Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 81–90 of 176

81

وَيَقُولُونَ طَاعَةٌۭ فَإِذَا بَرَزُوا۟ مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَآئِفَةٌۭ مِّنْهُمْ غَيْرَ ٱلَّذِى تَقُولُ ۖ وَٱللَّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ ۖ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے

جس نے اطاعت کی رسول کی پس تحقیق اطاعت کی اس نے اللہ کی اور جس نے روگردانی کی تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر نگہبان(80) اور (منافق) کہتے ہیں (ہمارا کام تو) فرماں برداری ہے، پھر جب نکلتے ہیں وہ آپ کے پاس سے تورات کو مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے خلاف اس (بات) کے جو کہتے ہیں آپ، اور اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں، پس اعراض کریں آپ ان سے اور توکل کریں اللہ پر اور کافی ہے اللہ کارساز(81)

[80] یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامر و نواہی میں رسول اللہﷺکی اطاعت کی ﴿ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ﴾ ’’اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہﷺکی عصمت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانے کے بارے میں معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا اور اطاعت کرنے والوں کی مدح نہ فرماتا۔اور اس کا شمار مشترکہ حقوق میں ہوتا ہے۔ یہ حقوق تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا حق۔ یہ حق مخلوق میں سے کسی کے لیے نہیں ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف رغبت ہے اور ان کے توابع ہیں۔(۲)رسول اللہﷺکا حق، جو صرف آپ کے ساتھ مختص ہے وہ ہے آپ کی توقیر اور آپ کا احترام اور آپ کی مدد کرنا۔(۳) حقوق کی تیسری قسم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺکے درمیان مشترکہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کو اس آیت کریمہ میں جمع کر دیا ہے ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ﴾(الفتح : 48؍9) ’’تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔‘‘پس جس نے رسول اللہﷺکی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کے لیے وہی ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مترتب ہوتا ہے ﴿ وَمَنۡ تَوَلّٰى ﴾ ’’جس نے (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے) منہ موڑا‘‘ وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کر سکتا ﴿ فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا﴾ ’’ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو اس لیے مبعوث نہیں کیا کہ آپ ان کے اعمال و احوال کی نگہبانی کریں، بلکہ ہم نے تو آپ کو مبلغ، کھول کھول کر بیان کرنے والا اور ناصح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے آپ کے لیے آپ کا اجر واجب ہو گیا۔ خواہ وہ راہ راست اختیار کریں یا نہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰۲۱ لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ﴾(الغاشیہ : 88؍21۔22) ’’تم ان کو نصیحت کرتے رہو اور تم صرف نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر نگہبان نہیں۔‘‘

[81] نیز یہ بھی لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ظاہر و باطن اور جلوت و خلوت میں ہو۔ رہا وہ شخص جو لوگوں کے سامنے اطاعت اور التزام کا اظہار کرتا ہے اور جب تنہا ہوتا ہے یا اپنے ہم مشرب ٹولے کے ساتھ ہوتا ہے تو اطاعت ترک کر دیتا ہے اور ایسے کام کرتا ہے جو اطاعت کی ضد ہوتے ہیں تو ایسی اطاعت جس کا اس نے اظہار کیا ہے اس کے لیے نفع مند اور مفید نہیں ہے۔ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ طَاعَةٌ ﴾ ’’وہ کہتے ہیں مان لیا۔‘‘ یعنی جب وہ آپﷺکے پاس ہوتے ہیں تو اطاعت کا اظہار کرتے ہیں ﴿ فَاِذَا بَرَزُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ’’جب وہ آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں‘‘ یعنی تنہا ہوتے ہیں اور ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی اس …

82

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُوا۟ فِيهِ ٱخْتِلَٰفًۭا كَثِيرًۭا

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

کیا پس نہیں تدبر (غور و فکر) کرتے وہ قرآن میں؟ اور اگر ہوتا یہ غیر اللہ کی طرف سے تو پاتے وہ اس میں اختلاف بہت(82)

[82] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تدبر کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہاں تدبر سے مراد ہے کتاب اللہ کے معانی میں غور و فکر اس کے مبادی، نتائج و عواقب اور اس کے لوازم میں گہری نظر سے سوچنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تدبر تمام علوم و معارف کی کنجی ہے۔ ہر بھلائی اسی کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہے اور تمام علوم کا استخراج اسی سے کیا جاتا ہے۔ کتاب اللہ ہی سے قلب میں ایمان کا اضافہ ہوتا ہے اور شجرۂ ایمان جڑ پکڑتا ہے۔ کتاب اللہ ہی رب معبود کی معرفت عطا کرتی ہے، اس معرفت سے نوازتی ہے کہ رب معبود کی صفات کمال کیا ہیں اور وہ کون سی صفات نقص سے منزہ ہے۔ کتاب اللہ اس راستے کی معرفت عطا کرتی ہے جو رب معبود تک پہنچاتا ہے نیز اس راستے پر چلنے والے لوگوں کی معرفت سے نوازتی ہے اور ان نعمتوں کا ذکر کرتی ہے جو رب رحیم کی خدمت میں حاضر ہونے پر عطا ہوں گی۔کتاب اللہ بندے کو اس کے دشمن کی معرفت عطا کرتی ہے، ایسا دشمن جو حقیقی دشمن ہے۔ ان راہوں کی نشاندہی کرتی ہے جو انسان کو عذاب کی منزل تک پہنچاتی ہیں۔ ان راہوں پر چلنے والے لوگوں کی معرفت عطا کرتی ہے نیز آگاہ کرتی ہے کہ اسباب عقاب کے وجود پر ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ بندۂ مومن کتاب اللہ میں جتنا زیادہ غور و فکر کرے گا اتنا ہی زیادہ اس کے علم و عمل اور بصیرت میں اضافہ ہو گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ میں تدبر و تفکر کا حکم اور اس کی ترغیب دی ہے۔ اور آگاہ فرمایا کہ قرآن عظیم کو نازل کرنے کا مقصد بھی یہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾(ص:38؍29) ’’یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی جو بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت پکڑیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰى قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُهَا ﴾(محمد : 47؍24) ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔‘‘کتاب اللہ میں تدبر کا فائدہ یہ ہے کہ بندۂ مومن اس کے ذریعے سے درجہ یقین تک پہنچ جاتا ہے اور اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ اسے صاف نظر آتا ہے کہ یہ کلام ایک دوسرے کی تصدیق اور موافقت کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر، احکام، اور اخبار کا اعادہ کیا جاتا ہے مگر ہر مقام پر وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور موافقت کرتے ہیں ایک دوسرے کی مخالفت نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کامل ہے اور ایک ایسی ہستی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس کے علم نے تمام امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اگر یہ (قرآن) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقینا اس میں بہت اختلاف پاتے‘‘ چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لیے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

83

وَإِذَا جَآءَهُمْ أَمْرٌۭ مِّنَ ٱلْأَمْنِ أَوِ ٱلْخَوْفِ أَذَاعُوا۟ بِهِۦ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسْتَنۢبِطُونَهُۥ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ لَٱتَّبَعْتُمُ ٱلشَّيْطَٰنَ إِلَّا قَلِيلًۭا

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات امن کی یا خوف کی تو مشہور کر دیتے ہیں اس کواور اگر لوٹاتے وہ اس کو طرف رسول کی یا طرف اصحاب امر کی ان میں سے تو جان لیتے اس (کی حقیقت) کو وہ لوگ جو تحقیق کرتے ہیں اس کی ان میں سےاور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو ضرور پیچھے لگ جاتے تو شیطان کے مگر تھوڑے ہی(83)

[83] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک غیر مناسب فعل پر تادیب ہے۔ اہل ایمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی اہم معاملہ آئے جس کا تعلق مصالح عامہ، امن اور اہل ایمان کی خوشی کے ساتھ ہو یا اس کا تعلق کسی خوف سے ہو جس کے اندر کوئی مصیبت پوشیدہ ہو تو اس کو اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں اور اس خبر کی اشاعت میں عجلت سے کام نہ لیں۔ بلکہ وہ اس خبر کو رسول اللہﷺ، اصحاب امر، اہل رائے، اہل علم، خیر خواہی کرنے والوں، عقلمندوں، سنجیدہ اور باوقار لوگوں کی طرف لوٹائیں جو ان تمام امور کی معرفت رکھتے ہیں جو مسلمانوں کے مصالح اور ان کے اضداد کی پہچان رکھتے ہیں۔ اگر وہ اس خبر کی اشاعت میں کوئی مصلحت، اہل ایمان کے لیے سرور و نشاط کا کوئی پہلو اور ان کے دشمنوں سے بچاؤ کی کوئی بات دیکھیں تو وہ ضرور ایسا کریں۔ اگر وہ یہ دیکھیں کہ اس میں مسلمانوں کی کوئی مصلحت نہیں ہے یا اس میں مصلحت تو ہے مگر اس کی مضرت اس مصلحت پر حاوی ہے تو وہ اس خبر کو نہ پھیلائیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۢۡبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کرلیتے۔‘‘ یعنی وہ اپنے غور و فکر ، درست آراء اور صحیح راہنمائی کرنے والے علوم کے ذریعے سے درست نتائج کا استخراج کر لیں گے۔ اس آیت کریمہ میں ادب و احترام کے ایک قاعدہ پر دلیل ہے کہ جب کسی معاملے میں بحث اور تحقیق مطلوب ہو تو مناسب یہ ہے کہ معاملہ اس شخص کے سپرد کر دیا جائے جو ذمے دار ہے اور وہ اس معاملے کو تحقیق کے لیے ایسے شخص کے حوالے کر دے جو اس کی اہلیت رکھتا ہے اور ان ذمہ دار اصحاب کی تحقیق سے پہلے کسی رائے کا اظہار نہ کریں۔ یہ طریق کار زیادہ قرین صواب اور خطا سے زیادہ محفوظ ہے۔ اس میں کسی معاملے کو سنتے ہی اس کو پھیلانے میں عجلت اور جلدی کرنے کی ممانعت کی بھی دلیل ہے نیز حکم ہے کہ بولنے سے پہلے اس معاملے میں خوب غور و فکر کر لیا جائے کہ آیا اس میں کوئی مصلحت ہے کہ انسان آگے بڑھ کر کوئی اقدام کرے یا کوئی مصلحت نہیں ہے کہ انسان پیچھے ہٹ جائے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی۔‘‘ یعنی تمھیں توفیق عطا کرنے، ادب سکھانے اور ان امور کی تعلیم دینے میں جو تم نہ جانتے تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی ﴿ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’تو چند لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے‘‘ کیونکہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ظالم اور جاہل ہے، پس اس کا نفس اسے شر کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔ بندہ جب اپنے رب کے پاس پناہ لیتا ہے اور اس کی پناہ میں آ کر گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنے لطف و کرم کے دروازے کھول دیتا ہے اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا کرتا ہے اور اسے شیطان مردود سے بچاتا ہے۔

84

فَقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًۭا وَأَشَدُّ تَنكِيلًۭا

تو (اے محمدﷺ) تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کردے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے

پس لڑیں آپ راستے میں اللہ کے، نہیں ذمے دار بنائے گئے آپ مگر اپنی ہی ذات کے اور رغبت دلائیں مومنوں کو، امید ہے کہ اللہ روک دے لڑائی ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیااور اللہ بہت سخت ہے لڑائی میں اور بہت سخت ہے سزا (دینے) میں(84)

[84] بندۂ مومن کے احوال میں سے بہترین حال یہ ہے کہ جہاد وغیرہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں خود بھی کوشش کرے اور دوسروں کو بھی ترغیب دے۔ کبھی کبھی بندے میں کوئی ایک امر یا دونوں امور معدوم ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺسے فرمایا: ﴿ فَقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفۡسَكَ ﴾ ’’آپ اللہ کی راہ میں لڑیں۔ آپ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ یعنی چونکہ آپ کو اپنی ذات کے سوا کسی دوسرے پر قدرت حاصل نہیں اس لیے آپ کو کسی دوسرے کے فعل کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا۔ ﴿ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾’’اور مومنوں کو بھی ترغیب دیں۔‘‘ یعنی اہل ا یمان کو قتال کی ترغیب دیں اور یہ ترغیب ان تمام امور کو بھی شامل ہے جس سے اہل ایمان کو نشاط، ان کے دلوں کو قوت اور ان کو طاقت حاصل ہوتی ہو۔ نیز یہ ترغیب اس بات کو بھی شامل ہے کہ دشمنوں کے ضعف اور کمزوری سے مومنوں کو آگاہ کیا جائے اور یہ ترغیب اس بات کو شامل ہے کہ مومنوں کو اس امر سے آگاہ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کے لیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے اور جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہنے والوں کے لیے کیا عذاب ہے۔مذکورہ بالا اور اس قسم کے تمام امور جہاد اور قتال کی ترغیب کے زمرے میں آتے ہیں۔﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّؔكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’قریب ہے کہ اللہ کافروں کی لڑائی کو بند کردے۔‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ کے راستے میں تمھارے جہاد اور جہاد کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب دینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کفار کو روک دے۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا ﴾ ’’اور اللہ لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ زیادہ قوت اور غلبہ والا ہے ﴿ وَّاَشَدُّ تَنۡكِيۡلًا﴾ ’’اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے۔‘‘ گناہ گار کو فی نفسہ سخت سزا دیتا ہے۔ جس سے دوسرے کو بھی عبرت ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنی قوت کے ذریعے سے ہی کفار پر غالب آجائے اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑے، مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے اور نفع مند ایمان حاصل ہو، یعنی اختیاری ایمان۔ نہ کہ جبری اضطراری ایمان، جو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا۔

85

مَّن يَشْفَعْ شَفَٰعَةً حَسَنَةًۭ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٌۭ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَٰعَةًۭ سَيِّئَةًۭ يَكُن لَّهُۥ كِفْلٌۭ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ مُّقِيتًۭا

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

جو کوئی سفارش کرے سفارش اچھی، ہوگا اس کے لیے حصہ اس میں سے اور جو کوئی سفارش کرے سفارش بری، ہوگا اس کے لیے حصہ اس میں سےاور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے نگہبان(85)

[85] یہاں شفاعت سے مراد کسی معاملے میں معاونت ہے۔ جو کوئی کسی دوسرے کی بھلائی کے کسی کام میں سفارش کرتا ہے اور اس کام میں اس کی مدد کرتا ہے۔ مثلاً مظلوموں کے بارے میں ظالم کے پاس سفارش کرنا اسے اس کی کوشش اور عمل کے مطابق اس نیک سفارش سے حصہ نصیب ہو گا۔ اور اصل کام کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی اور جو کوئی برائی کے کسی کام میں کسی کی مدد کرتا ہے تو اس کے تعاون اور مدد کے مطابق عذاب میں سے اس کو حصہ ملے گا۔ اس آیت کریمہ میں نیکی اور تقویٰ میں تعاون کے لیے بہت بڑی ترغیب ہے۔ اسی طرح گناہ اور زیادتی کے کاموں میں معاونت پر زجر و توبیخ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے متحقق کیا ہے ﴿ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ مُّؔقِيۡتًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز کا گواہ اور حفاظت کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ان اعمال کا حساب لے گا اور ہر شخص کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔

86

وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍۢ فَحَيُّوا۟ بِأَحْسَنَ مِنْهَآ أَوْ رُدُّوهَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَسِيبًا

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو بےشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

اور جب دعا دیے جاؤ تم ساتھ دعا کے تو دعا دو تم ساتھ زیادہ بہتر کے اس سے یا لوٹا دو اسی (دعا) ہی کو تحقیق اللہ ہے ہر چیز کا حساب لینے والا(86)

[86](تَحِیَّۃ)کا لفظ دو ملاقاتیوں میں سے کسی ایک سے عزت و احترام نیز دعا اور بشاشت وغیرہ کے طور پر صادر ہوتا ہے۔ سلام و دعا کا بہترین طریقہ وہ ہے جو سلام کرنے اور اس کا جواب دینے کے بارے میں شریعت میں وارد ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب انھیں کسی بھی طریقے سے سلام کیا جائے تو وہ الفاظ اور بشاشت کے اعتبار سے اس سے بہتر یا اسی طریقے سے سلام کا جواب دیں۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سلام کا بالکل جواب نہ دینے یا کمتر طریقے سے جواب دینے سے روکا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔(۱)اللہ تعالیٰ نے سلام کا بہتر طریقے سے یا ویسا ہی جواب دینے کا حکم دیا ہے اور اس سے یہ امر لازم آتا ہے کہ سلام درحقیقت شرعاً مطلوب ہے۔(۲) لفظ (اَحَسَنَ) سے جو کہ ’’اَفْعَلُ التَّفْضِیْل‘‘ ہے، جو چیز مستفاد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سلام اور اس کا جواب لفظ ’’حسن‘‘ میں دونوں شریک ہیں جیسا کہ اس بارے میں یہ چیز اصل ہے۔آیت کریمہ کے عموم سے وہ شخص مستثنیٰ ہے جو کسی کو ایسے حال میں سلام کرتا ہے جس میں اسے سلام کرنے کا حکم نہ تھا۔ مثلاً کسی ایسے شخص کو سلام کرنا جو قراء ت قرآن میں مشغول ہو، خطبہ سن رہا ہو یا نماز پڑھ رہا ہو۔( لیکن شریعت نے ان حالتوں میں سلام کرنے سے کہاں منع کیا ہے؟ اس لیے فاضل مفسر کا ان مقامات کو مستثنیٰ کرنا بلا دلیل ہے۔ بلکہ یہ مقامات بھی سلام کرنے کے عموم میں داخل ہیں اور نماز کی حالت میں سلام کرنے کی اور اشارے کے ساتھ جواب دینے کی صراحت ترمذی کی حدیث میں موجود ہے)(ص۔ی) کیونکہ وہ اپنے سلام کے جواب کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح وہ شخص بھی آیت کریمہ کے عموم سے مستثنیٰ ہے جس سے قطع کلامی اور سلام نہ کرنے کا حکم شارع نے دیا ہو۔ یہ وہ نافرمان شخص ہے جس نے توبہ نہ کی ہو جو بول چال اور سلام کی بندش کی وجہ سے نافرمانیوں سے باز آ جاتا ہے۔ پس ایسے شخص سے بول چال بند کر دی جائے اسے سلام کیا جائے نہ سلام کا جواب دیا جائے۔ یہ سب کچھ بڑی مصلحت کے قیام کی خاطر ہے۔ سلام کا جواب دینے میں ہر قسم کے سلام کا جواب دینا شامل ہے جس کے لوگ عام طور پر عادی ہیں۔ ایسا کرنا شرعاً ممنوع نہیں، کیونکہ بندہ سلام کا جواب دینے اور اس سے بہتر جواب دینے پر مامور ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں پر ثواب کا وعدہ اور برائی کے کاموں پر وعید سنائی ہے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَسِيۡبًا ﴾ پس وہ اپنے بندوں کے اچھے برے اور چھوٹے بڑے تمام اعمال کا حساب رکھتا ہے پھر وہ اپنے فضل و عدل اور قابل تعریف فیصلے کے تقاضے کے مطابق ان کو جزا و سزا دے گا۔

87

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثًۭا

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟

اللہ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر وہی، البتہ ضرور جمع کرے گا وہ تم کو دن قیامت کے نہیں ہے شک اس میں اور کون زیادہ سچا ہے اللہ سے، بات میں؟(87)

[87] اللہ تعالیٰ وحدانیت میں اپنی انفرادیت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود اور الٰہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات اور اوصاف میں کامل ہے نیز اس لیے کہ وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں اور ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے میں متفرد ہے اور یہ امر اس کی عبادت اور عبودیت کی تمام انواع کے ذریعے سے اس کے تقرب کو مستلزم ہے۔ اس لیے اس نے محل جزا کے وقوع یعنی روز قیامت پر قسم کھائی ہے فرمایا: ﴿ لَيَجۡمَعَنَّـكُمۡ ﴾ ’’وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے اولین و آخرین کو ایک ہی جگہ پر جمع کرے گا ﴿ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ ’’قیامت کے دن‘‘ یعنی عقلی اور سمعی دلیل کے اعتبار سے کسی بھی پہلو سے قیامت میں کوئی شک نہیں۔ رہی عقلی دلیل تو ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ زمین کے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اسے زندگی عطا کرتا ہے۔ امکان کے اعتبار سے پہلی دفعہ پیدا کرنے سے دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہے۔حکمت الٰہی انسان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ قطعی طور پر جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو عبث پیدا نہیں کیا۔ کہ وہ زندگی حاصل کریں گے اور بس مر جائیں گے۔ (اور اس کے بعد کچھ نہیں ہو گا، ایسا نہیں ہو گا، بلکہ روز قیامت حساب ہو گا) رہی سمعی اور نقلی دلیل تو سب سے زیادہ سچی ہستی نے اس کے وقوع کے بارے میں خبر دی ہے بلکہ اس پر قسم کھائی ہے۔ ﴿ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا﴾ ’’اللہ سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہوگا‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر رسول اللہﷺکو اس حقیقت پر قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ زَعَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنۡ لَّنۡ يُّبۡعَثُوۡا١ؕ قُلۡ بَلٰى وَرَبِّيۡ لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡ١ؕ وَذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾(التغابن : 64؍7) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، سمجھتے ہیں کہ انھیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا نہیں جائے گا کہہ دو ہاں میرے رب کی قسم! تمھیں ضرور اٹھایا جائے گا اور جو اعمال تم نے کیے ہیں ان کے بارے میں تمھیں ضرور بتایا جائے گا اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا﴾ اور ﴿وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيۡلًا ﴾ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات اس کی خبریں اور اس کے اقوال صداقت کے اعلیٰ مراتب بلکہ اعلیٰ ترین مراتب پر ہیں۔لہٰذا ہر وہ بات جو عقائد، علوم اور اعمال کے بارے میں کہی گئی ہو اگر وہ اللہ تعالیٰ کی خبر کے خلاف ہے تو وہ باطل ہے کیونکہ یہ امور یقینی طور پر سچی خبر کے متناقض ہیں ان کا حق ہونا ممکن ہی نہیں۔

88

۞ فَمَا لَكُمْ فِى ٱلْمُنَٰفِقِينَ فِئَتَيْنِ وَٱللَّهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓا۟ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُوا۟ مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلًۭا

تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو رستے پر لے آؤ اور جس شخص کو خدا گمراہ کردے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہیں پاؤ گے

پس کیا ہے تمھیں کہ منافقوں (کے بارے) میں دو گروہ ہوگئے؟ اور اللہ نے الٹ دیا ان کو بہ سبب ان (اعمال) کے جو انھوں نے کمائے، کیا چاہتے ہو تم کہ ہدایت دو ان کو جنھیں گمراہ کیا اللہ نے؟ اور جسے گمراہ کرے اللہ پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(88) چاہتے ہیں یہ لوگ کاش کہ کفر کرو تم جس طرح کفر کیا انھوں نے، پس ہو جاؤ تم (اور وہ) برابر، پس نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں راستے میں اللہ کے ، پھر اگر پھر جائیں وہ تو پکڑو ان کو اور قتل کرو ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کو اور نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست اور نہ مددگار(89) سوائے ان لوگوں کے جو جا ملتے ہیں اس قوم سے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان عہد ہے یا آتے ہیں تمھارے پاس (اس حال میں) کہ تنگ ہیں ان کے سینے اس بات سے کہ لڑیں وہ تم سے یا لڑیں وہ اپنی قوم سےاور اگر چاہتا اللہ تو مسلط کر دیتا ان کو تم پر پس لڑتے وہ تم سے ، پھر اگر کناہ کش رہیں وہ تم سےاور نہ لڑیں تم سے اور پیش کریں تمھاری طرف صلح تو نہیں بنائی اللہ نے تمھارے لیے ان پر کوئی راہ (ان سے لڑنے کی)(90) عنقریب تم پاؤ گے کچھ اور لوگوں کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں وہ تم سے اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (بھی) جب بھی لوٹائے جاتے ہیں وہ طرف فتنے کی تو الٹا دیے جاتے ہیں اس میں، پس اگر وہ نہ کنارہ کش رہیں تم سے اور نہ پیش کریں تمھاری طرف صلح اور نہ روکیں تم سے اپنے ہاتھ تو پکڑو تم ان کو اور قتل کرو تم ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کواور یہی لوگ ہیں کہ کیا ہم نے تمھارے لیے ان پر غلبہ ظاہر(91)

[89,88] ان آیات کریمہ(یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ: ’’صحیحین میں حضرت زید بن ارقمt سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جنگ احد کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامy کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَتَيۡنِ﴾ ’’پس تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہورہے ہو؟‘‘ (اس موقع پر) نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک مدینہ پاک ہے اور بلاشبہ مدینہ بدطینت افراد کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔‘‘اس اضافے کی جگہ پر دلالت کرنے والی کوئی علامت یہاں موجود نہیں۔ (محقق) پتہ نہیں اس سے فاضل محقق کا مطلب کیا ہے؟ ورنہ اس حدیث کی مناسبت تو آیت :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ …﴾ کے ساتھ بالکل واضح ہے کیونکہ اس سے شان نزول کی وضاحت ہورہی ہے) (ص۔ي) میں مذکور منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامyمیں اشتباہ واقع ہو گیا۔ چنانچہ بعض صحابہyان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے۔ اور بعض صحابہyکو چونکہ ان کے افعال کے قرینے سے ان کے احوال کا علم تھا اس لیے انھوں نے ان پر کفر کا حکم لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ بلکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں کہ وہ منافق ہیں۔ وہ اپنے کفر کا بار بار اظہار کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر بن کر انھی کی مانند ہو جاؤ۔ پس جب تمھارے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ﴿ فَلَا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’تو تم ان کو دوست نہ بناؤ۔‘‘ یہ ممانعت ان کے ساتھ عدم محبت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ موالات اور دوستی محبت ہی کی ایک شاخ ہے۔ نیز یہ ممانعت ان کے ساتھ بغض اور عداوت کو …

89

وَدُّوا۟ لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا۟ فَتَكُونُونَ سَوَآءًۭ ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنْهُمْ أَوْلِيَآءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَخُذُوهُمْ وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنْهُمْ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًا

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

پس کیا ہے تمھیں کہ منافقوں (کے بارے) میں دو گروہ ہوگئے؟ اور اللہ نے الٹ دیا ان کو بہ سبب ان (اعمال) کے جو انھوں نے کمائے، کیا چاہتے ہو تم کہ ہدایت دو ان کو جنھیں گمراہ کیا اللہ نے؟ اور جسے گمراہ کرے اللہ پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(88) چاہتے ہیں یہ لوگ کاش کہ کفر کرو تم جس طرح کفر کیا انھوں نے، پس ہو جاؤ تم (اور وہ) برابر، پس نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں راستے میں اللہ کے ، پھر اگر پھر جائیں وہ تو پکڑو ان کو اور قتل کرو ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کو اور نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست اور نہ مددگار(89) سوائے ان لوگوں کے جو جا ملتے ہیں اس قوم سے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان عہد ہے یا آتے ہیں تمھارے پاس (اس حال میں) کہ تنگ ہیں ان کے سینے اس بات سے کہ لڑیں وہ تم سے یا لڑیں وہ اپنی قوم سےاور اگر چاہتا اللہ تو مسلط کر دیتا ان کو تم پر پس لڑتے وہ تم سے ، پھر اگر کناہ کش رہیں وہ تم سےاور نہ لڑیں تم سے اور پیش کریں تمھاری طرف صلح تو نہیں بنائی اللہ نے تمھارے لیے ان پر کوئی راہ (ان سے لڑنے کی)(90) عنقریب تم پاؤ گے کچھ اور لوگوں کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں وہ تم سے اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (بھی) جب بھی لوٹائے جاتے ہیں وہ طرف فتنے کی تو الٹا دیے جاتے ہیں اس میں، پس اگر وہ نہ کنارہ کش رہیں تم سے اور نہ پیش کریں تمھاری طرف صلح اور نہ روکیں تم سے اپنے ہاتھ تو پکڑو تم ان کو اور قتل کرو تم ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کواور یہی لوگ ہیں کہ کیا ہم نے تمھارے لیے ان پر غلبہ ظاہر(91)

[89,88] ان آیات کریمہ(یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ: ’’صحیحین میں حضرت زید بن ارقمt سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جنگ احد کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامy کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَتَيۡنِ﴾ ’’پس تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہورہے ہو؟‘‘ (اس موقع پر) نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک مدینہ پاک ہے اور بلاشبہ مدینہ بدطینت افراد کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔‘‘اس اضافے کی جگہ پر دلالت کرنے والی کوئی علامت یہاں موجود نہیں۔ (محقق) پتہ نہیں اس سے فاضل محقق کا مطلب کیا ہے؟ ورنہ اس حدیث کی مناسبت تو آیت :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ …﴾ کے ساتھ بالکل واضح ہے کیونکہ اس سے شان نزول کی وضاحت ہورہی ہے) (ص۔ي) میں مذکور منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامyمیں اشتباہ واقع ہو گیا۔ چنانچہ بعض صحابہyان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے۔ اور بعض صحابہyکو چونکہ ان کے افعال کے قرینے سے ان کے احوال کا علم تھا اس لیے انھوں نے ان پر کفر کا حکم لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ بلکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں کہ وہ منافق ہیں۔ وہ اپنے کفر کا بار بار اظہار کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر بن کر انھی کی مانند ہو جاؤ۔ پس جب تمھارے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ﴿ فَلَا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’تو تم ان کو دوست نہ بناؤ۔‘‘ یہ ممانعت ان کے ساتھ عدم محبت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ موالات اور دوستی محبت ہی کی ایک شاخ ہے۔ نیز یہ ممانعت ان کے ساتھ بغض اور عداوت کو …

90

إِلَّا ٱلَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَٰقٌ أَوْ جَآءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَٰتِلُوكُمْ أَوْ يُقَٰتِلُوا۟ قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَٰتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ ٱعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَٰتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًۭا

مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی

پس کیا ہے تمھیں کہ منافقوں (کے بارے) میں دو گروہ ہوگئے؟ اور اللہ نے الٹ دیا ان کو بہ سبب ان (اعمال) کے جو انھوں نے کمائے، کیا چاہتے ہو تم کہ ہدایت دو ان کو جنھیں گمراہ کیا اللہ نے؟ اور جسے گمراہ کرے اللہ پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(88) چاہتے ہیں یہ لوگ کاش کہ کفر کرو تم جس طرح کفر کیا انھوں نے، پس ہو جاؤ تم (اور وہ) برابر، پس نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں راستے میں اللہ کے ، پھر اگر پھر جائیں وہ تو پکڑو ان کو اور قتل کرو ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کو اور نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست اور نہ مددگار(89) سوائے ان لوگوں کے جو جا ملتے ہیں اس قوم سے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان عہد ہے یا آتے ہیں تمھارے پاس (اس حال میں) کہ تنگ ہیں ان کے سینے اس بات سے کہ لڑیں وہ تم سے یا لڑیں وہ اپنی قوم سےاور اگر چاہتا اللہ تو مسلط کر دیتا ان کو تم پر پس لڑتے وہ تم سے ، پھر اگر کناہ کش رہیں وہ تم سےاور نہ لڑیں تم سے اور پیش کریں تمھاری طرف صلح تو نہیں بنائی اللہ نے تمھارے لیے ان پر کوئی راہ (ان سے لڑنے کی)(90) عنقریب تم پاؤ گے کچھ اور لوگوں کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں وہ تم سے اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (بھی) جب بھی لوٹائے جاتے ہیں وہ طرف فتنے کی تو الٹا دیے جاتے ہیں اس میں، پس اگر وہ نہ کنارہ کش رہیں تم سے اور نہ پیش کریں تمھاری طرف صلح اور نہ روکیں تم سے اپنے ہاتھ تو پکڑو تم ان کو اور قتل کرو تم ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کواور یہی لوگ ہیں کہ کیا ہم نے تمھارے لیے ان پر غلبہ ظاہر(91)

[89,88] ان آیات کریمہ(یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ: ’’صحیحین میں حضرت زید بن ارقمt سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جنگ احد کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامy کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَتَيۡنِ﴾ ’’پس تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہورہے ہو؟‘‘ (اس موقع پر) نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک مدینہ پاک ہے اور بلاشبہ مدینہ بدطینت افراد کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔‘‘اس اضافے کی جگہ پر دلالت کرنے والی کوئی علامت یہاں موجود نہیں۔ (محقق) پتہ نہیں اس سے فاضل محقق کا مطلب کیا ہے؟ ورنہ اس حدیث کی مناسبت تو آیت :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ …﴾ کے ساتھ بالکل واضح ہے کیونکہ اس سے شان نزول کی وضاحت ہورہی ہے) (ص۔ي) میں مذکور منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامyمیں اشتباہ واقع ہو گیا۔ چنانچہ بعض صحابہyان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے۔ اور بعض صحابہyکو چونکہ ان کے افعال کے قرینے سے ان کے احوال کا علم تھا اس لیے انھوں نے ان پر کفر کا حکم لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ بلکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں کہ وہ منافق ہیں۔ وہ اپنے کفر کا بار بار اظہار کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر بن کر انھی کی مانند ہو جاؤ۔ پس جب تمھارے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ﴿ فَلَا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’تو تم ان کو دوست نہ بناؤ۔‘‘ یہ ممانعت ان کے ساتھ عدم محبت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ موالات اور دوستی محبت ہی کی ایک شاخ ہے۔ نیز یہ ممانعت ان کے ساتھ بغض اور عداوت کو …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.