وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًۭا
اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا بے پروا اور سزاوار حمدوثنا ہے
(آیت) ” 131 تا 134۔
قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی وصیت کی ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور یہ وصیت اس نشاندہی کے بعد کی ہے کہ زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اس لئے وصیت کا حق بھی اللہ کو ہے اور قانون سازی کا حق اللہ کو ہے لہذا اس سے ڈرو ۔
(آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ “۔ (4 : 131)
(آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب مت کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو)
واقعہ یہ ہے کہ جس کی حقیقی اقدار حاصل ہو لوگ اسی سے ڈرتے ہیں اور خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس سے ” دلوں “ کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے کسی ” نظام “ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کی جزئیات پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی اس ملکیت میں اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتے ان کو اللہ خبردار فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں اس دنیا سے دور کر کے ان کی جگہ دوسری آبادی کو لا کر اپنی ملکیت میں بسا سکتے ہیں ۔
(آیت) ” وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا حمیدا (131) وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا (132) ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا (133) (4 : 131 تا 133)
(لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز ہے ‘ ہر تعریف کا مستحق ۔ اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لئے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ )
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ اگر وہ اللہ سے نہ ڈریں تو ان اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اور وہ سب کفر کا رویہ اختیار کرلیں تو بھی اللہ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ہے اس لئے کہ لوگوں کے کفر کی وجہ سے اللہ کی ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔ (آیت) ” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (4 : 131) (اللہ تو مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ) اور وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور کو لا بسائے ۔ وہ جو ان کو وصیت کرتا ہے تو وہ ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہے ۔ اور ان کے حالات کو درست کرنے کے لئے کرتا ہے ۔
اسلام انسان کو جس طرح اس پوری کائنات کا سرتاج قرار دیتا ہے اور انسان کی کرامت کا اعلان کرتا ہے ‘ اور تمام زمین کی مخلوقات سے اسے برتر قرار دیتا ہے ‘ اسی طرح اگر انسان اللہ کا کفر کرلے تو اللہ انسان کو اس کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ سینہ زوری کرکے اللہ کی صفت حاکمیت میں شریک ہو کر اپنے آپ کو یہاں کا حاکم قرار دیتا ہے ۔ اور وہ بغیر کسی استحقاق کے ایسا کرتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات میں یہ دونوں باتیں برابر ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔
یہ آیات …