Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 71–80 of 176

71

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ خُذُوا۟ حِذْرَكُمْ فَٱنفِرُوا۟ ثُبَاتٍ أَوِ ٱنفِرُوا۟ جَمِيعًۭا

مومنو! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکھٹے کوچ کیا کرو

(آیت) ” 71 تا 74۔

یہ اہل ایمان کو نصیحت ہے ۔ یہ عالم بالا کی قیادت سے ان کے لئے ہدایات ہیں ‘ جن کے اندر ان کے لئے منہاج عمل درج کیا گیا ہے ، مستقبل کا راستہ متعین کیا گیا ہے ۔ جب انسان قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے ‘ تو اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کتاب اہل ایمان کے لئے معرکہ جہاد کی عمومی اسکیم بھی تیار کرتی ہے ۔ جنگ کی اسٹریٹیجی بھی قرآن میں درج کی جا رہی ہے ۔ ایک دوسری آیت میں ہے ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قاتلو الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو کفار میں سے تمہارے قریب ہیں ۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں ۔ “ اسلامی تحریک کے لئے یہ عام منصوبہ ہے ۔ اس آیت میں اہل ایمان کو کہا جاتا ہے ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔ یہ عملی اقدام کی اسکیم کا ایک حصہ ہے جسے ٹیکٹکس کہتے ہیں ۔ اور سورة انفال میں بھی بعض ایسی ہدایات دی گئی ہیں جو میدان جنگ کے بارے میں ہیں ۔

(آیت) ” فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبھم من خلفھم لعلھم یذکرون) ” پس اگر تم انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں ان کو بھاگتے دیکھ کر خود بھی بھاگ کھڑے ہوں اور شاید وہ بدعہدی کے انجام سے عبرت پکڑیں ۔ “

یہ ہے قرآن مجید ‘ اس میں مسلمانوں کو صرف عبادات اور مراسم عبودیت ہی نہیں سکھائے گئے اور نہ اس میں صرف انفرادی اسلامی آداب اور اخلاق ہی سکھائے گئے ہیں ۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا اس دین کے بارے میں ایسا فقیرانہ تصور ہے بلکہ یہ قرآن کریم لوگوں کی زندگی کو پورے طور پر (As A Whole) لیتا ہے ۔ یہ زندگی کے عملی واقعات میں سے ہر ایک واقعہ پر اپنا فیصلہ دیتا ہے ۔ اور پوری زندگی کے لئے مکمل ہدایات دیتا ہے ۔ یہ کتاب ایک مسلمان فرد اور ایک مسلمان معاشرے سے ‘ اس سے کم کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتی کہ انکی پوری پوری زندگی اس کتاب کے مطابق بسر ہو ۔ اس کتاب کے تصرف میں ہو ‘ اس کی ہدایات کے مطابق بسر ہو ۔ خصوصا یہ کتاب کسی مسلمان فرد اور سوسائٹی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی زندگی کے لئے متعدد نظام اختیار کرلیں جن کے اصول مختلف ہوں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ذاتی نظام ‘ عبادات اور اخلاق وآداب کا نظام تو وہ کتاب اللہ سے لے لیں ‘ اور اقتصادی ‘ اجتماعی ‘ سیاسی اور بین الاقوامی معاملات میں ہدایات کسی دوسری کتاب یا کسی انسان کے دیئے ہوئے تصورات سے اخذ کرلیں۔ اس کتاب کے مطابق انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی فکر اور تصورات اس کتاب اور اس کے منہاج سے اخذ کرے اور اپنی زندگی کے لئے تفصیلی احکام اس کتاب سے لے کر زندگی کے واقعات پر ان کا انطباق کرے ۔ اس لئے کہ زندگی کے اندر مسلسل نئے نئے مسائل اور حالات پیش آتے رہتے ہیں اور یہ احکام وہ اس طرح مستنبط کرے جس طرح اس سبق سے پہلے سبق میں اس کی تفصیلات خود اس کتاب نے دی ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ اس کتاب نے کھلا نہیں چھوڑا ورنہ ‘ نہ ایمان ہوگا اور نہ اسلام ۔ سرے سے اسلام اور ایمان ہوگا ہی نہیں اس لئے کہ جو لوگ اس کتاب کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کرتے وہ ایمان اور اسلام میں داخل ہی نہیں ہوتے اور گویا انہوں نے ارکان اسلام کا اعتراف ہی نہیں کیا ہے ۔ ان ارکان میں سے پہلا کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی شارع نہیں ہے ۔

یہ ہے قرآن کریم جو اس معرکے میں مسلمانوں کے لئے میدان جنگ کا منصوبہ بناتا ہے جو اس وقت ان کے موقف کے ساتھ شامل تھا ‘ اور جو ان کے وجود کے لئے ضروری تھا کیونکہ ان کے اردگرد ہر طرف بیشمار مخالفتیں تھیں ‘ جن میں وہ گھرے ہوئے تھے ۔ …

72

وَإِنَّ مِنكُمْ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنْ أَصَٰبَتْكُم مُّصِيبَةٌۭ قَالَ قَدْ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَىَّ إِذْ لَمْ أَكُن مَّعَهُمْ شَهِيدًۭا

اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمداً) دیر لگاتا ہے۔ پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑ جائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ پر بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا

(آیت) ” 71 تا 74۔

یہ اہل ایمان کو نصیحت ہے ۔ یہ عالم بالا کی قیادت سے ان کے لئے ہدایات ہیں ‘ جن کے اندر ان کے لئے منہاج عمل درج کیا گیا ہے ، مستقبل کا راستہ متعین کیا گیا ہے ۔ جب انسان قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے ‘ تو اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کتاب اہل ایمان کے لئے معرکہ جہاد کی عمومی اسکیم بھی تیار کرتی ہے ۔ جنگ کی اسٹریٹیجی بھی قرآن میں درج کی جا رہی ہے ۔ ایک دوسری آیت میں ہے ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قاتلو الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو کفار میں سے تمہارے قریب ہیں ۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں ۔ “ اسلامی تحریک کے لئے یہ عام منصوبہ ہے ۔ اس آیت میں اہل ایمان کو کہا جاتا ہے ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔ یہ عملی اقدام کی اسکیم کا ایک حصہ ہے جسے ٹیکٹکس کہتے ہیں ۔ اور سورة انفال میں بھی بعض ایسی ہدایات دی گئی ہیں جو میدان جنگ کے بارے میں ہیں ۔

(آیت) ” فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبھم من خلفھم لعلھم یذکرون) ” پس اگر تم انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں ان کو بھاگتے دیکھ کر خود بھی بھاگ کھڑے ہوں اور شاید وہ بدعہدی کے انجام سے عبرت پکڑیں ۔ “

یہ ہے قرآن مجید ‘ اس میں مسلمانوں کو صرف عبادات اور مراسم عبودیت ہی نہیں سکھائے گئے اور نہ اس میں صرف انفرادی اسلامی آداب اور اخلاق ہی سکھائے گئے ہیں ۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا اس دین کے بارے میں ایسا فقیرانہ تصور ہے بلکہ یہ قرآن کریم لوگوں کی زندگی کو پورے طور پر (As A Whole) لیتا ہے ۔ یہ زندگی کے عملی واقعات میں سے ہر ایک واقعہ پر اپنا فیصلہ دیتا ہے ۔ اور پوری زندگی کے لئے مکمل ہدایات دیتا ہے ۔ یہ کتاب ایک مسلمان فرد اور ایک مسلمان معاشرے سے ‘ اس سے کم کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتی کہ انکی پوری پوری زندگی اس کتاب کے مطابق بسر ہو ۔ اس کتاب کے تصرف میں ہو ‘ اس کی ہدایات کے مطابق بسر ہو ۔ خصوصا یہ کتاب کسی مسلمان فرد اور سوسائٹی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی زندگی کے لئے متعدد نظام اختیار کرلیں جن کے اصول مختلف ہوں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ذاتی نظام ‘ عبادات اور اخلاق وآداب کا نظام تو وہ کتاب اللہ سے لے لیں ‘ اور اقتصادی ‘ اجتماعی ‘ سیاسی اور بین الاقوامی معاملات میں ہدایات کسی دوسری کتاب یا کسی انسان کے دیئے ہوئے تصورات سے اخذ کرلیں۔ اس کتاب کے مطابق انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی فکر اور تصورات اس کتاب اور اس کے منہاج سے اخذ کرے اور اپنی زندگی کے لئے تفصیلی احکام اس کتاب سے لے کر زندگی کے واقعات پر ان کا انطباق کرے ۔ اس لئے کہ زندگی کے اندر مسلسل نئے نئے مسائل اور حالات پیش آتے رہتے ہیں اور یہ احکام وہ اس طرح مستنبط کرے جس طرح اس سبق سے پہلے سبق میں اس کی تفصیلات خود اس کتاب نے دی ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ اس کتاب نے کھلا نہیں چھوڑا ورنہ ‘ نہ ایمان ہوگا اور نہ اسلام ۔ سرے سے اسلام اور ایمان ہوگا ہی نہیں اس لئے کہ جو لوگ اس کتاب کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کرتے وہ ایمان اور اسلام میں داخل ہی نہیں ہوتے اور گویا انہوں نے ارکان اسلام کا اعتراف ہی نہیں کیا ہے ۔ ان ارکان میں سے پہلا کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی شارع نہیں ہے ۔

یہ ہے قرآن کریم جو اس معرکے میں مسلمانوں کے لئے میدان جنگ کا منصوبہ بناتا ہے جو اس وقت ان کے موقف کے ساتھ شامل تھا ‘ اور جو ان کے وجود کے لئے ضروری تھا کیونکہ ان کے اردگرد ہر طرف بیشمار مخالفتیں تھیں ‘ جن میں وہ گھرے ہوئے تھے ۔ …

73

وَلَئِنْ أَصَٰبَكُمْ فَضْلٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَن لَّمْ تَكُنۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُۥ مَوَدَّةٌۭ يَٰلَيْتَنِى كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًۭا

اور اگر خدا تم پر فضل کرے تو اس طرح سے کہ گویا تم میں اس میں دوستی تھی ہی نہیں (کہ افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرتا

(آیت) ” 71 تا 74۔

یہ اہل ایمان کو نصیحت ہے ۔ یہ عالم بالا کی قیادت سے ان کے لئے ہدایات ہیں ‘ جن کے اندر ان کے لئے منہاج عمل درج کیا گیا ہے ، مستقبل کا راستہ متعین کیا گیا ہے ۔ جب انسان قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے ‘ تو اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کتاب اہل ایمان کے لئے معرکہ جہاد کی عمومی اسکیم بھی تیار کرتی ہے ۔ جنگ کی اسٹریٹیجی بھی قرآن میں درج کی جا رہی ہے ۔ ایک دوسری آیت میں ہے ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قاتلو الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو کفار میں سے تمہارے قریب ہیں ۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں ۔ “ اسلامی تحریک کے لئے یہ عام منصوبہ ہے ۔ اس آیت میں اہل ایمان کو کہا جاتا ہے ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔ یہ عملی اقدام کی اسکیم کا ایک حصہ ہے جسے ٹیکٹکس کہتے ہیں ۔ اور سورة انفال میں بھی بعض ایسی ہدایات دی گئی ہیں جو میدان جنگ کے بارے میں ہیں ۔

(آیت) ” فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبھم من خلفھم لعلھم یذکرون) ” پس اگر تم انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں ان کو بھاگتے دیکھ کر خود بھی بھاگ کھڑے ہوں اور شاید وہ بدعہدی کے انجام سے عبرت پکڑیں ۔ “

یہ ہے قرآن مجید ‘ اس میں مسلمانوں کو صرف عبادات اور مراسم عبودیت ہی نہیں سکھائے گئے اور نہ اس میں صرف انفرادی اسلامی آداب اور اخلاق ہی سکھائے گئے ہیں ۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا اس دین کے بارے میں ایسا فقیرانہ تصور ہے بلکہ یہ قرآن کریم لوگوں کی زندگی کو پورے طور پر (As A Whole) لیتا ہے ۔ یہ زندگی کے عملی واقعات میں سے ہر ایک واقعہ پر اپنا فیصلہ دیتا ہے ۔ اور پوری زندگی کے لئے مکمل ہدایات دیتا ہے ۔ یہ کتاب ایک مسلمان فرد اور ایک مسلمان معاشرے سے ‘ اس سے کم کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتی کہ انکی پوری پوری زندگی اس کتاب کے مطابق بسر ہو ۔ اس کتاب کے تصرف میں ہو ‘ اس کی ہدایات کے مطابق بسر ہو ۔ خصوصا یہ کتاب کسی مسلمان فرد اور سوسائٹی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی زندگی کے لئے متعدد نظام اختیار کرلیں جن کے اصول مختلف ہوں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ذاتی نظام ‘ عبادات اور اخلاق وآداب کا نظام تو وہ کتاب اللہ سے لے لیں ‘ اور اقتصادی ‘ اجتماعی ‘ سیاسی اور بین الاقوامی معاملات میں ہدایات کسی دوسری کتاب یا کسی انسان کے دیئے ہوئے تصورات سے اخذ کرلیں۔ اس کتاب کے مطابق انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی فکر اور تصورات اس کتاب اور اس کے منہاج سے اخذ کرے اور اپنی زندگی کے لئے تفصیلی احکام اس کتاب سے لے کر زندگی کے واقعات پر ان کا انطباق کرے ۔ اس لئے کہ زندگی کے اندر مسلسل نئے نئے مسائل اور حالات پیش آتے رہتے ہیں اور یہ احکام وہ اس طرح مستنبط کرے جس طرح اس سبق سے پہلے سبق میں اس کی تفصیلات خود اس کتاب نے دی ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ اس کتاب نے کھلا نہیں چھوڑا ورنہ ‘ نہ ایمان ہوگا اور نہ اسلام ۔ سرے سے اسلام اور ایمان ہوگا ہی نہیں اس لئے کہ جو لوگ اس کتاب کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کرتے وہ ایمان اور اسلام میں داخل ہی نہیں ہوتے اور گویا انہوں نے ارکان اسلام کا اعتراف ہی نہیں کیا ہے ۔ ان ارکان میں سے پہلا کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی شارع نہیں ہے ۔

یہ ہے قرآن کریم جو اس معرکے میں مسلمانوں کے لئے میدان جنگ کا منصوبہ بناتا ہے جو اس وقت ان کے موقف کے ساتھ شامل تھا ‘ اور جو ان کے وجود کے لئے ضروری تھا کیونکہ ان کے اردگرد ہر طرف بیشمار مخالفتیں تھیں ‘ جن میں وہ گھرے ہوئے تھے ۔ …

74

۞ فَلْيُقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يَشْرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا بِٱلْءَاخِرَةِ ۚ وَمَن يُقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًۭا

تو جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

(آیت) ” فلیقاتل فی سبیل اللہ الذین یشرون الحیوۃ الدینا بالاخرۃ ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل اویغلب فسوف نوتیہ اجرا عظیما (4 : 74)

(ایسے لوگوں کو معلوم ہو کہ) اللہ راہ میں لڑنا چاہئے ان لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کردیں ‘ پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے ۔ “

اس لئے مومنین کو اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے ‘ اسلام ماسوائے اس کے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کی جائے ‘ کسی اور جنگ کا قائم ہی نہیں ہے ۔ اس لئے جنگ نہ کی جائے کہ مصنوعات کے لئے خام مال فراہم کیا جائے ‘ نہ اسلام غنیمت کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ نہ اقتدار کے حصول کے لئے اجازت دیتا ہے ‘ نہ وہ ذاتی اور قومی برتری کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ نہ ملکوں کو فتح کرنے کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ نہ لوگوں کو غلام بنانے کے لئے اجازت دیتا ہے ‘ اور نہ اسلام کسی ایسی جنگ کی اجازت دیتا ہے جو منڈیوں کے حصول کے لئے لڑی جائے ‘ اور نہ اسلام کی جنگ اس بات کے لئے کہ نو آبادیاتی علاقوں میں سرمایہ لگا کر مفادات حاصل کئے جائیں ۔

اسلام ذاتی برتری کے لئے جنگ کی اجازت نہیں دیتا اور نہ کسی خاندان کی برتری کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ۔ نہ کسی طبقے اور کسی حکومت کی برتری کے لئے اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے نہ کسی قوم اور نہ کسی نسل کی برتری کے لئے اسلام لڑتا ہے ۔ اسلام صرف اللہ کی راہ میں جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ اور زمین پر اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے اسلام کی اجازت اجازت دیتا ہے اور یہ اس لئے کہ اس کرہ ارض پر تمام انسانوں کے درمیان بےقید عدل و انصاف جاری کرے لیکن اس نظام کے تحت ہر شخص کو عقیدے اور نظریے کی مکمل آزادی ہو ۔ یوں اس ربانی انسانی اور عالمی نظام حیات کے تحت لوگ زندہ رہیں۔

جب ایک مسلمان اللہ کے راستے میں لڑنے کے لئے نکلتا ہے ‘ اور یہ لڑائی وہ صرف اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے کرتا ہے اور زندگی میں اسلامی نظام حیات کی حکمرانی کے لئے لڑتا ہے اور پھر وہ قتل ہوجاتا ہے تو وہ شہید ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے نزدیک مقام شہداء پر فائز ہوتا ہے اور اگر وہ اس مقصد کے سوا کسی اور مقصد کی خاطر لڑتا ہے تو وہ کسی صورت میں بھی شہید نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے کوئی اجر اور صلہ نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا صلہ ان مقاصد کے زعماء کے پاس ہوتا ہے جو لوگ ایسے لوگوں کو شہداء کہتے ہیں وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو اس چیز کے ساتھ تقدس دیتے ہیں جس کی ساتھ اللہ کسی کو مقدس نہیں بناتا ۔ یہ اللہ پر افتراء کے سوا کچھ نہیں ہے ۔

لہذا اللہ کے راستے میں صرف اس ایک مقصد کے لئے لڑنا جائز ہے ۔ اور یہ لڑائی وہ لوگ کرتے ہیں جو دنیا فروخت کرکے آخرت خریدتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم انتظار میں ہے ۔ دونوں حالتوں میں ان پر فضل ہے ۔ اگر وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں تو بھی فضل ہے اور اگر وہ اللہ کی راہ میں غالب ہوجائیں تو بھی اللہ کا فضل ہے ۔

(آیت) ” ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل اویغلب فسوف نوتیہ اجرا عظیما (4 : 74)

‘ پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے ۔ “

اس طرح قرآنی نظام حیات ان نفوس قدسیہ کو بلند کرتا ہے اور وہ دونوں حالتوں میں اللہ کے عظیم فضل کے امیدوار ہوجاتے ہیں ۔ ان پر اللہ کی راہ میں موت اور جان دینا آسان ہوجاتا ہے ۔ وہ اس دنیا کے مال غنیمت کے حصول کی امید سے بھی بالا ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے کہ پوری کی پوری زندگی اور مال غنیمت کے بڑے بڑے ڈھیر بھی اللہ کے فضل عظیم کے مقابلے میں کچھ نہیں ہیں ۔ اسی طرح یہ مختصر ٹچ ‘ انسان کے دلوں میں اس سودے کے خلاف نفرت پیدا کردیتا ہے جس میں کوئی شخص آخرت کے مقابلے میں دنیا کو خریدتا ہے ۔ لفظ یشرون متضاد الفاظ میں سے ہے جو خرید کے معنی میں بھی …

75

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَٰنِ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلظَّالِمِ أَهْلُهَا وَٱجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّۭا وَٱجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما

(آیت) ” نمبر 75۔

قتال فی سبیل اللہ میں سستی کرنے کا تمہارے لئے کیا موقعہ ہے جب کہ ان مجبور اور ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کا آزاد کرانا تمہارے فرائض میں سے ہے ۔ یہ لوگ جو قابل رحم حالت میں ہیں اور جن کی تصویر کشی قرآن کریم نہایت ہی اچر آفریں الفاظ میں کرتا ہے جس پر مسلمانوں کی حمیت جوش میں آتی ہے ۔ مسلمانوں کی عزت نفس جوش میں آتی ہے اور انسانی رحم اور ہمدردی کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں ‘ اس لئے کہ یہ لوگ شدید سے شدید تر مظالم کے شکار ہو رہے ہیں ۔ اس لئے بھی کہ ان پر یہ مظالم محض ان کے نظریات کی وجہ سے ہو رہے ہیں ۔ ان کے دین کی وجہ سے انہیں مبتلائے مصیبت کیا جارہا ہے ۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی جرم نہیں ہے ۔ غرض نظریات اور دین کی وجہ سے جو مصائب آتے ہیں وہ جان ومال کی وجہ سے آنے والے مصائب سے زیادہ شدید اور سخت ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ مصائب انسان پر انسانی خصوصیات کی وجہ سے آتے ہیں ۔ اور انسان کی عزت نفس اس کی عزت اور اس کے حق ملکیت وغیرہ کے حوالے سے مصائب کا درجہ اس کے بعد آتا ہے ۔

ایسی عورت کی تصویر جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو ‘ ایسے بچوں کی مناظر جو نحیف وناتواں ہوں ‘ ایک ایسا منظر ہے جو جذبات کے اندر تلاطم پیدا کردیتا ہے ۔ خصوصا وہ ضعیف لوگ اور بوڑھے جو اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے اور خصوصا ایسے حالات میں جب اس دفاع کا تعلق دین اور عقیدے سے ہو ۔ یہ منظر ایسے وقت میں دکھایا جاتا ہے ۔ جس میں جہاد کی طرف دعوت دی جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں جہاد کے لئے نہ اٹھنا نہایت ہی مکروہ فعل ہوگا ‘ جبکہ مظلوموں کی یہ چیخ و پکار سنی جا رہی ہو۔ یہ ایک ایسا اسلوب بیان ہے جو دلوں کو پگھلا دیتا ہے اور انسانی شعور اور احساس کے اندر گہرائی تک اتر جاتا ہے ۔

لہذا ایک نظر اس پہلو پر بھی ڈالیں کہ اسلامی تصور کے مطابق ملک ووطن کی حیثیت کیا ہے ۔ یہاں ملک اور بلدہ کی تعریف یوں کی جاتی ہے ۔ (الظالم اھلھا) جس کے لوگ ظالم ہیں ‘ یہ اسلام کے نزدیک دارالحرب ہے ۔ اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس ملک کے ساتھ کمزور مسلمانوں اور ان کے بیوی بچوں کو چھڑانے کے لئے جنگ کریں اور یہ وطن مکہ ہے جو مہاجرین کا اصلی وطن تھا اور ان مہاجرین کو پرجوش دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس مالک کے خلاف جنگ کریں اور ضعیف مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ موقعہ پاتے ہی اس ظالم ملک سے نکل آئیں ۔

یہاں اس علاقے اور ملک کا مہاجرین کا وطن اصلی ہونا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس وجہ سے اسلامی نقطہ نظر سے اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی جب کہ اس میں اللہ کی شریعت بھی نافذ نہیں ہے ۔ وہ اسلامی نظام حیات کے تحت نہیں ہے جس میں مومنین کو ان کے ایمان کی وجہ سے فتنوں اور مصیبتوں میں ڈالا جاتا ہے اور ان پر محض ان کے عقیدے کی وجہ سے مظالم ڈھائے جاتے ہیں بلکہ خود ان اصلی باشندوں کے نقطہ نظر سے یہ ملک دارالحرب بن گیا ہے ۔ وہ اپنے اس اصل وطن کی مدافعت نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ خود اپنے اصل ملک کے خلاف اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ وہاں سے اپنے مومن بھائیوں کو نکال لیں ۔ غرض مسلمان کا جھنڈا وہ ہوتا ہے جو اس کے عقیدے کا جھنڈا ہوتا ہے اور ایک مسلمان صرف ایک جھنڈے کی حمایت کرتا ہے ۔ اس کا وطن جس کے لئے ہو لڑتا ہے وہ وطن ہے جس میں اسلامی نظام تربیت نافذ ہو ‘ اور اس کی وہ سرزمین جس کا وہ دفاع کرے گا وہ سرزمین ہے جو دارالاسلام ہے اور جس میں اسلامی شریعت اور اسلامی نظام جاری وساری ہو۔ اس کے علاوہ کسی وطن کے بارے میں جس قدر تصورات ہیں وہ غیر اسلامی اور جاہلی تصورات میں اور اسلام ان تصورات کو ہر گز نہیں پہچانتا ۔

اس ایک دوسرا ٹچ اس موضوع کو دیا جاتا ہے ہمتوں کو تازہ کرنے کا ایک اور موقع ہے ‘ عزائم میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوتا ہے ۔ ایک نئی راہ میں روشنی کے قمقمے چمک اٹھتے ہیں ۔ مقاصد ‘ مفادات اور اقدار حیات کی ایک نئی تعریف (Definition) …

76

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱلطَّٰغُوتِ فَقَٰتِلُوٓا۟ أَوْلِيَآءَ ٱلشَّيْطَٰنِ ۖ إِنَّ كَيْدَ ٱلشَّيْطَٰنِ كَانَ ضَعِيفًا

جو مومن ہیں وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو۔ (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بودا ہوتا ہے

“ اچانک تمام انسان ایک دورا ہے پر آکھڑے ہوتے ہیں ‘ اہداف ومقاصد متعین ہوجاتے ہیں ‘ خطوط واضح ہوجاتے ہیں اور لوگ دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں ‘ دو ممتاز جھنڈوں کے نیچے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

(آیت) ” الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ “۔ (4 : 76)

” جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے ‘ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ “

(آیت) ” والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت “۔ (4 : 76)

” اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ “

اہل ایمان کی صف آرائی اللہ کی راہ میں ہے اور وہ اللہ کا نظام حیات نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اللہ کی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں ‘ وہ اللہ کے نام پر لوگوں کے درمیان قیام عدل چاہتے ہیں ‘ وہ اللہ کے سوال کسی اور نام اور عنوان سے بات نہیں کرتے ۔ وہ اس بات کا اعتراف کرچکے ہوتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے اس لئے وہی حاکم ہے ۔

اور اہل کفر طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ‘ یہ مختلف قسم کے طاغوتی نظامہائے زندگی کے دلدادہ ہیں۔ اور یہ تمام طاغوتی نظام خدائی نظام زندگی کے متضاد ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ قانونی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہو ۔ وہ ایسی اقدار کو رائم کرنا چاہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے جائز نہ ہو ۔ وہ ایسے پیمانوں سے اقدار حیات کو ناپتے ہیں جو اللہ کی میزان میں کوئی وزن نہیں پاتے ۔

وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں وہ اللہ کی حمایت اور رعایت اور نگہبانی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ طاغوت سے مدد لیتے ہیں ۔ ان کا مددگار شیطان ہوتا ہے اور شیطان کے جھنڈے مختلف ہوتے ہیں ‘ طریقے مختلف ہوتے ہیں ۔ قوانین مختلف ہوتے ہیں ‘ اقدار اور پیمانے مختلف ہوتے ہیں ‘ ۔ یہ سب لوگ شیطان کے ساتھی ہوتے ہیں ۔

(آیت) ” فقاتلوا اولیاء الشیطن ان کیدا لشیطن کان ضعیفا “۔ (4 : 76)

”‘ پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں۔ “

یوں مسلمانوں کا موقف ایک پختہ جگہ پر ہوتا ہے اور ان کا تکیہ بھ مضبوط ہوتا ہے ۔ وہ مضبوط اساس پر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک مضبوط سہارا لئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ان کا وجدان اور شعور پختہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں لڑ رہے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کی جنگ ہے اور اس میں ان کا ذات کا کوئی حصہ بھی نہیں ہے ۔ نہ اس میں ان کا کوئی ذاتی مفاد مضمر ہے ۔ نہ اس میں ان کی قوم ‘ ان کی نسل ‘ ان کے رشتہ داروں اور ان کے خاندان کا کوئی مفاد ہے ۔ یہ صرف اللہ کے لئے ہے ‘ اس کے نظام کے لئے ہے اور اس کی شریعت کے لئے ہے ۔ پھر ان کا یہ شعور بھی پختہ ہوتا ہے ۔ کہ ان کا مقابلہ اہل باطل سے ہے ‘ اور ان کے مقابل باطل کو حق پر غالب کرنا چاہتے ہیں ‘ اس لئے کہ وہ انسانوں کے جاہلی معاشروں کے لئے لڑ ہے ہیں ۔ اور یہ کہ تمام انسانی نظام جاہلی نظام ہوتے ہیں ۔ صرف اللہ کی شریعت برحق نظام ہے ۔ جبکہ وہ شریعت کو مغلوب کرکے انسانی قانونی نظام رائج کرتے ہیں اور انسانی قانون کے مطابق فیصلے کرانا چاہتے ہیں ۔ ہر وہ فیصلہ ظلم ہے جو انسانی قانون کے مطابق ہو ۔ یہ اللہ کے قانون کے ساتھ ظلم ہے ‘ کیونکہ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ فیصلے اس کی شریعت کے مطابق ہوں ۔

یہ اہل ایمان جب میدان جنگ میں اترتے ہیں تو اس یقین کے ساتھ اترتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا ساتھی اور مددگار رہے ۔ وہ یہ شعور رکھتے ہیں کہ وہ ایک ایسی قوت سے لڑنے جارہے ہیں جس کا مددگار شیطان ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ شیطان کی تمام چالیں بمقابلہ رحمان ضعیف ہوتی ہیں ۔

یہاں آکر ایک مومن کے احساس اور شعور میں اس معرکے کا فیصلہ ہوجاتا ہے اور اس کا انجام متعین ہوجاتا ہے تو اس کے بعد ایک مومن اس معرکے میں قدم رکھتا ہے ۔ اب اگر مومن اس معرکے میں شہید ہوجاتے ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا نتیجہ اچھا رہے گا اور اگر وہ نصرت پاتا ہے اور اس …

77

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوٓا۟ أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌۭ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ ٱلنَّاسَ كَخَشْيَةِ ٱللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةًۭ ۚ وَقَالُوا۟ رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا ٱلْقِتَالَ لَوْلَآ أَخَّرْتَنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ ۗ قُلْ مَتَٰعُ ٱلدُّنْيَا قَلِيلٌۭ وَٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّمَنِ ٱتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی (اے پیغمبر ان س) ے کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

(آیت) ” نمبر 77 تا 83۔

آیات کے ان چار پیروں میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نشاندہی کی گئی ہے اور ممکن ہے کہ یہ وہی لوگ ہوں جن کے بارے میں اس سبق کے سابقہ پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا ۔ (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن “۔ (4 : 72) اور یہ لوگ مناق تھے اور ممکن ہے کہ یہ تمام ریمارکس ان منافقین کے بارے میں ہوں ‘ جن سے یہ افعال سرزد ہوتے تھے اور وہ ایسی باتیں بھی کیا کرتے تھے ۔

ہم اسی تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں ‘ اس لئے کہ ان آیات میں جن لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ان میں نفاق کے خدوخال زیادہ نظر آتے ہیں ۔ مسلمانوں کی صفوں میں منافق موجود تھے اور ایسے افعال اور اس قسم کے اقوال صرف منافقین ہی سے صادر ہونا تو قریب الفہم ہے جو انکے مزاج اور سابقہ کردار کے مطابق ہے ۔ اگرچہ ان پیراگرافوں کے انداز بیان باہم دگر گڈمڈ ہے ۔۔۔۔۔ تاہم ان میں سے پہلا پیرا گراف جس میں کہا گیا ہے ۔

(آیت) ” قیل لھم کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فلما کتب علیھم القتال “۔ (4 : 77)

ہمیں تردد میں ڈال دیتا ہے کہ آیا یہ تمام پیرا گراف صرف منافقین کے بارے میں ہیں ۔ اگرچہ منافقین کے اندر بھی یہ صفات موجود تھیں اور اس کے باوجود کہ یہ آیات دوسری آیات سے ملی جلی ہیں اور طرز ادا بھی ایک ہی نظر آتا ہے ۔ تاہم میرا میلان اس طرف ہے کہ یہ پیراگراف مہاجرین کے ایک ایسے گروہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو منافق تو نہ تھا مگر ضعیف الایمان تھا ۔ اور ضعف ایمانی کا آخری درجہ بہرحال نفاق کے قریب ہوجاتا ہے ۔ رہے دوسرے تین پیراگراف تو غالب یہی ہے کہ ان میں منافقین کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں کے اندر گھسے ہوئے تھے ‘ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تمام پیراگراف منافقین ہی کے بارے میں ہوں جو ایسے کام اور ایسی باتیں کیا کرتے تھے ۔

ہم نے یہ موقف کیوں اختیار کیا ہے کہ ان آیات کے پہلے پیراگراف سے مراد یا تو ضعیف الایمان مہاجرین ہیں اور یا ایسے لوگ ہیں جو ایمان کے اعتبار سے پختہ کار نہ تھے اور انکے دلوں کے اندر ایمان کے نشانات اچھی طرح واضح اور پختہ نہ ہوئے تھے ؟ اور ان کی ایمانی فکر مضبوط نہ ہوئی تھی ؟

اس موقف کی وجہ یہ ہے کہ مہاجرین کے بعض گروہ مکہ مکرمہ میں لڑنے کے لئے نہایت ہی پر جوش تھے اور اس وقت لڑائی کی اجازت نہ تھی اور حکم یہ تھا ۔ (آیت) ” کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ “۔ (4 : 77)

بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر جن 27 افرد نے حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ۔ انہوں نے حضور ﷺ کو پیش کش کردی تھی کہ اگر آپ چاہیں تو ہم آج میں منی میں موجود کفار پر ٹوٹ پڑیں ۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے ان کی جواب دیا تھا کہ : ” مجھے ابھی تک جنگ کی اجازت نہیں دی گئی ۔ “ اس واقعہ کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو پھر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پہلے پیراگراف سے جو لوگ مراد ہیں وہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اگلے تین پیرا گراف آتے ہیں یعنی منافقین ۔ کیا یہ بیت عقبہ ثانیہ والے لوگ ضعیف الاایمان ہو سکتے ہیں ‘ جیسا کہ پہلا پیرا بیان کر رہا ہے ؟ ہر گز نہیں اس لئے کہ ان سابقین انصار سے بھی اسلامی تاریخ میں کسی کمزوری کا صدور منقول نہیں ہے ۔ نہ کمزوری ‘ نہ نفاق اس لئے کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا تھا ۔

اس لئے اقرب الی الذہن یہی ہے کہ اس پہلے مجموعہ سے مراد ضعیف مہاجرین ہی ہیں ۔ یہ لوگ مدینہ جا کر پرامن زندگی کے خوگر ہوگئے تھے ۔ ان سے مشکلات دور ہوگئی تھیں اور جب جہاد و قتال فرض ہوگئے تو وہ ان مشکلات کے برداشت میں کمزوری دکھانے لگے ۔ اور یہ بات بھی اقرب الی لذہن ہے کہ دوسرے تین پیراگرافوں کے اندر بیان کردہ اوصاف ان کمزور اہل ایمان مہاجرین کے نہ ہوں بلکہ وہ منافقین کے اوصاف ہوں ۔ اس لئے کہ اگرچہ انسان بشری کمزوریوں سے پاک نہیں ہوتا پھر بھی ہمارے لئے یہ مشکل ہے کہ ہم کسی مہاجر مومن کی طرف یہ بات منسوب کریں کہ وہ اگر مشکلات سے دو چار ہوں تو …

78

أَيْنَمَا تَكُونُوا۟ يُدْرِككُّمُ ٱلْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِى بُرُوجٍۢ مُّشَيَّدَةٍۢ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌۭ يَقُولُوا۟ هَٰذِهِۦ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَقُولُوا۟ هَٰذِهِۦ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ فَمَالِ هَٰٓؤُلَآءِ ٱلْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًۭا

(اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے

(آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (78) ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80)

” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے ‘ اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب وعمل کی بدولت ہے ‘ ۔

اے محمد ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی ‘ اور جو منہ موڑ گیا ‘ تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔

جن لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں جو بھلائی پیش آتی ہے اس کی نسبت وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اور جو برائی انہیں درپیش ہوتی ہے ‘ اس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرتے ہیں ان کے اس فعل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔

پہلی وجہ یہ ہو سکتی ۔ اگر خشک سالی ہوجائے ‘ اگر مویشی نسل کشی نہ کریں یا اگر کسی موقعہ پر ان پر مصیبت آجائے تو وہ ان چیزوں کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرتے ۔ اور اگر انہیں کوئی بھلائی اور کامیابی ہوتی تو کہتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔

دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر نبی ﷺ کی قیادت پر الزام تراشی کرتے تھے ۔ اور یہ کام وہ اس لئے کرتے تھے کہ حضور ﷺ ان پر جو فرائض عائد فرماتے تھے ‘ ان سے گلو خلاصی کرالیں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قتال فی سبیل اللہ کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوں ۔ تو بجائے اس کے کہ وہ صاف صاف کہہ دیتے کہ بھائی ہم تو ضعیف ہیں اور بزدل ہیں اور جنگ سے ڈرتے ہیں ‘ انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حضور کی قیادت پر جرح وقدح کرنے لگے ۔ اور اگر بھلائی نصیب ہو تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اگر برائی نصیب ہو تو اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرتے ہیں یا حضور ﷺ کے احکام کی طرف کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے ان احکامات کی وجہ سے یہ مصیبت پڑی اور خیر سے ان کی مراد اس دنیا کی بھلائی ہوتی ہے اور شر سے مراد ان کی اس دنیا کا نقصان ہوتا ہے ۔

تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس دنیا میں اللہ کی مشیت کے مطابق لوگوں کو جو حادثات اور واقعات پیش آتے ہیں اس کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بہت ہی غلط ہے ۔ نیز ان کا رسول اللہ اور خدا تعالیٰ کے درمیان پائے جانے والے تعلق کے بارے میں بھی بہت ہی گھٹیا تصور ہے ۔

اگر یہ تیسری وجہ ہو تو یہ ان مہاجرین کی طرف سے ہو سکتی ہے جن کا موت وحیات کے بارے میں ابھی عقیدہ صاف نہ ہوا تھا اور اپنے اس تصور موت وحیات کی وجہ سے یہ لوگوں سے اس طرح ڈرتے تھے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے ۔ اور یہ لوگ کہتے تھے ۔

(آیت) ” ربنا لم کتبت علینا القتال لولا اخرتنا الی اجل قریب (4 : 77) (اے ہمارے رب تو نے ہم پر قتال کو کیوں فرض کردیا ‘ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تو اسے قریب وقت تک مؤخر کردیتا) لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس آیت سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد کچھ دوسرے لوگ ہیں جن میں ان چہروں کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل تھے ۔

یہ مسئلہ جو اس آیت میں لیا گیا ہے ۔ یہ ایک عظیم اور مشکل مسئلہ کا ایک پہلو ہے اور وہ مسئلہ تاریخ ادیان اور تاریخ فلسفہ کا نہایت ہی مشکل مسئلہ ہے ۔ یعنی مسئلہ جبر وقدر اور مسئلہ تقدیر ۔ یہ مسئلہ یہاں بعض لوگوں کے حالات کے بیان میں ضمنا آگیا ہے ۔ ان لوگوں کے غلط تصورات کا رد یہاں کیا گیا ہے ۔ قرآن کریم نے اس فریق زیر بحث کی فکری غلطی کو درست کرتے ہوئے اس …

79

مَّآ أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍۢ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ وَمَآ أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍۢ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ وَأَرْسَلْنَٰكَ لِلنَّاسِ رَسُولًۭا ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۭا

اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

(آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (78) ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80)

” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے ‘ اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب وعمل کی بدولت ہے ‘ ۔

اے محمد ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی ‘ اور جو منہ موڑ گیا ‘ تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔

جن لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں جو بھلائی پیش آتی ہے اس کی نسبت وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اور جو برائی انہیں درپیش ہوتی ہے ‘ اس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرتے ہیں ان کے اس فعل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔

پہلی وجہ یہ ہو سکتی ۔ اگر خشک سالی ہوجائے ‘ اگر مویشی نسل کشی نہ کریں یا اگر کسی موقعہ پر ان پر مصیبت آجائے تو وہ ان چیزوں کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرتے ۔ اور اگر انہیں کوئی بھلائی اور کامیابی ہوتی تو کہتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔

دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر نبی ﷺ کی قیادت پر الزام تراشی کرتے تھے ۔ اور یہ کام وہ اس لئے کرتے تھے کہ حضور ﷺ ان پر جو فرائض عائد فرماتے تھے ‘ ان سے گلو خلاصی کرالیں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قتال فی سبیل اللہ کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوں ۔ تو بجائے اس کے کہ وہ صاف صاف کہہ دیتے کہ بھائی ہم تو ضعیف ہیں اور بزدل ہیں اور جنگ سے ڈرتے ہیں ‘ انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حضور کی قیادت پر جرح وقدح کرنے لگے ۔ اور اگر بھلائی نصیب ہو تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اگر برائی نصیب ہو تو اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرتے ہیں یا حضور ﷺ کے احکام کی طرف کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے ان احکامات کی وجہ سے یہ مصیبت پڑی اور خیر سے ان کی مراد اس دنیا کی بھلائی ہوتی ہے اور شر سے مراد ان کی اس دنیا کا نقصان ہوتا ہے ۔

تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس دنیا میں اللہ کی مشیت کے مطابق لوگوں کو جو حادثات اور واقعات پیش آتے ہیں اس کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بہت ہی غلط ہے ۔ نیز ان کا رسول اللہ اور خدا تعالیٰ کے درمیان پائے جانے والے تعلق کے بارے میں بھی بہت ہی گھٹیا تصور ہے ۔

اگر یہ تیسری وجہ ہو تو یہ ان مہاجرین کی طرف سے ہو سکتی ہے جن کا موت وحیات کے بارے میں ابھی عقیدہ صاف نہ ہوا تھا اور اپنے اس تصور موت وحیات کی وجہ سے یہ لوگوں سے اس طرح ڈرتے تھے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے ۔ اور یہ لوگ کہتے تھے ۔

(آیت) ” ربنا لم کتبت علینا القتال لولا اخرتنا الی اجل قریب (4 : 77) (اے ہمارے رب تو نے ہم پر قتال کو کیوں فرض کردیا ‘ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تو اسے قریب وقت تک مؤخر کردیتا) لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس آیت سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد کچھ دوسرے لوگ ہیں جن میں ان چہروں کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل تھے ۔

یہ مسئلہ جو اس آیت میں لیا گیا ہے ۔ یہ ایک عظیم اور مشکل مسئلہ کا ایک پہلو ہے اور وہ مسئلہ تاریخ ادیان اور تاریخ فلسفہ کا نہایت ہی مشکل مسئلہ ہے ۔ یعنی مسئلہ جبر وقدر اور مسئلہ تقدیر ۔ یہ مسئلہ یہاں بعض لوگوں کے حالات کے بیان میں ضمنا آگیا ہے ۔ ان لوگوں کے غلط تصورات کا رد یہاں کیا گیا ہے ۔ قرآن کریم نے اس فریق زیر بحث کی فکری غلطی کو درست کرتے ہوئے اس …

80

مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا

جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا

(آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (78) ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80)

” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے ‘ اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب وعمل کی بدولت ہے ‘ ۔

اے محمد ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی ‘ اور جو منہ موڑ گیا ‘ تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔

جن لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں جو بھلائی پیش آتی ہے اس کی نسبت وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اور جو برائی انہیں درپیش ہوتی ہے ‘ اس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرتے ہیں ان کے اس فعل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔

پہلی وجہ یہ ہو سکتی ۔ اگر خشک سالی ہوجائے ‘ اگر مویشی نسل کشی نہ کریں یا اگر کسی موقعہ پر ان پر مصیبت آجائے تو وہ ان چیزوں کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرتے ۔ اور اگر انہیں کوئی بھلائی اور کامیابی ہوتی تو کہتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔

دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر نبی ﷺ کی قیادت پر الزام تراشی کرتے تھے ۔ اور یہ کام وہ اس لئے کرتے تھے کہ حضور ﷺ ان پر جو فرائض عائد فرماتے تھے ‘ ان سے گلو خلاصی کرالیں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قتال فی سبیل اللہ کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوں ۔ تو بجائے اس کے کہ وہ صاف صاف کہہ دیتے کہ بھائی ہم تو ضعیف ہیں اور بزدل ہیں اور جنگ سے ڈرتے ہیں ‘ انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حضور کی قیادت پر جرح وقدح کرنے لگے ۔ اور اگر بھلائی نصیب ہو تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اگر برائی نصیب ہو تو اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرتے ہیں یا حضور ﷺ کے احکام کی طرف کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے ان احکامات کی وجہ سے یہ مصیبت پڑی اور خیر سے ان کی مراد اس دنیا کی بھلائی ہوتی ہے اور شر سے مراد ان کی اس دنیا کا نقصان ہوتا ہے ۔

تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس دنیا میں اللہ کی مشیت کے مطابق لوگوں کو جو حادثات اور واقعات پیش آتے ہیں اس کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بہت ہی غلط ہے ۔ نیز ان کا رسول اللہ اور خدا تعالیٰ کے درمیان پائے جانے والے تعلق کے بارے میں بھی بہت ہی گھٹیا تصور ہے ۔

اگر یہ تیسری وجہ ہو تو یہ ان مہاجرین کی طرف سے ہو سکتی ہے جن کا موت وحیات کے بارے میں ابھی عقیدہ صاف نہ ہوا تھا اور اپنے اس تصور موت وحیات کی وجہ سے یہ لوگوں سے اس طرح ڈرتے تھے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے ۔ اور یہ لوگ کہتے تھے ۔

(آیت) ” ربنا لم کتبت علینا القتال لولا اخرتنا الی اجل قریب (4 : 77) (اے ہمارے رب تو نے ہم پر قتال کو کیوں فرض کردیا ‘ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تو اسے قریب وقت تک مؤخر کردیتا) لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس آیت سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد کچھ دوسرے لوگ ہیں جن میں ان چہروں کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل تھے ۔

یہ مسئلہ جو اس آیت میں لیا گیا ہے ۔ یہ ایک عظیم اور مشکل مسئلہ کا ایک پہلو ہے اور وہ مسئلہ تاریخ ادیان اور تاریخ فلسفہ کا نہایت ہی مشکل مسئلہ ہے ۔ یعنی مسئلہ جبر وقدر اور مسئلہ تقدیر ۔ یہ مسئلہ یہاں بعض لوگوں کے حالات کے بیان میں ضمنا آگیا ہے ۔ ان لوگوں کے غلط تصورات کا رد یہاں کیا گیا ہے ۔ قرآن کریم نے اس فریق زیر بحث کی فکری غلطی کو درست کرتے ہوئے اس …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.