Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 51–60 of 176

51

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًۭا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَٰٓؤُلَآءِ أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ سَبِيلًا

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں

آیت 51 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآءِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً یہود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس حد تک پہنچ گئے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی رض ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ میں ان سے مشابہ تھے ‘ پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے تھے اور تورات کو اللہ کی کتاب مانتے تھے۔ لیکن اہل ایمان کے ساتھ ضدمّ ضدا اور عداوت میں وہ اس حد تک آگے بڑھے کہ مشرکین مکہ سے مل کر ان کے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ یہ مشرک مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں اور ان کا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے

52

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يَلْعَنِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ نَصِيرًا

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

آیت 51 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآءِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً یہود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس حد تک پہنچ گئے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی رض ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ میں ان سے مشابہ تھے ‘ پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے تھے اور تورات کو اللہ کی کتاب مانتے تھے۔ لیکن اہل ایمان کے ساتھ ضدمّ ضدا اور عداوت میں وہ اس حد تک آگے بڑھے کہ مشرکین مکہ سے مل کر ان کے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ یہ مشرک مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں اور ان کا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے

53

أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌۭ مِّنَ ٱلْمُلْكِ فَإِذًۭا لَّا يُؤْتُونَ ٱلنَّاسَ نَقِيرًا

کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے

آیت 53 اَمْ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْکِ انہوں نے یہ جو تقسیم کرلی ہے کہ دنیا میں یہ سب کچھ ہمارے لیے ہے ‘ باقی تمام انسان Goyems اور Gentiles ہیں ‘ تو انسانوں میں یہ تقسیم اور تفریق کا اختیار انہیں کس نے دیا ہے ؟ کیا ان کا اللہ کی حکومت میں کوئی حصہ ہے ؟ زمین و آسمان کی بادشاہی تو اللہ کی ہے ‘ مالک الملک اللہ ہے۔ تو کیا ان کو اس کے پاس سے کوئی اختیار ملا ہوا ہے ؟

54

أَمْ يَحْسُدُونَ ٱلنَّاسَ عَلَىٰ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۖ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَٰهِيمَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَٰهُم مُّلْكًا عَظِيمًۭا

یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم ؑ کو کتاب اور دانائی عطا فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی

آیت 54 اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآاٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ج دراصل یہ سب اس حسد کا نتیجہ ہے جو یہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان امیین میں اپنا آخری نبی ‘ بھیج دیا اور انہیں اپنی آخری کتاب عطا فرما دی جنہیں یہ حقیر سمجھتے تھے۔ اب یہ اس حسد کی آگ میں جل رہے ہیں۔ فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا۔یعنی تمہیں بھی اگر تورات اور انجیل ملی تھی تو ابراہیم علیہ السلام کی نسل ہونے کے ناتے سے ملی تھی ‘ تو یہ جو اسماعیل علیہ السلام کی نسل ہے یہ بھی تو ابراہیم علیہ السلام ہی کی نسل ہے۔ ہاں بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت علیحدہ علیحدہ ملی۔ تورات کتاب تھی اور انجیل حکمت تھی ‘ جبکہ یہاں کتاب اور حکمت اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جگہ پر قرآن میں بتمام و کمال جمع کردی ہیں۔ مزید برآں جیسے ان کو ملک عظیم دیا تھا ‘ اب ہم ان مسلمانوں کو اس سے بڑا ملک دیں گے۔ یہ مضمون سورة النور میں آئے گا : لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ آیت 55 ہم ‘ لازماً ان اہل ایمان کو دنیا میں حکومت اور خلافت عطا کریں گے جیسے ان سے پہلوں کو عطا کی تھی۔“

55

فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا

پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دوزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے

آیت 54 اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآاٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ج دراصل یہ سب اس حسد کا نتیجہ ہے جو یہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان امیین میں اپنا آخری نبی ‘ بھیج دیا اور انہیں اپنی آخری کتاب عطا فرما دی جنہیں یہ حقیر سمجھتے تھے۔ اب یہ اس حسد کی آگ میں جل رہے ہیں۔ فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا۔یعنی تمہیں بھی اگر تورات اور انجیل ملی تھی تو ابراہیم علیہ السلام کی نسل ہونے کے ناتے سے ملی تھی ‘ تو یہ جو اسماعیل علیہ السلام کی نسل ہے یہ بھی تو ابراہیم علیہ السلام ہی کی نسل ہے۔ ہاں بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت علیحدہ علیحدہ ملی۔ تورات کتاب تھی اور انجیل حکمت تھی ‘ جبکہ یہاں کتاب اور حکمت اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جگہ پر قرآن میں بتمام و کمال جمع کردی ہیں۔ مزید برآں جیسے ان کو ملک عظیم دیا تھا ‘ اب ہم ان مسلمانوں کو اس سے بڑا ملک دیں گے۔ یہ مضمون سورة النور میں آئے گا : لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ آیت 55 ہم ‘ لازماً ان اہل ایمان کو دنیا میں حکومت اور خلافت عطا کریں گے جیسے ان سے پہلوں کو عطا کی تھی۔“

56

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًۭا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَٰهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل (اور جل) جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمیشہ) عذاب (کا مزہ چکھتے) رہیں بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

آیت 56 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ نَارًا ط کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَہَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ط یہ بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے جسے میڈیکل سائنس نے دریافت کیا ہے کہ درد کا احساس انسان کی کھال skin ہی میں ہے۔ اس کے نیچے گوشت اور عضلات وغیرہ میں درد کا احساس نہیں ہے۔ کسی کو چٹکی کاٹی جائے ‘ کانٹا چبھے ‘ چوٹ لگے یا کوئی حصہ جل جائے تو تکلیف اور درد کا سارا احساس جلد ہی میں ہوتا ہے۔ چناچہ ان جہنمیوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ جب بھی ان کی کھال آتش جہنم سے جل جائے گی تو اس کی جگہ نئی کھال دے دی جائے گی تاکہ ان کی تکلیف اور سوزش مسلسل رہے ‘ جلن کا احساس برقرار رہے ‘ اس میں کمی نہ ہو۔

57

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ لَّهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ ۖ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّۭا ظَلِيلًا

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ان کو ہم گھنے سائے میں داخل کریں گے

آیت 57 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یہاں بھی وہی فوری تقابل simultaneous contrast ہے کہ اہل جہنم کے تذکرے کے فوراً بعد اہل جنت کا تذکرہ ہے۔وَّنُدْخِلُہُمْ ظلاًّ ظَلِیْلاً ۔انہیں ایسی گہری اور ٹھنڈی چھاؤں میں رکھا جائے گا جو دھوپ کی حدت اور تمازت سے بالکل محفوظ ہوگی۔ّ َ یہاں وہ حصہ ختم ہوا جس میں اہل کتاب کی طرف روئے سخن تھا۔ اب پھر مسلمانوں سے خطاب ہے۔

58

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا۟ ٱلْأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوا۟ بِٱلْعَدْلِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعًۢا بَصِيرًۭا

خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے

یہ دو آیات 58 ‘ 59 قرآن مجید کی نہایت اہم آیات ہیں ‘ جن میں اسلام کا سارا سیاسی ‘ قانونی اور دستوری نظام موجود ہے۔ فرمایا :آیت 58 اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ الآی اَہْلِہَالا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بالْعَدْلِ ط پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ جو بھی سیاسی نظام بناتے ہیں اس میں مناصب ہوتے ہیں ‘ جن کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور اختیارات بھی۔ لہٰذا ان مناصب کے انتخاب میں آپ کی رائے کی حیثیت امانت کی ہے۔ آپ اپنی رائے دیکھ بھال کردیں کہ کون اس کا اہل ہے۔ اگر آپ نے ذات برادری ‘ رشتہ داری وغیرہ کی بنا پر یا مفادات کے لالچ میں یا کسی کی دھونس کی وجہ سے کسی کے حق میں رائے دی تو یہ صریح خیانت ہے۔ حقِ رائے دہی ایک امانت ہے اور اس امانت کا استعمال صحیح صحیح ہونا چاہیے۔ عام معنی میں بھی امانت کی حفاظت ضروری ہے اور جو بھی امانت کسی نے رکھوائی ہے اسے واپس لوٹانا آپ کی شرعی ذمہ داری ہے۔ لیکن یہاں یہ بات اجتماعی زندگی کے اہم اصولوں کی حیثیت سے آرہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ گویا پہلی ہدایت سیاسی نظام سے متعلق ہے کہ امیر المؤمنین یا سربراہ ریاست کا انتخاب اہلیت کی بنیاد پر ہوگا ‘ جبکہ دوسری ہدایت عدلیہ Judiciary کے استحکام کے بارے میں ہے کہ وہاں بلا امتیاز ہر ایک کو عدل و انصاف میسرآئے۔ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًام بَصِیْرًا اگلی آیت میں تیسری ہدایت مقننہ Legislature کے بارے میں آرہی ہے کہ اسلامی ریاست کی دستوری بنیاد کیا ہوگی۔ جدید ریاست کے تین ستون انتظامیہ Executive ‘ عدلیہ Judiciary اور مقننہ Legislature گنے جاتے ہیں۔ پہلی آیت میں انتظامیہ اور عدلیہ کے ذکر کے بعد اب دوسری آیت میں مقننہ کا ذکر ہے کہ قانون سازی کے اصول کیا ہوں گے۔

59

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍۢ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

فرمایا :آیت 59 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ یعنی کوئی قانون اللہ اور اس کے رسول کی منشا کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا۔ اصولی طور پر یہ بات پاکستان کے دستور میں بھی تسلیم کی گئی ہے : " No Legislation will be done repugnant to the Quran and the Sunnah."لیکن اس کی تنفیذ و تعمیل کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے ‘ لہٰذا اس وقت ہمارا دستور منافقت کا پلندہ ہے۔ اس آیت کی رو سے اللہ کے احکام اور اللہ کے رسول ﷺ کے احکام قانون سازی کے دو مستقل ذرائع sources ہیں۔ اس طرح یہاں منکرین سنت کی نفی ہوتی ہے جو مؤخر الذکر کا انکار کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فرمایا :وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ج یہاں بہت عجیب اسلوب ہے کہ تین ہستیوں کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے : اللہ کی ‘ رسول کی اور اولوالامر کی ‘ لیکن پہلے دو کے لیے اَطِیْعُوْا“ کا لفظ آیا ہے ‘ جبکہ تیسرے کے لیے نہیں ہے۔ ایک اسلوب یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اَطِیْعُوْا“ ایک مرتبہ آجاتا اور اس کا اطلاق تینوں پر ہوجاتا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ‘۔ اس طرح تینوں برابر ہوجاتے۔ دوسرا اسلوب یہ ہوسکتا تھا کہ اَطِیْعُواتیسری مرتبہ بھی آتا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاَطِیْعُوْا اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ“۔ لیکن قرآن نے جو اسلوب اختیار کیا ہے کہ اَطِیْعُوا“ دو کے ساتھ ہے ‘ تیسرے کے ساتھ نہیں ہے ‘ اس سے اولوالامر کی اطاعت کا مرتبہ status متعینّ ہوجاتا ہے۔ ایک تو مِنْکُمْ“ کی شرط سے واضح ہوگیا کہ اولوالامر تم ہی میں سے ہونے چاہئیں ‘ یعنی مسلمان ہوں۔ غیر مسلم کی حکومت کو ذہناً تسلیم کرنا اللہ سے بغاوت ہے۔ وہ کم از کم مسلمان تو ہوں۔ پھر یہ کہ متذکرہ بالا اسلوب سے واضح ہوگیا کہ ان کی اطاعت مطلق ‘ دائم اور غیر مشروط نہیں۔ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت مطلق ‘ دائم ‘ غیر مشروط اور غیر محدود ہے ‘ لیکن صاحب امر کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تابع ہوگی۔ وہ جو حکم بھی لائے اسے بتانا ہوگا کہ میں کتاب و سنت سے کیسے اس کا استنباط کر رہا ہوں۔ گویا اسے کم از کم یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ حکم کتاب و سنت کے خلاف نہیں ہے۔ ایک مسلمان ریاست میں قانون سازی اسی بنیاد پر ہوسکتی ہے۔ دور جدید میں قانون ساز ادارہ کوئی بھی ہو ‘ کانگریس ہو ‘ پارلیمنٹ ہو یا مجلس ملی ہو ‘ وہ قانون سازی کرے گی ‘ لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ یہ قانون سازی قرآن وسنت سے متصادم نہ ہو۔ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ اولوالامرک ہے کہ میں تو اسے عین اسلام کے مطابق سمجھتا ہوں ‘ لیکن آپ کہیں کہ نہیں ‘ یہ بات خلاف اسلام ہے ‘ تو اب کہاں جائیں ؟ فرمایا :فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ یعنی اب جو بھی اپنی بات ثابت کرنا چاہتا ہے اسے اللہ اور اس کے رسول سے یعنی قرآن و سنت سے دلیل لانی پڑے گی۔ میری پسند ‘ میرا خیال ‘ میرا نظریہ والا استدلال قابل قبول نہیں ہوگا۔ استدلال کی بنیاد اللہ اور اس کے رسول کی مرضی ہوگی۔ یہ بات ماننی پڑے گی کہ ابھی یہاں ایک خلا ہے۔ وہ خلا یہ ہے کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ فریقین میں سے کس کی رائے صحیح ہے۔ اور آج کے ریاستی نظام میں آکر وہ خلا پر ہوچکا ہے کہ یہ عدلیہ Judiciary کا کام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب عرب میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تو اس طرح علیحدہ علیحدہ ریاستی ادارے ابھی پوری طرح وجود میں نہیں آئے تھے اور ان کی الگ الگ شناخت نہیں تھی کہ یہ مقننہ Legislature ہے ‘ یہ عدلیہ Judiciary ہے اور یہ انتظامیہ Executive ہے۔ حضرت ابوبکر رض کے زمانے میں تو کوئی قاضی تھے ہی نہیں۔ سب سے پہلے حضرت عمر رض نے شعبہ قضاء شروع کیا۔ تو رفتہ رفتہ یہ ریاستی ادارے پروان چڑھے۔ جدید دور میں ان …

60

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓا۟ إِلَى ٱلطَّٰغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوٓا۟ أَن يَكْفُرُوا۟ بِهِۦ وَيُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًۭا

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے

آیت 60 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ لیکن ان کا طرز عمل یہ ہے کہ :یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ یہاں واضح طور پر طاغوت سے مراد وہ حاکم یا وہ ادارہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتا۔ پچھلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا۔ گویا جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر کاربند ہوگیا وہ طاغوت سے خارج ہوگیا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو قبول نہیں کرتا وہ طاغوت ہے ‘ اس لیے کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کر گیا۔ چناچہ غیر مسلم حاکم یا منصف جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا پابند نہیں وہ طاغوت ہے۔ وَقَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ ط منافقین مدینہ کی عام روش یہ تھی جس مقدمہ میں انہیں اندیشہ ہوتا کہ فیصلہ ان کے خلاف ہوگا اسے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لانے کے بجائے یہودی عالموں کے پاس لے جاتے۔ وہ جانتے تھے کہ حضور ﷺ کے پاس جائیں گے تو حق اور انصاف کی بات ہوگی۔ ایک یہودی اور ایک مسلمان جو منافق تھا ‘ ان کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ یہودی کہنے لگا کہ چلو محمد ﷺ کے پاس چلتے ہیں۔ اس لیے کہ اسے یقین تھا کہ میں حق پر ہوں۔ لیکن یہ منافق کہنے لگا کہ کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں جو ایک یہودی عالم تھا۔ بہرحال وہ یہودی اس منافق کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا۔ آپ ﷺ نے دونوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ یہودی کے حق میں کردیا۔ وہاں سے باہر نکلے تو منافق نے کہا کہ چلو اب حضرت عمر رض کے پاس چلتے ہیں ‘ وہ جو فیصلہ کردیں وہ مجھے منظور ہوگا۔ وہ دونوں حضرت عمر رض کے پاس آئے۔ منافق کو یہ امید تھی کہ حضرت عمر رض میرا زیادہ لحاظ کریں گے ‘ کیونکہ میں مسلمان ہوں۔ جب یہودی نے یہ بتایا کہ اس مقدمے کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ میرے حق میں کرچکے ہیں تو حضرت عمر رض نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ‘ تلوار لی اور اس منافق کی گردن اڑا دی کہ جو محمد رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں ہے اور اس کے بعد مجھ سے فیصلہ کروانا چاہتا ہے اس کے حق میں میرا یہ فیصلہ ہے ! اس پر اس منافق کے خاندان والوں نے بڑا واویلا مچایا۔ وہ چیختے چلاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عمر رض پر قتل کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتول حضرت عمر رض کے پاس یہودی کو لے کر اس وجہ سے گیا تھا کہ وہ اس معاملہ میں باہم مصالحت کرا دیں ‘ اس کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے انکار نہیں تھا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں اصل حقیقت ظاہر فرما دی گئی۔

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.