يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًۭا كَثِيرًۭا وَنِسَآءًۭ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِى تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًۭا
لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اول) اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلا دیئے۔ اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت بر آری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے
درس 03 ایک نظر میں :
سورت کا یہ پہلا پیراگراف اپنی افتتاحی آیت کے ساتھ ‘ لوگوں کو صرف رب واحد اور خالق واحد کی طرف رجوع کرنے کی دعوت سے شروع ہوتا ہے ۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ تمام لوگوں کو ایک ہی ماں باپ سے پیدا کیا گیا ہے ۔ وہ ایک ہی خاندان سے بکھرے ہیں ‘ انسانی نفس ہی دراصل اصل انسانیت ہے ۔ اور انسانی خاندان ہی دراصل انسانی معاشرے کی اکائی ہے ۔ اس لئے نفس انسانی کے اندر خدا خوفی کے جذبات کو جوش میں لایا جاتا ہے اور خاندانی نظام کو جذبہ صلہ رحمی سے مستحکم کیا جاتا ہے تاکہ اس مستحکم اساس پر ایک خاندان کے اندر باہم تکافل (Social Security) اور باہم محبت کے فرائض پر وان چڑھیں ۔ اس کے بعد پوری انسانیت کے اندر باہم محبت اور باہم پشتیبانی کے اصول رائج کئے جاسکیں ۔ غرض اس سورت کے اندر کی جانے والی تمام قانون سازی اور انسانیت کی تمام شیرازہ بندی اسی اصول پر کی گئی ہے ۔
آیات کا یہ حصہ درج بالا اصول وقوانین کے ساتھ ساتھ کسی معاشرے یا کسی خاندان کے اندر پائے جانے والے یتیموں کے بارے میں معاشرتی اور اجتماعی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی ہدایات دیتا ہے ۔ یتیموں کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں کہ ان کی نگرانی کس طرح کی جائے ، ان کے مال کی نگہداشت کس طرح ہو ‘ نیز افراد خاندان کے درمیان میراث کی تقسیم کے اصول بھی وضع کئے گئے ہیں ، جن میں مختلف اطراف کے رشتہ داروں کے حصص کا تعین بھی کیا گیا ہے ۔ مختلف حالات میں حصص کا فرق بھی بتایا گیا ہے ۔ اور یہ سب کچھ اس ہمی گیر انسانی اصول کی روشنی میں کیا گیا ہے جس کا ذکر آیت افتتاحیہ میں بیان ہوا ہے ۔ یہ ہمی گیر انسانی اصول بعض آیات کی ابتدا میں بعض کے در میان میں اور بعض آیات کے خامتہ پر اس سبق میں بار بار دہرایا گیا ہے ۔ اور اس حقیقت کی توثیق کی گئی ہے کہ ان تمام ہدایت اور قانون سازی اس کا خصوصی حق ربوبیت ہے ۔ اسلامی نظام میں ہر قسم کی قانون سازی اللہ جل شانہ کی اس شان ربوبیت کا اظہار ہے ۔
موجودہ آیت کی تفسیر۔
ترجمہ : ” لوگو ! اپنے سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے ، اسی خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو ۔ اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے ۔ “
یہ خطاب تماما نسانیت سے ہے ۔ بحیثیت انسان ان سے خطاب ہے تاکہ وہ سب کے سب رب واحد کی طرف لوٹ آئیں ۔ وہی تو ہے جس نے ان کی تخلیق کی ہے اور پھر اس نے ان سب انسانوں کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے ۔ پھر اس جان سے اس کیلئے جوڑا تخلیق کیا اور پھر ان دونوں سلسلہ نسب چلا کر بہت سے مرد اور عورتوں کو پوری دنیا میں پھیلا دیا ۔
بظاہر تو یہ باتیں بہت سادہ اور ابتدائی معلوم ہوتی ہیں لیکن درحقیقت یہ عظیم حقائق ہیں ۔ یہ بہت ہی بھاری باتیں ہیں اور انسانی زندگی پر ان کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اگر یہ ” لوگ “ ان باتوں پر کان دھریں ‘ اور انہیں سمجھنے کی کوشش کریں تو ان باتوں سے اس کرہ ارض پر حیات انسانی کے اندر عظیم تغیر واقعہ ہوجائے اور لوگ جاہلیت یا مختلف جاہلیتوں سے نکل کر ایمانی زندگی ‘ ہدایت یافتہ زندگی اور انسانیت کے لائق مہذب زندگی کی جانب بسہولت منتقل ہوجائیں ‘ یہ مہذب زندگی نفس انسانی کے حسب حال ہوگی اور اس کے خالق اور رب کی مرضی کے مطابق بھی ہوگی ۔
اس آیت میں وہ ابتدائی حقائق بیان ہوئے ہیں ‘ وہ قلب ونظر کیلئے درج ذیل میدان فراہم کرتے ہیں :
(1): ۔ اس میں پوری انسانیت کو یہ بتایا ہے کہ اس کی اصل کیا ہے ؟ اور اسے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اس خالق کی طرف رجوع کرے جس نے اسے پیدا کرکے اس زمین پر بسایا ہے ۔ یہ آیات بتاتی ہے کہ ” انسانیت “ نے چونکہ اپنی اس اصلیت کو فراموش کردیا ہے ۔ اس لئے وہ سب کچھ بھول گئی ہے اور اس …