Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 71–80 of 176

71

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ خُذُوا۟ حِذْرَكُمْ فَٱنفِرُوا۟ ثُبَاتٍ أَوِ ٱنفِرُوا۟ جَمِيعًۭا

مومنو! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکھٹے کوچ کیا کرو

اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم فرمایا اور اس کی ترغیب کے سلسلہ میں یہ بھی بتایا کہ اس اطاعت سے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت حاصل ہوگی۔ اب اس آیت میں جہاد کا حکم فرمایا، جو سب سے مشکل اطاعت ہے اور کفار و منافقین سے پورا بچاؤ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ حالات کے مطابق الگ الگ دستوں یا اکٹھے لشکر کی صورت نکلنے میں سے جو بہتر ہو اختیار کرو۔

72

وَإِنَّ مِنكُمْ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنْ أَصَٰبَتْكُم مُّصِيبَةٌۭ قَالَ قَدْ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَىَّ إِذْ لَمْ أَكُن مَّعَهُمْ شَهِيدًۭا

اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمداً) دیر لگاتا ہے۔ پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑ جائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ پر بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا

یہ مسلمانوں میں منافقوں کے کردار کا تذکرہ ہے، یعنی ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دیدہ و دانستہ اور حیلوں بہانوں سے جہاد پر نکلنے میں دیر کرتے ہیں اور پیچھے رہ جانے کی کوشش کرتے ہیں، پھر اگر اس سفر جہاد میں مسلمانوں کو کچھ تکلیف پہنچے تو بڑے خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ میں پیچھے رہ گیا، ورنہ مجھے بھی وہ دکھ اٹھانا پڑتا جو دوسرے مسلمانوں نے اٹھایا ہے اور اگر مسلمانوں کو فتح و خوشی نصیب ہو اور غنیمت کا مال ہاتھ لگے تو حسرت سے کہتے ہیں کہ اگر ہم بھی ان میں شامل ہوتے تو ہمارا بھی کام بن جاتا۔ یہ جملہ وہ اس انداز سے ادا کرتے جیسے پہلے ان کا اور مسلمانوں کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ ان دونوں صورتوں میں انھیں محض دنیاوی تکلیف اور دنیاوی مفادات ہی کا احساس ہوتا ہے، اخروی زندگی یا رضائے الٰہی سے انھیں کبھی غرض نہیں ہوتی اور یہی ان کے منافق ہونے اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے کی دلیل ہے۔

73

وَلَئِنْ أَصَٰبَكُمْ فَضْلٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَن لَّمْ تَكُنۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُۥ مَوَدَّةٌۭ يَٰلَيْتَنِى كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًۭا

اور اگر خدا تم پر فضل کرے تو اس طرح سے کہ گویا تم میں اس میں دوستی تھی ہی نہیں (کہ افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرتا

Explained together with ayah 72

74

۞ فَلْيُقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يَشْرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا بِٱلْءَاخِرَةِ ۚ وَمَن يُقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًۭا

تو جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

فَلْيُقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ ۔۔ : اوپر کی دو آیتوں میں جہاد سے پیچھے رہنے والوں اور دوسروں کو روکنے والوں، یعنی ” مُبَطِّئِیْنَ “ کی مذمت کے بعد اب مخلصین کو ترغیب دی جا رہی ہے۔ (رازی) ” شَرَیٰ یَشْرِیْ “ کے معنی بیچنا اور خریدنا دونوں آتے ہیں، یہاں ترجمہ بیچنے کا کیا گیا ہے اور اکثر مفسرین نے اسے ترجیح دی ہے، لیکن اگر اسے خریدنے کے معنی میں لیا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جو منافق گھر میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے آخرت کے بدلے دنیا خرید رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں اور آخرت کا نقصان کر کے دنیا حاصل نہ کریں۔ (فتح القدیر۔ طبری) - فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا : یعنی مسلمانوں پر لازم ہے کہ دنیا کی زندگی پر نظر نہ رکھیں، بلکہ آخرت کی خواہش رکھیں اور سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں ہر طرح نفع ہے۔ (موضح) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کے دو ہی نتیجے ہوسکتے ہیں، شہادت یا فتح اور دونوں مسلمانوں کے حق میں خوش کن ہیں، کیونکہ دونوں ہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ۭ ) [ التوبۃ : ٥٢ ] ” کہہ دے تم ہمارے بارے میں دو بہترین چیزوں میں سے ایک کے سوا کس کا انتظار کرتے ہو۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے اس شخص کے لیے ضمانت دی ہے کہ جس شخص کو اس کے راستے میں جہاد اور اس کے کلمات کی تصدیق کے سوا کوئی چیز نہیں نکالتی، وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، یا اس کی رہائش گاہ پر لائے گا، جہاں سے وہ نکلا تھا، ساتھ وہ اجر اور غنیمت بھی ہوگی جو اس نے حاصل کی۔ [ بخاری، فرض الخمس، باب قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أحلت لکم الغنائم : ٣١٢٣، عن أبی ہریرہ ]

75

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَٰنِ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلظَّالِمِ أَهْلُهَا وَٱجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّۭا وَٱجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما

اس آیت کا تعلق بھی ترغیب جہاد سے ہے، یعنی دو وجوہ کی بنا پر تمہارے لیے کفار سے لڑنا ضروری ہے، اول : اعلائے کلمۃ اللہ، یعنی اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے، دوم ان مظلوم مسلمانوں کو نجات دلانے کے لیے جو کفار کے چنگل میں بےبس پڑے ہیں۔ (قرطبی) مکہ معظمہ میں بہت سے لوگ ایسے رہ گئے تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے تھے اور ان کے اقارب ان پر تشدد کرنے لگے تھے، تاکہ انھیں اسلام سے پھیر کر پھر کافر بنالیں۔ پس ” الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا ۚ“ سے مراد مکہ ہے اور مشرک ہونے کی وجہ سے یا مظلوم مسلمانوں کو ستانے کی وجہ سے اس کے باشندوں کو ظالم فرمایا ہے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور میری والدہ بھی ان ” مستضعفین “ (بےبس مسلمانوں میں) شامل تھے (جنھیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا) ۔ [ بخاری، التفسیر : ٤٥٨٤ ] مدینہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان ” مستضعفین “ کے حق میں نام لے کر دعا فرمایا کرتے تھے : ( اَللّٰہُمَّ اَنْجِ الْوَلِیْدَ بْنَ الْوَلِیْدِ وَ سَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ وَ عَیَّاشَ بْنَ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ )” یا اللہ ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور (مکہ میں گھرے ہوئے) دوسرے بےبس مسلمانوں کو رہائی دلا۔ “ [ بخاری، الأذان، باب یھوی بالتکبیر حین یسجد : ٨٠٤، عن أبی ہریرہ ] افسوس کہ اس وقت مسلمان کفار کے مختلف ممالک کی غلامی میں بےبس ہیں، وہ انھیں نہ آزادی دیتے ہیں نہ نکلنے دیتے ہیں اور نہ کوئی مسلمان ملک انھیں قبول کرنے کے لیے تیار ہے، بتائیں اس وقت سے بڑھ کر جہاد کب فرض ہوگا۔

76

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱلطَّٰغُوتِ فَقَٰتِلُوٓا۟ أَوْلِيَآءَ ٱلشَّيْطَٰنِ ۖ إِنَّ كَيْدَ ٱلشَّيْطَٰنِ كَانَ ضَعِيفًا

جو مومن ہیں وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو۔ (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بودا ہوتا ہے

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ …. جہاد کی فرضیت اور ترغیب کے بعد اس آیت میں بتایا کہ جہاد کی ظاہری صورت کا اعتبار نہیں ہے، بلکہ جہاد اپنے مقصد کے اعتبار سے جہاد ہے، مومن ہمیشہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرتا ہے اور کافر کسی طاغوتی طاقت کو بچانے یا مضبوط کرنے کے لیے لڑتے ہیں، لہٰذا تم ان سے خوب لڑو۔ شیطان خواہ اپنے دوستوں کو کتنے ہی مکر و فریب سمجھائے، مگر تمہارے خلاف وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔

77

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوٓا۟ أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌۭ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ ٱلنَّاسَ كَخَشْيَةِ ٱللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةًۭ ۚ وَقَالُوا۟ رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا ٱلْقِتَالَ لَوْلَآ أَخَّرْتَنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ ۗ قُلْ مَتَٰعُ ٱلدُّنْيَا قَلِيلٌۭ وَٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّمَنِ ٱتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی (اے پیغمبر ان س) ے کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ ۔۔ : یعنی جب تک مسلمان مکہ میں تھے اور کافر انھیں ایذا دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے انھیں لڑنے سے روکے رکھا اور صبر کا حکم فرمایا، اب جو ( مدینہ منورہ) میں لڑائی کا حکم آیا ہے تو ان کو سمجھنا چاہیے کہ ہماری مراد ملی، لیکن کچے مسلمان کنارہ کرتے ہیں اور موت سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے برابر آدمیوں سے خطرہ کرتے ہیں۔ (موضح) متعدد روایات میں ہے کہ مسلمانوں نے مکی زندگی میں کئی دفعہ چاہا کہ ظالموں سے دو بدو نمٹیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو حکم ہوتا کہ ابھی نماز اور زکوٰۃ (مال خرچ کرنے) کا جو تمہیں حکم ہوا ہے اس کی خوب عادت ڈالو، تاکہ تمہاری تربیت ہوجائے، مدینہ منورہ میں بھی ہجرت کے ابتدائی برسوں میں مسلمانوں کی خواہش یہی تھی، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے لڑائی کی اجازت آگئی تو اب بعض خام قسم کے مسلمان اس سے ہچکچانے لگے، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر۔ قرطبی) - لَوْلَآ اَخَّرْتَنَآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۭ : شاہ عبد القادر (رض) کا ترجمہ یہ ہے : ” کیوں نہ جینے دیا ہم کو تھوڑی سی عمر “ جو اب آگے ہے۔ بعض نے ترجمہ کیا ہے : ” قتال کی فرضیت کا یہ حکم نازل کرنے میں تو نے ہمیں کچھ مہلت کیوں نہ دی ؟ “ - قُلْ مَتَاع الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ : لڑائی سے ہچکچانے والے کمزور ایمان والوں اور منافقین کا حوصلہ دو باتوں سے بلند فرمایا ہے، پہلی تو یہ کہ دنیا کی بےثباتی کا ذکر کر کے جہاد کی ترغیب دی ہے، دنیا جتنی بھی ہو فانی ہے اور فانی جتنی بھی ہو قلیل (بہت تھوڑی) ہے۔ فانی اور باقی کا مقابلہ ہی کیا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس طرح کوئی شخص سمندر میں انگلی ڈبو کر نکالے اور اس کی انگلی میں تھوڑی سی نمی رہ جائے، ایسی ہی مثال دنیا اور آخرت کی ہے۔ “ [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمہا، باب قتاء الدنیا ۔۔ : ٢٨٥٨، عن المستورد الفھری ] اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میری اور دنیا کی مثال ایک مسافر کی سی ہے، جو ایک درخت کے سائے میں آرام کرتا ہے اور پھر اسے چھوڑ کر روانہ ہوجاتا ہے۔ “ [ ترمذی، الزھد، باب منہ حدیث ” ما الدنیا۔۔ الخ “ : ٢٣٧٧، عن ابن مسعود ]- اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ : ” بروج “ یہ ” بُرْجٌ“ کی جمع ہے، مضبوط عمارت، قلعہ۔ ” مشیدۃ “ جو ” اَلشِّیْدُ “ یعنی چونے سے بنے ہوئے ہوں۔ یہ جہاد کے لیے حوصلہ بڑھانے والی دوسری بات ہے کہ جب موت سے تمہیں کسی حال میں چھٹکارا نہیں تو پھر اللہ کی راہ میں جہاد سے کیوں ہچکچاتے ہو۔ اس مطلب کی آیات قرآن کریم میں بہت ہیں، چناچہ فرمایا : ( قُلْ لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ ) [ الأحزاب : ١٦] ” کہہ دے تمہیں بھاگنا ہرگز نفع نہ دے گا اگر تم مرنے یا قتل ہونے سے بھاگو۔ “ اور فرمایا : ( قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِيْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِيْكُمْ ) [ الجمعۃ : ٨ ] ” کہہ دے بلاشبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو سو یقیناً وہ تم سے ملنے والی ہے۔ “ اور فرمایا : (كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ ) [ آل عمران : ١٨٥ ] ” ہر جان موت کو چکنے والی ہے۔ “- وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ ۔۔ : اوپر منافقین کی دو مذموم خصلتیں بتائیں، ایک جہاد سے جی چرانا دوسری موت سے ڈرنا، اب یہاں ان کی ایک اور مذموم خصلت کا ذکر فرمایا جو پہلی دونوں سے بری ہے، یعنی نحوست کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کرنا۔ یہاں ” حسنۃ “ (بھلائی) سے مراد فتح، نصرت، غلبہ اور خوش حالی وغیرہ ہے اور ” سیءۃ “ سے مراد لڑائی میں نقصان، مصیبت، قتل اور ہزیمت وغیرہ ہے۔ - قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ : یہ ان کے کلام کا جواب ہے کہ برائی اور بھلائی دونوں اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم سے ہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے والا وہی ہے، بلا …

78

أَيْنَمَا تَكُونُوا۟ يُدْرِككُّمُ ٱلْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِى بُرُوجٍۢ مُّشَيَّدَةٍۢ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌۭ يَقُولُوا۟ هَٰذِهِۦ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَقُولُوا۟ هَٰذِهِۦ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ فَمَالِ هَٰٓؤُلَآءِ ٱلْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًۭا

(اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے

Explained together with ayah 77

79

مَّآ أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍۢ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ وَمَآ أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍۢ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ وَأَرْسَلْنَٰكَ لِلنَّاسِ رَسُولًۭا ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۭا

اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ ۔۔ : اس میں برائی اور بھلائی کا ایک قانون بیان فرما دیا ہے کہ بھلائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے اس کا بھیجنے والا بھی گو اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے مگر اس کا سبب تمہارے گناہ ہوتے ہیں۔ [ دیکھیے الشوریٰ : ٣٠ ] اس لیے سلف صالحین کا عام قاعدہ تھا کہ جب کوئی اجتہادی رائے پیش کرتے تو کہتے، اگر یہ صحیح ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اسی کی توفیق سے ہے اور اگر غلط ہے تو ہماری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ ( ابن کثیر) اوپر کی آیت میں پیدا کرنے اور وجود میں لانے کے اعتبار سے ” حسنہ “ اور ” سیۂ “ دونوں کو ” من عند اللہ “ ( اللہ کی طرف سے) قرار دیا ہے کہ دونوں چیزیں اسی نے پیدا کی ہیں، لیکن سبب اور کسب کی مناسبت سے برائی کی نسبت انسان کی طرف کردی ہے، لہٰذا کوئی تعارض نہیں ہے۔ (رازی) موضح میں ہے : ” بندہ کو چاہیے کہ نیکی اللہ کا فضل سمجھے اور تکلیف اپنی تقصیر سے۔ تقصیروں سے اللہ واقف ہے اور وہی خبر دیتا ہے۔ “ - وَاَرْسَلْنٰكَ للنَّاسِ رَسُوْلًا ۭ ۔۔ : یعنی آپ کا اصل منصب رسالت اور تبلیغ ہے اور اللہ گواہ ہے کہ آپ نے اس امانت کے ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی اور وہ کافی گواہ ہے، پھر اس کے بعد بھی اگر کسی کو ہدایت نہیں ہوتی تو آپ کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ (رازی) نیز یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمومی رسالت کا بیان بھی ہے۔ کہ آپ تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ (دیکھیے الأعراف : ١٥٨۔ سبا : ١٢٨ )

80

مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا

جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا

مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ : چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول اور مبلغ ہیں، اس لیے ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دوسرے شریعت کے احکام سب ایسے ہیں جنھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توضیح کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں، لہٰذا قرآن مجید سمجھنے کے لیے کوئی شخص سنت سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ” الرسالۃ للشافعی “ رقم : ٥٧، ٥٨، ایضًا بحث البیان الرابع ]- وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : یعنی اس کے بعد بھی اگر لوگ گمراہ ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں، اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے۔ (رازی)

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.