پاکیزگی اختیار کرنے کا عزم جدید ہوتا ہے ۔ اور ایک حقیقی نیت پائی جاتی ہے کہ توبہ کرنے والا جدید راہوں پر صدق دل سے چلے گا۔

(آیت) ” انما التوبة علی اللہ للذین یعملون السوٓء بجھالة ثم یتوبون من قریب فاولئک یتوب اللہ علیھم ، وکان اللہ علیما حکیما ، (71)

ترجمہ : ” ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق انہی لوگوں کے لئے ہے جو نادانی کی وجہ سے برا فعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظرعنایت سے پھر متوجہ ہوتا ہے ۔ اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے ۔

وہ لوگ نادانی کی وجہ سے کوئی برا فعل کرتے ہیں گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اس بات پر تقریبا اجماع نظر آتا ہے کہ جہالت سے مراد یہاں نظریاتی گمراہی ہے ‘ چاہے طویل ہو یا قصیر عرصے کے لئے ہو ۔ بشرطیکہ مرتکب گناہ اس پر اصرار نہ کر رہا ہو اور یہ کہ حالت نزع نہ شروع ہوگئی ہو اور وہ لوگ جو جلدی توبہ کرلیتے ہیں وہ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو موت نظر یا سکرات الموت کے آغاز سے پہلے لوٹ آئیں ۔ ابھی انہیں موت کی دہلیز نظر نہ آئی ہو ۔ تو یہ توبہ ‘ توبہ ندامت تصور ہوگی ۔ گناہ سے نکل آنا عمل صالح کا عزم کرلینا اور گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا عزم کرلینا ہی حقیقی توبہ ہے اور اس سے نفس انسانی گویا ایک نیا جنم لیتا ہے ۔ اور ضمیر از سر نو جاگ اٹھتا ہے ۔ (آیت) ” فاولئک یتوب اللہ علیھم ” ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظر عنایت سے پھر متوجہ ہوتا ہے ۔ “ اور اللہ ساری باتوں کا خبر رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے ۔ (آیت) ” وکان اللہ علیما حکیما “۔ وہ تمام اقدامات علم و حکمت کی بنیاد پر کرتا ہے اور اپنے ضعیف بندوں کو لوٹ آنے کا موقعہ فراہم کرتا ہے کہ وہ از سر نو پاک صفوں میں آکر کھڑے ہوجائیں اور وہ اس طرح نہیں کرتا کہ گناہ گاروں کو دھتکار دے حالانکہ وہ حقیقتا باز آنے کی نیت رکھتے ہوں ۔ وہ اس کے در رحمت اور بارگاہ امن میں واپس آنا چاہتے ہیں ۔

اللہ رحیم وکریم ہیں ‘ وہ اپنے ضعیف بندوں کو دھتکارتے نہیں ۔ اور نہ ہی ان کا پیچھا کرتے ہیں ۔ اگر وہ باز آنا چاہیں ۔ وہ تو بےنیاز ہے ۔ اگر وہ باز آتے ہیں تو اسے کیا فائدہ ہے ‘ یہ تو خود ان کا فائدہ ہے ‘ یہ تو خود ان کا فائدہ ہے ۔ خود ان کی زندگی ‘ اس سے سلجھتی ہے ‘ وہ معاشرہ اصلاح پذیر ہوتا ہے ‘ جس میں خود وہ رہتے ہیں یہی تو سبب ہے کہ وہ ان کو ان کی واپسی ‘ توبہ اور پاکیزہ رویہ …

18

وَلَيْسَتِ ٱلتَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ حَتَّىٰٓ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ ٱلْمَوْتُ قَالَ إِنِّى تُبْتُ ٱلْـَٰٔنَ وَلَا ٱلَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی موت آموجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے

(آیت) ” ولیست التوبة للذین یعملون السیات ، حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الئن ” مگر توبہ ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو برے کام کئے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ میں نے توبہ کی ۔ “ اس لئے کہ یہ توبہ گویا اب مضطر کی توبہ ہے جو گمراہی میں ڈوب گیا ہے ۔ اور خطا کاری میں وہ گھرا ہوا ہے ۔ یہ اس شخص کی توبہ ہے جس کے لئے اب ارتکاب گناہ کا کوئی موقعہ ہی نہیں رہا ہے۔ نہ اب وہ کسی غلط کاری میں پڑ سکتا ہے ۔ اور اس حالت میں اللہ تعالیٰ کو یہ توبہ قبول نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس سے قلبی اصلاح اور زندگی کی عملی اصلاح کا اظہار نہیں ہوتا ۔ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس شخص کے دل میں کوئی تبدیلی آگئی ہے یا اس کے نقطہ نظر اور سمت میں کوئی بہتر تبدیلی ہوگئی ہے ۔

توبہ اس لئے قبول کی جاتی ہے کہ یہ ایک دروازہ ہے جو ان لوگوں کے لئے کھلا رکھا گیا ہے جو اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں تاکہ وہ واپس آکر اسلام کے حظیرہ امن و سکون میں داخل ہوجائیں ‘ وہ واپس آجائیں ‘ گمراہیوں کی تاریکی ‘ دبیز تاریکی سے واپس آجائیں ۔ انسانیت انہیں شیطان کے جھنڈوں کے زیر سایہ کام کرنے والے گروہ سے نکال کر واپس لے آئے اور وہ صالح زندگی کا آغاز کریں ۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس واپسی کے بعد انہیں موقعہ ملتا ہے یا نہیں ۔ کم از کم یہ موقعہ تو ہو کہ وہ یہ اعلان کرسکیں کہ ہدایت نے گمراہی پر فتح پا لی ہے ۔ اگرچہ اس اعلان کے بعد انہیں مزید فرصت نہ ملے اور ان کی زندگی کا اختتام ہوجائے ۔ اس لئے کہ موت کا علم کسی کو بھی نہیں ہے ۔ کہ وہ کب پہنچ آئے ۔

(آیت) ” ولا الذین یموتون وھم کفار۔ “ ” اور اسی طرح توبہ ان لوگوں کے لئے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کافر رہیں ۔ “ کیونکہ ان لوگوں نے اس تعلق ہی کو ختم کردیا جو ان کے اور توبہ کے درمیان تھا ۔ انہوں نے اس مہلت کو ضائع کردیا جو انہیں توبہ اور حصول مغفرت کے لئے دی گئی تھی ۔

(آیت) ” اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما (81) ” ایسے لوگوں کے لئے تو ہم نے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے ۔ “ یہ تیار ہے پوری طرح مہیا کردی گئی ہے ‘ حاضر ہے ‘ موجود ہے ‘ ان کے انتظار میں ہے ۔ تیاری کی ضرورت نہ ہوگی ۔

غرض یہ درست ہے کہ اسلامی نظام نے فحاشی کے لئے سخت ترین سزا تجویز کی ہے لیکن اس نے توبہ کا دراوزہ بھی پوری طرح کھلا چھوڑا ہوا ہے چناچہ اسی طرح سزا کی سختی کے اندر ایک طرح کا توازن پیدا ہوجاتا ہے اور انسانی زندگی میں اس کی وجہ سے ایسے نتائج اور آثار پیدا ہوئے ہیں جو اس کرہ ارض پر کسی بھی قدیم وجدید نظام کی وجہ سے نہیں پیدا ہوئے ۔

اس سبق کا دوسرا موضوع عورت ہے ‘ عورت کی ذات ۔ عربی جاہلیت میں بھی تمام دوسری ان جاہلیتوں کی طرح جو عرب کے ارد گرد پھیلی ہوئی تھیں ‘ عورت کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کیا جاتا تھا ۔ اسے بنیادی انسانی حقوق حاصل نہ تھے ۔ مرد کے مقابلے میں اس کی حیثیت بہت ہی نیچے تھی ، وہ ایک انسان کے بجائے ایک سامان سمجھی جاتی تھی ، اور اس کی یہ حیثیت اس وقت ہے جب مرد اس سے سکون بھی حاصل کرتا ‘ اس سے حیوانی لذت بھی حاصل کرتا ‘ اسے نفس کے لئے فتنہ بھی قرار دیتا اور اسے نیکی اور بھلائی کے اوصاف کے لئے شیطانی فتنہ قرار دیا جاتا ۔ بس شہوت رانی اور ننگی غزلوں کا وہ موضوع ہوتی ایسے حالات میں جب اسلامی نظام زندگی آیا تو اس نے عورت سے ان تمام مظالم کو رفع کردیا ۔ اور اسے خاندان کے اندر ایک حقیقی مقام اور حیثیت دی گئی اور انسانی سوسائٹی میں اسے اپنے اصلی منصب پر فائز کیا گیا ۔ وہ حیثیت جو اس منصب اور مقام کے عین مطابق تھی جس کا ذکر اس سورت کے آغاز میں کیا گیا تھا ” جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد اور عورت دنیا میں پھیلائے “۔ اس کے بعد عائلی زندگی کے اندر انسانی جذبات اور انسانی …

19

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا۟ ٱلنِّسَآءَ كَرْهًۭا ۖ وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا۟ بِبَعْضِ مَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّآ أَن يَأْتِينَ بِفَٰحِشَةٍۢ مُّبَيِّنَةٍۢ ۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْـًۭٔا وَيَجْعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيْرًۭا كَثِيرًۭا

مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا ولا تعضلوھن لتذھبواببعض ما اتیتموھن الا ان یاتین بفاحشة مبینة وعاشروھن بالمعروف ، فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔ (91) وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا ، اتاخذونہ بھتانا واثما مبینا (02) وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا (12) ولا تنکحوا مانکح ابآوکم من النسآء الا ما قد سلف ، انہ کان فاحشة ومقتا وسآء سبیلا “۔ (22)

اس سے پہلے کہ اسلام عربوں کو قعر مذلت سے نکال کر عزت و شرافت کی بلند سطح تک پہنچاتا ‘ عربوں کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی فوت ہوجاتا تو اس کے ورثاء اس کی بیوی کے بھی حقدار بن جاتے اور وہ بھی انہیں اسی طرح میراث میں ملتی جس طرح دوسرے مویشی اسے بطور ترکہ ملتے تھے ۔ اب اگر وارث چاہتا تو عورت کے ساتھ بھی نکاح کرلیتا ۔ اور اگر چاہتا تو اسے کسی دوسرے شخص کے نکاح میں دے کر اس کا مہر حاصل کرلیتا ۔ جس طرح مویشی فروخت ہوتے تھے گویا یہ عورت بھی فروخت ہوجاتی ، اور اگر یہ وارث چاہتے تو اسے گھر میں عضو معطل کی طرح رکھ چھوڑتے ۔ نکاح بھی نہ کرتے یونہی رہتی ، یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا معاوضہ دے کر جان چھڑاتی ۔

بعض جگہ یہ رواج تھا کہ جب خاوند فوت ہوتا تو اس کا ولی دوڑ کر آتا اور اس عورت پر کپڑا ڈال دیتا ۔ اس طرح وہ اسے گویا تمام لوگوں سے روک لیتا اور اس طرح سے اس پر قابض ہوجاتا جس طرح کوئی مال غنیمت پر قابض ہوجاتا ہے ۔ اگر وہ خوبصورت ہوتی تو نکاح میں لے لیتا اور اگر بدصورت ہوتی تو قید رہتی اور موت کے بعد یہ شخص اس کا وارث قرار پاتا یا وہ مال دے کر اپنی گردن آزاد کرلیتی لیکن اگر خاوند فوت ہونے کے بعد وہ فورا اپنے والدین کے گھر چلی جاتی اور وارث اس پر کپڑا نہ ڈال سکتا تو وہ بچ جاتی اور وہ آزاد سمجھی جاتی ۔

بعض جگہ یہ رواج تھا کہ ایک شخص بیوی کو طلاق دے دینا اور یہ شرط عائد کردیتا کہ وہ صرف اس جگہ نکاح کرے گی جس کی اجازت وہ دے گا ۔ یوں وہ اس کو مال دے کر اپنے آپ کو آزاد کراتی ۔ مہر لوٹاتی اور دوسرے ہدایا واپس کردیتی ۔

اگر کسی کی تحویل میں یتیم لڑکی ہوتی تو وہ اسے بند رکھتا تاکہ اس کا نابالغ بچہ بالغ ہوجائے اور وہ اس کے ساتھ نکاح کرے ۔ اس طرح بعض اوقات بیوہ کو بھی ایک چھوٹے بچے کے لئے بند رکھا جاتا ۔

یہ اور اس قسم کے اور رواج تھے ‘ جو مقام شرافت اور عزت کے بالکل خلاف تھے ۔ وہ شرافت اور عزت جو انسان کو اسلام دیتا ہے ۔ حالانکہ عورت مرد کی شفیقہ ہے ایک ہی نفس سے دونوں کو پیدا کیا گیا ہے ۔ اور اس طرز عمل سے جس طرح عورت مقام عزت و شرافت سے گری ہوئی تھی ‘ اسی طرح مرد کے لئے بھی یہ صورت حال باعث شرم تھی ، یوں نظر آتا تھا کہ مرد اور عورت کا تعلق کوئی تجارتی تعلق ہے یا محض حیوانی تعلق ہے ۔

غرض مرد وزن کے تعلق کو اسلام نے ذلت کے اس گہرے گڑھے سے بلند کرکے انسانیت کے باعزت مقام تک پہنچایا ۔ اسے ایسا مقام دیا جو انسانی شرافت کے لائق تھا ۔ اس لئے کہ اسلام کے تصور انسانیت کے مطابق انسان عالمین کے اندر ذی شرف مخلوق ہے ۔ لہذا یہ اسلام ہی تھا ‘ جس نے اسے یہ مقام عالی دیا ‘ اس قدر مقام عالی جو انسان کو صرف اسلام کے مصدر اور ماخذ سے ملا۔ (1) (اسلام کا تصور خدا ’ تصور کائنات تصور زندگی اور تصور انسان “ یہ کتاب عنقریب شائع ہونے والی ہے ۔

اسلام نے عورت کو بطور سامان وراثت دوسرے سامان کے ساتھ حاصل کرنے کے فعل کو حرام قرار دیا ۔ اسی طرح اسے قید کرکے عضو معطل بنانے کی بھی ممانعت کردی ۔ الا یہ کہ اس سے فحاشی کا جرم سرزد ہوجائے ۔ اور یہ بھی اس وقت تھا جب حد زنا کا حکم نازل نہ ہوا تھا ۔ اور اسلام نے ان حالات میں عورت کو یہ حق دیا کہ وہ جس کے ساتھ چاہے نکاح کرے ۔ چاہے یہ ابتدائی شادی ہو یا دوسری شادی ہو ‘ کنواری ہو یا بیوہ ہو ‘ …

20

وَإِنْ أَرَدتُّمُ ٱسْتِبْدَالَ زَوْجٍۢ مَّكَانَ زَوْجٍۢ وَءَاتَيْتُمْ إِحْدَىٰهُنَّ قِنطَارًۭا فَلَا تَأْخُذُوا۟ مِنْهُ شَيْـًٔا ۚ أَتَأْخُذُونَهُۥ بُهْتَٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا

اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟

(آیت) ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا ، اتاخذونہ بھتانا واثما مبینا (02)

” اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو ‘ اس میں سے کچھ واپس نہ لینا ۔ کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے ؟ “۔

یہاں بھی ایک گہرا انسانی اور وجدانی ٹچ دیا جاتا ہے ۔ عائلی زندگی کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ عجیب انداز تعبیر اور اشارات سے بھر پور رموز ہیں ۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.