Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 111–120 of 176

111

وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًۭا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(آیت) ” نمبر 110 تا 113۔

یہ تین آیات وہ قواعد کلیہ وضع کرتی ہیں جن کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا ۔ اور لوگ بھی اگر چاہیں تو وہ اس کے مطابق سلوک کرکے اچھا معاشرہ تعمیر کرسکتے ہیں اور انہی قواعد کے مطابق وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کر کے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔

پہلی آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ۔ اگر لوگ توبہ کرلیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کی معافی کا دروازہ کھلا پائیں گے ۔ ہر گناہ گار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے ۔

(آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 110)

(اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا)

اللہ تعالیٰ موجود ہے اور اس کی مغفرت اور رحمت موجود ہے بشرطیکہ کوئی معافی مانگنے والا ہو ‘ کوئی رحمت کا طلب گار ہو جو باز آرہا ہو۔ جو شخص برائی کرتا ہے ‘ کبھی غیر پر ظلم کرتا ہے اور کبھی اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے (نفس پر ظلم اس وقت ہوتا ہے جب اس کی برائی دوسرے تک متعدی نہ ہو ‘ اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہو) بہرحال ظالموں کے لئے معافی کا دروازہ کھلا ہے ۔ اگر وہ استغفار کریں ۔ اگر وہ توبہ کرکے واپس آئیں تو وہ انہیں معاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر رحمت بھی کرتا ہے اس کا دروازہ کھلا ہے ‘ اس پر کوئی دربان نہیں ہے ‘ اور اس کا یہ اعلان ‘ اعلان عام ہے ۔ بےقید اور بےشرط ہے۔ جب بھی وہ توبہ کرکے لوٹ آئیں تو اللہ غفور ورحیم ہے ۔

دوسری آیت میں یہ اصول طے ہوا ہے کہ مسئولیت انفرادی ہے سزا میں اسلامی نظام زندگی کا یہ اساسی اصول ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے اور اس اصول سے ہر شخص کے دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے اور اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے ۔ خوف اس لئے کہ وہ اپنے اعمال اور اپنے کاموں کو درست کرے گا اور اطمینان اس لئے ہوگا کہ دوسرے کے معاملات اور بدکاریوں کا وہ ذمہ دار نہ ہوگا ۔

(آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “۔ (4 : 112) (مگر جو برائی کمائے تو اس کی یہ کمائی اسی کے لئے وبال ہوگی ‘ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم ودانا ہے) اس اصول کے مطابق جرائم میں اصول وراثت نہیں چلتا ۔ جس طرح اہل کنیسہ موروثی جرم کی بات کرتے ہیں ۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ کسی جرم کی سزا کوئی اور بھگتے گا یا کفارہ کوئی اور دے گا ۔ اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اس تصور کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کے بارے میں محتاط ہوگا ۔ اور وہ اس بات سے مطمئن ہوگا کہ دوسروں کے جرائم میں اسے نہ پکڑا جائے گا ۔ یہ ایک عجیب متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن تصور حیات ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے یہ ایک اہم عنصر ہے (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی) اس تصور پر فطرت مطمئن ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا بےقید عدل نافذ ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس اصول جرم وسزا کو دنیا میں اپنائے۔

تیسری آیت اس بارے میں بات کرتی ہے کہ خود جرم کرکے دوسرے انسان پر تھوپنا بہت ہی بڑا جرم ہے اور قصہ زیر بحث میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

(آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “ (4 : 112) (پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا) ۔

بہتان کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاک دامن شخص پر الزام تھوپ دیا جائے اور گناہ وہ ہے جس کا اس نے ارتکاب کرنے کے بعد اسے بری الذمہ شخص کے سرتھوپ دیا۔ گویا اس شخص نے ان دونوں کو اپنے سر پر اٹھالیا ہے ۔ گویا کہ ایک بوجھ ہے جسے یہ شخص اٹھا رہا ہے اور یہ قرآن کریم کا انداز کلام ہے کہ وہ حقائق اور مفاہیم کو …

An-Nisaa 4:111Listen in Qur'an →
112

وَمَن يَكْسِبْ خَطِيٓـَٔةً أَوْ إِثْمًۭا ثُمَّ يَرْمِ بِهِۦ بَرِيٓـًۭٔا فَقَدِ ٱحْتَمَلَ بُهْتَٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا

اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

(آیت) ” نمبر 110 تا 113۔

یہ تین آیات وہ قواعد کلیہ وضع کرتی ہیں جن کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا ۔ اور لوگ بھی اگر چاہیں تو وہ اس کے مطابق سلوک کرکے اچھا معاشرہ تعمیر کرسکتے ہیں اور انہی قواعد کے مطابق وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کر کے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔

پہلی آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ۔ اگر لوگ توبہ کرلیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کی معافی کا دروازہ کھلا پائیں گے ۔ ہر گناہ گار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے ۔

(آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 110)

(اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا)

اللہ تعالیٰ موجود ہے اور اس کی مغفرت اور رحمت موجود ہے بشرطیکہ کوئی معافی مانگنے والا ہو ‘ کوئی رحمت کا طلب گار ہو جو باز آرہا ہو۔ جو شخص برائی کرتا ہے ‘ کبھی غیر پر ظلم کرتا ہے اور کبھی اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے (نفس پر ظلم اس وقت ہوتا ہے جب اس کی برائی دوسرے تک متعدی نہ ہو ‘ اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہو) بہرحال ظالموں کے لئے معافی کا دروازہ کھلا ہے ۔ اگر وہ استغفار کریں ۔ اگر وہ توبہ کرکے واپس آئیں تو وہ انہیں معاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر رحمت بھی کرتا ہے اس کا دروازہ کھلا ہے ‘ اس پر کوئی دربان نہیں ہے ‘ اور اس کا یہ اعلان ‘ اعلان عام ہے ۔ بےقید اور بےشرط ہے۔ جب بھی وہ توبہ کرکے لوٹ آئیں تو اللہ غفور ورحیم ہے ۔

دوسری آیت میں یہ اصول طے ہوا ہے کہ مسئولیت انفرادی ہے سزا میں اسلامی نظام زندگی کا یہ اساسی اصول ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے اور اس اصول سے ہر شخص کے دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے اور اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے ۔ خوف اس لئے کہ وہ اپنے اعمال اور اپنے کاموں کو درست کرے گا اور اطمینان اس لئے ہوگا کہ دوسرے کے معاملات اور بدکاریوں کا وہ ذمہ دار نہ ہوگا ۔

(آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “۔ (4 : 112) (مگر جو برائی کمائے تو اس کی یہ کمائی اسی کے لئے وبال ہوگی ‘ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم ودانا ہے) اس اصول کے مطابق جرائم میں اصول وراثت نہیں چلتا ۔ جس طرح اہل کنیسہ موروثی جرم کی بات کرتے ہیں ۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ کسی جرم کی سزا کوئی اور بھگتے گا یا کفارہ کوئی اور دے گا ۔ اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اس تصور کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کے بارے میں محتاط ہوگا ۔ اور وہ اس بات سے مطمئن ہوگا کہ دوسروں کے جرائم میں اسے نہ پکڑا جائے گا ۔ یہ ایک عجیب متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن تصور حیات ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے یہ ایک اہم عنصر ہے (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی) اس تصور پر فطرت مطمئن ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا بےقید عدل نافذ ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس اصول جرم وسزا کو دنیا میں اپنائے۔

تیسری آیت اس بارے میں بات کرتی ہے کہ خود جرم کرکے دوسرے انسان پر تھوپنا بہت ہی بڑا جرم ہے اور قصہ زیر بحث میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

(آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “ (4 : 112) (پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا) ۔

بہتان کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاک دامن شخص پر الزام تھوپ دیا جائے اور گناہ وہ ہے جس کا اس نے ارتکاب کرنے کے بعد اسے بری الذمہ شخص کے سرتھوپ دیا۔ گویا اس شخص نے ان دونوں کو اپنے سر پر اٹھالیا ہے ۔ گویا کہ ایک بوجھ ہے جسے یہ شخص اٹھا رہا ہے اور یہ قرآن کریم کا انداز کلام ہے کہ وہ حقائق اور مفاہیم کو …

An-Nisaa 4:112Listen in Qur'an →
113

وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُۥ لَهَمَّت طَّآئِفَةٌۭ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ ۖ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَىْءٍۢ ۚ وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًۭا

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے

(آیت) ” نمبر 113۔

یہ کوشش ان مختلف النوع کوششوں میں سے ایک ہے جو رسول اللہ ﷺ کے دشمن اسلام کے خلاف کر رہے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ کو سچائی انصاف اور صراط مستقیم سے بدراہ کردیں لیکن اللہ کا فضل وکرم ہمیشہ آپ کے شامل حال رہتا اور آپ کو اللہ بچا لیتے اور جو لوگ سازشیں کرتے وہ خود سازش کا شکار ہوجاتے اور خود ہی گمراہ ہوتے ۔ اور سیرت الرسول ﷺ میں اس قسم کے بیشمار واقعات موجود ہیں کہ سازشوں نے سازش کی اور اللہ نے ان کی سازش کو ناکام بنا دیا اور ان کی کوششیں ناکام ہوگئیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں حضور کو اطمینان دلاتے ہیں کہ اس کا فضل اور رحمت رسول اللہ کے شامل حال رہے گی اور وہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے ۔

اس مناسبت میں کہ اللہ تعالیٰ نے سازشیں کرنے والوں کی سازش سے آپ کو محفوظ رکھا اور آپ اس سے بچ گئے کہ آپ کے احکام کی وجہ سے ظالم بچ جائے اور بےگناہ کو سزا ہوجائے اللہ تعالیٰ اپنے ایک عظیم فضل کو یاد دلاتے ہیں ۔ وہ یہ کہ اللہ نے آپ کو تاج رسالت پہنایا ۔

(آیت) ” وانزل اللہ علیک الکتب والحکمۃ واعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما “۔ (4 : 113) (اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو کو وہ کچھ بتایا ہے جو تمہیں معلوم نہ تھا ‘ اور اس کا فضل تم پر بہت ہے) یہ احسان دراصل جنس انسان پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری رسالت انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجی ۔ یہ کوئی معمولی احسان نہ تھا بلکہ یہ انسان کے لئے ایک نیا جنم تھا اور اس سے انسانیت کو ایسی زندگی ملی جس طرح کوئی انسان پہلی مرتبہ انسانیت اور روح پاتا ہے ۔ یہ احسان جس کی وجہ سے انسان کو جاہلیت کی پستیوں سے اٹھایا گیا اور اسے اسلامی نظام حیات کے ذریعے دنیا میں برتری اور ترقی دے کر نہایت ہی اونچے مقام تک پہنچایا گیا اسے اللہ تعالیٰ نے فضل عظیم سے تعبیر کیا۔

اسلامی نظام زندگی کے احسان اور بھلائی کا صحیح طرح اندازہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس نے اسلام اور جاہلیت کا تقابلی مطالعہ کیا ہو ۔ ماضی اور حال کو دیکھا ہو اور جس نے اسلام کی طرح جاہلیت کو بھی چکھا ہو۔

اس احسان کا تذکرہ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا اس لئے کہ سب سے پہلے اسلام کو حضور اکرم ﷺ نے پایا سب سے پہلے اس کا مزہ چکھا اور سب سے پہلے آپ ﷺ نے جانا اور آپ سب سے زیادہ اسلام کے جاننے والے اور اسے چکھنے والے تھے ۔ (آیت) ” وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما (4 : 113) (تم کو وہ کچھ بتایا جو تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا فضل تم پر بہت بڑا ہے)

An-Nisaa 4:113Listen in Qur'an →
114

۞ لَّا خَيْرَ فِى كَثِيرٍۢ مِّن نَّجْوَىٰهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَٰحٍۭ بَيْنَ ٱلنَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًۭا

ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

درس نمبر 40 ایک نظر میں :

یہ سبق درس سابق کے ساتھ مربوط ہے اور ان دونوں کے درمیان کئی ربط ہیں ۔ اس میں بعض آیات تو درس سابق کے واقعہ کی باز گشت ہیں ۔ اس واقعہ اور وحی الہی کے بعد بشر ابن ابیرق جو چوری میں ملوث تھا ‘ مرتد ہوگیا تھا اور رسول اللہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگیا تھا ۔ اور اسلام کے بعد دوبارہ جاہلیت میں چلا گیا تھا ۔ چناچہ اس حوالے سے اس سبق میں جاہلیت کی بات کی گئی ہے ۔ جاہلی خیالات ‘ تصورات اور اس نظام میں شیطان کی کارستانیاں وغیرہ ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام اور جاہلیت کے درمیان سرحد شرکیہ عقاید ہیں ۔ اللہ کے نظام میں شرک کی معافی نہیں ہے ۔

اس کے سوا سب کچھ قابل معافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سبق میں راتوں کو خفیہ سازشوں سے بھی منع کیا گیا ہے اور جو کام بھی خفیہ ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر اچھے نہیں ہوتے ۔ مثلا درس سابق میں چوری کے واقعہ میں جو نجوی ہوا ۔ نجوی کی ممانعت کے بعد اس میں بھلائی معروف مشورے اور لوگوں کے درمیان اصلاح وغیرہ کی اسکیموں کو اس سے مستثنی کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہ تو کارثواب ہے ۔ پھر آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں جزا اس کے اپنے اصولوں کے مطابق ہوتی ہے اور اس میں کسی کی ذاتی چاہت کا کوئی دخل نہیں ہوتا ۔ نہ مسلمانوں اور نہ ہی اہل کتاب کی چاہت کا اس میں داخل ہوگا ۔ سب کام اللہ کے بےقید انصاف کے مطابق ہوگی ۔ اور سچائی کے مطابق ہوں گے اور اگر سچائی لوگوں کی چاہتوں کے پیچھے چلے تو زمین و آسمان کا تمام نظام فاسد ہوجائے ۔

غرض یہ سبق اپنے موضوع اور اپنے رخ کے اعتبار سے ۔ سابق کے ساتھ پوری طرح مربوط ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے علاوہ امت مسلمہ کی تربیت کی ایک نئی کڑی ہے جسے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے تیار کرنا پیش نظر تھا ۔ اس طرح کہ وہ تنظیم میں فوقیت رکھتی ہو اور اسکی نظر میں ہو کہ اس کی صفوں میں کہاں کہاں کمزوریاں ہیں اور کہاں کہاں ابھی تک آثار جاہلیت باقی ہیں تاکہ وہ انکی اصلاح کرسکے ۔ یہ وہ مقصد ہے کہ اس پوری سورة میں اس کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ اس سے متعلق کئی موضوع زیر بحث آئے اور پورے قرآن کریم کے مقاصد میں سے بھی یہ ایک اہم موضوع ہے ۔

درس 40 تشریح آیات :

114۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 126

(آیت) ” نمبر 114۔

قرآن کریم میں نجوی کی بار بار ممانعت کی گئی ہے ۔ نجوی یہ ہے کہ کوئی گروہ اسلامی جماعت سے علیحدہ اور اسلامی قیادت سے علیحدہ کوئی بات سوچے اور اس کیلئے جمع ہو ۔ اسلامی تربیت کا طریق کار یہ تھا کہ لوگ اپنی تمام مشکلات اور مسائل کو لے کر اسلامی قیادت کے پاس آتے اور اگر بات ذاتی ہوتی تو وہ تنہائی میں پیش کرتے تاکہ عوام الناس میں بات پھیل نہ جائے اور اگر بات کی نوعیت عمومی ہوتی تو اسے علانیہ پوچھتے یعنی اگر بات کا خصوصا پوچھنے والے سے تعلق نہ ہوتا ۔

اس پالیسی میں حکمت یہ تھی کہ اس کی وجہ سے جماعت مسلمہ کے اندر کوئی بلاک یا گروہ نہ بن سکتے تھے اور نہ ہی یہ ہو سکتا تھا کہ جماعت کے کچھ حصے اپنے تصورات اور اپنی مشکلات کو لے کر الگ ہوجائیں یا وہ اپنے رجحانات اور اپنے افکار کے مطابق اپنی راہ لیں ۔ یہ صورت حال بھی نہ ہو کہ جماعت کے کچھ لوگ رات کو مشورہ کرکے ایک بات کا فیصلہ کرلیں اور دن کے وقت جماعت کے اندر بطور ایک فیصلہ شدہ امر پیش کردیں ۔ اگرچہ حضور ﷺ کے دور میں تو کوئی بات مخفی نہ رہ سکتی تھی ‘ وہ جو کچھ مشورہ کرتے اللہ انکے ساتھ ہوتا اور بوقت ضرورت حضور اکرم ﷺ کو اطلاع دے دیتا ۔

مسجد نبوی جماعت مسلمہ کی پارلیمنٹ تھی ۔ وہاں لوگ باہم ملتے تھے ۔ نماز پڑھتے تھے اور زندگی کے تمام معاملات وہاں ہی طے ہوا کرتے تھے ۔ پھر اسلامی معاشرہ ایک کھلا معاشرہ (Open Society) تھا اس میں وہ تمام معاملات پیش ہوتے تھے جو جماعت کے جنگی اسرار و رموز سے متعلق نہ ہوتے یا ایسے مسائل نہ ہوتے جن کا تعلق لوگوں کی ذات اور خاندانوں سے ہو اور وہ پسند نہ کرتے ہوں …

An-Nisaa 4:114Listen in Qur'an →
115

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِۦ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا

اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے

(آیت) ” 115 تا 116۔

ان آیات کے نزول کے سلسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ بشیر ابن ابیرق مرتد ہوگیا اور جاکر مشرکین مکہ کے ساتھ مل گیا حالانکہ اس پر راست واضح ہوچکی تھی ۔ پہلے وہ اسلامی صفوں میں تھا لیکن اس نے اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ کو اپنا لیا۔ لیکن یہ آیت مضمون اور اطلاق کے اعتبار سے عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر اس حالت پر ہوگا جس میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جارہی ہو ۔ جس میں آپ کی مخالفت میں کفر ‘ شرک اور ارتداد اختیار کیا گیا ہو اور اس طرح کے قدیم وجدید تمام واقعات پر اس کا اطلاق ہوگا ۔

(المشاقہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص ایک ٹکڑا لے اور دوسرا اس کے مقابلے میں دوسرا ٹکڑا لے لے ۔ اور جو شخص رسول اللہ کے ساتھ شقاق کرتا ہے وہ رسول کے بالمقابل جنبہ بالمقابل صف ‘ اور بالمقابل پارٹی کو اختیار کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے جن بےپارٹی اور محاذ کی مخالفت کرتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نافذ کردہ نظام زندگی کے بالمقابل نظام حیات لے کر آئین تھے جس کے اندر عقیدے اور نظریات بھی شامل تھے ‘ جس کے اندر مراسم عبودیت بھی تھے ۔ جس کے اندر نظام قانون اور نظام حکومت بھی تھا اور یہ نظام زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی تھا۔ اور یہ تمام امور اسلامی نظام کے مجموعی جسم کے اعضاء تھے ۔ اور اصول یہ ہے کہ اگر ان اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو نظام قائم نہیں رہ سکتا ۔ اس کی روح نکل جائے گی ۔ جو شخص رسول کے ساتھ شقاق کرتا ہے یہ وہی شخص ہے جو یا تو اسلامی نظام حیات کو مکمل طور پر رد کرتا ہے اور یا بعض حصوں کو مانتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے ۔ یعنی ایک حصہ لیتا ہے اور دوسرا چھوڑتا ہے ۔

اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ کہیں ان پر حجت تمام نہ ہوجائے اور وہ برے ٹھکانے جہنم کے مستحق نہ ہوجائیں اس لئے اللہ نے انکی جانب رسول بھیجے ۔ رسولوں نے لوگوں کے سامنے سچائی بیان کی انہوں نے لوگوں پر راہ ہدایت کو بالکل واضح کردیا ۔ پھر اگر وہ انکار کریں گے تو گمراہی کو اختیار کریں گے ۔ یہ اللہ کی وسیع رحمت تھی کہ اللہ نے اس ضعیف مخلوق کے لئے صراط مستقیم پرچلنے کا یہ اہتمام کیا۔ پھر جب کسی پہ راہ حق واضح ہوجائے اور رسول موجود ہو اور پھر بھی وہ رسول کی راہ کے مقابلے میں دوسری راہ اختیار کرے اور آپ پر ایمان نہ لائے اور آپ کی اطاعت نہ کرے اور اسلامی نظام اور نظام مصطفیٰ ﷺ پر راضی نہ ہو ‘ تو اب حجت تمام ہوتی ہے اور اللہ ان کے حق میں گمراہی لکھ دیتے ہیں اور پھر اسی طرف اسے موڑ دیتے ہیں جس طرف وہ مڑ جاتا ہے ۔ پھر اسے اللہ کفار کے حوالے کردیتا ہے۔ وہ مشرکین کا ساتھی ہوجاتا ہے اور اب اس پر وہ عذاب حق بن جاتا ہے جس کا اللہ نے اعلان کیا ۔

(آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (4 : 115)

ترجمہ :” مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روشن پر چلے ‘ درآنحالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اس طرف چلائیں گے جدھر خود وہ پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔

اس برے انجام کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اللہ کی مغفرت ہر گناہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے مگر شرک ایسا گناہ ہے جس کے لئے ہر گز معافی نہیں ہے ۔

(آیت) ”۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (4 : 116)

” اللہ کے ہاں بس شرک کی بخشش نہیں ہے ۔ اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہئے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا ۔ “

جیسا کہ ہم اس سے قبل اسی مضمون کی آیت کی تفسیر میں کہہ آئے ہیں کہ شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کیا جائے جس عرب دور جاہلیت میں کیا کرتے تھے اور جس …

An-Nisaa 4:115Listen in Qur'an →
116

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا

خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا

(آیت) ” 115 تا 116۔

ان آیات کے نزول کے سلسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ بشیر ابن ابیرق مرتد ہوگیا اور جاکر مشرکین مکہ کے ساتھ مل گیا حالانکہ اس پر راست واضح ہوچکی تھی ۔ پہلے وہ اسلامی صفوں میں تھا لیکن اس نے اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ کو اپنا لیا۔ لیکن یہ آیت مضمون اور اطلاق کے اعتبار سے عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر اس حالت پر ہوگا جس میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جارہی ہو ۔ جس میں آپ کی مخالفت میں کفر ‘ شرک اور ارتداد اختیار کیا گیا ہو اور اس طرح کے قدیم وجدید تمام واقعات پر اس کا اطلاق ہوگا ۔

(المشاقہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص ایک ٹکڑا لے اور دوسرا اس کے مقابلے میں دوسرا ٹکڑا لے لے ۔ اور جو شخص رسول اللہ کے ساتھ شقاق کرتا ہے وہ رسول کے بالمقابل جنبہ بالمقابل صف ‘ اور بالمقابل پارٹی کو اختیار کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے جن بےپارٹی اور محاذ کی مخالفت کرتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نافذ کردہ نظام زندگی کے بالمقابل نظام حیات لے کر آئین تھے جس کے اندر عقیدے اور نظریات بھی شامل تھے ‘ جس کے اندر مراسم عبودیت بھی تھے ۔ جس کے اندر نظام قانون اور نظام حکومت بھی تھا اور یہ نظام زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی تھا۔ اور یہ تمام امور اسلامی نظام کے مجموعی جسم کے اعضاء تھے ۔ اور اصول یہ ہے کہ اگر ان اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو نظام قائم نہیں رہ سکتا ۔ اس کی روح نکل جائے گی ۔ جو شخص رسول کے ساتھ شقاق کرتا ہے یہ وہی شخص ہے جو یا تو اسلامی نظام حیات کو مکمل طور پر رد کرتا ہے اور یا بعض حصوں کو مانتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے ۔ یعنی ایک حصہ لیتا ہے اور دوسرا چھوڑتا ہے ۔

اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ کہیں ان پر حجت تمام نہ ہوجائے اور وہ برے ٹھکانے جہنم کے مستحق نہ ہوجائیں اس لئے اللہ نے انکی جانب رسول بھیجے ۔ رسولوں نے لوگوں کے سامنے سچائی بیان کی انہوں نے لوگوں پر راہ ہدایت کو بالکل واضح کردیا ۔ پھر اگر وہ انکار کریں گے تو گمراہی کو اختیار کریں گے ۔ یہ اللہ کی وسیع رحمت تھی کہ اللہ نے اس ضعیف مخلوق کے لئے صراط مستقیم پرچلنے کا یہ اہتمام کیا۔ پھر جب کسی پہ راہ حق واضح ہوجائے اور رسول موجود ہو اور پھر بھی وہ رسول کی راہ کے مقابلے میں دوسری راہ اختیار کرے اور آپ پر ایمان نہ لائے اور آپ کی اطاعت نہ کرے اور اسلامی نظام اور نظام مصطفیٰ ﷺ پر راضی نہ ہو ‘ تو اب حجت تمام ہوتی ہے اور اللہ ان کے حق میں گمراہی لکھ دیتے ہیں اور پھر اسی طرف اسے موڑ دیتے ہیں جس طرف وہ مڑ جاتا ہے ۔ پھر اسے اللہ کفار کے حوالے کردیتا ہے۔ وہ مشرکین کا ساتھی ہوجاتا ہے اور اب اس پر وہ عذاب حق بن جاتا ہے جس کا اللہ نے اعلان کیا ۔

(آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (4 : 115)

ترجمہ :” مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روشن پر چلے ‘ درآنحالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اس طرف چلائیں گے جدھر خود وہ پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔

اس برے انجام کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اللہ کی مغفرت ہر گناہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے مگر شرک ایسا گناہ ہے جس کے لئے ہر گز معافی نہیں ہے ۔

(آیت) ”۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (4 : 116)

” اللہ کے ہاں بس شرک کی بخشش نہیں ہے ۔ اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہئے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا ۔ “

جیسا کہ ہم اس سے قبل اسی مضمون کی آیت کی تفسیر میں کہہ آئے ہیں کہ شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کیا جائے جس عرب دور جاہلیت میں کیا کرتے تھے اور جس …

An-Nisaa 4:116Listen in Qur'an →
117

إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَٰثًۭا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَٰنًۭا مَّرِيدًۭا

یہ جو خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں تو عورتوں کی اور پکارتے ہیں تو شیطان کی سرکش ہی کو

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ،

دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔

ان میں سے بعض بذات خود شیطان کے بھی پجاری تھے ۔ یہ آیت اس بارے میں نص ہے ۔ کلبی کہتے ہیں کہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ لیکن اس آیت کا مفہوم بڑا وسیع ہے ‘ اس طرح کہ وہ اپنے شرک میں شیطان کو پکارتے تھے اور اس سے امداد طلب کرتے تھے اور شیطان کا قصہ ان کے دادا آدم کے ساتھ مشہور تھا جسے اللہ نے ملعون قرار دیا تھا ۔ اس لئے کہ اس نے انسان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ کیا تو اسے انسان پر بہت غصہ آگیا اور وہ اس کا سخت دشمن بن گیا اس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ وہ اسے موقعہ دے کہ جو اللہ کے محفوظ قلعے میں پناہ نہیں لیتا وہ اسے گمراہ کرسکے ۔

(آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا وان یدعون الا شیطان مریدا۔ (117) لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا (118) ولاضلنھم ولا منینھم ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم بلیغیرن خلق اللہ “۔ (119) (4 : 117 تا 119)

(وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔ میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔

یہ لوگ شیطان کو پکارتے ہیں جو ان کا قدیمی دشمن ہے ۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اس گمراہی میں اس سے امداد لیتے ہیں ‘ حالانکہ یہ شیطان وہ ذات ہے جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح کردی ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ بنی آدم کے ایک بڑے حصے کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ انہیں جھوٹی تمناؤں اور جھوٹی خواہشات کا گرویدہ بنا دے گا ۔ وہ جھوٹی لذتوں ‘ موہوم کامیابیوں اور آخرت کی خوش آئندہ امیدوں میں گم رہیں گے ۔ نیز وہ شیطان جس نے اعلانیہ اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان انسانوں سے نہایت ہی قبیح اور احمقانہ حرکات کا صدور کرائے گا ۔ وہ نہایت ہی بودے تصورات کے قائل ہوں گے اور محض قصے کہانیوں پر دین کا فیصلہ کریں گے ۔ مثلا یہ کہ وہ بعض جانوروں کے کان پھاڑ کر کہیں گے کہ اب اس پر سواری حرام ہے یا ان کا گوشت کھانا حرام ہے حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا نیز وہ فطرت انسانی اور خلق الہی میں بےجا تغیرات کریں گے مثلا جسم کے بعض اجزاء کاٹیں گے ۔ انسانوں اور حیوانوں کی شکلیں بدلیں گے مثلا غلاموں کو خصی کریں گے اور ان کے چمڑے پر نشانات بنائیں گے ۔ غرض یہ اور تمام دوسرے غیر فطری افعال وحرکات جس کی اجازت فطرت سلیمہ اور اسلام دونوں نہیں دیتے ۔

انسان کا یہ شعور کہ اس کا قدیم دشمن شیطان ہی شرک اور شرکیہ نظریات کا داعی ہے اور ہی ہے جو بت پرستی کی طرف لوگوں کو آمادہ کرتا ہے ‘ انسان کو کم ازکم ان کی کانا پھوسی سے محتاج کردیتا ہے جو دشمن کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسلام نے زندگی کی اس جنگ کو انسان اور شیطان کے درمیان ایک معرکہ قرار دیا ہے ۔ اور انسان کی پوری قوتوں کو اس طرف …

An-Nisaa 4:117Listen in Qur'an →
118

لَّعَنَهُ ٱللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا

جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ،

دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔

ان میں سے بعض بذات خود شیطان کے بھی پجاری تھے ۔ یہ آیت اس بارے میں نص ہے ۔ کلبی کہتے ہیں کہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ لیکن اس آیت کا مفہوم بڑا وسیع ہے ‘ اس طرح کہ وہ اپنے شرک میں شیطان کو پکارتے تھے اور اس سے امداد طلب کرتے تھے اور شیطان کا قصہ ان کے دادا آدم کے ساتھ مشہور تھا جسے اللہ نے ملعون قرار دیا تھا ۔ اس لئے کہ اس نے انسان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ کیا تو اسے انسان پر بہت غصہ آگیا اور وہ اس کا سخت دشمن بن گیا اس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ وہ اسے موقعہ دے کہ جو اللہ کے محفوظ قلعے میں پناہ نہیں لیتا وہ اسے گمراہ کرسکے ۔

(آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا وان یدعون الا شیطان مریدا۔ (117) لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا (118) ولاضلنھم ولا منینھم ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم بلیغیرن خلق اللہ “۔ (119) (4 : 117 تا 119)

(وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔ میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔

یہ لوگ شیطان کو پکارتے ہیں جو ان کا قدیمی دشمن ہے ۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اس گمراہی میں اس سے امداد لیتے ہیں ‘ حالانکہ یہ شیطان وہ ذات ہے جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح کردی ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ بنی آدم کے ایک بڑے حصے کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ انہیں جھوٹی تمناؤں اور جھوٹی خواہشات کا گرویدہ بنا دے گا ۔ وہ جھوٹی لذتوں ‘ موہوم کامیابیوں اور آخرت کی خوش آئندہ امیدوں میں گم رہیں گے ۔ نیز وہ شیطان جس نے اعلانیہ اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان انسانوں سے نہایت ہی قبیح اور احمقانہ حرکات کا صدور کرائے گا ۔ وہ نہایت ہی بودے تصورات کے قائل ہوں گے اور محض قصے کہانیوں پر دین کا فیصلہ کریں گے ۔ مثلا یہ کہ وہ بعض جانوروں کے کان پھاڑ کر کہیں گے کہ اب اس پر سواری حرام ہے یا ان کا گوشت کھانا حرام ہے حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا نیز وہ فطرت انسانی اور خلق الہی میں بےجا تغیرات کریں گے مثلا جسم کے بعض اجزاء کاٹیں گے ۔ انسانوں اور حیوانوں کی شکلیں بدلیں گے مثلا غلاموں کو خصی کریں گے اور ان کے چمڑے پر نشانات بنائیں گے ۔ غرض یہ اور تمام دوسرے غیر فطری افعال وحرکات جس کی اجازت فطرت سلیمہ اور اسلام دونوں نہیں دیتے ۔

انسان کا یہ شعور کہ اس کا قدیم دشمن شیطان ہی شرک اور شرکیہ نظریات کا داعی ہے اور ہی ہے جو بت پرستی کی طرف لوگوں کو آمادہ کرتا ہے ‘ انسان کو کم ازکم ان کی کانا پھوسی سے محتاج کردیتا ہے جو دشمن کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسلام نے زندگی کی اس جنگ کو انسان اور شیطان کے درمیان ایک معرکہ قرار دیا ہے ۔ اور انسان کی پوری قوتوں کو اس طرف …

An-Nisaa 4:118Listen in Qur'an →
119

وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلْأَنْعَٰمِ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيْطَٰنَ وَلِيًّۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًۭا مُّبِينًۭا

اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ،

دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔

ان میں سے بعض بذات خود شیطان کے بھی پجاری تھے ۔ یہ آیت اس بارے میں نص ہے ۔ کلبی کہتے ہیں کہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ لیکن اس آیت کا مفہوم بڑا وسیع ہے ‘ اس طرح کہ وہ اپنے شرک میں شیطان کو پکارتے تھے اور اس سے امداد طلب کرتے تھے اور شیطان کا قصہ ان کے دادا آدم کے ساتھ مشہور تھا جسے اللہ نے ملعون قرار دیا تھا ۔ اس لئے کہ اس نے انسان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ کیا تو اسے انسان پر بہت غصہ آگیا اور وہ اس کا سخت دشمن بن گیا اس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ وہ اسے موقعہ دے کہ جو اللہ کے محفوظ قلعے میں پناہ نہیں لیتا وہ اسے گمراہ کرسکے ۔

(آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا وان یدعون الا شیطان مریدا۔ (117) لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا (118) ولاضلنھم ولا منینھم ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم بلیغیرن خلق اللہ “۔ (119) (4 : 117 تا 119)

(وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔ میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔

یہ لوگ شیطان کو پکارتے ہیں جو ان کا قدیمی دشمن ہے ۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اس گمراہی میں اس سے امداد لیتے ہیں ‘ حالانکہ یہ شیطان وہ ذات ہے جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح کردی ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ بنی آدم کے ایک بڑے حصے کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ انہیں جھوٹی تمناؤں اور جھوٹی خواہشات کا گرویدہ بنا دے گا ۔ وہ جھوٹی لذتوں ‘ موہوم کامیابیوں اور آخرت کی خوش آئندہ امیدوں میں گم رہیں گے ۔ نیز وہ شیطان جس نے اعلانیہ اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان انسانوں سے نہایت ہی قبیح اور احمقانہ حرکات کا صدور کرائے گا ۔ وہ نہایت ہی بودے تصورات کے قائل ہوں گے اور محض قصے کہانیوں پر دین کا فیصلہ کریں گے ۔ مثلا یہ کہ وہ بعض جانوروں کے کان پھاڑ کر کہیں گے کہ اب اس پر سواری حرام ہے یا ان کا گوشت کھانا حرام ہے حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا نیز وہ فطرت انسانی اور خلق الہی میں بےجا تغیرات کریں گے مثلا جسم کے بعض اجزاء کاٹیں گے ۔ انسانوں اور حیوانوں کی شکلیں بدلیں گے مثلا غلاموں کو خصی کریں گے اور ان کے چمڑے پر نشانات بنائیں گے ۔ غرض یہ اور تمام دوسرے غیر فطری افعال وحرکات جس کی اجازت فطرت سلیمہ اور اسلام دونوں نہیں دیتے ۔

انسان کا یہ شعور کہ اس کا قدیم دشمن شیطان ہی شرک اور شرکیہ نظریات کا داعی ہے اور ہی ہے جو بت پرستی کی طرف لوگوں کو آمادہ کرتا ہے ‘ انسان کو کم ازکم ان کی کانا پھوسی سے محتاج کردیتا ہے جو دشمن کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسلام نے زندگی کی اس جنگ کو انسان اور شیطان کے درمیان ایک معرکہ قرار دیا ہے ۔ اور انسان کی پوری قوتوں کو اس طرف …

An-Nisaa 4:119Listen in Qur'an →
120

يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا

وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ،

دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔

ان میں سے بعض بذات خود شیطان کے بھی پجاری تھے ۔ یہ آیت اس بارے میں نص ہے ۔ کلبی کہتے ہیں کہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ لیکن اس آیت کا مفہوم بڑا وسیع ہے ‘ اس طرح کہ وہ اپنے شرک میں شیطان کو پکارتے تھے اور اس سے امداد طلب کرتے تھے اور شیطان کا قصہ ان کے دادا آدم کے ساتھ مشہور تھا جسے اللہ نے ملعون قرار دیا تھا ۔ اس لئے کہ اس نے انسان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ کیا تو اسے انسان پر بہت غصہ آگیا اور وہ اس کا سخت دشمن بن گیا اس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ وہ اسے موقعہ دے کہ جو اللہ کے محفوظ قلعے میں پناہ نہیں لیتا وہ اسے گمراہ کرسکے ۔

(آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا وان یدعون الا شیطان مریدا۔ (117) لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا (118) ولاضلنھم ولا منینھم ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم بلیغیرن خلق اللہ “۔ (119) (4 : 117 تا 119)

(وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔ میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔

یہ لوگ شیطان کو پکارتے ہیں جو ان کا قدیمی دشمن ہے ۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اس گمراہی میں اس سے امداد لیتے ہیں ‘ حالانکہ یہ شیطان وہ ذات ہے جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح کردی ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ بنی آدم کے ایک بڑے حصے کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ انہیں جھوٹی تمناؤں اور جھوٹی خواہشات کا گرویدہ بنا دے گا ۔ وہ جھوٹی لذتوں ‘ موہوم کامیابیوں اور آخرت کی خوش آئندہ امیدوں میں گم رہیں گے ۔ نیز وہ شیطان جس نے اعلانیہ اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان انسانوں سے نہایت ہی قبیح اور احمقانہ حرکات کا صدور کرائے گا ۔ وہ نہایت ہی بودے تصورات کے قائل ہوں گے اور محض قصے کہانیوں پر دین کا فیصلہ کریں گے ۔ مثلا یہ کہ وہ بعض جانوروں کے کان پھاڑ کر کہیں گے کہ اب اس پر سواری حرام ہے یا ان کا گوشت کھانا حرام ہے حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا نیز وہ فطرت انسانی اور خلق الہی میں بےجا تغیرات کریں گے مثلا جسم کے بعض اجزاء کاٹیں گے ۔ انسانوں اور حیوانوں کی شکلیں بدلیں گے مثلا غلاموں کو خصی کریں گے اور ان کے چمڑے پر نشانات بنائیں گے ۔ غرض یہ اور تمام دوسرے غیر فطری افعال وحرکات جس کی اجازت فطرت سلیمہ اور اسلام دونوں نہیں دیتے ۔

انسان کا یہ شعور کہ اس کا قدیم دشمن شیطان ہی شرک اور شرکیہ نظریات کا داعی ہے اور ہی ہے جو بت پرستی کی طرف لوگوں کو آمادہ کرتا ہے ‘ انسان کو کم ازکم ان کی کانا پھوسی سے محتاج کردیتا ہے جو دشمن کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسلام نے زندگی کی اس جنگ کو انسان اور شیطان کے درمیان ایک معرکہ قرار دیا ہے ۔ اور انسان کی پوری قوتوں کو اس طرف …

An-Nisaa 4:120Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.