Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 41–50 of 176

41

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۭ بِشَهِيدٍۢ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ شَهِيدًۭا

بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتائے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے

اوپر کی آیتوں میں قیامت کے ظلم کی نفی اور کئی گنا اجر کا وعدہ فرمایا، اب یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اچھا یا برا بدلہ پیغمبروں یا ان لوگوں کی گواہی سے ملے گا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام اپنی مخلوق تک پہنچایا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (١٤٣) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت پر اور پہلی امتوں پر دین پہنچانے کی گواہی دیں گے۔

42

يَوْمَئِذٍۢ يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَعَصَوُا۟ ٱلرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ ٱلْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ ٱللَّهَ حَدِيثًۭا

اس روز کافر اور پیغمبر کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش ان کو زمین میں مدفون کرکے مٹی برابر کردی جاتی اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے

يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۔۔ : اس سے مقصود کفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقع پر آرزو کریں گے کہ کاش ہم انسان نہ ہوتے بلکہ زمین میں مل کر خاک ہوجاتے۔ دیکھیے سورة نبا کی آخری آیت۔ (ابن کثیر)- وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا : کفار کے متعلق قرآن میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کردیں گے کہ ہم نے شرک کیا ہی نہیں۔ (انعام : ٢٣ ) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے واقعی شرک کرنے سے انکار کریں گے مگر جب ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ (حم السجدۃ : ٢١ تا ٢٣) تو پھر وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپا نہ سکیں گے۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” قیامت کا دن بہت لمبا دن ہے، کسی موقع پر وہ انکار کریں گے اور دوسرے موقع پر اپنے شرک اور بد اعمالی پر افسوس کریں گے۔ “ (رازی۔ ابن کثیر)

43

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقْرَبُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمْ سُكَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا۟ مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِى سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌۭ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءًۭ فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًۭا طَيِّبًۭا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا

مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں پر مسح (کرکے تیمم) کرلو بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے

لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى : شراب کی مذمت اور قباحت کے سلسلے میں سب سے پہلے سورة بقرہ کی آیت (٢١٩) نازل ہوئی، جس میں شراب اور جوئے کے گناہ کو ان کے نفع سے بڑا قرار دیا، اس پر بہت سے مسلمانوں نے شراب چھوڑ دی، تاہم بعض بدستور پیتے رہے کہ ہم اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف (رض) نے ہمارے لیے کھانا پکایا، پھر ہمیں بلایا اور ہمیں شراب پلائی، شراب نے ہمیں مدہوش کردیا، اتنے میں نماز کا وقت آگیا اور انھوں نے مجھے امام بنادیا، میں نے پڑھا : ” قُلْ یَا اَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ لاَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَ نَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ “ ” کہہ دے اے کافرو میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ “ (ظاہر ہے اس سے آیت کے معنی کچھ سے کچھ ہوگئے) تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ( لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى ) [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة النساء : ٣٠٢٦ ] اس پر لوگوں نے نماز کے اوقات میں شراب ترک کردی، یہاں تک کہ سورة مائدہ کی آیات (٩٠، ٩١) نازل ہوئیں، جس سے شراب قطعی طور پر حرام کردی گئی۔ ( ابن کثیر) بعض علماء نے یہاں ” وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى“ (جمع سکران) سے نیند کا غلبہ مراد لیا ہے اور اس کے مناسب صحیح بخاری کی وہ حدیث ذکر کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نیند کی حالت میں نماز سے منع فرمایا کہ معلوم نہیں کیا پڑھے اور کیا نہ پڑھے، مگر صحیح یہ ہے کہ اس سے شراب کا نشہ مراد ہے اور یہی قول جمہور صحابہ و تابعین کا ہے، نیز تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہ آیت شراب نوشی سے متعلق نازل ہوئی۔ - اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ : بعض مفسرین نے اس سے مراد سفر لیا ہے مگر سفر کا ذکر آگے آ رہا ہے (اَوْ عَلٰي سَفَرٍ ) اس تفسیر کی بنا پر سفر کے ذکر میں تکرار لازم آتا ہے، اس لیے پر اکثر سلف نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ” الصلاۃ “ سے مراد نماز کی جگہ یعنی مسجد ہے مطلب یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں ” اَلصَّلاَۃُ “ یعنی نماز کی جگہوں (مسجدوں) میں نہ جاؤ۔ ہاں، اگر مسجد سے گزرنا پڑے تو مجبوری کی صورت میں گزر سکتے ہو ( ٹھہر نہیں سکتے) ۔ ابن جریر (رض) نے اسے راجح قرار دیا ہے، پس یہاں مضاف محذوف ہے، یعنی ” لَا تَقْرَبُوْا مَوَاضِعَ الصَّلاَۃِ “ (طبری) اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے کہ جنبی یا حائضہ کے لیے مسجد سے گزرنا جائز ہے، ٹھہرنا جائز نہیں، کیونکہ بہت سے صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے، ان کے لیے غسل کر کے گزرنا مشکل تھا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مگر آخر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر صدیق (رض) کے دریچے کے سوا مسجد میں کھلنے والے تمام دریچے بند کروا دیے۔ [ بخاری، الصلاۃ، باب الخوخۃ ۔۔ : ٤٦٧، عن ابن عباس (رض) ] بعض لوگوں نے علی (رض) کا دروازہ کھلا رکھنے کی روایت بھی بیان کی ہے، مگر اہل علم نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ( ابن کثیر) خلاصہ یہ کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جنبی مسجد سے گزر سکتا ہے، ٹھہر نہیں سکتا۔ گویا آیت کے دو حصے ہیں، پہلے حصے : ( لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى ) اس میں ” الصلاۃ “ سے مراد نماز ہی ہے کہ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ اور دوسرے حصے : ( وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا ۭ ) میں ” لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ “ سے مراد نماز کی جگہ ہے، یعنی اس جنبی ہونے کی حالت میں مسجد کے قریب نہ جاؤ، الا یہ کہ راستہ عبور کر کے گزر جانے والے ہو۔ (طنطاوی)- وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ ۔۔ : سفر سے مراد مطلق سفر ہے، اکثر علماء کے نزدیک تیمم کے جواز کے لیے اتنے سفر کی کوئی شرط نہیں جس میں نماز قصر پڑھی جاسکتی ہے۔ ” یا تم میں سے …

44

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًۭا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يَشْتَرُونَ ٱلضَّلَٰلَةَ وَيُرِيدُونَ أَن تَضِلُّوا۟ ٱلسَّبِيلَ

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی رستے سے بھٹک جاؤ

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا : اس سے پہلے ( وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا ) میں مشرکین کے طرز عمل سے متنبہ کرنے کے بعد درمیان میں ضرورت کے کچھ مسائل، مثلاً شراب، نماز اور تیمم وغیرہ ذکر کرنے کے بعد یہود کے فریب اور ان کی دشمنی کا ذکر تفصیل سے شروع ہوگیا ہے۔ یہود کو تیمم میں بھی مسلمانوں سے حسد تھا۔ اسی حسد کی بنا پر وہ خود مسلمان ہونے کے بجائے چاہتے تھے کہ مسلمان بھی کافر ہوجائیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا ښ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ ) [ البقرۃ : ١٠٩ ] ” بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں کہ کاش وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد پھر کافر بنادیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے۔ “ - نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ : یعنی انھیں کتاب کا کچھ حصہ ہی ملا ہے، باقی ضایع کر بیٹھے ہیں اور یہ بھی مراد ہے کہ جو حصہ ملا ہے اس کے الفاظ ملے ہیں، عمل کا حصہ عطا نہیں ہوا اور یہ بھی کہ تورات میں انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت تو معلوم کرلی مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت معلوم نہ کرسکے۔

45

وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِأَعْدَآئِكُمْ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِيرًۭا

اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز ہے اور کافی مددگار ہے

Explained together with ayah 44

46

مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَٱسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍۢ وَرَٰعِنَا لَيًّۢا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًۭا فِى ٱلدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَٱسْمَعْ وَٱنظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَٰكِن لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًۭا

اور یہ جو یہودی ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ سے (تم سے گفتگو) کے وقت راعنا کہتے ہیں اور اگر (یوں) کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی بہت درست ہوتی لیکن خدان نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں

مِنَ الَّذِيْنَ ھَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ ۔۔ : اوپر کی آیت میں فرمایا کہ وہ گمراہی مول لیتے ہیں، اب اس آیت میں چند امور کے ساتھ اس گمراہی کی تشریح فرمائی۔ یعنی وہ تورات کے احکام میں تحریف کرتے ہیں۔ [ دیکھیے المائدۃ : ١٣، ٤١ ]- سورۂ مائدہ میں ” عن مواضعہ “ کے علاوہ ” من بعد مواضعہ “ بھی ہے، جس کا معنی تحریف لفظی ہے، یہاں ” عن مواضعہ “ ہے، اس سے مراد تحریف معنوی ہے، یعنی تاویلات فاسدہ سے کام لیتے ہیں، مثلاً قصۂ ذبیح کا تعلق اسماعیل (علیہ السلام) کی بجائے اسحاق (علیہ السلام) کے ساتھ جوڑنا۔ (رازی۔ شوکانی) ہمارے زمانے میں بھی تمام بدعتیوں کا شیوہ ہوگیا ہے کہ جو آیت یا حدیث امام، مجتہد یا پیرو مرشد کے قول کے خلاف نظر آتی ہے، اس کی تاویل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے حیا نہیں کرتے کہ پیرو مرشد اور امام و مجتہد تو معصوم نہ تھے، بخلاف پیغمبر کہ کہ خطا سے ان کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ فرماتا تھا۔ (وحیدی)- لَيًّــۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ : ” لیّا “ یہ ” لوی یَلْوِی لَیًّا “ سے ہے، بمعنی توڑنا مروڑنا، یعنی زبان کو توڑ مروڑ کر ” راعینا “ کہتے، جو توہین کا کلمہ ہے۔ [ دیکھیے البقرۃ : ١٠٤ ] ان کی ایک گمراہی یہ ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حکم سنتے ہیں تو ظاہر میں ” سمعنا “ کہتے ہیں (یعنی ہم نے سنا) مگر ساتھ ہی بیحد عداوت کی وجہ سے ” عصینا “ (نہیں مانا) بھی کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات کرتے تو کہتے : (وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ ) ” سنو، تمہیں کوئی نہ سنائے۔ “ ظاہر میں یہ نیک دعا ہے کہ تم ہمیشہ غالب رہو، کوئی تمہیں بری بات نہ سنا سکے اور دل میں نیت رکھتے کہ تو بہرا ہوجائے، سن نہ سکے، ایسی شرارت کرتے۔ (رازی ابن کثیر) - وَطَعْنًا فِي الدِّيْنِ : یعنی یہ سب حرکتیں کر رہے ہیں اور پھر دین میں طعن کی غرض سے کہتے ہیں کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو ہمارا فریب معلوم کرلیتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے خبث باطن کو ظاہر فرما دیا اور وہی طعن الٹا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے سچا ہونے کی پختہ دلیل بن گیا۔ (رازی) - وَلَوْ اَنَّھُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۔۔ : یعنی یہ اگر اس قسم کی حرکات اور طعن کے بجائے ایسے کلمات استعمال کرتے جن میں شرارت کی آمیزش نہیں ہوسکتی اور اخلاص سے پیش آتے، مثلاً : ” عصینا “ کے بجائے ” اطعنا “ اور ” غیر مسمع “ کی بجائے ” انظرنا “ تو ان کے حق میں بہتر ہوتا، مگر افسوس کہ یہ بہت ہی تھوڑے احکام پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس ” قلیلاً “ یہاں مصدر محذوف ”إِیْمَانًا “ کی صفت ہے اور یہ معنی بھی ہے کہ ان میں سے بہت ہی کم لوگ ایمان لاتے ہیں، حتیٰ کہ یہودیوں میں سے دس بھی بمشکل ایمان لائے ہوں گے۔

47

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ ءَامِنُوا۟ بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًۭا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهًۭا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰٓ أَدْبَارِهَآ أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّآ أَصْحَٰبَ ٱلسَّبْتِ ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ مَفْعُولًا

اے کتاب والو! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لے آؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ۔۔ : یہود کی شرارتوں کو بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں انھیں ایمان کی دعوت دی اور ہٹ دھرمی سے احکام خداوندی بجا نہ لانے پر وعید سنائی، کیونکہ یہود عالم تھے اور علم و معرفت کے باوجود ہٹ دھرمی سے کام لے رہے تھے۔ (رازی) اس وعید کا تعلق یا تو قیامت کے دن سے ہے، یا دنیا میں چہروں کو مسخ کردینا مراد ہے اور اصحاب سبت جیسی لعنت سے مراد یہ ہے کہ جس طرح ان کو بندر اور خنزیر بنادیا تھا، تمہیں بھی ویسا ہی بنادیا جائے۔ اصحاب سبت کے قصہ کے لیے دیکھیے سورة اعراف (١٦٣) اس وقت یہودی ہوں یا نصرانی یا مسلمان سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ہیں، کلمہ پڑھنے والے امت اجابت، یعنی قبول کرلینے والے ہیں اور دوسرے امت دعوت، یعنی جو آپ کی دعوت کے مخاطب ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : ( بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ مَسْخٌ وَ خَسْفٌ وَ قَذْفٌ ) [ ابن ماجہ، الفتن، باب الخسوف : ٤٠٥٩، عن ابن مسعود (رض) ۔ صحیح الجامع للألبانی : ٢٨٥٦ ] ” قیامت سے پہلے شکلوں کا بدل جانا، زمین میں دھنس جانا اور پتھروں کی بارش کے واقعات رونما ہوں گے۔ “ اور سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ خَسْفٌ وَ قَذْفٌ وَ مَسْخٌ، قِیْلَ وَ مَتٰی ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ اِذَا ظَھَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَیْنَاتُ وَاسْتُحِلَّتِ الْخَمْرُ ) [ طبرانی، صحیح الجامع للألبانی : ٣٦٦٥ ] ” آخر زمانے میں زمین میں دھنسنا، پتھروں کی بارش اور شکلوں کا بدل جانا واقع ہوگا۔ “ پوچھا گیا : ” اے اللہ کے رسول یہ کب ہوگا ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب باجے گاجے اور گانے والیاں عام ہوجائیں گی اور شراب حلال کرلی جائے گی۔ “ اب بھی اہل کتاب اور ان کی روش پر چلنے والے مسلمانوں کو ان عذابوں سے ڈر کر توبہ کرنی چاہیے۔

48

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفْتَرَىٰٓ إِثْمًا عَظِيمًا

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ ۔۔ : یہود کو وعید اور ڈانٹ سنانے کے بعد اب اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ یہ وعید ایمان نہ لانے اور کفر و شرک کی وجہ سے ہے، ورنہ دوسرے گناہ تو قابل معافی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تحت ہیں، جسے اللہ چاہے گا معاف فرما دے گا، جسے چاہے گا سزا دے کر چھوڑ دے گا، مگر شرک کی معافی نہیں، کیونکہ مشرک پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے۔ (دیکھیے مائدہ : ٧٢) یہود و نصاریٰ کی طرح نام کے مسلمان، جو ایسے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں جس سے انسان ملت اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، جو مصیبت کے وقت غیر اللہ کو پکارتے، اٹھتے بیٹھتے ان کے نام کا وظیفہ کرتے ہیں، ان کے نام کا روزہ رکھتے، ان کی قبروں کو پوجتے ان کے نام پر جانور ذبح کرتے اور ان کی منتیں مانتے ہیں، وہ بھی اس وعید کے مصداق ہیں۔ مزید دیکھیے سورة حج (٣١) ، سورة لقمان (١٣) سورة انعام (٨٨) سورة زمر (٦٥) اور سورة نساء (١١٦) ۔ - فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا : اس سے بڑا جھوٹ کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا بھی کوئی شریک ہے، فرمایا : ( اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ ) [ لقمان : ١٣] ” بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔ “

49

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں (نہیں) بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

” فَتِيْلًا “ اس پتلے دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے کٹاؤ میں نظر آتا ہے۔ یہ محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔ (طبری) یہود اپنے آپ کو پاک باز اور مقدس کہتے، کبھی کہتے جنت میں ہم ہی جائیں گے : ( لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ ) [ البقرۃ : ١١١ ] ” جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے یا نصاریٰ ۔ “ کبھی اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب بتاتے۔ (دیکھیے المائدۃ : ١٨) اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی کہ کسی کو پاک باز قرار دینا تو اللہ کا کام ہے، اپنی تعریف آپ کرنا انسان کے لیے مہلک ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى ) [ النجم : ٣٢ ] ” اپنے آپ کو پاک مت قرار دو ، وہ زیادہ جانتا ہے کون متقی ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دوسرے کی تعریف سے بھی، خصوصاً جب کوئی سامنے ہو یا مبالغہ کے ساتھ ہو منع فرمایا۔ مقداد بن اسود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا : ( اَنْ نَحْثِیَ فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ ) [ مسلم، الزھد، باب النھی عن المدح۔۔ : ٣٠٠٢ ] ” ہم زیادہ تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں۔ “ اور فرمایا : ( اِیَّاکُمْ وَالتَّمَادُحَ فَاِنَّہُ ذَبْحٌ ) [ ابن ماجہ، الأدب، باب المدح : ٣٧٤٣ ] ” باہمی مدح گوئی سے بچو کیونکہ یہ ذبح کرنا ہے۔ “ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( وَیْحَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ ) ” تجھ پر افسوس تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔ “ پھر فرمایا : ” اگر تم میں سے کسی کو کسی کی لا محالہ تعریف کرنی ہے تو اس طرح کہا کرے کہ میں اسے اس طرح گمان کرتا ہوں، اللہ پر کسی کا تزکیہ نہ کرے (پاک قرار نہ دے۔ “ [ بخاری، الشہادات والأدب، باب ما یکرہ من التمادح : ٦٠٦١]

50

ٱنظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَكَفَىٰ بِهِۦٓ إِثْمًۭا مُّبِينًا

دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ (طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے

وَكَفٰى بِهٖٓ اِثْمًا مُّبِيْنًا : یعنی ان کے یہ جھوٹے دعوے اور اللہ تعالیٰ پر افتراء ہی ان کے سخت گناہ گار ہونے کے لیے کافی ہے۔

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.