Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 81–90 of 176

81

وَيَقُولُونَ طَاعَةٌۭ فَإِذَا بَرَزُوا۟ مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَآئِفَةٌۭ مِّنْهُمْ غَيْرَ ٱلَّذِى تَقُولُ ۖ وَٱللَّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ ۖ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے

ۭوَيَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ ۡ۔ : یہاں منافقین کی ایک اور مذموم خصلت بیان فرمائی ہے اور ان کو سرزنش کی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی حرکات سیۂ سے چشم پوشی اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم فرمایا ہے۔ ” بَیَّتَ “ کا لفظ اصل میں ” بَیْتٌ“ ( گھر) سے ہے اور انسان چونکہ عموماً رات کو گھر میں رہتا ہے، اس لیے ” بَاتَ “ کے معنی شب باشی کے ہیں، پھر چونکہ رات کے فارغ اوقات میں آدمی اپنے معاملات پر غور و فکر کرتا ہے، اس لیے ” بَیَّتَ “ کا لفظ کسی معاملہ میں نہایت غور و فکر کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے۔ (رازی) یعنی دن کو وہ آپ کے سامنے اطاعت کا یقین دلاتے ہیں مگر رات کو ان سے کچھ لوگ اس کے برعکس مشورے کرتے ہیں، جو وہ دن کو آپ کے سامنے کہہ رہے تھے اس طائفہ سے مراد لیڈر ہیں کیونکہ عام لوگ تو ان کے پیچھے چلنے والے ہیں۔

82

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُوا۟ فِيهِ ٱخْتِلَٰفًۭا كَثِيرًۭا

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۭ۔ : منافقین کے مکر و فریب اور مذموم خصائل کے ضمن میں قرآن کی حقانیت کے اثبات کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ منافقین یہ سب مکر و فریب اور سازشیں اس بنا پر کر رہے تھے کہ وہ آپ کو سچا نبی نہیں سمجھتے تھے، لہٰذا یہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق نبوت پر بطور دلیل کے قرآن کو پیش کیا اور قرآن حکیم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق نبوت کی تین وجہوں سے دلیل بنتا ہے، اول اپنی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے۔ [ دیکھیے البقرۃ : ٢٣ ] دوم امور غیب کی خبروں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اور سوم اختلاف و تناقض سے پاک اور مبرا ہونے کی بنا پر۔ یہاں اسی تیسری چیز کو بیان فرمایا ہے۔ (رازی) مطلب یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ ایک انسان برس ہا برس تک مختلف حالتوں میں مختلف موضات پر، خصوصاً امور غیب سے متعلق اس قدر تفصیل سے گفتگو کرتا رہے اور اس کی ایک بات بھی دوسری سے متصادم نہ ہو۔ یہ خصوصیت صرف قرآن میں پائی جاتی ہے، جو غور و فکر کرنے والے کے لیے اس کے کلام الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔ (شوکانی) اختلاف سے پاک ہونا درجۂ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ کوئی انسان خواہ کتنا ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو، جب اتنی بڑی کتاب لکھے گا تو اس کے کلام میں قدرے تفاوت ضرور ہوگا اور ساری کتاب بلاغت میں یکساں مرتبہ کی نہیں ہوگی۔ پھر یہ منافقین خفیہ طور پر سازشیں کرتے رہتے ہیں اور وحی کے ذریعے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے بھید من و عن بتا دیے جاتے ہیں اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ کسی راز کے افشا کرنے میں قرآن نے تھوڑی بہت بھی غلطی کی ہو اور یہی اس کے کلام الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔ (رازی) - معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں تدبر کے بغیر انسان کے شکوک و شبہات دور نہیں ہوسکتے اور نہ قرآن صحیح طور پر سمجھ میں آسکتا ہے۔ قرآن کریم اگر غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں اختلاف کثیر ہوتا، اب یہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لیے اختلاف کثیر کجا، سرے سے اس میں اختلاف ہے ہی نہیں۔

83

وَإِذَا جَآءَهُمْ أَمْرٌۭ مِّنَ ٱلْأَمْنِ أَوِ ٱلْخَوْفِ أَذَاعُوا۟ بِهِۦ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسْتَنۢبِطُونَهُۥ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ لَٱتَّبَعْتُمُ ٱلشَّيْطَٰنَ إِلَّا قَلِيلًۭا

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ ۔۔ : امن کی خبر یہ کہ مسلمانوں کو فتح ہوئی، یا دشمن کا لشکر واپس چلا گیا، جس سے مسلمان بےفکر ہو کر تیاری کم کردیں وغیرہ اور خوف کی خبر یہ کہ فلاں مقام پر مسلمانوں کو شکست ہوئی، یا دشمن بہت بڑی تعداد میں حملہ آور ہونے والا ہے، جس سے مسلمانوں میں خوف و ھر اس پھیلے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کے مختلف سرایا (جنگی دستے) لڑائی کے لیے بھیجتے رہتے تھے، اس لیے اس قسم کی افواہیں مدینہ میں اکثر پہنچتی رہتی تھیں، لیکن منافقین اور بےاحتیاط قسم کے مسلمان بجائے اس کے کہ انھیں سب سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمے دار اصحاب تک پہنچائیں، از خود ان افواہوں کی تشہیر شروع کردیتے، ان کے اسی طرز عمل کی یہاں مذمت کی جا رہی ہے۔ (فتح القدیر۔ قرطبی) - 2 یستنبطونہ : اس کا مادہ ” نَبْطٌ“ ہے۔ ” نَبْطٌ“ وہ پانی ہے جو کنواں کھودتے وقت سب سے پہلے نکلتا ہے، اس لیے ” استنباط “ تحقیق اور بات کی تہ تک پہنچنے کو کہا جاتا ہے، اسی طرح مخفی بات کی حقیقت معلوم اور ظاہر کرنے کو بھی ” نَبْطٌ“ اور ” اِسْتِنْبَاطٌ“ کہا جاتا ہے۔ کان کی گہرائی سے کوئی معدن نکالنے کو بھی ” اِسْتِنْبَاطٌ“ کہتے ہیں۔ ( لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْھُمْ ۭ ) مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر امن یا خوف کی وہ خبر بلاتحقیق پھیلانے کے بجائے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے امراء کو پہنچاتے تو سب سے پہلے وہ غور و خوض اور تحقیق کر کے معلوم کرتے کہ خبر صحیح بھی ہے یا غلط، کیونکہ بلا تحقیق آگے بات کرنے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھوٹ قرار دیا ہے، چناچہ فرمایا : (کَفٰی بالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَّا سَمِعَ ) [ مسلم، المقدمۃ، باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع : ٥ ]” آدمی کو جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو کچھ سنے ( بلا تحقیق) آگے بیان کر دے۔ “ پھر وہ ذمے دار حضرات فیصلہ کرتے کہ اس خبر کی اشاعت کرنی چاہیے یا نہیں، اس کے بعد اگر وہ قابل اشاعت ہوتی تو اسے نشر کرتے، ورنہ روک دیتے۔ انفرادی زندگی میں عموماً اور اجتماعی زندگی میں خصوصاً اس ہدایت پر عمل نہایت ضروری ہے، ورنہ اس بےاحتیاطی کے بیحد نقصانات ہوسکتے ہیں، بالخصوص جنگ کے ایام میں، جب جبکہ خبریں اور افواہیں فوجی کاروائیوں سے بڑھ کر تاثیر رکھتی ہیں، خبروں کے محاذ کو بھی جنگ کا زبردست محاذ سمجھ کر اس کے مطابق معاملہ کرنا چاہیے۔ - 3 اِلَّا قَلِيْلًا شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں کہ یہ جو فرمایا : ” اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا تو شیطان کے پیچھے چلتے مگر تھوڑے “ یعنی ہر وقت احکام تربیت کے نہ پہنچتے رہیں تو کم لوگ ہدایت پر قائم رہیں۔ (موضح)

84

فَقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًۭا وَأَشَدُّ تَنكِيلًۭا

تو (اے محمدﷺ) تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کردے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے

فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ ۔۔ : اوپر کی آیات میں جہاد کی ترغیب دی، اس کے بعد منافقین کی سر گرمیوں کا ذکر کیا اور اب اس آیت میں فرمایا کہ آپ ان منافقین کے ساتھ ہونے یا نہ ہونے کی پروا نہ کریں، آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ خود جہاد کے لیے نکلیں اور دوسرے مومنوں کو بھی ترغیب دیں۔ ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب (رض) سے پوچھا : ” جو شخص مشرکوں پر حملہ کرتا ہے تو کیا وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے ؟ “ انھوں نے جواب دیا : ” نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مبعوث کیا اور ان سے فرمایا : ( فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ ) اور جس آیت کا آپ حوالہ دے رہے ہیں : ( وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ) [ البقرۃ : ١٩٥ ] اس کا تعلق تو اللہ کے رستے میں خرچ کرنے ( اور نہ کرنے) سے ہے۔ “ [ مسند أحمد : ٤؍٢٨١، ح : ١٨٥٠٦ ] اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کے لیے کئی شرطیں لوگ اپنے پاس ہی سے بنا لی ہیں۔ - 2 عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ : اللہ تعالیٰ کے لیے ” عسٰی “ کا لفظ یقین کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، پس آیت میں وعدہ کیا جا رہا ہے کہ عنقریب کفار کا زور ٹوٹ جائے گا اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہوگا۔

85

مَّن يَشْفَعْ شَفَٰعَةً حَسَنَةًۭ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٌۭ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَٰعَةًۭ سَيِّئَةًۭ يَكُن لَّهُۥ كِفْلٌۭ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ مُّقِيتًۭا

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً ۔۔ : اوپر کی آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو ، جو اعمال حسنہ میں سے ہے، یہاں بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر اجر عظیم ملے گا۔ پس یہاں شفاعت حسنہ سے ترغیب جہاد مراد ہے اور شفاعتِ سیۂ سے مراد اس کارخیر سے روکنا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم سفارش کرو تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ فرمائے گا۔ “ [ بخاری، الزکاۃ، باب التحریض علی الصدقۃ : ١٤٣٢، عن ابی موسیٰ ]

86

وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍۢ فَحَيُّوا۟ بِأَحْسَنَ مِنْهَآ أَوْ رُدُّوهَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَسِيبًا

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو بےشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

جہاد کا حکم دینے کے بعد اب صلح کے بعض احکام بیان فرمائے چناچہ فرمایا کہ اگر کفار کی طرف سے جنگ ختم کرنے اور صلح کرنے کی کوئی پیش کش کی جاتی ہے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا کم از کم اتنی پیش کش ضرور قبول کرو۔ دوسری جگہ فرمایا : ( وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ) [ الأنفال : ٦١ ] ” اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہوجا اور اللہ پر بھروسہ کر۔ “ ایک مصداق اس آیت کا یہ ہے کہ جہاد کے سفر کے دوران کوئی شخص اگر اطاعت کے اظہار کے لیے یا اسلام قبول کرنے کے اظہار کے لیے سلام کہے تو یہ کہہ کر اسے قتل مت کرو کہ تم مومن نہیں۔ (النساء : ٩٤) اور ایک مصداق وہ ہے جو آیت کے صریح الفاظ سے واضح ہو رہا ہے کہ جب کوئی شخص تمہیں سلام کہے تو اسے اس سے بہتر الفاظ میں جواب دو ۔ تحیۃ۔ حیاۃ میں سے باب تفعیل کا مصدر ہے۔ زندگی کی یا سلامتی کی دعا دینا مراد سلام ہے۔ بہتر جواب دینے کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ ” اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ “ کے جواب میں ” وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ “ کا اضافہ اور ” السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ “ کے جواب میں ” وَ بَرَکَاتُہٗ “ کا اضافہ کردیا جائے، لیکن اگر کوئی شخص یہ سارے الفاظ بول دے تو انھی کے ساتھ جواب دیا جائے۔ ” ومغفرتہ یا ورضوانہ “ وغیرہ کا اضافہ صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ ہر لفظ کے اضافے کے ساتھ دس نیکیاں زیادہ ہوتی جائیں گی۔ [ أحمد : ٤؍٤٣٩، ٤٤٠، ١٩٩٧٠ ] گویا کوئی شخص جتنا سلام کہے اتنا جواب دینا فرض ہے، زائد مستحب ہے۔

87

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثًۭا

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟

Explained together with ayah 86

88

۞ فَمَا لَكُمْ فِى ٱلْمُنَٰفِقِينَ فِئَتَيْنِ وَٱللَّهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓا۟ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُوا۟ مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلًۭا

تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو رستے پر لے آؤ اور جس شخص کو خدا گمراہ کردے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہیں پاؤ گے

یعنی تم ان منافقین کے بارے میں دو گروہ کیوں ہوگئے، تمہیں تو ان کے متعلق ایک رائے پر متفق ہونا چاہیے۔ زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوۂ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ کر راستے ہی سے واپس ہوگئے، ان کے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ کہنے لگا، آپ انھیں قتل کریں اور دوسرا گروہ اس کے خلاف تھا، تو یہ آیت اتری : ( فمالکم فی المنافقین فئتین ) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ طیبہ ہے، یہ گند کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسے آگ چاندی کے گند کو۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : ( فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ ۔۔ ) : ٤٥٨٩ ] شوکانی (رض) نے فرمایا، یہ حدیث اس آیت کے اسباب نزول میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔

89

وَدُّوا۟ لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا۟ فَتَكُونُونَ سَوَآءًۭ ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنْهُمْ أَوْلِيَآءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنْهُمْ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًا

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۗءً ۔۔ : معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقوں کی وہ قسم تھی جو مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے قبائل سے تعلق رکھتے تھے، دلیل اس کی یہ الفاظ ہیں : ( فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِيَاۗءَ حَتّٰي يُھَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ ) ” تو ان میں سے کسی طرح کے دوست نہ بناؤ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کریں۔ “ یہ لوگ مسلمانوں سے خیر خواہی اور محبت کا اظہار ضرور کرتے تھے مگر عملی طور پر اپنے ہم وطن کافروں کا ساتھ دیتے تھے، یا ساتھ دینے پر مجبور تھے۔ ان کے لیے معیار یہ مقرر کیا گیا کہ اگر وہ ہجرت کر کے تمہارے پاس مدینہ آجائیں اور تمہیں ان کے ایمان کا یقین ہوجائے تو اس صورت میں تم انھیں سچا بھی سمجھو اور ہمدرد بھی اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو اگرچہ وہ اسلام کا اظہار کریں ان سے کافروں جیسا سلوک کرو، کیونکہ دارالکفر میں چلے جانے کے بعد ان کا کفر کھل کر سامنے آگیا، اس لیے انھیں گرفتار کرو اور حل و حرم میں جہاں پاؤ انھیں قتل کرو اور انھیں اپنا دوست نہ بناؤ۔

90

إِلَّا ٱلَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌ أَوْ جَآءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَٰتِلُوكُمْ أَوْ يُقَٰتِلُوا۟ قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَٰتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ ٱعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَٰتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًۭا

مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی

اِلَّا الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۢ منافقین کے سلسلے میں جو اوپر حکم بیان ہوا اس سے دو قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مستثنیٰ کردیا اور فرمایا کہ انھیں نہ قید کرو اور نہ ان سے قتال ( لڑائی) کرو۔ ایک تو وہ منافقین جو کسی ایسی قوم کے پاس جا کر پناہ لے لیں یا حلیف بن جائیں جن کے ساتھ مسلمانوں کا صلح اور امن کا معاہدہ ہو تو وہ انھی کے حکم میں ہوجائیں گے، ورنہ عہد ٹوٹ جائے گا اور جنگ چھڑ جائے گی اور دوسرے وہ لوگ جو اپنی صلح جوئی کی وجہ سے نہ مسلمانوں سے جنگ کرنا چاہتے ہیں اور نہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اپنی قوم سے جنگ کرنا چاہتے ہیں۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.