Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 91–100 of 176

91

سَتَجِدُونَ ءَاخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا۟ قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوٓا۟ إِلَى ٱلْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا۟ فِيهَا ۚ فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوٓا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ وَيَكُفُّوٓا۟ أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنًۭا مُّبِينًۭا

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

آدمی جب اللہ کے دین کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں بار بار ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں یہ جانچ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے کا ایک امتحان ’’ہجرت‘‘ ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جب دنیا کے فائدے اور مصلحتیں حائل نظر آئیں تو فائدوں اور مصلحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف بڑھ جانا۔ حتی کہ اگر رشتہ دار اور گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو بھی چھوڑ دینا۔ ایسا نازک موقع پیش آنے کی صورت میں اگر ایسا ہو کہ آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو نظر انداز کرکے حق کی طرف بڑھے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ ایسے موقع پر آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں سے لپٹا رہے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو کمزور کیا۔ جو شخص پہلی راہ پر چلے اس کے اندر حق کی مزید قبولیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، وہ برابر حق کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص دوسری راہ اختیار کرے اس کے اندر حق کی قبولیت کا مادہ گھٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنا بے حس ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔

جب دین کے سخت تقاضے سامنے آتے ہیں تو لوگوں میں مختلف گروہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مخلصین کا ہوتا ہے اور کوئی مخالفین کا۔ اور کچھ ایسے لوگوں کا جو ظاہر میں حق سے قریب مگر اندر سے اس سے دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اہلِ ایمان ہر ایک سے ا س کے حسب حال معاملہ کریں۔ وہ فتنہ کے استیصال میں سخت اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے میں نرم ہوں۔ وہ کمزوروں کے ساتھ رعایت کا سلوک کریں۔ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود ان کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ کسی کو اگر اللہ خاموش کرکے بٹھا دے تو اس سے بلا ضرورت لڑائی نہ چھیڑیں۔

92

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَـًۭٔا ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَـًۭٔا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ وَدِيَةٌۭ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَصَّدَّقُوا۟ ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّۢ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌۭ فَدِيَةٌۭ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مُّؤْمِنَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کردے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے ہاں اگر وہ معاف کردیں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لئے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا اور بڑی حکمت والا ہے

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو حقوق ہیں ان میں سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اس کی جان کا احترام کرے۔ اگر ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو قتل کردے تو اس نے سب سے بڑا معاشرتی جرم کیا۔ ایک شخص جب دوسرے شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اس کے اوپر آخری ممکن وار کرتا ہے۔ نیز یہ وہ جرم ہے جس کے بعد مجرم کے لیے اپنے جرم کی تلافی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ قتل عمد کی سزا خلود فی النار ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مارڈالے اس سے اللہ اتنا غضب ناک ہوتا ہے کہ اس کو ملعون قرار دے کر اس کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔ البتہ قتل خطا کا جرم ہلکا ہے۔ کوئی شخص کسی مسلمان کو غلطی سے مارڈالے، اس کے بعد اس کو غلطی کا احساس ہو وہ اللہ کے سامنے روئے گڑگڑائے اور مقررہ قاعدہ کے مطابق اس کی تلافی کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے گا۔ غلطی کے بعد مال خرچ کرنا یا مسلسل روزے رکھنا گویا خود اپنے ہاتھوں اپنے کو سزا دینا ہے۔جب آدمی کے اوپر شدت سے یہ احساس طاری ہوتا ہے کہ اس سے غلطی ہوگئی تو وہ چاہتا ہے کہ اپنے اوپر اصلاحی عمل کرے۔ اللہ نے بتایا کہ ایسی حالت میں آدمی کو اپنی اصلاح کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

یہاں اصلاً قتل کا حکم بتایا گیاہے۔ تاہم اسی نوعیت کے دوسرے معاشرتی جرائم بھی ہیں اور مذکورہ حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دوسری چیزوں کے بارے میں شریعت کا تقاضا کیا ہے۔

ایک مسلمان کا فرض جس طرح یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کو زندگی سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے، اسی طرح ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق بھی ہے کہ وہ اس کو بے عزت نہ کرے۔ اس کا مال نہ چھینے۔ اس کو بے گھر نہ کرے۔ اس کے روزگار میں خلل نہ ڈالے۔ اس کے سکون کو غارت کرنے کا منصوبہ نہ بنائے۔ وہ چیزیں جو اس کے لیے زندگی کے اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں سے کسی چیزکو اس سے چھیننے کی کوشش نہ کرے۔ ایک آدمی اگر غلطی سے ایسا کوئی فعل کربیٹھے جس سے اس کے مسلمان بھائی کو اس قسم کا کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہیے اور غلطی کے احساس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے بھائی کے نقصان کی تلافی کرے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ آدمی قصداً ایسی کارروائی کرے جس کا سوچا سمجھا مقصد اپنے بھائی کو نقصان پہنچانا اور اس کو پریشان کرنا ہو تو درجہ کے فرق کے ساتھ یہ بھي اسی نوعیت کا جرم ہے جیسا قتل عمد۔

93

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًۭا مُّتَعَمِّدًۭا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدًۭا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمًۭا

اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو حقوق ہیں ان میں سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اس کی جان کا احترام کرے۔ اگر ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو قتل کردے تو اس نے سب سے بڑا معاشرتی جرم کیا۔ ایک شخص جب دوسرے شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اس کے اوپر آخری ممکن وار کرتا ہے۔ نیز یہ وہ جرم ہے جس کے بعد مجرم کے لیے اپنے جرم کی تلافی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ قتل عمد کی سزا خلود فی النار ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مارڈالے اس سے اللہ اتنا غضب ناک ہوتا ہے کہ اس کو ملعون قرار دے کر اس کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔ البتہ قتل خطا کا جرم ہلکا ہے۔ کوئی شخص کسی مسلمان کو غلطی سے مارڈالے، اس کے بعد اس کو غلطی کا احساس ہو وہ اللہ کے سامنے روئے گڑگڑائے اور مقررہ قاعدہ کے مطابق اس کی تلافی کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے گا۔ غلطی کے بعد مال خرچ کرنا یا مسلسل روزے رکھنا گویا خود اپنے ہاتھوں اپنے کو سزا دینا ہے۔جب آدمی کے اوپر شدت سے یہ احساس طاری ہوتا ہے کہ اس سے غلطی ہوگئی تو وہ چاہتا ہے کہ اپنے اوپر اصلاحی عمل کرے۔ اللہ نے بتایا کہ ایسی حالت میں آدمی کو اپنی اصلاح کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

یہاں اصلاً قتل کا حکم بتایا گیاہے۔ تاہم اسی نوعیت کے دوسرے معاشرتی جرائم بھی ہیں اور مذکورہ حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دوسری چیزوں کے بارے میں شریعت کا تقاضا کیا ہے۔

ایک مسلمان کا فرض جس طرح یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کو زندگی سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے، اسی طرح ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق بھی ہے کہ وہ اس کو بے عزت نہ کرے۔ اس کا مال نہ چھینے۔ اس کو بے گھر نہ کرے۔ اس کے روزگار میں خلل نہ ڈالے۔ اس کے سکون کو غارت کرنے کا منصوبہ نہ بنائے۔ وہ چیزیں جو اس کے لیے زندگی کے اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں سے کسی چیزکو اس سے چھیننے کی کوشش نہ کرے۔ ایک آدمی اگر غلطی سے ایسا کوئی فعل کربیٹھے جس سے اس کے مسلمان بھائی کو اس قسم کا کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہیے اور غلطی کے احساس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے بھائی کے نقصان کی تلافی کرے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ آدمی قصداً ایسی کارروائی کرے جس کا سوچا سمجھا مقصد اپنے بھائی کو نقصان پہنچانا اور اس کو پریشان کرنا ہو تو درجہ کے فرق کے ساتھ یہ بھي اسی نوعیت کا جرم ہے جیسا قتل عمد۔

94

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُوا۟ وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَنْ أَلْقَىٰٓ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًۭا تَبْتَغُونَ عَرَضَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فَعِندَ ٱللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌۭ ۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًۭا

مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلو کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے نزدیک بہت سے غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے

عرب کے مخالف قبائل میں کچھ ایسے افراد تھے جو اندر مسلمان تھے مگر ہجرت کرکے ابھی اپنے قبیلہ سے کٹے نہیں تھے۔ ایک غزوہ میں ایسا ایک شخص مسلمان کی تلوار کی زد میں آگیا۔اس نے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ظاہر کیا کہ میں تمھارا دینی بھائی ہوں۔ بعض پر جوش مسلمانوں نے پھر بھی اس کو قتل کردیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے کو بچانے کی خاطر السلام علیکم کہہ رہا ہے۔ مگر السلام علیکم کہنے کی حد تک بھی کوئی شخص مسلمان ہو تو اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ حتی کہ جنگ کے موقع پر بھی نہیں جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ کسی مسلمان کا ماراجانا اللہ کے نزدیک اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ساری دنیا کا فنا ہوجانا بھی اس کے مقابلہ میں کم ہے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ) سنن الترمذي، حديث نمبر 1395۔

جب بھی کوئی شخص اس قسم کا اسلامی جوش دکھاتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی اسلامیت کو ناقابلِ تسلیم قرار دے کر اس کو سزا دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہمیشہ دنیوی محرکات ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی مادی لالچ، کبھی انتقام کی آگ، کبھی اپنے کسی حریف کو میدان سے ہٹانے کا شوق، بس اس قسم کے جذبات ہیں جو اس کے باعث بنتے ہیں۔ اگر آدمی کے سینہ میں اللہ سے ڈرنے والا دل ہو تو وہ اسلام کا اظہار کرنے والے کے الفاظ کو قبول کرلے گا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کرکے خاموش ہوجائے گا۔

عمل کے لحاظ سے مسلمانوں کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو فرائض کے دائرہ میں اسلامی زندگی اختیار کریں۔ وہ اللہ کی عبادت کریں او رحرام و حلال کے حدود کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ دوسرے لوگ وہ ہيں جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کریں۔ وہ خود اسلام کو اپناتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام پر لانے کی کوشش کریں اور اس راہ کی مصیبتوں کو برداشت کریں۔ وہ اسلام کے محاذ پر اپنی جان ومال کو لے کر حاضر ہوجائیں۔ وہ فرائض کے حدود میں نہ ٹھہریں بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کے لیے پیش کردیں۔ یہ دونوں ہی گروہ مخلص ہیں اور دونوں اللہ کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیںگے۔ مگر دوسرے گروہ کا معاملہ بنيادی طورپر الگ ہے۔ انھوں نے ناپ کر خدا کی راہ میں نہیں دیا اس لیے خدا بھی ان کو ناپ کر نہیں دے گا۔ انھوں نے مصلحتوں کی پروا کیے بغیر خدا کے مشن میں اپنے آپ کو شریک کیا اس لیے خدابھي پروا کیے بغیر ان کو اپنی رحمتوں میں لے لے گا۔

95

لَّا يَسْتَوِى ٱلْقَٰعِدُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُو۟لِى ٱلضَّرَرِ وَٱلْمُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلْمُجَٰهِدِينَ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى ٱلْقَٰعِدِينَ دَرَجَةًۭ ۚ وَكُلًّۭا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلْمُجَٰهِدِينَ عَلَى ٱلْقَٰعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًۭا

جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے

عرب کے مخالف قبائل میں کچھ ایسے افراد تھے جو اندر مسلمان تھے مگر ہجرت کرکے ابھی اپنے قبیلہ سے کٹے نہیں تھے۔ ایک غزوہ میں ایسا ایک شخص مسلمان کی تلوار کی زد میں آگیا۔اس نے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ظاہر کیا کہ میں تمھارا دینی بھائی ہوں۔ بعض پر جوش مسلمانوں نے پھر بھی اس کو قتل کردیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے کو بچانے کی خاطر السلام علیکم کہہ رہا ہے۔ مگر السلام علیکم کہنے کی حد تک بھی کوئی شخص مسلمان ہو تو اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ حتی کہ جنگ کے موقع پر بھی نہیں جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ کسی مسلمان کا ماراجانا اللہ کے نزدیک اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ساری دنیا کا فنا ہوجانا بھی اس کے مقابلہ میں کم ہے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ) سنن الترمذي، حديث نمبر 1395۔

جب بھی کوئی شخص اس قسم کا اسلامی جوش دکھاتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی اسلامیت کو ناقابلِ تسلیم قرار دے کر اس کو سزا دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہمیشہ دنیوی محرکات ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی مادی لالچ، کبھی انتقام کی آگ، کبھی اپنے کسی حریف کو میدان سے ہٹانے کا شوق، بس اس قسم کے جذبات ہیں جو اس کے باعث بنتے ہیں۔ اگر آدمی کے سینہ میں اللہ سے ڈرنے والا دل ہو تو وہ اسلام کا اظہار کرنے والے کے الفاظ کو قبول کرلے گا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کرکے خاموش ہوجائے گا۔

عمل کے لحاظ سے مسلمانوں کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو فرائض کے دائرہ میں اسلامی زندگی اختیار کریں۔ وہ اللہ کی عبادت کریں او رحرام و حلال کے حدود کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ دوسرے لوگ وہ ہيں جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کریں۔ وہ خود اسلام کو اپناتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام پر لانے کی کوشش کریں اور اس راہ کی مصیبتوں کو برداشت کریں۔ وہ اسلام کے محاذ پر اپنی جان ومال کو لے کر حاضر ہوجائیں۔ وہ فرائض کے حدود میں نہ ٹھہریں بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کے لیے پیش کردیں۔ یہ دونوں ہی گروہ مخلص ہیں اور دونوں اللہ کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیںگے۔ مگر دوسرے گروہ کا معاملہ بنيادی طورپر الگ ہے۔ انھوں نے ناپ کر خدا کی راہ میں نہیں دیا اس لیے خدا بھی ان کو ناپ کر نہیں دے گا۔ انھوں نے مصلحتوں کی پروا کیے بغیر خدا کے مشن میں اپنے آپ کو شریک کیا اس لیے خدابھي پروا کیے بغیر ان کو اپنی رحمتوں میں لے لے گا۔

96

دَرَجَٰتٍۢ مِّنْهُ وَمَغْفِرَةًۭ وَرَحْمَةًۭ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًا

(یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے

عرب کے مخالف قبائل میں کچھ ایسے افراد تھے جو اندر مسلمان تھے مگر ہجرت کرکے ابھی اپنے قبیلہ سے کٹے نہیں تھے۔ ایک غزوہ میں ایسا ایک شخص مسلمان کی تلوار کی زد میں آگیا۔اس نے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ظاہر کیا کہ میں تمھارا دینی بھائی ہوں۔ بعض پر جوش مسلمانوں نے پھر بھی اس کو قتل کردیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے کو بچانے کی خاطر السلام علیکم کہہ رہا ہے۔ مگر السلام علیکم کہنے کی حد تک بھی کوئی شخص مسلمان ہو تو اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ حتی کہ جنگ کے موقع پر بھی نہیں جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ کسی مسلمان کا ماراجانا اللہ کے نزدیک اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ساری دنیا کا فنا ہوجانا بھی اس کے مقابلہ میں کم ہے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ) سنن الترمذي، حديث نمبر 1395۔

جب بھی کوئی شخص اس قسم کا اسلامی جوش دکھاتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی اسلامیت کو ناقابلِ تسلیم قرار دے کر اس کو سزا دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہمیشہ دنیوی محرکات ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی مادی لالچ، کبھی انتقام کی آگ، کبھی اپنے کسی حریف کو میدان سے ہٹانے کا شوق، بس اس قسم کے جذبات ہیں جو اس کے باعث بنتے ہیں۔ اگر آدمی کے سینہ میں اللہ سے ڈرنے والا دل ہو تو وہ اسلام کا اظہار کرنے والے کے الفاظ کو قبول کرلے گا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کرکے خاموش ہوجائے گا۔

عمل کے لحاظ سے مسلمانوں کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو فرائض کے دائرہ میں اسلامی زندگی اختیار کریں۔ وہ اللہ کی عبادت کریں او رحرام و حلال کے حدود کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ دوسرے لوگ وہ ہيں جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کریں۔ وہ خود اسلام کو اپناتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام پر لانے کی کوشش کریں اور اس راہ کی مصیبتوں کو برداشت کریں۔ وہ اسلام کے محاذ پر اپنی جان ومال کو لے کر حاضر ہوجائیں۔ وہ فرائض کے حدود میں نہ ٹھہریں بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کے لیے پیش کردیں۔ یہ دونوں ہی گروہ مخلص ہیں اور دونوں اللہ کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیںگے۔ مگر دوسرے گروہ کا معاملہ بنيادی طورپر الگ ہے۔ انھوں نے ناپ کر خدا کی راہ میں نہیں دیا اس لیے خدا بھی ان کو ناپ کر نہیں دے گا۔ انھوں نے مصلحتوں کی پروا کیے بغیر خدا کے مشن میں اپنے آپ کو شریک کیا اس لیے خدابھي پروا کیے بغیر ان کو اپنی رحمتوں میں لے لے گا۔

97

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ قَالُوا۟ فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا۟ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ قَالُوٓا۟ أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةًۭ فَتُهَاجِرُوا۟ فِيهَا ۚ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا

اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

مومن کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کو آزاد نہ ماحول ملے جہاں اس کی ایمانی ہستی کے اظہار کے لیے کھلے مواقع ہوں۔ جب بھی ایسا نہ ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اپنا ماحول بدل دے۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔ ہجرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنے کو غیر موافق فضا سے نکالے اور اپنے کو موافق فضا میں لے جائے۔ ایک ادارہ ہے جس میں بعض شخصیتوں کا زور ہے۔ وہاں رہنے والا ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ میں یہاں شخصیت پرست بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر خدا پرست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر وہ آدمی اپنے مفاد کی خاطر ایسے ماحول سے مصالحت کرکے اس میں پڑا رہے اور جو چیز اس کو حق نظر آئے اس کے حق ہونے کا اعلان نہ کرے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح کوئی قوم ہے جس کا ایک قومی مذہب ہے۔ وہ اسی شخص کو اعزاز عطا کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ مذہب کو اپنائے، جو شخص ایسا نہ کرے وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس قوم کا ساتھی بنتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک ماحول میں حق کی دعوت اٹھتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بکھرے ہوئے اہل ایمان اس کی پشت پر جمع ہوں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ وہ اپنے مال سے اس کی مدد کریں۔ مگر ایمان والے اپنے فائدوںاور مصلحتوں کے خول میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے خول سے باہر آئیں اور حق کے قافلہ میں شریک ہو کر اس کی قوت کا باعث بنیں۔ اگر وہ اسی حال میں اپنی زندگی کے دن پورے کردیتے ہیں تو وہ خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں گے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تاہم وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو اس قدر معذور ہوں کہ ان سے کوئی تدبیر نہ بن رہی ہو اور نہ باہر سے ان کے لیے کوئی راہ کھل رہی ہو۔

آدمی اپنے ماحول میں ناموافق حالات دیکھ کرسمجھ لیتا ہے کہ ساری دنیا اس کے لیے ایسی ہی نا موافق ہوگی۔ مگر خدا کی وسیع دنیا میں طرح طرح کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں اگر ’’مکہ‘‘ ہے جہاں داعی کو پتھر مارے جاتے ہیں تو یہاں ’’یثرب‘‘ بھی ہے جہاں داعی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس لیے آدمی کو ماحول سے مصالحت کے بجائے ماحول کی تبدیلی کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ نئے مقام کو اپنا میدان عمل بنانا اس کے لیے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جائے۔

98

إِلَّا ٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَٰنِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةًۭ وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًۭا

ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کر سکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں

مومن کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کو آزاد نہ ماحول ملے جہاں اس کی ایمانی ہستی کے اظہار کے لیے کھلے مواقع ہوں۔ جب بھی ایسا نہ ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اپنا ماحول بدل دے۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔ ہجرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنے کو غیر موافق فضا سے نکالے اور اپنے کو موافق فضا میں لے جائے۔ ایک ادارہ ہے جس میں بعض شخصیتوں کا زور ہے۔ وہاں رہنے والا ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ میں یہاں شخصیت پرست بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر خدا پرست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر وہ آدمی اپنے مفاد کی خاطر ایسے ماحول سے مصالحت کرکے اس میں پڑا رہے اور جو چیز اس کو حق نظر آئے اس کے حق ہونے کا اعلان نہ کرے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح کوئی قوم ہے جس کا ایک قومی مذہب ہے۔ وہ اسی شخص کو اعزاز عطا کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ مذہب کو اپنائے، جو شخص ایسا نہ کرے وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس قوم کا ساتھی بنتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک ماحول میں حق کی دعوت اٹھتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بکھرے ہوئے اہل ایمان اس کی پشت پر جمع ہوں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ وہ اپنے مال سے اس کی مدد کریں۔ مگر ایمان والے اپنے فائدوںاور مصلحتوں کے خول میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے خول سے باہر آئیں اور حق کے قافلہ میں شریک ہو کر اس کی قوت کا باعث بنیں۔ اگر وہ اسی حال میں اپنی زندگی کے دن پورے کردیتے ہیں تو وہ خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں گے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تاہم وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو اس قدر معذور ہوں کہ ان سے کوئی تدبیر نہ بن رہی ہو اور نہ باہر سے ان کے لیے کوئی راہ کھل رہی ہو۔

آدمی اپنے ماحول میں ناموافق حالات دیکھ کرسمجھ لیتا ہے کہ ساری دنیا اس کے لیے ایسی ہی نا موافق ہوگی۔ مگر خدا کی وسیع دنیا میں طرح طرح کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں اگر ’’مکہ‘‘ ہے جہاں داعی کو پتھر مارے جاتے ہیں تو یہاں ’’یثرب‘‘ بھی ہے جہاں داعی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس لیے آدمی کو ماحول سے مصالحت کے بجائے ماحول کی تبدیلی کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ نئے مقام کو اپنا میدان عمل بنانا اس کے لیے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جائے۔

99

فَأُو۟لَٰٓئِكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًۭا

قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کردے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

مومن کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کو آزاد نہ ماحول ملے جہاں اس کی ایمانی ہستی کے اظہار کے لیے کھلے مواقع ہوں۔ جب بھی ایسا نہ ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اپنا ماحول بدل دے۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔ ہجرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنے کو غیر موافق فضا سے نکالے اور اپنے کو موافق فضا میں لے جائے۔ ایک ادارہ ہے جس میں بعض شخصیتوں کا زور ہے۔ وہاں رہنے والا ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ میں یہاں شخصیت پرست بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر خدا پرست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر وہ آدمی اپنے مفاد کی خاطر ایسے ماحول سے مصالحت کرکے اس میں پڑا رہے اور جو چیز اس کو حق نظر آئے اس کے حق ہونے کا اعلان نہ کرے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح کوئی قوم ہے جس کا ایک قومی مذہب ہے۔ وہ اسی شخص کو اعزاز عطا کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ مذہب کو اپنائے، جو شخص ایسا نہ کرے وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس قوم کا ساتھی بنتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک ماحول میں حق کی دعوت اٹھتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بکھرے ہوئے اہل ایمان اس کی پشت پر جمع ہوں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ وہ اپنے مال سے اس کی مدد کریں۔ مگر ایمان والے اپنے فائدوںاور مصلحتوں کے خول میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے خول سے باہر آئیں اور حق کے قافلہ میں شریک ہو کر اس کی قوت کا باعث بنیں۔ اگر وہ اسی حال میں اپنی زندگی کے دن پورے کردیتے ہیں تو وہ خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں گے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تاہم وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو اس قدر معذور ہوں کہ ان سے کوئی تدبیر نہ بن رہی ہو اور نہ باہر سے ان کے لیے کوئی راہ کھل رہی ہو۔

آدمی اپنے ماحول میں ناموافق حالات دیکھ کرسمجھ لیتا ہے کہ ساری دنیا اس کے لیے ایسی ہی نا موافق ہوگی۔ مگر خدا کی وسیع دنیا میں طرح طرح کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں اگر ’’مکہ‘‘ ہے جہاں داعی کو پتھر مارے جاتے ہیں تو یہاں ’’یثرب‘‘ بھی ہے جہاں داعی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس لیے آدمی کو ماحول سے مصالحت کے بجائے ماحول کی تبدیلی کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ نئے مقام کو اپنا میدان عمل بنانا اس کے لیے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جائے۔

100

۞ وَمَن يُهَاجِرْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ يَجِدْ فِى ٱلْأَرْضِ مُرَٰغَمًۭا كَثِيرًۭا وَسَعَةًۭ ۚ وَمَن يَخْرُجْ مِنۢ بَيْتِهِۦ مُهَاجِرًا إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ يُدْرِكْهُ ٱلْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے

مومن کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کو آزاد نہ ماحول ملے جہاں اس کی ایمانی ہستی کے اظہار کے لیے کھلے مواقع ہوں۔ جب بھی ایسا نہ ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اپنا ماحول بدل دے۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔ ہجرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنے کو غیر موافق فضا سے نکالے اور اپنے کو موافق فضا میں لے جائے۔ ایک ادارہ ہے جس میں بعض شخصیتوں کا زور ہے۔ وہاں رہنے والا ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ میں یہاں شخصیت پرست بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر خدا پرست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر وہ آدمی اپنے مفاد کی خاطر ایسے ماحول سے مصالحت کرکے اس میں پڑا رہے اور جو چیز اس کو حق نظر آئے اس کے حق ہونے کا اعلان نہ کرے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح کوئی قوم ہے جس کا ایک قومی مذہب ہے۔ وہ اسی شخص کو اعزاز عطا کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ مذہب کو اپنائے، جو شخص ایسا نہ کرے وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس قوم کا ساتھی بنتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک ماحول میں حق کی دعوت اٹھتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بکھرے ہوئے اہل ایمان اس کی پشت پر جمع ہوں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ وہ اپنے مال سے اس کی مدد کریں۔ مگر ایمان والے اپنے فائدوںاور مصلحتوں کے خول میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے خول سے باہر آئیں اور حق کے قافلہ میں شریک ہو کر اس کی قوت کا باعث بنیں۔ اگر وہ اسی حال میں اپنی زندگی کے دن پورے کردیتے ہیں تو وہ خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں گے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تاہم وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو اس قدر معذور ہوں کہ ان سے کوئی تدبیر نہ بن رہی ہو اور نہ باہر سے ان کے لیے کوئی راہ کھل رہی ہو۔

آدمی اپنے ماحول میں ناموافق حالات دیکھ کرسمجھ لیتا ہے کہ ساری دنیا اس کے لیے ایسی ہی نا موافق ہوگی۔ مگر خدا کی وسیع دنیا میں طرح طرح کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں اگر ’’مکہ‘‘ ہے جہاں داعی کو پتھر مارے جاتے ہیں تو یہاں ’’یثرب‘‘ بھی ہے جہاں داعی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس لیے آدمی کو ماحول سے مصالحت کے بجائے ماحول کی تبدیلی کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ نئے مقام کو اپنا میدان عمل بنانا اس کے لیے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جائے۔

An-Nisaa 4:100Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.