(آیت) ” 123 تا 125۔
یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔
چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام لوگوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ سب کے سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر سر تسلیم خم کریں ‘ نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور ملت ابراہیمی کے اصولوں کا اتباع کریں جو عین اسلام ہے ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا ۔
بہترین دین ‘ دین ملت ابراہیمی ہے اور بہترین عمل ‘ عمل احسان ہے ۔ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ اسلام نے ہر معاملے میں احسان کو مد نظر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ذبیحہ کے لئے بھی احسان تجویز کیا ہے کہ آلہ ذبح تیز ہوتا کہ ذبح کے وقت جانور کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔ اس آیت میں انسان کے دو اصناف کے درمیان بھی اعمال اور جزائے اعمال کے بارے میں مکمل مساوات کا اظہار کیا گیا ہے ۔
(آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا (3 : 123) (اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی)
یہ نص صریح ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان اعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار سے کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ اور یہ نص اس بات میں بھی صریح ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور یہ کہ اللہ کے نزدیک کسی ایسے عمل کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے جو ایمان پر مبنی نہ ہو یا جس کے ساتھ ایمان نہ ہو اور یہ بات نہایت ہی منطقی اور فطری ہے ۔ اس لئے کہ صرف ایمان ہی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ عمل کرنے والا کس نظریے اور کس نیت سے یہ عمل کر رہا ہے اور صرف ایمان ہی کسی عمل کو دائمی اور فطری بنا سکتا ہے ورنہ عمل محض ذاتی اور شخصی جوش ہوگا ۔
یہ صریح الفاظ اس رائے کے بالکل خلاف ہیں جس کا اظہار محترم مفتی محمد عبدہ نے تفسیر پارہ عم میں کیا ہے آیت (من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “۔ کے تحت انہوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں ۔ یہ اور تمام دوسری آیات اس کے خلاف ہیں ۔ اس طرح استاد مراغی کی رائے بھی درست نہیں ہے جس پر ہم نے تیسویں پارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزرا تھا ۔ (آیت) ’‘’ (من یعمل سوءا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا) (4 : 123) وہ انسانی مزاج کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ انسان سے برائیوں کا ارتکاب ہوگا چاہے کوئی کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے اور ڈھیر سی نیکیاں کیوں نہ کرے ۔
دور اول کے لوگ نفس انسانی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالتے تھے اور اپنے آپ سے کچھ بھی نہ چھپاتے تھے ۔ وہ اس سے بھی چشم پوشی نہ کرتے تھے کہ بعض اوقات ان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اس لئے وہ اپنی کوتاہیوں کا نہ انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کو چھپاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو سن کر وہ کانپ اٹھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر برے عمل کی انہیں سزا ملے گی وہ اس طرح کانپ گئے جس گویا وہ میدان حشر میں ہیں …