Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 51–60 of 176

51

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًۭا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَٰٓؤُلَآءِ أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ سَبِيلًا

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ ۔۔ : عمر فاروق (رض) نے فرمایا : ” جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ (وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ ) قبل : ٤٥٨٣، معلقًا ] جوہری نے الصحاح میں فرمایا : ” جبت “ کا لفظ بت، کاہن، جادوگر اور اس قسم کی دوسری چیزوں پر استعمال ہوتا ہے۔ “ اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ ” پرندوں کو اڑا کر شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر فال گیری کرنا جبت میں شامل ہے۔ “ [ أبو داوٗد، الطب، باب فی الخط وزجر الطیر : ٣٩٠٧ ] اور طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ شخص جو گناہ کی دعوت دے اس پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ عرب میں بتوں کے ترجمان ہوتے تھے، جو ان کی زبان سے جھوٹ نقل کرتے اور لوگوں کو گمراہ کرتے، ان کو طاغوت کہا جاتا تھا۔ مزید دیکھیے البقرۃ (٢٥٢)- 2 یہودیوں کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مخالفت ہوئی تو انھوں نے مشرکین مکہ سے رابطہ قائم کرلیا اور ان سے کہنے لگے کہ تمہارا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے۔ یہ سب کچھ اس حسد کی وجہ سے تھا کہ نبوت اور ریاست ہمارے سوا دوسروں کو کیوں مل گئی، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کو الزام دیا۔

52

أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يَلْعَنِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ نَصِيرًا

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

Explained together with ayah 51

53

أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌۭ مِّنَ ٱلْمُلْكِ فَإِذًۭا لَّا يُؤْتُونَ ٱلنَّاسَ نَقِيرًا

کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے

اوپر کی آیت میں یہود کی جہالت بیان کی کہ وہ بتوں کی پوجا کو اللہ واحد کی عبادت پر ترجیح دیتے ہیں، اس آیت میں ان کے بخل اور حسد کو بیان فرمایا۔ بخل تو یہ ہے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے کسی کو دی ہو دوسروں سے اسے روک لینا اور حسد یہ ہے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو دی ہے اس پر جلے بھنے اور آرزو کرے کہ اس سے چھن جائے، پھر خواہ مجھے ملے یا نہ ملے۔ پس حسد اور بخل دونوں میں یہ بات قدرے مشترک ہے کہ دوسروں سے نعمت کو روکنا اور یہ گوارا نہ کرنا کہ اپنی ذات کے سوا دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔ (رازی۔ قرطبی) یہود میں یہ دونوں صفتیں اتم اور اکمل طور پر پائی جاتی تھیں، قرآن نے بتایا کہ یہ مسلمانوں سے حسد کرتے ہیں اور ان کے بخل کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ملک و سلطنت میں ان کو کچھ اختیار ہوتا تو کسی کو ” تل برابر “ بھی کچھ نہ دیتے۔ ” نَقِيْرًا “ دراصل اس نقطے کو کہتے ہیں جو گٹھلی کی پشت پر ہوتا ہے اور یہ قلت میں ضرب المثل ہے۔

54

أَمْ يَحْسُدُونَ ٱلنَّاسَ عَلَىٰ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۖ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَٰهِيمَ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَٰهُم مُّلْكًا عَظِيمًۭا

یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم ؑ کو کتاب اور دانائی عطا فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی

مطلب یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں مدت دراز تک نبوت اور بادشاہت رہی ہے اور داؤد و سلیمان (علیہ السلام) اور دوسرے اولوا العزم پیغمبر ہو گزرے ہیں، اب بنو اسماعیل میں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرما دیا گیا ہے تو یہ کیوں حسد کر رہے ہیں ؟ یہاں ” مِنْ فَضْلِهٖ ۚ“ سے مراد نبوت اور دین و دنیا کی وہ عزت ہے جو نبوت کی برکت سے حاصل ہوئی۔ ” الْكِتٰبَ “ سے مراد کتاب الٰہی اور ” وَالْحِكْمَةَ “ سے اس کا فہم اور اس پر عمل کرنا مراد ہے اور ” مُّلْكًا عَظِيْما “ سے مراد سلطنت اور غلبہ و اقتدار ہے۔ (رازی۔ ابن کثیر)

55

فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا

پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دوزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے

” اٰمَنَ بِهٖ “ میں ” بہ “ کی ضمیر ” اِیْتَاءٌ“ کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے جو ” آتَیْنَا “ سے مفہوم ہوتا ہے، یعنی بعض تو اس ایتائے انعام (انعام دینے) پر ایمان لے آئے اور بعض اس سے منہ موڑ گئے اور لوگوں کو بھی روکنے کی کوشش کی ( صَدَّ عَنْهُ کے دونوں معنی ہیں، منہ موڑنا اور روکنا) لہٰذا آپ ان کے کفر سے دل گیر نہ ہوں۔ (ابن کثیر) اگر اس ضمیر کا مرجع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مانا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ سب کچھ دیکھ لینے کے باوجود یہود میں سے کچھ لوگ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے، لیکن اکثر نہ صرف خود ایمان نہیں لائے بلکہ جو ایمان لانا چاہتے ہیں انھیں بھی روکنا چاہتے ہیں، ایسے لوگوں کی سزا کے لیے جہنم کافی ہے۔ ( فتح القدیر۔ رازی)

56

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًۭا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَٰهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًۭا

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل (اور جل) جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمیشہ) عذاب (کا مزہ چکھتے) رہیں بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا : یہاں بتایا کہ یہ سزا اہل کتاب کے ایک گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ سب کفار کو ملے گی۔ (رازی) (بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا ) سے اہل جہنم کے عذاب کی سختی بیان کرنا مقصود ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اتنی تیز آگ میں ان کے چمڑے ایک ایک لمحے میں کتنی کتنی بار جل کر دوبارہ تبدیل ہوں گے، البتہ یہ تو صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جہنمیوں کا جسم بہت بڑھا دیا جائے گا، حدیث میں ہے : ” کافر کے کان کی کونپل اور کندھے کے درمیان ستر سال کا فاصلہ ہوگا۔ “ [ أحمد (٢؍١١٦، ١١٧، ح : ٢٤٩٠٩ و سندہ صحیح۔ ہدایۃ المستنیر ھدایۃ المستنیر ] اور اسی طرح فرمایا : ” کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی جلد کی موٹائی تین دن کے فاصلے کے برابر ہوگی۔ “ [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا و أھلھا : ٢٨٥١ ] اس طرح انھیں دائمی عذاب ہوتا رہے گا۔

57

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ لَّهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ ۖ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّۭا ظَلِيلًا

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ان کو ہم گھنے سائے میں داخل کریں گے

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۔۔ : قرآن پاک میں عموماً وعدہ اور وعید کو ایک ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اور اس اسلوب کی وجہ سے قرآن کو ” کتابا متشابھا “ فرمایا ہے اور وعظ و تذکیر کا یہ مؤثر ترین انداز ہے۔ بعض نے اس آیت سے سمجھا ہے کہ عمل صالح ایمان سے الگ چیز ہے، کیونکہ یہ دونوں عطف کے ساتھ آئے ہیں، مگر قرآن نے متعدد آیات میں عمل صالح پر زور دینے کے لیے عمل صالح کو الگ عطف کے ساتھ بیان کردیا ہے، ورنہ یہ بھی ایمان میں داخل نہیں۔ (دیکھیے سورة عصر کی تفسیر) جنت کی نہروں کا بیان سورة محمد کی آیت (١٥) میں دیکھیے ازواج مطہرۃ کے لیے سورة رحمن کا آخری حصہ اور سورة بقرہ کی آیت (٢٥) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ - ظِلًّا ظَلِيْلًا : اسی سائے کو دوسری آیت میں ظل ممدود فرمایا ہے۔ (دیکھیے الواقعۃ : ٢٧ تا ٣٠) رسول اللہ نے فرمایا : ” جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں سوار سو برس تک چلے گا پھر بھی اسے طے نہ کر پائے گا۔ “ [ بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ الجنۃ : ٣٢٥١، عن أبی ہریرۃ (رض) ] ایک حدیث میں اس درخت کا نام ” شجرۃ الخلد “ آیا ہے۔ [ أحمد : ٢؍٤٥٥ ]

58

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا۟ ٱلْأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوا۟ بِٱلْعَدْلِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعًۢا بَصِيرًۭا

خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے

اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا ۔۔ : درمیان میں کفار کے احوال اور ان کے حق میں وعید کا ذکر آگیا تھا، اب دوبارہ سلسلۂ احکام شروع ہو رہا ہے۔ یہود امانت میں خیانت کرتے اور فیصلہ میں رشوت لے کر ظلم وجور کرتے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان باتوں سے دور رہنے کا حکم دیا۔ یہاں امانت سے مراد گو ہر قسم کی امانت ہے، اس کا تعلق مذہب و دیانت سے ہو یا دنیاوی معاملات سے، لیکن یہود حق کو چھپا کر علمی امانت میں خیانت کے مرتکب بھی تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منافق کی تین نشانیاں بیان فرمائی ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس کی خلاف ورزی کرلے۔ امانت میں خیانت اتنا بڑا گناہ ہے کہ شہادت سے بھی معاف نہیں ہوتا۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ خیبر سے واپسی پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وادی القریٰ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب وہاں پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غلام ” مدعم “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی سے پالان اتار رہا تھا کہ اسے ایک اندھا تیر لگا جس نے اسے قتل کردیا لوگوں نے کہا اسے جنت مبارک ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ چادر جو اس نے خیبر کے دن غنیمتوں میں سے لی تھی جو ابھی تقسیم نہیں ہوئی تھیں اس پر آگ بن کر شعلے مار رہی ہے۔ [ صحیح بخاری،- المغازی، باب غزوۃ خیبر ]- شہادت سے اس گناہ کے معاف نہ ہونے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگوں کے حقوق ہیں۔ عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شہید کے لیے ہر گناہ معاف کردیا جاتا ہے سوائے قرض کے۔ [ صحیح مسلم، الامارۃ، باب من قتل فی سبیل اللہ ] البتہ ایک حدیث میں ایک بشارت ہے ابوہریرۃ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص لوگوں کے اموال لے ان کی ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا کر دے گا اور جو شخص لوگوں کے اموال لے انھیں تلف کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ اسے تلف کرے گا۔ [ بخاری، الاستقراض، باب من اخذ اموال الناس ] اس سے معلوم ہوا کہ اگر شہید ہونے والے کا ارادہ ادائیگی کا تھا تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ادا کر دے گا لیکن ظاہر ہے کہ خیانت والے کا تو یہ ارادہ ہوتا ہی نہیں۔ امانت میں لوگوں سے لی ہوئی امانتیں بھی شامل ہیں اور عہدوں اور مناصب کی تقسیم بھی، جب ذمہ دار شخص کو معلوم ہو کہ فلاں صاحب اس منصب کا اہل نہیں تو پھر اپنے ذاتی تعلق یا خاندانی یا کسی دنیوی مقصد کے لیے یا کوٹہ سسٹم کی وجہ سے اہل کو چھوڑ کر نااہل شخص کو وہ منصب دیا جائے تو یہ بہت بڑی خیانت ہے۔ سورة احزاب (٧٢) سورة مومنون (٨) اور سورة بقرہ آیت (٢٨٣) میں بھی امانت داری کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ - 2ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بالْعَدْلِ ۭ : قرآن مجید میں کئی مقامات پر عدل کی تاکید فرمائی، خواہ وہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو، دیکھیے سورة نساء (١٣٥) اور کسی دشمنی کی بنا پر عدل نہ کرنے سے بھی منع فرمایا۔ دیکھیے سورة مائدہ (٨) ۔ سورة نحل (٩٠) اور سورة حجرات (٩) ۔ وہ سات خوش قسمت لوگ جنھیں روز قیامت عرش کا سایہ ملے گا، ان میں پہلا شخص عادل حکمران ہوگا۔ [ بخاری : ٦٦٠ ]- رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک انصاف کرنے والے جو اپنے فیصلے میں، اپنے اہل و عیال میں اور رعایا میں انصاف کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے پاس نور کے منبروں پر ہوں گے، رحمٰن عزوجل کے دائیں طرف ہوں گے اور رحمٰن کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔ “ [ مسلم، الإمارۃ، باب فضیلۃ الأمیر العادل۔۔ : ١٨٢٧، عن عبداللہ بن عمرو (رض) ] اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یقیناً …

59

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍۢ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رعایا کو، چاہے فوج کے افراد ہوں یا عام لوگ، انھیں اپنی، اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور حکام و امراء کی اطاعت کا حکم دیا ہے، الا یہ کہ حکام اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اختیار والے بادشاہ، قاضی اور جو کسی کام پر مقرر ہو اس کے حکم پر چلنا ضروری ہے، جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف حکم نہ کرے، اگر صریح خلاف کرے تو وہ حکم نہ مانیے۔ “ (موضح)- رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ ) ” اطاعت صرف نیکی کے امور میں ہے۔ “ [ بخاری، الأحکام، باب السمع والطاعۃ للإمام۔۔ : ٧١٤٥، عن علی ]- عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر مسلمان کو لازم ہے کہ وہ ہر کام میں، خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، سمع و طاعت بجا لائے، بشرطیکہ اسے کسی معصیت کا حکم نہ دیا گیا ہو، اور اگر اسے کسی معصیت کے کام کا حکم دیا گیا ہو تو اس میں سمع و طاعت نہیں۔ “ [ بخاری، الفتن، باب السمع والطاعۃ للإمام : ٧١٤٤ ] - فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ ۔۔ : اس آیت میں ایک نہایت اہم حکم دیا ہے کہ باہمی نزاع اور جھگڑے کی صورت میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع شرط ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو قرآن کی اطاعت ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کے بعد آپ کی سنت کی اطاعت ہے اور یہ اطاعتیں اصل اور مستقل ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث بھی اسلامی قانون کا مستقل ماخذ ہے۔ نواب صدیق حسن خان (رح) لکھتے ہیں : ” اس آیت سے مقلدین تقلید کے واجب ہونے پر دلیل لیتے ہیں لیکن یہ دلیل نہیں ہوسکتی، کیونکہ ” اولی الامر “ سے بادشاہ اور حکام مراد ہیں۔ (دیکھیے فوائد موضح) اگر بعض اہل علم کے مطابق اس سے علمائے دین مراد ہیں تو اس میں اول تو کسی عالم کی تخصیص نہیں ہے، دوسرے بہ فرض تسلیم عالم کی تقلید کا حکم ہے تو وہ اسی وقت تک ہے کہ اس کا حکم قرآن و حدیث کے موافق ہو (اگرچہ یہ تقلید نہیں بلکہ قرآن و حدیث پر عمل ہے) پھر خود چاروں اماموں نے اپنی تقلید سے منع فرمایا ہے اور قرآن کریم نے حکم دیا ہے کہ ائمہ کی اتباع میں جھگڑا ہو تو اللہ اور رسول کی طرف رجوع ہونا چاہیے۔ “ (ترجمان) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ، تابعین یا ائمہ میں اگر کسی مسئلے پر نزاع ہو تو کسی کا قول بھی حجت نہیں، بلکہ وہاں صرف قرآن و حدیث پر عمل ہوگا۔ - ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا : اگر دو مسلمان جھگڑتے ہیں اور ایک نے کہا، چل شرع کی طرف رجوع کریں، دوسرے نے کہا، میں شرع کو (کچھ) نہیں سمجھتا، یا مجھے شرع سے کام نہیں وہ بیشک کافر ہوا۔ (موضح)

60

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓا۟ إِلَى ٱلطَّٰغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوٓا۟ أَن يَكْفُرُوا۟ بِهِۦ وَيُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًۭا

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے

اوپر کی آیات میں مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، یہاں فرمایا کہ منافق ہمیشہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرتے ہیں اور کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے اور حکم پر راضی نہیں ہوتے، بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی مشرک سردار یا یہودی یا نصرانی عدالت یا کسی کاہن سے فیصلہ کروایا جائے، حالانکہ اسلام ان سب کے انکار کا حکم دیتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر عمل نہ کرنے والی ہر عدالت کو طاغوت قرار دیتا ہے۔ مومن کا کام اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ سننا اور ماننا ہے۔ [ دیکھیے النور : ٥١ ] اور منافقوں کا حال اس کے برعکس ہے۔ [ دیکھیے النور : ٤٨، لقمان : ٢١ ] افسوس کہ اس وقت اکثر مسلمان ملکوں کی عدالتوں میں قرآن وسنت کا نظام عدل نافذ ہی نہیں، بلکہ کفار کے بنائے ہوئے قانون نافذ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک قرآن و سنت کا کوئی متبع حکمران کفار کے اس نظام کو بزور بازو نکال باہر نہیں کرتا اس وقت تک عدالتوں میں قرآن و سنت کی رسائی مشکل ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.