سَتَجِدُونَ ءَاخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا۟ قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱلْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا۟ فِيهَا ۚ فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوٓا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ وَيَكُفُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًۭا
تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے
سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ ۔۔۔۔۔ اس آیت کریمہ میں ایک تیسری قسم کے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے، جو بہت ہی بد ترین قسم کے منافق ہیں، جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹتے ہیں مگر جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کا امن پسندی کا دعویٰ سچا ہونے کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کرلیں، دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں اور تیسرے یہ کہ اگر انھیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں، یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ جیسا کہ جنگ بدر میں عباس (رض) کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ انھیں قتل نہ کیا جائے کیونکہ وہ مجبور کر کے لائے گئے ہیں۔ اگر یہ تینوں باتیں نہ پائی جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی نیتوں میں فتور ہے اور وہ امن پسندی کی آڑ میں دھوکا دے کر مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں، لہٰذا ایسے منافقوں کا علاج یہ ہے کہ انھیں پکڑو اور جہاں ملیں قتل کر دو ۔