Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 71–80 of 176

71

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ خُذُوا۟ حِذْرَكُمْ فَٱنفِرُوا۟ ثُبَاتٍ أَوِ ٱنفِرُوا۟ جَمِيعًۭا

مومنو! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکھٹے کوچ کیا کرو

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔

خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

72

وَإِنَّ مِنكُمْ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنْ أَصَٰبَتْكُم مُّصِيبَةٌۭ قَالَ قَدْ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَىَّ إِذْ لَمْ أَكُن مَّعَهُمْ شَهِيدًۭا

اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمداً) دیر لگاتا ہے۔ پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑ جائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ پر بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔

خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

73

وَلَئِنْ أَصَٰبَكُمْ فَضْلٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَن لَّمْ تَكُنۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُۥ مَوَدَّةٌۭ يَٰلَيْتَنِى كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًۭا

اور اگر خدا تم پر فضل کرے تو اس طرح سے کہ گویا تم میں اس میں دوستی تھی ہی نہیں (کہ افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرتا

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔

خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

74

۞ فَلْيُقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يَشْرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا بِٱلْءَاخِرَةِ ۚ وَمَن يُقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًۭا

تو جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔

خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

75

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَٰنِ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلظَّالِمِ أَهْلُهَا وَٱجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّۭا وَٱجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔

خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

76

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱلطَّٰغُوتِ فَقَٰتِلُوٓا۟ أَوْلِيَآءَ ٱلشَّيْطَٰنِ ۖ إِنَّ كَيْدَ ٱلشَّيْطَٰنِ كَانَ ضَعِيفًا

جو مومن ہیں وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو۔ (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بودا ہوتا ہے

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔

خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

77

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوٓا۟ أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌۭ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ ٱلنَّاسَ كَخَشْيَةِ ٱللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةًۭ ۚ وَقَالُوا۟ رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا ٱلْقِتَالَ لَوْلَآ أَخَّرْتَنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ ۗ قُلْ مَتَٰعُ ٱلدُّنْيَا قَلِيلٌۭ وَٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّمَنِ ٱتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی (اے پیغمبر ان س) ے کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

ہجرت سے پہلے مکہ میںاسلام کے مخالفین مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے۔ مارنا پیٹنا، ان کی معاشیات کو تباہ کرنا، ان کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، ان کو تبلیغ کی اجازت نہ دینا، ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا، يه سب انھوں نے مسلمانوں کے لیے جائز کرلیا تھا ۔ جو شخص اسلام قبول کرتا اس پر وہ ہر قسم کا دباؤ ڈالتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائے۔ مخالفین اسلام کی اس جارحیت نے مسلمانوں کے لیے اصولاً جائز کردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار جنگ کی اجازت مانگتے۔ مگر آپ ہمیشہ یہ کہتے کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیاگیا۔ تم صبر کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبل از وقت کوئی اقدام کرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ مکہ میں مسلمانوں کی اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرسکتے۔ اس وقت مکہ والوں کے مقابلہ میں تلوار اٹھانا اپنی مصیبتوں کو اور بڑھانے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ طاقت ور دشمن جو ابھی تک صرف انفرادی ظلم کررہا ہے اس کو اپنی طرف سے مکمل جنگی کارروائی کرنے کا جواز فراہم کردیا جائے۔ عملی اقدام ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ اس کے لیے ضروری تیاری کرلی گئی ہو۔ اس سے پہلے اہلِ ایمان سے صرف انفرادی احکام کا تقاضا کیا جاتا ہے جو ہر حال میں آدمی کے لیے ضروری ہیں۔ یعنی اللہ سے تعلق جوڑنا، بندوں کے حقوق ادا کرنا اور دین کی راہ میں جو مشکلیں پیش آئیں ان کو برداشت کرنا۔

قرآن میں قربانی کے احکام آئے تو مصلحت پرست لوگوں کو اپنی زندگی کا نقشہ بکھرتا ہوا نظر آیا۔ وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ احد میں شکست ہوئی تو اس کو وہ رسول کی بے تدبیری کا نتیجہ بتا کر رسول کی رہنمائی کے بارے میں لوگوں کو بدظن کرنے لگے۔ فائدہ والی باتوں کو اللہ کا فضل بتا کر وہ اپنی اسلامیت کا مظاہرہ کرتے اور عملی اسلام سے گریز کے لیے رسول کو غلط ثابت کرتے — خدا کو مان کر آدمی کے لیے ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر چلتا رہے۔ مگر خدا کے داعی کو ماننے کے بعد اس کا ساتھ دینا بھی ضروری ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔

78

أَيْنَمَا تَكُونُوا۟ يُدْرِككُّمُ ٱلْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِى بُرُوجٍۢ مُّشَيَّدَةٍۢ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌۭ يَقُولُوا۟ هَٰذِهِۦ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَقُولُوا۟ هَٰذِهِۦ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ فَمَالِ هَٰٓؤُلَآءِ ٱلْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًۭا

(اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے

ہجرت سے پہلے مکہ میںاسلام کے مخالفین مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے۔ مارنا پیٹنا، ان کی معاشیات کو تباہ کرنا، ان کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، ان کو تبلیغ کی اجازت نہ دینا، ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا، يه سب انھوں نے مسلمانوں کے لیے جائز کرلیا تھا ۔ جو شخص اسلام قبول کرتا اس پر وہ ہر قسم کا دباؤ ڈالتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائے۔ مخالفین اسلام کی اس جارحیت نے مسلمانوں کے لیے اصولاً جائز کردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار جنگ کی اجازت مانگتے۔ مگر آپ ہمیشہ یہ کہتے کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیاگیا۔ تم صبر کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبل از وقت کوئی اقدام کرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ مکہ میں مسلمانوں کی اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرسکتے۔ اس وقت مکہ والوں کے مقابلہ میں تلوار اٹھانا اپنی مصیبتوں کو اور بڑھانے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ طاقت ور دشمن جو ابھی تک صرف انفرادی ظلم کررہا ہے اس کو اپنی طرف سے مکمل جنگی کارروائی کرنے کا جواز فراہم کردیا جائے۔ عملی اقدام ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ اس کے لیے ضروری تیاری کرلی گئی ہو۔ اس سے پہلے اہلِ ایمان سے صرف انفرادی احکام کا تقاضا کیا جاتا ہے جو ہر حال میں آدمی کے لیے ضروری ہیں۔ یعنی اللہ سے تعلق جوڑنا، بندوں کے حقوق ادا کرنا اور دین کی راہ میں جو مشکلیں پیش آئیں ان کو برداشت کرنا۔

قرآن میں قربانی کے احکام آئے تو مصلحت پرست لوگوں کو اپنی زندگی کا نقشہ بکھرتا ہوا نظر آیا۔ وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ احد میں شکست ہوئی تو اس کو وہ رسول کی بے تدبیری کا نتیجہ بتا کر رسول کی رہنمائی کے بارے میں لوگوں کو بدظن کرنے لگے۔ فائدہ والی باتوں کو اللہ کا فضل بتا کر وہ اپنی اسلامیت کا مظاہرہ کرتے اور عملی اسلام سے گریز کے لیے رسول کو غلط ثابت کرتے — خدا کو مان کر آدمی کے لیے ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر چلتا رہے۔ مگر خدا کے داعی کو ماننے کے بعد اس کا ساتھ دینا بھی ضروری ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔

79

مَّآ أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍۢ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ وَمَآ أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍۢ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ وَأَرْسَلْنَٰكَ لِلنَّاسِ رَسُولًۭا ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۭا

اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

ہجرت سے پہلے مکہ میںاسلام کے مخالفین مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے۔ مارنا پیٹنا، ان کی معاشیات کو تباہ کرنا، ان کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، ان کو تبلیغ کی اجازت نہ دینا، ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا، يه سب انھوں نے مسلمانوں کے لیے جائز کرلیا تھا ۔ جو شخص اسلام قبول کرتا اس پر وہ ہر قسم کا دباؤ ڈالتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائے۔ مخالفین اسلام کی اس جارحیت نے مسلمانوں کے لیے اصولاً جائز کردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار جنگ کی اجازت مانگتے۔ مگر آپ ہمیشہ یہ کہتے کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیاگیا۔ تم صبر کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبل از وقت کوئی اقدام کرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ مکہ میں مسلمانوں کی اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرسکتے۔ اس وقت مکہ والوں کے مقابلہ میں تلوار اٹھانا اپنی مصیبتوں کو اور بڑھانے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ طاقت ور دشمن جو ابھی تک صرف انفرادی ظلم کررہا ہے اس کو اپنی طرف سے مکمل جنگی کارروائی کرنے کا جواز فراہم کردیا جائے۔ عملی اقدام ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ اس کے لیے ضروری تیاری کرلی گئی ہو۔ اس سے پہلے اہلِ ایمان سے صرف انفرادی احکام کا تقاضا کیا جاتا ہے جو ہر حال میں آدمی کے لیے ضروری ہیں۔ یعنی اللہ سے تعلق جوڑنا، بندوں کے حقوق ادا کرنا اور دین کی راہ میں جو مشکلیں پیش آئیں ان کو برداشت کرنا۔

قرآن میں قربانی کے احکام آئے تو مصلحت پرست لوگوں کو اپنی زندگی کا نقشہ بکھرتا ہوا نظر آیا۔ وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ احد میں شکست ہوئی تو اس کو وہ رسول کی بے تدبیری کا نتیجہ بتا کر رسول کی رہنمائی کے بارے میں لوگوں کو بدظن کرنے لگے۔ فائدہ والی باتوں کو اللہ کا فضل بتا کر وہ اپنی اسلامیت کا مظاہرہ کرتے اور عملی اسلام سے گریز کے لیے رسول کو غلط ثابت کرتے — خدا کو مان کر آدمی کے لیے ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر چلتا رہے۔ مگر خدا کے داعی کو ماننے کے بعد اس کا ساتھ دینا بھی ضروری ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔

80

مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا

جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا

خدا کے داعی کو ماننا ’’اپنے جیسے انسان‘‘ کو ماننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی خدا کو مانتا ہے مگر وہ خدا کے داعی کو ماننے پر ر اضی نہیں ہوتا۔ مگرآدمی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خدا کے داعی کو پہچانے اور اس كے ساتھ اپنے کو کھڑا کرے۔ داعی کے معاملہ کو جب آدمی خدا کا معاملہ نہ سمجھے تو وہ اس کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوتا۔ سامنے وہ رسمی طورپر ہاں کر دیتا ہے مگر جب الگ ہوتا ہے تو اپنی سابقہ روش پر چلنے لگتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن کا پھیلانا سراسر غیر ذمہ دارانہ فعل ہو۔ جو لوگ خدا کے داعی کے ساتھ اس قسم کا بے پروائی کا سلوک کریں وہ خدا کے یہاں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نہیں جانتے تھے۔ آدمی اگر ٹھہر کر سوچے تو داعی کی صداقت کو جاننے کے لیے وہ کلام ہی کافی ہے جو خدا نے اس کی زبان پر جاری کیا ہے۔

قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کا کوئی بیان کسی بھی مسلمہ صداقت کے خلاف نہیں۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہو۔ اس میں کوئی ایسا بیان نہیں جو سابق آسمانی کتابوں کے ذریعہ جانی ہوئی کسی حقیقت سے ٹکراتا ہو۔ اس میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جو تجربی علوم سے دریافت شدہ کسی واقعہ کے غیر مطابق ہو۔ حقائقِ واقعی سے یہ مکمل مطابقت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ تاہم کسی بھی سچائی کا سچائی نظر آنا اس پر موقوف ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ قرآن کا اختلاف کثیر سے خالی ہونا اس شخص کو دکھائی دے گا جو قرآن میں ’’تدبر‘‘ کرے۔ جو شخص تدبر کرنا نہ چاہے اس کے لیے بے معنی اعتراضات نکالنے کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا ہے جب تک قیامت آکر موجودہ امتحانی حالات کا خاتمہ نہ کردے۔

اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کے افراد اتنے خود شناس ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلے میں اپنی نااہلی کو جان لیں۔ وہ کسی معاملہ کو اہل تر شخص کے حوالے کرکے اس کی رہنمائی پر راضی ہوجائیں۔ یہ خود شناسی ہی واحد چیز ہے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو شیطان کے پیچھے چل پڑنے سے بچاتی ہے۔ آدمی اگر اپنے آپ کو نہ جانے تو وہ اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی نازک معاملات میں کود پڑتا ہے اور پھر خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں بولنے سے زیادہ چپ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شیطان کی مدد کرنا ہے کہ آدمی جو بات سنے اس کو دوسروں کے سامنے دہرانے لگے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.