44: مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو تو بڑے سخت قسم کے احکام دیئے گئے تھے جن میں توبہ کے طور پر ایک دوسرے کو قتل کرنا بھی شامل تھا، جس کا ذکرسورۂ بقرہ (۵۴) میں آیا ہے، اب اگر کوئی ایسا سخت حکم دیاجاتا تو ان میں سے کوئی بھی عمل نہ کرتا۔ اب اس سے بہت آسان حکم یہ دیا جارہا ہے کہ آنحضرتﷺ کے اَحکام کو دِل وجان سے تسلیم کرلو، لہٰذا عافیت کا راستہ یہی ہے کہ وہ آپﷺ کے صحیح معنیٰ میں فرماں برادار بن جائیں۔
بعض روایات میں ہے کہ کچھ یہودیوں نے یہ شیخی بھی بگھاری تھی کہ ہم توایسی فرماں برادار قوم ہیں کہ جب ہمارے آبا ؤاجداد کو یہ حکم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں تو انہوں نے اس جیسے سخت حکم پر عمل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا، یہ آیت ان کی اس بات کی طرف بھی اشارہ کررہی ہے۔