Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 61–70 of 176

61

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَيْتَ ٱلْمُنَٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًۭا

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں

Explained together with ayah 60

62

فَكَيْفَ إِذَآ أَصَٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنْ أَرَدْنَآ إِلَّآ إِحْسَٰنًۭا وَتَوْفِيقًا

تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا

یعنی جب اپنے کرتوتوں کے سبب عتاب الٰہی کا شکار ہو کر مصیبتوں میں پھنستے ہیں تو پھر آکر کہتے ہیں کہ کسی دوسری جگہ جانے سے مقصد یہ نہیں تھا کہ وہاں سے ہم فیصلہ کروائیں گے، یا آپ سے زیادہ ہمیں وہاں سے انصاف ملے گا، بلکہ مقصد صلح اور ملاپ کرانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگرچہ ہم ان کے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہیں، جس پر ہم انھیں جزا دیں گے، لیکن اے پیغمبر آپ ان کے ظاہر کو سامنے رکھتے ہوئے در گزر ہی فرمائیے اور وعظ و نصیحت اور قول بلیغ کے ذریعے سے ان کے باطن کی اصلاح کی کوشش جاری رکھیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے دشمنوں کی سازش کو عفو و درگزر، وعظ و نصیحت اور قول بلیغ ہی کے ذریعے سے ناکام بنانے کی سعی کی جانی چاہیے۔ یاد رہے یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب منافق مغلوب تھے اور اسلام اور اس کے احکام اور عدالتیں غالب تھیں اور منافق دوسرے لوگوں سے فیصلہ کرانے پر پشیمان ہو کر عذر معذرتیں کرتے تھے۔

63

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَعْلَمُ ٱللَّهُ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِىٓ أَنفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيغًۭا

ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے خدا اس کو خوب جانتا ہے تم ان (کی باتوں) کو کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں میں اثر کر جائیں

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ ۔۔ : اطاعت رسول کی دوبارہ ترغیب دی ہے۔ یعنی اللہ کے رسول دنیا میں اس لیے آتے ہیں کہ تمام معاملات میں اللہ کے حکم کے مطابق ان کی اطاعت کی جائے۔ ” باذن اللہ “ کا معنی اللہ کی توفیق و اعانت بھی کیا گیا ہے، وہ بھی درست ہے، معلوم ہوا ہر رسول واجب الاطاعت ہوتا ہے۔ - وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا : اپنی جان پر ظلم کرنے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنا اور آپ سے استغفار کروانا آپ کی زندگی کے ساتھ خاص تھا، آپ کی وفات کے بعد کسی صحابی سے ثابت نہیں کہ وہ آپ کی قبر مبارک پر آیا ہو اور آپ سے دعا کرنے کی درخواست کی ہو۔ حافظ ابن کثیر (رض) نے یہاں ایک بدوی کی حکایت نقل کی ہے، جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے پاس آکر یہ آیت پڑھتے ہوئے کچھ شعر پڑھے اور کہا کہ میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور آپ کو سفارشی بناتا ہوں، اس پر قبر انور کے پاس بیٹھنے والے ایک شخص نے کہا، خواب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا ہے : ” اس بدوی کو بخش دیا گیا ہے۔ “ لیکن یہ ایک حکایت ہے جو آیت کی مناسبت سے ذکر کردی گئی ہے، یہ نہ آیت کی تفسیر ہے نہ حدیث ہے۔ الصارم المنکی (ص : ٢٣٨) “ میں لکھا ہے کہ اس حکایت کی سند نہایت کمزور ہے۔ اور نبی کے خواب کے علاوہ کسی کا خواب دین میں دلیل بھی نہیں بنتا۔ آیت سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں آپ سے دعائے مغفرت کروائی جاسکتی تھی، مگر آپ کی وفات کے بعد اس آیت کی رو سے قبر پر جا کر سفارش اور دعا کی درخواست کرنا کسی طرح صحیح نہیں۔ - جَاۗءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ : اللہ تعالیٰ کی بخشش حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ و استغفار ضروری اور کافی ہے، لیکن یہاں جو کہا گیا ہے کہ اے پیغمبر وہ تیرے پاس آتے اور اللہ سے بخشش مانگتے اور تو بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتا، تو یہ اس لیے کہ چونکہ انھوں نے جھگڑے کے فیصلے کے لیے دوسروں کی طرف رجوع کر کے آپ کی شان کے نا مناسب حرکت کی تھی، اس لیے اس کے ازالے کے لیے انھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنے کی تاکید فرمائی۔

64

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ جَآءُوكَ فَٱسْتَغْفَرُوا۟ ٱللَّهَ وَٱسْتَغْفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُوا۟ ٱللَّهَ تَوَّابًۭا رَّحِيمًۭا

اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے

Explained together with ayah 63

65

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًۭا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًۭا

تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔۔ : اس آیت کی شان نزول میں ایک مسلمان اور یہودی کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیصلہ کروانے کے بعد عمر (رض) سے فیصلہ کروانے گیا تھا، جس پر عمر (رض) نے اس مسلمان کی گردن اڑا دی تھی۔ مگر یہ واقعہ سنداً صحیح نہیں ہے، جیسا کہ حافظ ابن کثیر (رض) نے بھی وضاحت کی ہے، ویسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے اصرار کے باوجود منافقوں کی بڑی بڑی گستاخیوں پر نہ انھیں قتل کرتے، نہ قتل کی اجازت دیتے اور وجہ یہ بتاتے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب ذکر الخوارج : ١٠٦٣ ]- 2 عبداللہ بن زبیر (رض) راوی ہیں کہ زبیر (رض) اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کی نالیوں میں جھگڑا ہوگیا۔ زبیر (رض) کی زمین اوپر کی جانب تھی، جہاں سے پانی آتا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) سے انصاری کے حق میں رعایت کی سفارش کی اور فرمایا : ” اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ۔ “ اس پر انصاری نے کہا : ” یہ اس لیے کہ زبیر ( ) آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ “ مطلب یہ تھا کہ آپ نے اس رشتے کی رعایت کی ہے، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف محسوس ہوئی اور فرمایا : ” زبیر اپنے باغ کو اتناپانی دو کہ منڈیروں تک چڑھ جائے، پھر اس کے لیے چھوڑ دو ، پہلے آپ نے انصاری کی سفارش کی تھی، اب جب اس نے آپ کو غصہ دلایا تو آپ نے سفارش کے بجائے فیصلہ کیا اور زبیر (رض) کو ان کا پورا حق دلوایا۔ زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ آیت : ( فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ ) اس بارے میں نازل ہوئی۔ [ مسلم، الفضائل، باب وجوب اتباعہ، ص : ٢٣٥٧۔ بخاری : ٤٥٨٥ ] - حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر مومن ہونے کی تین شرطیں بیان کی ہیں، پہلی یہ کہ کسی بھی جھگڑے کا فیصلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی اور کے پاس نہ لے جایا جائے۔ [ دیکھیے النور : ٥١۔ الأحزاب : ٣٦ ] دوسری یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے پر دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کی جائے اور تیسری یہ کہ صاف اعلان کر کے اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے۔ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد قرآن و سنت سے فیصلہ طلب کیا جائے گا۔ اس سے منکرین حدیث کے ایمان کی حقیقت پوری طرح کھل جاتی ہے۔ یہ آیت منکرین حدیث کے علاوہ ان لوگوں کے لیے بھی لمحہ فکر یہ ہے جن کے امام یا پیر کے خلاف کوئی آیت یا حدیث آجائے تو وہ صرف دل میں تنگی ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ ماننے سے صاف انکار کردیتے ہیں کہ کیا ہمارے امام کو اس آیت و حدیث کا علم نہ تھا، یا پھر اس کی تاویل کرنے یا اسے منسوخ قرار دینے کے لیے اپنی ساری قوت صرف کردیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت کے صریح الفاظ کے مطابق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کے خلاف دل میں ذرہ بھر تنگی یا نا پسندیدگی محسوس کی جائے تو یہ ایمان کے منافی ہے۔

66

وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ ٱقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ أَوِ ٱخْرُجُوا۟ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌۭ مِّنْهُمْ ۖ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا۟ مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًۭا

اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر یہ اس نصیحت پر کاربند ہوتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا

ان آیات کا تعلق بھی منافقین سے ہے، ان میں انھیں اخلاص اور ترک نفاق کی ترغیب دی گئی ہے۔ یعنی چاہیے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے میں جان دینے سے بھی دریغ نہ کیا جائے، (مگر یہ ایسے ہیں کہ ) اگر کہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنی جانیں ہلاک کر ڈالنے یا اپنے گھر چھوڑ دینے کا حکم دے دیتا تو یہ اسے کب بجا لانے والے تھے، جو حکم ہم نے انھیں دیے ہیں وہ نہایت آسان اور محض ان کی خیر خواہی کے لیے ہیں، نصیحت مانیں اور ان احکام پر چلیں، نفاق جاتا رہے گا، ایمان کامل نصیب ہوگا اس کو غنیمت سمجھیں۔ (موضح) - 2 ابن عاشور فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ تمہید ہے جہاد کے ان احکام کی جو ساتھ ہی شروع ہو رہے ہیں : ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِيْعًا) [ النساء : ٧١ ] اور ان آیات کے ساتھ مناسبت یہ بھی ہے کہ اگر ہم ان پر ہجرت یا قتال ( اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ ) فرض کردیتے تو بہت کم لوگ اس پر عمل کرتے، لیکن اگر وہ ایسا کرتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور بیشمار اجر کا باعث ہوتا۔ یعنی ابھی تو ایمان کے اعلیٰ مدارج جو اسلام کے کوہان کی چوٹی ہیں، ان کا حکم بھی آنے والا ہے، کجا یہ کہ یہ لوگ فیصلے بھی کہیں اور سے کروانا چاہتے ہیں۔ [ التحریر والتنویر ]

67

وَإِذًۭا لَّءَاتَيْنَٰهُم مِّن لَّدُنَّآ أَجْرًا عَظِيمًۭا

اور ہم ان کو اپنے ہاں سے اجر عظیم بھی عطا فرماتے

Explained together with ayah 66

68

وَلَهَدَيْنَٰهُمْ صِرَٰطًۭا مُّسْتَقِيمًۭا

اور سیدھا رستہ بھی دکھاتے

Explained together with ayah 66

69

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّۦنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُو۟لَٰٓئِكَ رَفِيقًۭا

اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے

یہ صدق سے مبالغہ ہے، یعنی جو بہت سچا ہو۔ بعض نے کہا، جو کبھی جھوٹ نہ بولے۔ بعض نے کہا، صدیق وہ ہے کہ صدق کی عادت کی وجہ سے اس سے جھوٹ ناممکن ہو اور بعض نے کہا کہ جو اپنے اعتقاد اور قول میں سچا ہو اور اپنے فعل کے ساتھ اپنے صدق کو ثابت کرے۔ ( مفردات) استاد محمد عبدہ (رض) لکھتے ہیں کہ صدیق صدق سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی جو جملہ امور دین کی تصدیق کرنے والا ہو اور کبھی کسی معاملے میں خلجان اور شک اس کے دل میں پیدا نہ ہو، یا وہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق میں سبقت کرنے کی وجہ سے دوسروں کے لیے اسوہ بنے، اس اعتبار سے اس امت کے صدیق ابوبکر (رض) ہی ہوسکتے ہیں، کیونکہ ابوبکر صدیق (رض) دوسرے افاضل صحابہ کے لیے نمونہ بنے ہیں۔ علی (رض) بھی اول مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں، مگر چھوٹے بچے ہونے کی وجہ سے دوسروں کے لیے نمونہ نہیں بن سکے۔ چونکہ نبی کے بعد صدیق کا درجہ ہے، اس لیے علمائے اہل سنت کا اجماع ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے افضل ہیں۔ ” الشہداء “ یہ شہید کی جمع ہے، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان دی اور امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی شہداء ہونے کا شرف حاصل ہے، اور ” الصالحین “ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہر طرح عقیدہ و عمل کے اعتبار سے صالح اور درست رہے اور ہر قسم کے فساد سے محفوظ رہے۔ (رازی)- مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ ۔۔ : یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے انعام کا ذکر ہے کہ انھیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت، یعنی ان کا ساتھ نصیب ہوگا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام (رض) کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہنے کا شوق بہت زیادہ تھا، دنیا میں بھی وہ اس کے بہت مشتاق تھے اور انھیں جنت میں آپ کی معیت کا شوق تو حد سے زیادہ تھا۔ ربیعہ بن کعب اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رات بسر کیا کرتا تھا اور آپ کے لیے پانی اور دیگر ضروریات کا اہتمام کردیا کرتا تھا، ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کچھ مانگ لو “ میں نے عرض کی : میں آپ سے جنت میں آپ کی مرافقت (ساتھ) کا سوال کرتا ہوں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کوئی اور سوال ؟ “ میں نے عرض کی : ” وہ بھی یہی ہے۔ “ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پھر سجدوں کی کثرت کے ساتھ اپنے بارے میں میری مدد کرو۔ “ [ مسلم، الصلاۃ، باب فضل السجود والحث علیہ : ٤٨٩ ] یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خالص محبت اور اطاعت کی برکت ہے کہ اگر عمل میں کچھ کمی ہوئی تب بھی اطاعت و اخلاص کی وجہ سے اتنے اونچے لوگوں کا ساتھ مل جائے گا۔ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : ” آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت رکھتا ہے، مگر ابھی تک ( اعمال میں) ان سے نہیں مل سکا۔ “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے اسے محبت ہوگی۔ “ [ بخاری، الأدب، باب علامۃ الحب فی اللہ عزوجل : ٦١٦٩ ] حقیقت یہ ہے کہ اطاعت اور محبت لازم و ملزوم ہیں، وہ محبت جس میں اطاعت نہ ہو جھوٹی ہے اور وہ اطاعت جس کی بنیاد محبت نہ ہو، دکھاوا ہے۔ ہاں، محبت و اخلاص کے ساتھ عمل و اطاعت میں کچھ کمی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے پورا کر دے گا، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین سے زیادہ اچھا ساتھی کوئی نہیں اور اللہ کے فضل سے بڑی نعمت کوئی نہیں اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کے حالات خوب جانتا ہے کہ کسے کس کے ساتھ رکھنا ہے۔ - انس (رض) فرماتے ہیں : ” مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت ہے، ابوبکر و عمر (رض) …

70

ذَٰلِكَ ٱلْفَضْلُ مِنَ ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ عَلِيمًۭا

یہ خدا کا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے

Explained together with ayah 69

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.