Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 51–60 of 176

51

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًۭا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَٰٓؤُلَآءِ أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ سَبِيلًا

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں

آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔

لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

52

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يَلْعَنِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ نَصِيرًا

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔

لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

53

أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌۭ مِّنَ ٱلْمُلْكِ فَإِذًۭا لَّا يُؤْتُونَ ٱلنَّاسَ نَقِيرًا

کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے

آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔

لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

54

أَمْ يَحْسُدُونَ ٱلنَّاسَ عَلَىٰ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۖ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَٰهِيمَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَٰهُم مُّلْكًا عَظِيمًۭا

یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم ؑ کو کتاب اور دانائی عطا فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی

آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔

لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

55

فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا

پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دوزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے

آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔

لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

56

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًۭا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَٰهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل (اور جل) جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمیشہ) عذاب (کا مزہ چکھتے) رہیں بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔

لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

57

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ لَّهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ ۖ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّۭا ظَلِيلًا

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ان کو ہم گھنے سائے میں داخل کریں گے

آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔

لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

58

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا۟ ٱلْأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوا۟ بِٱلْعَدْلِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعًۢا بَصِيرًۭا

خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے

ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔

مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

59

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍۢ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔

مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

60

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓا۟ إِلَى ٱلطَّٰغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوٓا۟ أَن يَكْفُرُوا۟ بِهِۦ وَيُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًۭا

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے

ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔

مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.