Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 91–100 of 176

91

سَتَجِدُونَ ءَاخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا۟ قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱلْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا۟ فِيهَا ۚ فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوٓا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ وَيَكُفُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًۭا

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

(آیت) ” نمبر 91۔

ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل مکہ میں سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس آتے تھے اور ریاکاری کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے اور پھر قریش کے پاس واپس ہوتے تو الٹے پاؤں پھر کر دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردیتے تھے ۔ ان کا مقصد اس پالیسی کے اختیار کرنے سے یہ تھا کہ ادھر بھی امن سے رہیں اور ادھر بھی امن سے رہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اگر وہ اپنی یہ پالیسی چھوڑ کر اصلاح پذیر نہیں ہوتے تو انہیں قتل کردیا جائے ۔ اس طرح اللہ کا یہ فرمان کہ اگر وہ تمہارے مقابلے سے باز نہ آئیں اور تمہارے سامنے مکمل صلح وسلامتی پیش نہ کریں اور تمہارے ساتھ جنگ سے ہاتھ نہ روکیں تو تمہیں اختیار ہے کہ تم انہیں پکڑ کر قید کر دو ‘ اور جہاں بھی تمہیں ملیں وہاں پر انہیں قتل کر دو ‘ اس لئے کہ ان پر حجت تمام ہوگئی ہے ۔

یہ اسلام کا ایک حقیقت پسندانہ اور دوٹوک پہلو ہے ‘ جبکہ اس سے قبل کی دفعہ میں رواداری اور چشم پوشی سے کام لینے کی تلقین کی گئی تھی ۔ ہر پالیسی اپنی جگہ پر مناسب اور ضروری تھی ۔ واقعات اور حالات کے تقاضوں کے مطابق مختلف موقف اور پالیسیاں اختیار کی گئیں ۔

اس انداز میں اسلام کی بین الاقوامی پالیسی کے ان دو صفحات کے مطالعے سے ایک مسلم کے شعور میں بہت ہی اچھی طرح توازن پیدا ہوتا ہے ۔ نیز اس سے اسلامی نظام زندگی کے اندر بھی توازن پیدا ہوتا ہے اور یہ توازن اور ہم آہنگی اسلامی نظام زندگی کی اساسی اور امتیازی صفت ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک طرف سخت متشدد اور پر جوش لوگ ہیں جو ہر وقت مرو اور مارو کے لئے تیار رہتے ہیں حالانکہ یہ اسلام کی پالیسی نہیں ہے ۔ دوسری جانب نہایت ہی کمزور کردار کے پگھلنے والے لوگ ہیں جو سرے سے اسلام میں جہاد ہی کے قائل نہیں ۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں اس انداز سے بات کرتے ہیں گویا اسلام ایک ملزم ہے جو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہے اور یہ لوگ اس خطرناک ملزم کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ۔ یہ لوگ اسلام میں صرف رواداری ‘ امن چشم پوشی اور عفو و درگزر ہی پاتے ہیں اگر اسلام میں کوئی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ تھی اور یہ اس مقصد کے لئے نہ تھی کہ دعوت اسلامی کی راہ سے رکاوٹیں دور ہوں اور اس کی تبلیغ دنیا کے چپے چپے پر بلا روک ٹوک کی جاسکے ۔

ان لوگوں کے نزدیک یہ مقصد بھی نہ تھا کہ اس کرہ ارض کے کونے کونے پر وہ تمام لوگ پرامن زندگی بسر کریں ‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیا ہے ۔ نیز ان لوگوں کے نزدیک اس پالیسی کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ دنیا کے اندر ایک ایسا نظام مملکت ہو اور ایک ایسا قانونی اور دستوری نظام ہو جس کے تحت لوگ مکمل نظریاتی آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں ‘ جو عقیدہ چاہیں اختیار کرسکیں ‘ حالانکہ ایسے لوگوں کی سوچ ہر گز اسلامی سوچ نہیں ہے اور نہ یہ اسلام کی حقیقی پالیسی ہے اسلام نے جو درج بالا بین الاقوامی اصول دیئے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی حقیقی پالیسی کیا ہے ؟

یہ تو تھے مسلمانوں کے تعلقات دوسرے بیان الاقوامی ممالک اور کیمپوں کے ساتھ ۔ رہے مسلمانوں کے باہم تعلقات امت مسلمہ کے اندر ‘ تو اگرچہ وہ بالکل مختلف ممالک کے باشندے ہوں اور اس وقت صورت حال ایسی تھی کہ مسلمان مختلف ممالک میں رہتے تھے جس طرح آج وہ مختلف ممالک میں رہتے ہیں ‘ تو ان کے درمیان قتل ومقاتلہ قطعا حرام ہے ۔ کسی مسلمان کو صرف حد یا قصاص ہی میں قتل کیا جاسکتا ہے اس لئے دنیا میں ایسی کوئی چیز یا سبب نہیں ہے جو مسلمانوں کے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان …

92

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَـًۭٔا ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَـًۭٔا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ وَدِيَةٌۭ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَصَّدَّقُوا۟ ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّۢ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌۭ فَدِيَةٌۭ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کردے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے ہاں اگر وہ معاف کردیں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لئے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا اور بڑی حکمت والا ہے

(آیت) ” نمبر 92 تا 93۔

ان احکام کا تعلق چار قسم کے حالات سے ہے تین کا تعلق جرم قتل خطا سے ہے ۔ یہ قتل دارالاسلام کے اندر بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی ایسے افراد کے درمیان ہو سکتا ہے جو مختلف ممالک کے شہری ہوں ۔ چھوتی حالت کا تعلق قتل عمد بین المسلمین سے ہے جسے اسلام بالکل بعید الوقوع سمجھتا ہے ۔ اسلام مسلمانوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ یہ جرم واقع ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ اگر پوری دنیا کے مفادات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسری جانب ایک بےگناہ مسلم کا خون رکھا جائے تو دم مسلم کا پلڑا بھاری ہوگا ۔ اسلام اس دنیا میں کسی ایک حالت کا تصور نہیں کرتا جس میں ایک مسلمان کی جانب سے مسلمان کے قتل کا جواز پیدا ہوتا ہو۔ اسلام ایک مسلمان اور دوسرے مسلمان کے درمیان اس قدر سنجیدہ ‘ اس قدر گہرے اس قدر عظیم اس قدر قیمتی اس قدر عزت واحترام کے تعلقات پیدا کرتا ہے کہ وہ یہ فرض ہی نہیں کرتا کہ ان کے درمیان تعلقات اس قدر خراب بھی ہو سکتے ہیں کہ نوبت قتل مقاتلے تک پہنچ جائے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید سب سے پہلے قتل خطا سے بات شروع کرتا ہے ۔

(آیت) ” وما کان لمومن ان یقتل مومنا الا خطا “۔ (4 : 92) ”(مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ دوسرے مومن کو قتل کرے الا یہ کہ اس سے چوک ہوجائے “ ) ۔ اسلامی شعور میں صرف اس صورت کا تصور آسکتا ہے کہ بھول چوک سے یہ جرم واقع ہو سکتا ہے ۔ یہی حقیقی احتمال ہے ‘ اس لئے کہ کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان کے پڑوس میں رہنا ایک عظیم بات ہے ۔ یہ ایک عظیم نعمت ہے ‘ بہت ہی عظیم ۔ لہذا اسلامی شعور اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کوئی مسلم دوسرے مسلم کو اپنے پڑوس سے علیحدہ کر دے اور یہ تو بہت ہی بری بات ہوگی کہ وہ قصدا وارادتا ایک مسلمان کے خلاف قتل اٹھائے اس لئے کہ یہ اس کرہ ارض پر ایک مسلمان کے لئے ایک نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ اس قیمتی سرمائے کے بارے میں صرف مسلمان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس کی قدر و قیمت کو جانے ، اس لئے اسلامی اخلاقیات میں یہ بات بہی ہی مشکل ہے کہ ایک مسلم ‘ مسلم کو قتل کر دے ، یہ وہ معاملہ ہے جسے صرف اہل اسلام اور اسلام دوست ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ وہ اپنے نفس اور اپنے شعور کے اندر اس کا احساس رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی بھائی چارے کے ذریعے اہل اسلام کو یہ اخوت سکھائی ہے ۔ یہی وہ برادری ہے جس کی وجہ سے وہ سب رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ نظریہ ان کو اللہ کے نام پر جمع اور متحد رکھتا ہے ۔ ان کے درمیان اسلامی اخوت اور محبت پیدا ہوتی ہے اور یہ سب کچھ زبانی ہدایات کی وجہ سے ہے ۔

اگر قتل خدا واقعہ ہوجائے تو اس کی تین حالتیں ہیں اور تینوں کے احکام یہاں بیان ہوگئے ہیں۔

پہلی حالت یہ ہے کہ کسی مومن کے ہاتھوں غلطی سے دار الاسلام کے اندر دوسرا مومن قتل ہوجائے اور اس کا خاندان بھی مسلمان ہو ۔ اس صورت میں اسے ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا اور پوری دیت اس مسلمان کے خاندان کو ادا کرنی ہوگی ۔ ایک مومن غلام کو آزاد کرنے کا تاوان گویا اسلامی معاشرے کو اس کے نقصان کی تلافی کے طور پر ادا کرے گا ۔ اس لئے غلام کو آزاد کرکے اس نے ایک مردہ انسان کو آزادی دلا کر زندہ کردیا ۔ اس طرح گویا یہ کئی غلاموں کو آزاد کر دے گا ۔ رہی دیت تو اس کی وجہ سے متقول کے ورثا کے جذبات ٹھنڈے ہوں گے ۔ لیکن اس معاوضے کے فرض کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام متقول کے خاندان کو یہ اشارہ بھی دیتا ہے کہ اگر وہ دیت معاف کردیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ ان کے دل برضا اس کے لئے تیار ہوں ۔ اسلامی معاشرے اور اسلامی اخوت کے لئے عفو و درگزر نہایت ہی مفید عمل ہے حکم ہوتا ہے ۔

(آیت) ” ومن قتل مومنا خطا فتحریر رقبۃ مومنۃ ودیۃ مسلمۃ الی اھلہ الا ان یصدقوا (4 : 92) (اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس کا کفارہ …

93

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًۭا مُّتَعَمِّدًۭا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدًۭا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمًۭا

اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے

(آیت) ” نمبر 92 تا 93۔

ان احکام کا تعلق چار قسم کے حالات سے ہے تین کا تعلق جرم قتل خطا سے ہے ۔ یہ قتل دارالاسلام کے اندر بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی ایسے افراد کے درمیان ہو سکتا ہے جو مختلف ممالک کے شہری ہوں ۔ چھوتی حالت کا تعلق قتل عمد بین المسلمین سے ہے جسے اسلام بالکل بعید الوقوع سمجھتا ہے ۔ اسلام مسلمانوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ یہ جرم واقع ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ اگر پوری دنیا کے مفادات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسری جانب ایک بےگناہ مسلم کا خون رکھا جائے تو دم مسلم کا پلڑا بھاری ہوگا ۔ اسلام اس دنیا میں کسی ایک حالت کا تصور نہیں کرتا جس میں ایک مسلمان کی جانب سے مسلمان کے قتل کا جواز پیدا ہوتا ہو۔ اسلام ایک مسلمان اور دوسرے مسلمان کے درمیان اس قدر سنجیدہ ‘ اس قدر گہرے اس قدر عظیم اس قدر قیمتی اس قدر عزت واحترام کے تعلقات پیدا کرتا ہے کہ وہ یہ فرض ہی نہیں کرتا کہ ان کے درمیان تعلقات اس قدر خراب بھی ہو سکتے ہیں کہ نوبت قتل مقاتلے تک پہنچ جائے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید سب سے پہلے قتل خطا سے بات شروع کرتا ہے ۔

(آیت) ” وما کان لمومن ان یقتل مومنا الا خطا “۔ (4 : 92) ”(مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ دوسرے مومن کو قتل کرے الا یہ کہ اس سے چوک ہوجائے “ ) ۔ اسلامی شعور میں صرف اس صورت کا تصور آسکتا ہے کہ بھول چوک سے یہ جرم واقع ہو سکتا ہے ۔ یہی حقیقی احتمال ہے ‘ اس لئے کہ کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان کے پڑوس میں رہنا ایک عظیم بات ہے ۔ یہ ایک عظیم نعمت ہے ‘ بہت ہی عظیم ۔ لہذا اسلامی شعور اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کوئی مسلم دوسرے مسلم کو اپنے پڑوس سے علیحدہ کر دے اور یہ تو بہت ہی بری بات ہوگی کہ وہ قصدا وارادتا ایک مسلمان کے خلاف قتل اٹھائے اس لئے کہ یہ اس کرہ ارض پر ایک مسلمان کے لئے ایک نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ اس قیمتی سرمائے کے بارے میں صرف مسلمان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس کی قدر و قیمت کو جانے ، اس لئے اسلامی اخلاقیات میں یہ بات بہی ہی مشکل ہے کہ ایک مسلم ‘ مسلم کو قتل کر دے ، یہ وہ معاملہ ہے جسے صرف اہل اسلام اور اسلام دوست ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ وہ اپنے نفس اور اپنے شعور کے اندر اس کا احساس رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی بھائی چارے کے ذریعے اہل اسلام کو یہ اخوت سکھائی ہے ۔ یہی وہ برادری ہے جس کی وجہ سے وہ سب رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ نظریہ ان کو اللہ کے نام پر جمع اور متحد رکھتا ہے ۔ ان کے درمیان اسلامی اخوت اور محبت پیدا ہوتی ہے اور یہ سب کچھ زبانی ہدایات کی وجہ سے ہے ۔

اگر قتل خدا واقعہ ہوجائے تو اس کی تین حالتیں ہیں اور تینوں کے احکام یہاں بیان ہوگئے ہیں۔

پہلی حالت یہ ہے کہ کسی مومن کے ہاتھوں غلطی سے دار الاسلام کے اندر دوسرا مومن قتل ہوجائے اور اس کا خاندان بھی مسلمان ہو ۔ اس صورت میں اسے ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا اور پوری دیت اس مسلمان کے خاندان کو ادا کرنی ہوگی ۔ ایک مومن غلام کو آزاد کرنے کا تاوان گویا اسلامی معاشرے کو اس کے نقصان کی تلافی کے طور پر ادا کرے گا ۔ اس لئے غلام کو آزاد کرکے اس نے ایک مردہ انسان کو آزادی دلا کر زندہ کردیا ۔ اس طرح گویا یہ کئی غلاموں کو آزاد کر دے گا ۔ رہی دیت تو اس کی وجہ سے متقول کے ورثا کے جذبات ٹھنڈے ہوں گے ۔ لیکن اس معاوضے کے فرض کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام متقول کے خاندان کو یہ اشارہ بھی دیتا ہے کہ اگر وہ دیت معاف کردیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ ان کے دل برضا اس کے لئے تیار ہوں ۔ اسلامی معاشرے اور اسلامی اخوت کے لئے عفو و درگزر نہایت ہی مفید عمل ہے حکم ہوتا ہے ۔

(آیت) ” ومن قتل مومنا خطا فتحریر رقبۃ مومنۃ ودیۃ مسلمۃ الی اھلہ الا ان یصدقوا (4 : 92) (اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس کا کفارہ …

94

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُوا۟ وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَنْ أَلْقَىٰٓ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًۭا تَبْتَغُونَ عَرَضَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فَعِندَ ٱللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌۭ ۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا

مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلو کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے نزدیک بہت سے غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے

(آیت) ” نمبر 94۔

اس آیت کے نزول کے بارے میں کئی روایات وارد ہوئی ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے گشتی دستے کو ایک شخص ملا جس کے ساتھ اس کی بکریاں بھی تھیں ۔ اس شخص نے اس فوجی دستے کو السلام علیکم کہا ۔ مقصد یہ تھا کہ میں مسلمان ہوں ۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ اس نے السلام علیکم محض اپنے آپ کو بچانے کے لئے کہا ہے ۔ اس لئے انہوں نے اسے قتل کردیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اس طرح نہ کریں ۔ یوں ان کے دلوں سے تمام مفادات کا تصور ہی نکال دیا ۔ ان کو یہ تاثر دیا گیا کہ وہ کسی فیصلے میں جلد بازی نہ کریں ۔ اسلام ان دونوں باتوں کو پسند نہیں کرتا۔

اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ دور اور وہ زمانہ دور تو نہیں ہے کہ تم بھی اسی جاہلیت کے اندھیروں میں تھے جس میں تمہارے فیصلے نہایت ہی جلد بازی اور سرکشی پر مبنی ہوتے تھے ‘ تم صرف دولت کے متلاشی تھے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جتلاتے ہیں کہ یہ اسی کا احسان تھا کہ اس نے تمہارے دلوں کو پاک کردیا اور تمہارے نصب العین بلند ہوگیا ۔ اور اب وہ جاہلیت کی طرح دنیاوی مفادات کے لئے جہاد نہیں کررہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے قانونی حدود اور جابطے مقرر کئے اور اب یہ صورت نہیں ہے کہ پہلا اشتغال ہی آخری فیصلے صادر کر دے جس طرح جاہلیت میں ہوا کرتا تھا ۔

اس آیت میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ دیکھو ایک وقت تھا کہ تم خود اپنی قوم سے اپنے ایمان کو چھپاتے تھے اس لئے کہ تم کمزور تھے اور خوفزدہ تھے ۔ صرف مسلمانوں کو پتہ ہوتا تھا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ۔ یہ مقتول اپنی قوم سے اسلام کو چھپا رہا تھا اور جب وہ مسلمانوں سے ملا تو اس نے اپنا اسلام ظاہر کردیا اور السلام علیکم کہا ۔

(آیت) ” (کذالک کنتم من قبل فمن اللہ علیکم فتبینوا ان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ (4 : 94) (اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو ‘ پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ‘ لہذا تحقیق سے کام لو ‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے)

یوں اسلام دل کی دنیا کو جھنجوڑتا ہے تاکہ دل زندہ ہوں ‘ محتاط ہوں اور اللہ کی نعمت عظیمہ کا احساس کریں ۔ اور اس احساس ‘ خدا ترسی کے سائے میں اللہ کے احکام وقوانین کو نافذ کریں اور حالات کی اچھی طرح چھان بین کرنے کے بعد فیصلے کریں ۔ آپ نے دیکھا کہ اس سبق میں بعض مقامی اور بین الاقوامی معاملات کو کس قدر شرح وبسط اور تفصیل سے لیا گیا ہے اور بالکل نئے میدان میں یہ قانون سازی کی گئی ہے ۔ کس قدر پاکیزہ جذبے اور پاکیزہ اہداف کے ساتھ اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے یہ کام ہوا تھا جبکہ دنیا میں قانون بین الاقوام کا وجود ہی نہ تھا ۔

95

لَّا يَسْتَوِى ٱلْقَٰعِدُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُو۟لِى ٱلضَّرَرِ وَٱلْمُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلْمُجَٰهِدِينَ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى ٱلْقَٰعِدِينَ دَرَجَةًۭ ۚ وَكُلًّۭا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلْمُجَٰهِدِينَ عَلَى ٱلْقَٰعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًۭا

جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے

درس نمبر 38 ایک نظر میں :

یہ سبق درس سابق اور اس سین بھی پہلے ایک سبق کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا ہے اور اسی کے ساتھ پیوستہ ہے ۔ گویا یہ ان دونوں اسباق کا تکملہ ہے ۔ اگر بین الاقوامی معاملات اور قانون بین الاقوام کا پہلو پیش نظر نہ ہوتا ‘ جس طرح اسلام نے پہلی بار اس شعبے میں قانون سازی کی تو ہم ان تینوں درسوں کو ایک درس شمار کرتے ۔ کیونکہ ان کا موضوع اور مضمون ایک ہی ہے ۔ اس سبق کا اساسی مضمون یہ ہے کہ تمام مسلمان ہجرت کرکے دارالاسلام میں جمع ہوجائیں ۔ ابھی تک جو لوگ دارالحرب اور دارالکفر میں رہ گئے ہیں وہ فورا ہجرت کریں اور دارالاسلام میں پہنچ کر جان ومال سے جہاد کریں اور مکہ میں انہیں نسبتا جو آرام ہے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہتے ہیں اور وہاں انہیں جو سہولتیں حاصل ہیں ‘ انہیں چھوڑ دیں ۔ اور یہی مقصد اس سبق کے افتتاحی کلمات میں ہے جن میں کہا گیا ہے :

(آیت) ” (لایستوی القعدون من المومنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم فضل اللہ المجھدین باموالھم وانفسھم علی القعدین درجۃ وکلا وعداللہ الحسنی وفضل المجھدین علی القعدین اجرا عظیما “۔ (95)

(مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی را ہمیں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے ۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جاہد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے ‘ اگرچہ ہر ایک کے لئے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے ‘ مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے)

مدینہ میں تو کوئی بیٹھنے والا نہ تھا ۔ مدینہ میں جہاد سے رکھنے والے یا تو منافقین تھے یا وہ لوگ تھے جو روڑے اٹکاتے تھے اور دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے درس سابق میں بات کی ہے ۔

ہاں اس آیت کے متصلا بعد دوسری آیت میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے جو ابھی تک دارالکفر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ ہجرت کرکے مدینہ منتقل ہونے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں اور ایسے ہی حالات میں وہ فوت ہوجاتے ہیں ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت ہی بری جگہ ہے ۔

اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ضمانت دیتا ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں اور یہ اسی وقت سے شروع ہوجاتی ہے جب وہ گھر سے نکل پڑتے ہیں بشرطیکہ وہ یہ ہجرت خالصۃ اللہ کے لئے کرتے ہوں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے انکے وہ تمام خدشات دور کردیئے ہیں جو یہ اقدام کرنے سے پہلے انکو لاحق ہوتے ہیں ‘ نیز اس وقت جو خطرات درپیش تھے اور جو خوفناک حالات تھے ان حالات میں ہمت کرنا مشکل اور تشویش کا باعث تھا ۔

ہجرت اور جہاد پر بات مزید آگے بڑھتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دارالہجرت میں مسلمانوں کا باہم معاملہ کیا ہوگا اور دارالہجرت سے باہر دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا تعلق ہوگا ۔ خصوصا ان مسلمانوں کا انجام کیا ہوگا جو ہجرت نہیں کرتے ۔

اس سبق میں حالت خوف میں نماز کی کیفیات کا بھی ذکر ہے ۔ مثلاہجرت کے سفر کے دوران نماز اور میدان جنگ میں نماز ‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی اسلام میں کس قدر اہمیت ہے کہ ایسے خطرناک حالات میں بھی اس کی معافی نہیں ہے ۔ نیز مسلمانوں کے اندر ایسی حالت پیدا کی جاتی ہے کہ وہ ذہنی طور پر ہر وقت جنگ کے لئے تیار رہیں کیونکہ حالات ایسے ہیں کہ معمولی غفلت اور لاپرواہی سے دشمن سخت فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔

آخر میں یہ سبق نہایت ہی موثر ٹچ دیتا ہے اور مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ابھارتا ہے کہ ٹھیک ہے کہ تم کو نہایت ہی المناک مصائب کا سامنا ہے لیکن دشمنوں کی حالت بھی کوئی اچھی نہیں ہے اور ان کے نصب العین اور تمہارے نصب العین اور ان کی امیدوں اور تمہاری امیدوں میں فرق ہے ۔

(آیت) ” (ولا تھنوا فی ابتغاء القوم ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون …

96

دَرَجَٰتٍۢ مِّنْهُ وَمَغْفِرَةًۭ وَرَحْمَةًۭ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًا

(یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے

(آیت) ” نمبر 95 تا 104۔

اس آیت میں اسلامی معاشرے کی ایک خاص صورت حال پر بحث کی گئی ہے ۔ اس وقت مسلمانوں کی صفوں میں بعض لوگوں کی طرف سے سستی پیدا ہو رہی تھی ۔ وہ اسلامی انقلاب کی راہ میں جان اور مال کی قربانی نہ دے رہے تھے ۔ یہ لوگ وہ تھے جو مکہ میں اپنی دولت بچانے کے لئے ہجرت میں تاخیر کر رہے تھے ‘ اس لئے کہ اہل مکہ کسی مہاجر کو اپنے ساتھ کوئی چیز لے جانے کی اجازت نہ دے رہے تھے ۔ یہ سستی اس وجہ سے بھی پیدا ہو رہی تھی کہ ہجرت کی راہ میں سخت مشکلات ‘ مصائب اور خطرات تھے ‘ اس لئے کہ مشرکین کمزور لوگوں کو سرے سے ہجرت کی اجازت ہی نہ دیتے تھے ۔ وہ انہیں پکڑ کر قید کردیتے ‘ ازیت دیتے یا اگر پہلے سے اذیت دی جارہی ہوتی تھی تو جس کے بارے میں انہیں شبہ ہوجاتا کہ یہ بھاگنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے مزید سخت اذیت دی جاتی چاہے ان آیات کا مدلول وہ لوگ ہوں جو دارالاسلام کو ہجرت کر کے منتقل نہ ہو رہے تھے ۔ (میں اسی رائے کو ترجیح دیتا ہوں) یا اس سے مراد خود دارالاسلام کے اندر موجود بعض لوگ ہو سکتے ہیں جو مالی اور جانی جہاد میں زیادہ پرجوش نہ تھے ۔ یہ لوگ ان لوگوں سے علیحدہ تھے جو جہاد کے معاملے میں سست رو اور پہلو تہی کرنے والے تھے اور جن کا ذکر سابقہ سبق میں ہوچکا ہے ۔ ہو سکتا ہے ان آیات کے معنی میں وہ سب لوگ شامل ہوں جو دارالاسلام مین تھے اور جہاد سے پہلوتہی کر رہے تھے اور منافق تھے ‘ یا مسلمان تھے مگر سست تھے یا وہ تھے جو سرے سے ہجرت ہی نہ کر رہے تھے کہ جہاد کریں ۔ بہرحال بعض حلقے ایسے تھے جو سستی کر رہے تھے اور یہ آیت ایسی ہی صورت حال سے بحث کر رہی ہے ۔ البتہ قرآن اس آیت میں مراد لوگوں کی تخصیص نہ کرتے ہوئے ایک عام قاعدے کے طور پر اصولی بات کرتا ہے ‘ جس کو زمان ومکان اور کسی ایک خاندان کی قید کے اندر مقید نہیں کیا جاتا اور بتاتا ہے کہ یہ اصول ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ اس کا اطلاق اہل اسلام پر کرے گا ‘ کہ جو لوگ بغیر عذر بیماری اور لاچاری کے جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ نہیں لیتے چاہے مالی جہاد ہو یا جانی اور اس کے لئے اگر ہجرت کی ضرورت ہو تو ہجرت نہیں کرتے اور اس کے مقابلے میں جو لوگ ہجرت کرتے ہیں اور جانی اور مالی قربانی دیتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک ایک ہی مقام و مرتبہ کے نہیں ہو سکتے ۔ یہ ایک عام قاعدہ اور عام اصول ہے اور ہر زمان ومکان میں اس کا اطلاق ہوگا ۔

(آیت) ” (لایستوی القعدون من المومنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم (4 : 95)

(مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے)

اللہ تعالیٰ بات کو یہاں مجمل اور مبہم نہیں چھوڑتے بلکہ اسکی بھرپور وضاحت فرماتے ہیں اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ جانی اور مالی جہاد کرنے والوں کا درجہ بہت ہی بڑا ہے ۔

(آیت) ” (فضل اللہ المجھدین باموالھم وانفسھم علی القعدین درجۃ) (4 : 95)

(اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جاہد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے)

مجاہدین کا جو درجہ اس آیت میں بیان ہوا ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے جنت میں ان کے مقام کی تفصیلات کو بتا کر واضح کیا ہے ۔ صحیحین میں ابو سعید الخدری ؓ کی حدیث میں ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لئے تیار فرمائے ہیں اور ہر ایک درجے کے درمیان اس قدر مسافت ہے کہ جس طرح زمین اور آسمانوں کے درمیان فاصلہ ہے ۔

اعمش نے عمرو ابن مرہ سے روایت کی ‘ جنہوں نے ابو عبیدہ کے واسطے سے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ایک تیر مارا اسے ایک درجے کا اجر ملے گا ۔ تو ایک شخص نے پوچھا کہ حضور ایک درجہ کس قدر ہوگا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہاری ماں کے چوکھٹ یا سیڑھی کے مقدار کے برابر بہرحال نہ …

97

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ قَالُوا۟ فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا۟ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ قَالُوٓا۟ أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةًۭ فَتُهَاجِرُوا۟ فِيهَا ۚ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا

اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

(آیت) ” نمبر 97۔ 99۔

یہ آیت جزیرۃ العرب میں بطور واقعہ موجود صورت حال سے بحث کرتی ہے اور یہ صورت حال مکہ وغیرہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد عملا موجود تھی ‘ جبکہ مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تھی ۔ ابھی تک مکہ میں ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے ہجرت نہ کی تھی ۔ یہ لوگ وہاں اپنی کچھ مصلحتوں اور اپنی جائیداد کی وجہ سے رہ گئے تھے ۔ حالات ایسے تھے کہ مشرکین مکہ کسی ایسے شخص کو جو ہجرت کر رہا ہوتا ‘ اپنے ساتھ کچھ لے جانے نہیں دیتے تھے ‘ یا یہ لوگ ہجرت کی تکالیف کی وجہ سے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس لئے کہ جو بھی ہجرت کرتا تھا اہل مکہ اس کی راہ روکتے اور اسے منع کرتے ۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقتا ہجرت کرنے پر قادر ہی نہ تھے ۔ بعض بوڑھے تھے بعض عورتیں تھیں اور بعض بچے تھے ۔ ان لوگوں کے لئے ہجرت کرنے اور بھاگنے کی کوئی راہ سرے سے نہ تھی ۔

مسلمانوں میں جو لوگ مکہ میں رہ گئے تھے ان پر مکہ والوں نے بڑی سختیاں شروع کردی تھیں کیونکہ وہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ میں حکومت قائم کرکے قریش کے قافلوں کو تنگ کرنا شروع کردیا تھا اور پھر جنگ بدر میں مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھا رہے تھے ‘ ان کو مختلف قسم کی اذیتوں میں مبتلا کر رہے تھے ‘ اور سخت بوکھلاہٹ میں ظلم کررہے تھے ۔

بعض لوگوں کو انہوں نے عملا تشدد کرکے دین اسلام سے پھیر دیا تھا۔ بعض لوگ تقیہ کر کے کفر کا اظہار کر رہے تھے اور مشرکین کے ساتھ شرکیہ عبادات میں بظاہر شریک ہوتے تھے ، یہ تقیہ اس وقت ان کے لئے جائز تھا جب اسلامی حکومت نہ تھی اور ہجرت کرنے کے مواقع نہ تھے ۔ لیکن جب اسلامی مملکت کا قیام مدینہ طیبہ میں ہوگیا تو پھر انکا اس طرح فتنوں کے اندر قیام کرنا یا اپنے آپ کو تقیہ پر مجبور کرنا جائز اور معقول نہ تھا جبکہ وہ ہجرت بھی کرسکتے تھے اور دارالاسلام میں امن کی زندگی بھی بسر کرسکتے تھے ۔

ان حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ یہ لوگ محض دولت اور مصلحت کی وجہ سے ہجرت نہ کر رہے تھے ‘ یا وہ ہجرت کی تکالیف ومشکلات کی وجہ سے مکہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایسے حالات میں اگر انکی موت واقعہ ہوگئی تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ظالم کا نام دیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے اس لئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو دارالاسلام کی آزادانہ زندگی سے محروم رکھا ‘ جہاں وہ پاک وصاف اور شریفانہ اور اپنی مرضی کی زندگی بسر کرسکتے تھے ۔ جبکہ دارالکفر میں وہ ذلیل و خوار ‘ کمزور اور مظلوم ہو کر زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اور ان پر مظالم ہو رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جہنم میں رہیں گے جو بہت برا ٹھکانا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لئے وعید ہے جنہوں نے فی الواقعہ ڈر کر کفر اختیار کرلیا تھا ۔

لیکن ایسے لوگوں کی تعبیر قرآن مجید نہایت ہی زندہ اور متحرک انداز میں کرتا ہے ۔ ان کے اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہو رہا ہے اور یہ مکالمہ گویا زندہ افراد کے درمیان ایک اسٹیج پر ہو رہا ہے ۔

(آیت) ” (ان الذین توفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا (4 : 97)

ٍ (جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور ومجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا ‘ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ )

قرآن انسانوں کی تربیت کر رہا تھا ‘ اس لئے اس کے پیش نظریہ ہدف تھا کہ وہ ان کے بھلائی اور عزت وشرف کے جذبے کو جوش میں لائے اور ان کے اندر ضعف ‘ بخل ‘ حرص اور سستی کے پائے جانے والے اوصاف کو ختم کرنے کی سعی کرے ۔ چناچہ اس منظر کی تصویر کشی میں قرآن کریم نے نہایت ہی حقیقی صورت حال کو پیش کیا ہے ۔ لیکن قرآن کریم …

98

إِلَّا ٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَٰنِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةًۭ وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًۭا

ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کر سکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں

(آیت) ” نمبر 97۔ 99۔

یہ آیت جزیرۃ العرب میں بطور واقعہ موجود صورت حال سے بحث کرتی ہے اور یہ صورت حال مکہ وغیرہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد عملا موجود تھی ‘ جبکہ مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تھی ۔ ابھی تک مکہ میں ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے ہجرت نہ کی تھی ۔ یہ لوگ وہاں اپنی کچھ مصلحتوں اور اپنی جائیداد کی وجہ سے رہ گئے تھے ۔ حالات ایسے تھے کہ مشرکین مکہ کسی ایسے شخص کو جو ہجرت کر رہا ہوتا ‘ اپنے ساتھ کچھ لے جانے نہیں دیتے تھے ‘ یا یہ لوگ ہجرت کی تکالیف کی وجہ سے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس لئے کہ جو بھی ہجرت کرتا تھا اہل مکہ اس کی راہ روکتے اور اسے منع کرتے ۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقتا ہجرت کرنے پر قادر ہی نہ تھے ۔ بعض بوڑھے تھے بعض عورتیں تھیں اور بعض بچے تھے ۔ ان لوگوں کے لئے ہجرت کرنے اور بھاگنے کی کوئی راہ سرے سے نہ تھی ۔

مسلمانوں میں جو لوگ مکہ میں رہ گئے تھے ان پر مکہ والوں نے بڑی سختیاں شروع کردی تھیں کیونکہ وہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ میں حکومت قائم کرکے قریش کے قافلوں کو تنگ کرنا شروع کردیا تھا اور پھر جنگ بدر میں مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھا رہے تھے ‘ ان کو مختلف قسم کی اذیتوں میں مبتلا کر رہے تھے ‘ اور سخت بوکھلاہٹ میں ظلم کررہے تھے ۔

بعض لوگوں کو انہوں نے عملا تشدد کرکے دین اسلام سے پھیر دیا تھا۔ بعض لوگ تقیہ کر کے کفر کا اظہار کر رہے تھے اور مشرکین کے ساتھ شرکیہ عبادات میں بظاہر شریک ہوتے تھے ، یہ تقیہ اس وقت ان کے لئے جائز تھا جب اسلامی حکومت نہ تھی اور ہجرت کرنے کے مواقع نہ تھے ۔ لیکن جب اسلامی مملکت کا قیام مدینہ طیبہ میں ہوگیا تو پھر انکا اس طرح فتنوں کے اندر قیام کرنا یا اپنے آپ کو تقیہ پر مجبور کرنا جائز اور معقول نہ تھا جبکہ وہ ہجرت بھی کرسکتے تھے اور دارالاسلام میں امن کی زندگی بھی بسر کرسکتے تھے ۔

ان حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ یہ لوگ محض دولت اور مصلحت کی وجہ سے ہجرت نہ کر رہے تھے ‘ یا وہ ہجرت کی تکالیف ومشکلات کی وجہ سے مکہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایسے حالات میں اگر انکی موت واقعہ ہوگئی تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ظالم کا نام دیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے اس لئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو دارالاسلام کی آزادانہ زندگی سے محروم رکھا ‘ جہاں وہ پاک وصاف اور شریفانہ اور اپنی مرضی کی زندگی بسر کرسکتے تھے ۔ جبکہ دارالکفر میں وہ ذلیل و خوار ‘ کمزور اور مظلوم ہو کر زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اور ان پر مظالم ہو رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جہنم میں رہیں گے جو بہت برا ٹھکانا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لئے وعید ہے جنہوں نے فی الواقعہ ڈر کر کفر اختیار کرلیا تھا ۔

لیکن ایسے لوگوں کی تعبیر قرآن مجید نہایت ہی زندہ اور متحرک انداز میں کرتا ہے ۔ ان کے اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہو رہا ہے اور یہ مکالمہ گویا زندہ افراد کے درمیان ایک اسٹیج پر ہو رہا ہے ۔

(آیت) ” (ان الذین توفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا (4 : 97)

ٍ (جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور ومجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا ‘ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ )

قرآن انسانوں کی تربیت کر رہا تھا ‘ اس لئے اس کے پیش نظریہ ہدف تھا کہ وہ ان کے بھلائی اور عزت وشرف کے جذبے کو جوش میں لائے اور ان کے اندر ضعف ‘ بخل ‘ حرص اور سستی کے پائے جانے والے اوصاف کو ختم کرنے کی سعی کرے ۔ چناچہ اس منظر کی تصویر کشی میں قرآن کریم نے نہایت ہی حقیقی صورت حال کو پیش کیا ہے ۔ لیکن قرآن کریم …

99

فَأُو۟لَٰٓئِكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًۭا

قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کردے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

(آیت) ” نمبر 97۔ 99۔

یہ آیت جزیرۃ العرب میں بطور واقعہ موجود صورت حال سے بحث کرتی ہے اور یہ صورت حال مکہ وغیرہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد عملا موجود تھی ‘ جبکہ مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تھی ۔ ابھی تک مکہ میں ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے ہجرت نہ کی تھی ۔ یہ لوگ وہاں اپنی کچھ مصلحتوں اور اپنی جائیداد کی وجہ سے رہ گئے تھے ۔ حالات ایسے تھے کہ مشرکین مکہ کسی ایسے شخص کو جو ہجرت کر رہا ہوتا ‘ اپنے ساتھ کچھ لے جانے نہیں دیتے تھے ‘ یا یہ لوگ ہجرت کی تکالیف کی وجہ سے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس لئے کہ جو بھی ہجرت کرتا تھا اہل مکہ اس کی راہ روکتے اور اسے منع کرتے ۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقتا ہجرت کرنے پر قادر ہی نہ تھے ۔ بعض بوڑھے تھے بعض عورتیں تھیں اور بعض بچے تھے ۔ ان لوگوں کے لئے ہجرت کرنے اور بھاگنے کی کوئی راہ سرے سے نہ تھی ۔

مسلمانوں میں جو لوگ مکہ میں رہ گئے تھے ان پر مکہ والوں نے بڑی سختیاں شروع کردی تھیں کیونکہ وہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ میں حکومت قائم کرکے قریش کے قافلوں کو تنگ کرنا شروع کردیا تھا اور پھر جنگ بدر میں مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھا رہے تھے ‘ ان کو مختلف قسم کی اذیتوں میں مبتلا کر رہے تھے ‘ اور سخت بوکھلاہٹ میں ظلم کررہے تھے ۔

بعض لوگوں کو انہوں نے عملا تشدد کرکے دین اسلام سے پھیر دیا تھا۔ بعض لوگ تقیہ کر کے کفر کا اظہار کر رہے تھے اور مشرکین کے ساتھ شرکیہ عبادات میں بظاہر شریک ہوتے تھے ، یہ تقیہ اس وقت ان کے لئے جائز تھا جب اسلامی حکومت نہ تھی اور ہجرت کرنے کے مواقع نہ تھے ۔ لیکن جب اسلامی مملکت کا قیام مدینہ طیبہ میں ہوگیا تو پھر انکا اس طرح فتنوں کے اندر قیام کرنا یا اپنے آپ کو تقیہ پر مجبور کرنا جائز اور معقول نہ تھا جبکہ وہ ہجرت بھی کرسکتے تھے اور دارالاسلام میں امن کی زندگی بھی بسر کرسکتے تھے ۔

ان حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ یہ لوگ محض دولت اور مصلحت کی وجہ سے ہجرت نہ کر رہے تھے ‘ یا وہ ہجرت کی تکالیف ومشکلات کی وجہ سے مکہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایسے حالات میں اگر انکی موت واقعہ ہوگئی تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ظالم کا نام دیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے اس لئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو دارالاسلام کی آزادانہ زندگی سے محروم رکھا ‘ جہاں وہ پاک وصاف اور شریفانہ اور اپنی مرضی کی زندگی بسر کرسکتے تھے ۔ جبکہ دارالکفر میں وہ ذلیل و خوار ‘ کمزور اور مظلوم ہو کر زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اور ان پر مظالم ہو رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جہنم میں رہیں گے جو بہت برا ٹھکانا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لئے وعید ہے جنہوں نے فی الواقعہ ڈر کر کفر اختیار کرلیا تھا ۔

لیکن ایسے لوگوں کی تعبیر قرآن مجید نہایت ہی زندہ اور متحرک انداز میں کرتا ہے ۔ ان کے اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہو رہا ہے اور یہ مکالمہ گویا زندہ افراد کے درمیان ایک اسٹیج پر ہو رہا ہے ۔

(آیت) ” (ان الذین توفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا (4 : 97)

ٍ (جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور ومجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا ‘ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ )

قرآن انسانوں کی تربیت کر رہا تھا ‘ اس لئے اس کے پیش نظریہ ہدف تھا کہ وہ ان کے بھلائی اور عزت وشرف کے جذبے کو جوش میں لائے اور ان کے اندر ضعف ‘ بخل ‘ حرص اور سستی کے پائے جانے والے اوصاف کو ختم کرنے کی سعی کرے ۔ چناچہ اس منظر کی تصویر کشی میں قرآن کریم نے نہایت ہی حقیقی صورت حال کو پیش کیا ہے ۔ لیکن قرآن کریم …

100

۞ وَمَن يُهَاجِرْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ يَجِدْ فِى ٱلْأَرْضِ مُرَٰغَمًۭا كَثِيرًۭا وَسَعَةًۭ ۚ وَمَن يَخْرُجْ مِنۢ بَيْتِهِۦ مُهَاجِرًا إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ يُدْرِكْهُ ٱلْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے

(آیت) ” نمبر 100۔

اس آیت میں قرآن کریم حیات نفس انسانی کے اندر پیدا ہونے والے متنوع وسوسوں کا مداوا کرتا ہے ۔ اس وقت کے موجود حالات میں ہجرت کرنے میں مشکلات نظر آتی تھیں اور ایسے ہی وسوسے ہر وقت لوگوں کے سامنے آتے رہتے ہیں جب بھی کوئی شخص اللہ کی خاطر نکلتا مصائب کا شکار ہوجاتا ۔

قرآن کریم ایسے نفوس کی تربیت ہی واضح طور پر کرتا ہے ۔ ان کو صاف صاف بتایا جاتا ہے اور کوئی بات چھپائی نہیں جاتی ۔ یہ نہیں کیا جاتا کہ اگر کوئی اقدام کرے تو اس سے پیش آنے والے خطرات کو چھپایا جائے بلکہ سب کچھ بتا دیا جاتا ہے ‘ جن میں موت اور جان تک قربان کرنے کے خطرات شامل ہیں ‘ لیکن قرآن کریم بعض دوسرے حقائق کے ذریعے اہل ایمان کو مطمئن بھی کرتا ہے اور ان حقائق کی ضمانت اللہ تعالیٰ خود دیتے ہیں ۔

یہاں کہا جاتا ہے کہ یہ ہجرت فی سبیل اللہ ہے اور اس کے علاوہ کسی اور غرض کے لئے نہیں ہے اور اسلام میں یہی ہجرت معتبر ہے ۔ یہ دولت کے لئے نہیں ہے ‘ یہ مشکلات سے بھاگنے کے لئے نہیں ہے یہ لذات وشہوات حاصل کرنے کے لئے بھی نہیں ہے ۔ غرض یہ دنیاوی مقاصد میں سے کسی مقصد کے لئے نہیں ہے اور جو شخص بھی اللہ کی راہ میں اور صرف اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا ‘ اسے دنیا میں بہت بڑی کشادگی ملے گی زمین اس پر تنگ نہ ہوگی ۔ رزق کی فراہمی کے معاملے میں بھی اس کے وسائل اور ذرائع محدود نہ ہوں گے اور ایمان اور اخروی نجات تو بہرحال حاصل ہوگی ۔

(آیت) ” ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغما کثیرا وسعۃ (4 : 100)

(جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لئے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لئے بڑی گنجائش پائے گا)

یہ محض نفس انسانی کی کمزوری ‘ اس کا لالچ اور بخل ہے جو اس کے ذہن میں یہ وسوسہ پیدا کرتا ہے کہ وسائل رزق دنیا کی کسی ایک جگہ کے اندر محدود ہیں اور بعض حالات تک محدود ہیں ۔ اگر ان حالات اور ظروف سے کوئی نکل گیا تو اس کا رزق بند ہوجائے گا ۔

یہ دراصل رزق اور وسائل حیات کے سلسلے میں ایک نہایت ہی جھوٹا تصور ہے ۔ یہی وہ سوچ ہے جس کی وجہ سے انسان ذلت ‘ زیردستی اور دین اور ایمان کے فتنے کو قبول کرتا ہے اور پھر اس کا وہ انجام ‘ وہ برا انجام ہوتا ہے جو ان آیات میں مذکور ہے کہ ملائکہ ایسے لوگوں کی جان لے لیتے ہیں اور وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہوتے ہیں ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں اچھے انجام کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو آزادی ملے گی اور وہ اللہ کی اس دنیا میں بہت ہی وسعت پائیں گے ۔ وہ یقینا دیکھ لیں گے کہ وہ جہاں بھی جائیں گے اللہ انہیں زندہ رکھے گا ‘ رزق دے گا اور آخرت میں نجات دے گا ۔

لیکن یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگ دوران ہجرت ہی داعی اجل کو لبیک کہتے ہیں۔ موت تو ایک برحق واقعہ ہے اور اس کا تعلق اسباب ظاہرہ سے نہیں ہے ۔ جب مقررہ وقت آتا ہے تو موت حتما آتی ہے چاہے کوئی قیام کرے یا ہجرت کرے ۔ وہ نہ مقدم ہوتی ہے اور مؤخر ۔

ہاں یہ اور بات ہے کہ انسانی سوچ ظاہری ظروف واحوال کے اندر ہی رہتی ہے ۔ اس کی نظر میں موت کے ظاہری اسباب ہوتے ہیں اسلامی نظام ان کو بھی سامنے رکھ کر بات کرتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے کہ راہ خدا میں گھر سے نکلتے ہی اللہ پر اجر لازم ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو مکمل ثواب ملے گا ۔

(آیت) ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ “۔ (4 : 100)

(اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لئے نکلے ‘ پھر راستہ ہی میں اسے موت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوگیا)

ایسے شخص کو پوری تنخواہ ملے گی ‘ ہجرت کا اجر سفر کا اجر دارالاسلام میں پہنچنے اور تمام مشکلات جو وہاں تھیں ان سب کا اجر اسے ملے گا ۔ اس اجر اسے ملے گا ۔ اس کا ضامن اللہ ہے لیکن اس اجر کی ایسی ضمانت کے …

An-Nisaa 4:100Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.