Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 61–70 of 176

61

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَيْتَ ٱلْمُنَٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًۭا

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں

ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔

مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

62

فَكَيْفَ إِذَآ أَصَٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنْ أَرَدْنَآ إِلَّآ إِحْسَٰنًۭا وَتَوْفِيقًا

تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا

ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔

مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

63

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَعْلَمُ ٱللَّهُ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِىٓ أَنفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيغًۭا

ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے خدا اس کو خوب جانتا ہے تم ان (کی باتوں) کو کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں میں اثر کر جائیں

ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔

مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

64

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ جَآءُوكَ فَٱسْتَغْفَرُوا۟ ٱللَّهَ وَٱسْتَغْفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُوا۟ ٱللَّهَ تَوَّابًۭا رَّحِيمًۭا

اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے

رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔

نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

65

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًۭا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًۭا

تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے

رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔

نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

66

وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ ٱقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ أَوِ ٱخْرُجُوا۟ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌۭ مِّنْهُمْ ۖ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا۟ مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًۭا

اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر یہ اس نصیحت پر کاربند ہوتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا

رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔

نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

67

وَإِذًۭا لَّءَاتَيْنَٰهُم مِّن لَّدُنَّآ أَجْرًا عَظِيمًۭا

اور ہم ان کو اپنے ہاں سے اجر عظیم بھی عطا فرماتے

رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔

نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

68

وَلَهَدَيْنَٰهُمْ صِرَٰطًۭا مُّسْتَقِيمًۭا

اور سیدھا رستہ بھی دکھاتے

رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔

نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

69

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّۦنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُو۟لَٰٓئِكَ رَفِيقًۭا

اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے

رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔

نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

70

ذَٰلِكَ ٱلْفَضْلُ مِنَ ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ عَلِيمًۭا

یہ خدا کا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے

رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔

نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.