Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 91–100 of 176

91

سَتَجِدُونَ ءَاخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا۟ قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱلْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا۟ فِيهَا ۚ فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوٓا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ وَيَكُفُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًۭا

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ ۔۔۔۔۔ اس آیت کریمہ میں ایک تیسری قسم کے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے، جو بہت ہی بد ترین قسم کے منافق ہیں، جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹتے ہیں مگر جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کا امن پسندی کا دعویٰ سچا ہونے کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کرلیں، دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں اور تیسرے یہ کہ اگر انھیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں، یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ جیسا کہ جنگ بدر میں عباس (رض) کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ انھیں قتل نہ کیا جائے کیونکہ وہ مجبور کر کے لائے گئے ہیں۔ اگر یہ تینوں باتیں نہ پائی جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی نیتوں میں فتور ہے اور وہ امن پسندی کی آڑ میں دھوکا دے کر مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں، لہٰذا ایسے منافقوں کا علاج یہ ہے کہ انھیں پکڑو اور جہاں ملیں قتل کر دو ۔

92

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَـًۭٔا ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَـًۭٔا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ وَدِيَةٌۭ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَصَّدَّقُوا۟ ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّۢ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌۭ فَدِيَةٌۭ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کردے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے ہاں اگر وہ معاف کردیں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لئے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا اور بڑی حکمت والا ہے

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ يَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَــــــًٔـا ۚ۔۔۔ کفار کے ساتھ جنگ کی اجازت نازل ہوئی تو یہ عین ممکن تھا کہ کسی شخص کو کافر حربی ( جس سے جنگ ہو) سمجھ کر مسلمان قتل کردیں اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ مسلمان تھا، اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے قتل خطا کے احکام بیان فرما دیے۔ (رازی) آیت میں ” الا “ بمعنی ” لٰکِنْ “ ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے، یعنی کسی بھی حال میں مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر غلطی سے مارا جائے تو اس پر کفارہ ہے، جس کا بعد میں ذکر ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کسی آدمی کا خون، جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، تین صورتوں میں سے کسی ایک کے سوا حلال نہیں : 1 جان کے بدلے جان۔ 2 شادی شدہ بدکار۔ 3 اسلام کو چھوڑنے والا (مرتد) جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔ “ [ بخاری، الدیات، باب قول اللہ تعالیٰ : ( أن النفس بالنفس والعین بالعین) : ٦٨٧٨، عن ابن مسعود (رض) ]- وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَــــًٔا فَتَحْرِيْرُ ۔۔ : یعنی جب کوئی مسلمان غلطی سے کسی مسلمان کو قتل کر دے تو اس کے دو حکم ہیں، ایک کفارہ دوسری دیت یعنی خون بہا۔ کفارہ تو یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام ( مرد یا عورت) کو آزاد کرے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے اور اس کے وارثوں کو دیت ادا کرے، کفارہ تو کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا، ہاں، دیت اگر وارث معاف کردیں تو ساقط ہوسکتی ہے، مگر یہ اس وقت ہے کہ جب مقتول کے وارث بھی مسلمان ہوں یا کافر ہوں، لیکن ان سے معاہدہ ہو یا ذمی ہوں، جیسے آگے آ رہا ہے۔ - فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ ۔۔ : لیکن اگر اس کے وارث حربی کافر ہوں تو پھر قاتل کے ذمے صرف کفارہ ہے، یعنی ایک مسلمان گردن آزاد کرنا، اگر نہ ہو سکے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا۔ مقتول کے وارثوں کو خون بہا ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ دشمن ہیں۔ (قرطبی) - وَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَھُمْ مِّيْثَاقٌ ۔۔ : اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ مقتول مسلمان ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے جن سے تمہارا معاہدہ ہے، یا ذمی ہیں تو اس صورت میں بھی دو چیزیں واجب ہوں گی، دیت ( خون بہا) ، اور کفارہ۔ یہاں دیت کو کفارہ سے پہلے ذکر فرمایا ہے کہ اسے غیر مسلم قوم کا فرد سمجھ کر دیت کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کی جائے۔ بعض نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ مقتول معاہد یا ذمی ہو (مسلمان نہ ہو) تو اس صورت میں بھی کفارہ اور وارثوں کو خون بہا ادا کرنا پڑے گا، مگر زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہاں بھی مسلمان مقتول ہی کی بات ہو رہی ہے۔ - دیت ایک سو اونٹ یا اس کے اندازے کے ساتھ قیمت ہوگی۔ جو خطا کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہوگی۔ - شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ۡ : اگر کوئی کسی شرعی عذر یعنی مرض، حیض، نفاس وغیرہ کے بغیر ایک روزہ بھی چھوڑے گا تو نئے سرے سے دوبارہ دو مہینے روزے رکھنے پڑیں گے۔ (قرطبی)

93

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًۭا مُّتَعَمِّدًۭا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدًۭا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمًۭا

اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے

(وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا) قتل خطا کا حکم بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں قتل عمد ( قصداً قتل کرنے) کا حکم بیان فرمایا ہے، اس کا ایک حکم تو بیان ہوچکا ہے یعنی اس صورت میں قصاص یا دیت واجب ہے، یا مقتول کے وارث کچھ معاف کردیں۔ (دیکھیے البقرۃ : ١٧٨) یہاں صرف اس کے گناہ اور وعید کا ذکر ہے۔ متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس جرم کو اشراک باللہ کے ساتھ ذکر کیا ہے، یہاں فرمایا کہ اس کی جزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہے اور اللہ تعالیٰ اس پر غصے ہوگیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے عذاب عظیم تیار کیا ہے۔ اتنی سخت سزائیں یکجا ذکر کرنے سے اس گناہ کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے اور بظاہر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مومن کو قصداً قتل کرنے والا ابدی جہنمی ہے اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔ - مگر سورة فرقان (٦٨) میں قتل عمد کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے۔ اب بعض مفسرین کا کہنا تو یہ ہے کہ جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرنے کی توبہ اس وقت قبول ہے جب اس نے حالت کفر میں یہ قتل کیا ہو، مسلمان ہونے کے بعد کسی مسلم کو قتل کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں، بلکہ ” خالداً فیہا “ کے الفاظ سے اس کا ابدی جہنمی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ابن عباس (رض) کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ [ بخاری، التفسیر، سورة الفرقان : ٤٧٦٢ ] مگر اکثر سلف اس کی توبہ قبول ہونے کے قائل ہیں، کیونکہ 1 شرک باللہ سے بڑا کوئی گناہ نہیں، وہ توبہ سے معاف ہوسکتا ہے تو یہ بھی معاف ہوسکتا ہے۔ 2 اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ وہ آگ میں ہمیشہ رہے گا، فرمایا بلکہ ہے (کہ یہ جرم اتنا بڑا ہے) کہ اس کی جزا جہنم میں خلود ہے، باقی اللہ معاف کرنا چاہے تو توبہ کے بعد یا توبہ کے بغیر بھی معاف کرسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚ ) [ النساء : ٤٨ ] ” بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔ “ لہٰذا یہ اللہ کی مشیت پر ہے چاہے تو سزا دے کر معاف کر دے، چاہے تو ویسے ہی معاف کر دے۔ خصوصاً توبہ کے بعد تو واضح بشارت موجود ہے : ( لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ ) [ الزمر : ٥٣ ] ” اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، بیشک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ “ (3) بنی اسرائیل کا وہ مسلمان جس نے سو آدمی قتل کیے تھے، اس کا واقعہ بھی قتل عمد کی توبہ کے قبول ہوسکنے کی دلیل ہے۔ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء : ٣٤٧٠ ]- بعض اہل علم نے فرمایا کہ وہ قاتل عمد ابدی جہنمی ہے جو اس عمل کو جائز سمجھے، کیونکہ شریعت کے حرام کام کو حلال سمجھنا کفر ہے اور جنت کی نعمتیں کفار پر حرام ہیں، فرمایا : ( اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ) [ الأعراف : ٥٠ ] ” بیشک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔ “ بیشک اللہ تعالیٰ نے (جنت کا پانی اور رزق) دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردی ہیں۔ مگر اس صورت میں اس کے ہمیشہ جہنم میں رہنے کا باعث قتل عمد نہیں بلکہ کفر ہوگا۔

94

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُوا۟ وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَنْ أَلْقَىٰٓ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًۭا تَبْتَغُونَ عَرَضَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فَعِندَ ٱللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌۭ ۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا

مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلو کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے نزدیک بہت سے غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے

فَتَبَيَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا : ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی اپنی تھوڑی سے بکریوں کے پاس تھا، کچھ مسلمان وہاں سے گزرے، اس نے ” السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ “ کہا لیکن مسلمانوں نے اسے قتل کر ڈالا اور اس کی بکریاں لے لیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، جس میں ہے : ( تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۡ ) ” تم دنیا کا سامان چاہتے ہو ؟ “ اس سے مراد وہ تھوڑی سی بکریاں ہیں۔ [ بخاری، التفسیر، سورة النساء : ٤٥٩١ ] - فَتَبَيَّنُوْا : یہاں تبین یعنی تحقیق کرلینے کا حکم سفر کے ساتھ ذکر کیا ہے، مگر یہاں سفر کی قید بیان واقعہ کے لیے ہے، یعنی یہ حادثہ، جس سے متعلق آیت نازل ہوئی ہے، سفر میں پیش آیا تھا، ورنہ تحقیق کا حکم جس طرح سفر میں ہے اسی طرح حضر میں بھی ہے۔ (قرطبی) - كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ : یعنی یہی حالت پہلے تمہاری تھی، تم کافروں کے شہر میں رہتے تھے اور اپنے ایمان کو چھپاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے دین کو غالب کر کے تم پر احسان کیا۔ (قرطبی)

95

لَّا يَسْتَوِى ٱلْقَٰعِدُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُو۟لِى ٱلضَّرَرِ وَٱلْمُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلْمُجَٰهِدِينَ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى ٱلْقَٰعِدِينَ دَرَجَةًۭ ۚ وَكُلًّۭا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلْمُجَٰهِدِينَ عَلَى ٱلْقَٰعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًۭا

جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے

لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔۔ : جہاد کے فرض عین ہونے کی صورت میں تو کسی شخص کو بلا عذر گھر میں بیٹھے رہنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ ایسی صورت میں جہاد میں شامل نہ ہونا صریح نفاق ہے، مگر جب نفیر عام (سب کے نکلنے) کا حکم نہ ہو اور امام کی طرف سے یہ اعلان کیا جائے کہ جو شخص جہاد کے لیے نکل سکتا ہو نکلے اور جو اپنے کام کی وجہ سے نہیں نکل سکتا اسے اپنے گھر میں بیٹھے رہنے کی اجازت ہے۔ ایسی صورت میں جو شخص جہاد کے لیے نکلے اس آیت میں اس کی فضیلت کا ذکر ہے یعنی جہاد کے لیے نکلنا لازم نہ ہونے کے باوجود جو لوگ جہاد کے لیے نکلتے ہیں اور جو گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا، میں کتابت کے لیے حاضر ہوا تو عبداللہ بن ام مکتوم، جو نابینا تھے، آگئے اور کہنے لگے، اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول اگر میں آپ کے ساتھ جہاد کرسکتا ہوتا تو ضرور کرتا، تو اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل فرمائی اور ” غیر اولی الضرر “ ( جو کسی تکلیف والے نہیں) کا کلمہ نازل ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے لکھوا دیا۔ [ بخاری التفسیر، باب : ( لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ) : ٤٥٩٢ ] معلوم ہوا کہ جس شخص کی نیت جہاد کی ہو مگر اسے کوئی تکلیف ہو اور وہ کسی عذر کی بنا پر جہاد میں شریک نہ ہو سکے وہ مجاہدین کے برابر ہوسکتا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مدینہ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم نے جس قدر سفر کیا اور جتنی وادیاں طے کیں وہ تمہارے ساتھ تھے۔ “ صحابہ نے عرض کیا : ” اے اللہ کے رسول وہ تو مدینہ میں ہیں ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” (ہاں) اگرچہ وہ مدینہ میں ہیں، لیکن انھیں کسی عذر نے جہاد میں شرکت سے روکا ہے۔ “ [ بخاری، المغازی، بابٌ : ٤٤٢٣، عن أنس ] کئی دوسری روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمانوں میں سے کسی شخص کو بھی اس کے جسم میں کوئی آزمائش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے جو اس کی حفاظت کرتے ہیں کہ میرے بندے کے لیے اسی طرح عمل لکھ دو جس طرح وہ اس وقت عمل کرتا تھا جب وہ تندرست تھا جب تک وہ میری گرفت میں رہے۔ [ احمد، ٢؍٢٠٥ ح : ٦٩٣٠ صحیح علی شرط مسلم۔ بخاری : ٢٩٩٦ ]- وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰي ۭ : یعنی جان و مال سے جہاد کرنے والوں کو جو فضیلت حاصل ہوگی، جہاد میں حصہ نہ لینے والے اگرچہ اس سے محروم رہیں گے، تاہم اللہ تعالیٰ نے دونوں کے ساتھ ہی بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ اس سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ عام حالات میں جہاد کے لیے نکلنا فرض عین نہیں، فرض کفایہ ہے، یعنی اگر بقدر ضرورت آدمی جہاد میں حصہ لے لیں تو اس علاقے کے دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی یہ فرض ادا شدہ سمجھا جائے گا، لیکن اگر بقدر ضرورت نہ نکلیں تو تمام لوگ گناہ گار ہوں گے۔

96

دَرَجَٰتٍۢ مِّنْهُ وَمَغْفِرَةًۭ وَرَحْمَةًۭ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًا

(یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے

Explained together with ayah 95

97

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ قَالُوا۟ فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا۟ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ قَالُوٓا۟ أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةًۭ فَتُهَاجِرُوا۟ فِيهَا ۚ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا

اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مکہ اور اس کے قرب و جوار میں مسلمان تو ہوچکے تھے لیکن انھوں نے اپنے آبائی علاقے اور خاندان کو چھوڑ کر ہجرت کرنے سے گریز کیا، (حالانکہ انھیں ہجرت میں کوئی رکاوٹ بھی نہ تھی) جب کہ مسلمانوں کی قوت کو ایک جگہ مجتمع کرنے کے لیے ہجرت کا نہایت تاکیدی حکم دیا جا چکا تھا، اس لیے جن لوگوں نے ہجرت کے حکم پر عمل نہیں کیا ان کو یہاں ظالم قرار دیا گیا ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم بتلایا گیا ہے، جس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ حالات اور موقع کے لحاظ سے اسلام کے بعض احکام کفر یا اسلام کے مترادف بن جاتے ہیں۔ جیسے اس موقع پر ہجرت کو اسلام اور اس سے گریز کو کفر کے مترادف قرار پایا۔ دوسرے یہ معلوم ہوا کہ ایسے دارالکفر سے ہجرت کرنا فرض ہے جہاں اسلام کی تعلیمات پر عمل مشکل اور وہاں رہنا کفر اور اہل کفر کی حوصلہ افزائی کا باعث ہو۔ - قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ ۭ۔۔ : یعنی فرشتے ڈانٹ ڈپٹ کے انداز میں ان سے پوچھتے ہیں کہ تم مسلمان تھے یا کافر ؟ یا دارالکفر میں پڑے کیا کرتے رہے اور مدینہ کی طرف ہجرت کیوں نہیں کی ؟ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے لوگ مسلمان ہونے کے باوجود بلا عذر ترک ہجرت کی بنا پر ظالم کی موت مرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَنْ جَامِعَ الْمُشْرِکَ وَ سَکَنَ مَعَہُ فَإِنَّہُ مِثْلُہُ ) [ أبو داوٗد، الجھاد، باب فی الإقامۃ بأرض الشرک : ٢٧٨٧، عن سمرۃ بن جندب ] ” جو شخص مشرک کے ساتھ اکٹھا رہے اور اس کے ساتھ سکونت رکھے تو یقیناً وہ اسی جیسا ہے۔ “

98

إِلَّا ٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَٰنِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةًۭ وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًۭا

ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کر سکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ ۔۔ : اس آیت میں ان لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو واقعی بےبس اور معذور تھے اور ہجرت نہیں کرسکتے تھے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ” میں اور میری والدہ ان لوگوں میں سے تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا۔ “ [ بخاری، التفسیر : ٤٥٨٨ ] ان لوگوں میں عیاش بن ابی ربیعہ اور سلمہ بن ہشام وغیرہ بھی شامل ہیں جن کے حق میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کے پنجے سے نجات کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔ [ بخاری، التفسیر : ٤٥٩٨ ] - 2 ابن عباس (رض) کی والدہ ام الفضل بنت الحارث (رض) ہیں اور ان کا نام لبابہ ہے، جو ام المومنین میمونہ بنت الحارث کی بہن تھیں۔ ” بنات حارث “ نو بہنیں تھیں، ان میں ایک اسماء بنت عمیس، خثعمیہ تھیں جو ماں کی طرف سے میمونہ کی بہن تھیں اور جعفر بن ابی طالب (رض) کی بیوی۔ جعفر (رض) کے بعد ابوبکر صدیق (رض) نے ان سے نکاح کرلیا اور ابوبکر (رض) کے بعد علی (رض) کے نکاح میں آگئیں۔ (قرطبی)

99

فَأُو۟لَٰٓئِكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًۭا

قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کردے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

فَاُولٰۗىِٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّعْفُوَ عَنْھُمْ ۭ : اللہ تعالیٰ کے لیے ” عسیٰ “ کا لفظ یقین کے لیے ہوتا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص واقعی ہجرت نہیں کرسکتا، وہ کفار کی قید میں ہے، یا اسے راستے کا علم نہیں، یا اس کے پاس زاد راہ نہیں، غرض کوئی بھی صحیح عذر ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے امید کے انداز ہو بات کرنے میں حکمت بھی ہے کہ بندے بےخوف نہ ہوجائیں۔

100

۞ وَمَن يُهَاجِرْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ يَجِدْ فِى ٱلْأَرْضِ مُرَٰغَمًۭا كَثِيرًۭا وَسَعَةًۭ ۚ وَمَن يَخْرُجْ مِنۢ بَيْتِهِۦ مُهَاجِرًا إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ يُدْرِكْهُ ٱلْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے

مُرٰغَمًا : یہ ام ظرف ہے، یعنی مَوْضِعَ رَغْمِ الْاَعْدَاء دشمنوں کی ناک خاک آلود ہونے کی جگہ، جس سے دشمن ذلیل ہوں۔ ” مراغم “ کے معنی جگہ، جائے قیام اور جائے پناہ بھی آتے ہیں۔ ہجرت کر کے نکلنے کے بعد حاصل ہونے والی جائے قیام کو ” مراغمًا “ اس لیے فرمایا کہ وہ تمام دشمنوں کی ناک کو خاک آلود کردیتی ہے۔ (قرطبی) اس آیت میں اگرچہ ان لوگوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جو مکہ اور دوسرے مقامات پر دارالکفر میں زندگی بسر کر رہے تھے اور ہجرت نہیں کر رہے تھے، لیکن یہ آیت عام ہے اور متعدد احادیث میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے اور وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کو ذلیل و خوار کرے گا اور اس کی طرف سے بڑی وسعت بھی ملے گی۔ - وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ ۔۔ : اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو خلوص نیت سے ہجرت کرتے ہیں مگر راستے میں ان کا وقت آخر آجاتا ہے تو ان کا اجر اللہ پر ثابت ہوجاتا ہے، کیونکہ اصل مدار نیت پر ہے، جیسا کہ مشہور حدیث ہے : ( اِنَّمَا الْاَعْمَال بالنِّیَّاتِ ) [ بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی ۔۔ : ١] ” تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔ “ چناچہ خالد بن حزام (رض) حبشہ کی طرف ہجرت کر کے نکلے، انھیں ایک سانپ نے ڈس لیا تو ان کے بارے میں یہ آیت اتری : ( و من یخرج من بیتہ ) [ ابن أبی حاتم : ٣؍٣٢٨، ح : ٥٨٨٨، حسن ] سو آدمیوں کو قتل کر کے ہجرت کرنے والے شخص کا قصہ بھی اس کی دلیل ہے۔ - 3 ہجرت کے معنی ہیں دارالحرب سے دار السلام کی طرف منتقل ہونا، یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں فرض تھی اور اس کی فرضیت تا قیامت باقی ہے جس ہجرت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” لاَ ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ “ (فتح کے بعد ہجرت نہیں) فرما کر منسوخ فرمایا ہے، وہ مکہ یا کسی بھی جگہ سے مدینہ کی طرف ہجرت تھی۔ اسی طرح اہل بدعت کی آبادی سے بھی ہجرت کرنی چاہیے، امام مالک (رض) فرماتے ہیں : ” کسی شخص کے لیے ایسے مقام پر رہنا جائز نہیں جہاں سلف کو گالیاں دی جاتی ہوں۔ “ علی ہذا القیاس جس علاقے میں حلال روزی نہ ملتی ہو، یا دین میں فتنے کا خوف ہو وہاں سے بھی ہجرت کرنی چاہیے۔ (قرطبی) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَنَا بَرِئٌ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ یُقِیْمُ بَیْنَ أَظْھُرِ الْمُشْرِکِیْنَ ) ” میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان مقیم ہو۔ “ [ أبو داوٗد، الجہاد، باب النھی عن قتل من اعتصم بالسجود : ٢٦٤٥ ]

An-Nisaa 4:100Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.