أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًۭا
ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ وہاں سے مخلصی نہیں پاسکیں گے
مشرک کی پہچان اور ان کا انجام ٭٭
اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کر چکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کر دی ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں [سنن ترمذي:3037،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہو جاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہو جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کر لیتے ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جننی عورت ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں «اِنَاثًا» سے مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی لڑکیاں مانتے تھے [تفسیر ابن جریر الطبری:209/9] اور کہتے تھے کہ ان کی عبادت سے- ہماری اصل غرض اللہ عزوجل کی نزدیکی حاصل کرنا ہے اور ان کی تصویریں عورتوں کی شکل پر بناتے تھے پھر حکم کرتے تھے اور تقلید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ صورتیں فرشتوں کی ہیں جو اللہ کی لڑکیاں ہیں۔
صفحہ نمبر1945
یہ تفسیر «اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى» [53-النجم:19] ” کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا “ کے مضمون سے خوب ملتی ہے جہاں ان کے بتوں کے نام لے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ خوب انصاف ہے کہ لڑکے تو تمہارے اور لڑکیاں میری؟ اور آیت میں ہے «وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:19] ” اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے [اس چیز کی] باز پرس کی جائے گی۔ “
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «اناث» مراد مردے ہیں، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر بے روح چیز «اناث» ہے خواہ خشک لکڑی ہو خواہ پتھر ہو، لیکن یہ قول غریب ہے۔
صفحہ نمبر1946
پھر ارشاد ہے کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ» [36-يس:60] ” اے بنی آدم کیا میں نے تم سے شیطان کی عبادت نہ کرنے کا وعدہ نہیں لیا تھا؟ “ اسی وجہ سے فرشتے قیامت کے دن صاف کہہ دینگے کہ ہماری عبادت کے دعوےدار دراصل شیطانی پوجا کے پھندے میں تھے، شیطان کو رب نے اپنی رحمت سے دورکر دیا ہے اور اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا ہے، اس نے بھی بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اللہ کے بندوں کو معقول تعداد میں بہکائے۔
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کو جہنم میں اپنے ساتھ لے جائے گا، ایک بچ رہے گا جو جنت کا مستحق ہو گا، شیطان نے کہا ہے کہ میں انہیں حق سے بہکاؤں گا اور انہیں اُمید دلاتا رہوں گا یہ توبہ ترک کر بیٹھیں گے، خواہشوں کے پیچھے پڑ جائیں گے موت کو بھول بیٹھیں گے نفس پروری اور آخرت سے غافل ہو جائیں گے، جانوروں کے کان کاٹ کر یا سوراخ دار کر کے اللہ کے سوا دوسروں کے نام کرنے کی انہیں تلقین کروں گا، اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا سکھاؤں گا جیسے جانوروں کو خصی کرنا۔
صفحہ نمبر1947
ایک حدیث میں اس سے بھی ممانعت آئی ہے شاید مراد اس سے نسل منقطع کرنے کی غرض سے ایسا کرنا ہے۔ ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چہرے پر گودنا گدوانا، جو صحیح مسلم کی حدیث میں ممنوع ہے [صحیح مسلم:2116] اور جس کے کرنے والے پر اللہ کی لعنت وارد ہوئی ہے۔ [صحیح مسلم:2117]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ ” گود نے والیوں اور گدوانے والیوں، پیشانی کے بال نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر جو حسن و خوبصورتی کے لیے اللہ کی بناوٹ کو …