Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 41–50 of 176

41

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۭ بِشَهِيدٍۢ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ شَهِيدًۭا

بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتائے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے

حق کا داعی جب آتا ہے تو وہ ایک معمولی انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے گرد ظاہری بڑائیاں اور رونقیں جمع نہیں ہوتیں۔ اس لیے وقت کے بڑے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ایک ایسا شخص بھی ان سے زیادہ حق وصداقت والا ہوسکتا ہے جو دنیوی شان وشوکت میںان سے کم ہو۔ مگر جب قیامت آئے گی اور خدا کی عدالت قائم ہوگی تو وہ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہی شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا وہ آخرت کی عدالت میں خدائی گواہ بنادیاگیا ہے۔ وہی وہ شخص ہے جس کے بیان پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کے فیصلے ہوں۔ یہ وہاں مجرم کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور وہ خدا کی طرف سے بولنے والے کے مقام پر۔ یہ ایسا سخت اور ہولناک لمحہ ہوگا کہ لوگ چاہیں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کے اندر سما جائیں۔ مگر ان کی یہ شرمندگی ان کے کام نہ آئے گی۔خدا کے یہاں ان کے قول و عمل سے لے کر ان کی سوچ تک کا ریکارڈ موجود ہوگااور خدا انھیں دکھا دے گا کہ حق کے داعی کا انکار جو انھوں نے کیا وہ ناواقفیت کے سبب سے نہ تھا بلکہ گھمنڈ کی وجہ سے تھا۔ انھوںنے اپنے کو بڑا سمجھا اور داعیٔ حق کو چھوٹا جانا۔ حقیقت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھنے اور جاننے کے باوجود محض اس لیے اس کے منکر ہوگئے کہ اس کو ماننے میں ان کی اپنی بڑائی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔

شریعت میں غیر معمولی حالات میںغیر معمولی رخصت دی گئی ہے۔ مرض یا سفر یا پانی کا نہ ہونا یہ تینوں آدمی کے لیے غیر معمولی حالتیں ہیں۔ اس ليےان مواقع پر یہ رخصت دی گئی کہ اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو وضو یا غسل کے بجائے تیمم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عام وضو پانی سے ہوتا ہے۔ تیمم گویا مٹی سے وضو کرنا ہے۔ وضو کا مقصد آدمی کے اندر پاکی کی نفسیات پیدا کرنا ہے اور تیمم، وضو نہ کرسکنے کی صورت میں، اس پاکی کی نفسیات کو باقی رکھنے کی ایک مادی تدبیر ہے۔

’’نماز اس وقت پڑھو جب کہ تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو‘‘ —یہاں یہ آیت شراب کا ابتدائی حکم بتانے کے لیے آئی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نماز کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بھی بتارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو فہم وشعور کے تحت ادا کی جاتی ہے۔ نماز محض اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اور کچھ حرکات کو صحتِ ادا کے ساتھ دہرایا جائے۔ اسی کے ساتھ نماز میں آدمی کے ذہن کا حاضر رہنا بھی ضروری ہے۔ وہ نماز کو جان کر نماز پڑھے، اپنی زبان اور اپنے جسم سے وہ جس خدا کے سامنے جھکنے کا ارادہ کررہا ہے، اسی خدا کے سامنے اس کی سوچ اور اس کا ارادہ بھی جھک گیا ہو۔ اس کا جسم جس خدا کی عبادت کررہا ہے، اسکا شعور بھی اسی خدا کا عبادت گزار بن جائے۔

42

يَوْمَئِذٍۢ يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَعَصَوُا۟ ٱلرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ ٱلْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ ٱللَّهَ حَدِيثًۭا

اس روز کافر اور پیغمبر کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش ان کو زمین میں مدفون کرکے مٹی برابر کردی جاتی اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے

حق کا داعی جب آتا ہے تو وہ ایک معمولی انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے گرد ظاہری بڑائیاں اور رونقیں جمع نہیں ہوتیں۔ اس لیے وقت کے بڑے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ایک ایسا شخص بھی ان سے زیادہ حق وصداقت والا ہوسکتا ہے جو دنیوی شان وشوکت میںان سے کم ہو۔ مگر جب قیامت آئے گی اور خدا کی عدالت قائم ہوگی تو وہ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہی شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا وہ آخرت کی عدالت میں خدائی گواہ بنادیاگیا ہے۔ وہی وہ شخص ہے جس کے بیان پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کے فیصلے ہوں۔ یہ وہاں مجرم کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور وہ خدا کی طرف سے بولنے والے کے مقام پر۔ یہ ایسا سخت اور ہولناک لمحہ ہوگا کہ لوگ چاہیں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کے اندر سما جائیں۔ مگر ان کی یہ شرمندگی ان کے کام نہ آئے گی۔خدا کے یہاں ان کے قول و عمل سے لے کر ان کی سوچ تک کا ریکارڈ موجود ہوگااور خدا انھیں دکھا دے گا کہ حق کے داعی کا انکار جو انھوں نے کیا وہ ناواقفیت کے سبب سے نہ تھا بلکہ گھمنڈ کی وجہ سے تھا۔ انھوںنے اپنے کو بڑا سمجھا اور داعیٔ حق کو چھوٹا جانا۔ حقیقت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھنے اور جاننے کے باوجود محض اس لیے اس کے منکر ہوگئے کہ اس کو ماننے میں ان کی اپنی بڑائی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔

شریعت میں غیر معمولی حالات میںغیر معمولی رخصت دی گئی ہے۔ مرض یا سفر یا پانی کا نہ ہونا یہ تینوں آدمی کے لیے غیر معمولی حالتیں ہیں۔ اس ليےان مواقع پر یہ رخصت دی گئی کہ اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو وضو یا غسل کے بجائے تیمم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عام وضو پانی سے ہوتا ہے۔ تیمم گویا مٹی سے وضو کرنا ہے۔ وضو کا مقصد آدمی کے اندر پاکی کی نفسیات پیدا کرنا ہے اور تیمم، وضو نہ کرسکنے کی صورت میں، اس پاکی کی نفسیات کو باقی رکھنے کی ایک مادی تدبیر ہے۔

’’نماز اس وقت پڑھو جب کہ تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو‘‘ —یہاں یہ آیت شراب کا ابتدائی حکم بتانے کے لیے آئی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نماز کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بھی بتارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو فہم وشعور کے تحت ادا کی جاتی ہے۔ نماز محض اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اور کچھ حرکات کو صحتِ ادا کے ساتھ دہرایا جائے۔ اسی کے ساتھ نماز میں آدمی کے ذہن کا حاضر رہنا بھی ضروری ہے۔ وہ نماز کو جان کر نماز پڑھے، اپنی زبان اور اپنے جسم سے وہ جس خدا کے سامنے جھکنے کا ارادہ کررہا ہے، اسی خدا کے سامنے اس کی سوچ اور اس کا ارادہ بھی جھک گیا ہو۔ اس کا جسم جس خدا کی عبادت کررہا ہے، اسکا شعور بھی اسی خدا کا عبادت گزار بن جائے۔

43

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقْرَبُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمْ سُكَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا۟ مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِى سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌۭ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءًۭ فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًۭا طَيِّبًۭا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا

مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں پر مسح (کرکے تیمم) کرلو بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے

حق کا داعی جب آتا ہے تو وہ ایک معمولی انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے گرد ظاہری بڑائیاں اور رونقیں جمع نہیں ہوتیں۔ اس لیے وقت کے بڑے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ایک ایسا شخص بھی ان سے زیادہ حق وصداقت والا ہوسکتا ہے جو دنیوی شان وشوکت میںان سے کم ہو۔ مگر جب قیامت آئے گی اور خدا کی عدالت قائم ہوگی تو وہ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہی شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا وہ آخرت کی عدالت میں خدائی گواہ بنادیاگیا ہے۔ وہی وہ شخص ہے جس کے بیان پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کے فیصلے ہوں۔ یہ وہاں مجرم کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور وہ خدا کی طرف سے بولنے والے کے مقام پر۔ یہ ایسا سخت اور ہولناک لمحہ ہوگا کہ لوگ چاہیں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کے اندر سما جائیں۔ مگر ان کی یہ شرمندگی ان کے کام نہ آئے گی۔خدا کے یہاں ان کے قول و عمل سے لے کر ان کی سوچ تک کا ریکارڈ موجود ہوگااور خدا انھیں دکھا دے گا کہ حق کے داعی کا انکار جو انھوں نے کیا وہ ناواقفیت کے سبب سے نہ تھا بلکہ گھمنڈ کی وجہ سے تھا۔ انھوںنے اپنے کو بڑا سمجھا اور داعیٔ حق کو چھوٹا جانا۔ حقیقت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھنے اور جاننے کے باوجود محض اس لیے اس کے منکر ہوگئے کہ اس کو ماننے میں ان کی اپنی بڑائی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔

شریعت میں غیر معمولی حالات میںغیر معمولی رخصت دی گئی ہے۔ مرض یا سفر یا پانی کا نہ ہونا یہ تینوں آدمی کے لیے غیر معمولی حالتیں ہیں۔ اس ليےان مواقع پر یہ رخصت دی گئی کہ اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو وضو یا غسل کے بجائے تیمم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عام وضو پانی سے ہوتا ہے۔ تیمم گویا مٹی سے وضو کرنا ہے۔ وضو کا مقصد آدمی کے اندر پاکی کی نفسیات پیدا کرنا ہے اور تیمم، وضو نہ کرسکنے کی صورت میں، اس پاکی کی نفسیات کو باقی رکھنے کی ایک مادی تدبیر ہے۔

’’نماز اس وقت پڑھو جب کہ تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو‘‘ —یہاں یہ آیت شراب کا ابتدائی حکم بتانے کے لیے آئی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نماز کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بھی بتارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو فہم وشعور کے تحت ادا کی جاتی ہے۔ نماز محض اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اور کچھ حرکات کو صحتِ ادا کے ساتھ دہرایا جائے۔ اسی کے ساتھ نماز میں آدمی کے ذہن کا حاضر رہنا بھی ضروری ہے۔ وہ نماز کو جان کر نماز پڑھے، اپنی زبان اور اپنے جسم سے وہ جس خدا کے سامنے جھکنے کا ارادہ کررہا ہے، اسی خدا کے سامنے اس کی سوچ اور اس کا ارادہ بھی جھک گیا ہو۔ اس کا جسم جس خدا کی عبادت کررہا ہے، اسکا شعور بھی اسی خدا کا عبادت گزار بن جائے۔

44

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًۭا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يَشْتَرُونَ ٱلضَّلَٰلَةَ وَيُرِيدُونَ أَن تَضِلُّوا۟ ٱلسَّبِيلَ

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی رستے سے بھٹک جاؤ

اللہ کی کتاب کسی گروہ کو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اپنی سوچ اور اپنے عمل کو درست کرے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے، جیسا کہ یہود ہوئے، توخدا کی کتاب سے وہ ہدایت کے بجائے گمراہی کی غذا لینے لگتی ہے۔ خدا کے احکام اس کے لیے خشک جزئیاتی بحثوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔اب اس کے یہاں اعتقادیات کے نام پر فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ وہ اس کے لیے ایسی سرگرمیوں کی تعلیم دینے والی کتاب بن جاتی ہے جس کا آخرت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسے لوگ اپنی روایتی نفسیات کی وجہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی ہر بات کو خدا کی بات ثابت کریں وہ اپنے عمل کا دینی جواز فراہم کرنے کے لیے خدا کی کتاب کو بدل دیتے ہیں۔ خدا کے کلمات کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا کروہ اس کی خود ساختہ تشریح کرتے ہیں۔ وہ الفاظ میں الٹ پھیر کرکے اس سے ایسا مفہوم نکالتے ہیں جس کا اصل خدائی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیںہوتا۔

’’یہود کو کتاب کا کچھ حصہ ملاتھا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو خدا کی کتاب کے الفاظ پڑھنے کو ملے مگر خدا کی کتاب پر عمل کرنا جو اصل مقصود تھا، اس سے وہ دور رہے۔ لفظ کے معاملہ میں وہ حامل کتاب بنے رہے مگر عمل کے معاملہ میں انھوںنے عام دنیا دارانہ قوموںکا راستہ اختیار کرلیا۔ مزید یہ کہ عام لوگ دنیاداری کو دنیا داری کے نام پر کرتے ہیں اور انھوں نے یہ ڈھٹائی کی کہ اپنی دنیاداری کے لیے خدا کی کتاب سے سند پیش کرنے لگے۔

پھر ان کی گمراہی اپنی ذات تک نہیں رکی۔ وہ اپنے کو خدا کے دین کا نمائندہ سمجھتے تھے اس لیے جب غیریہودی عربوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دینا شروع کیا تو یہود اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کے لیے خود پیغمبر کے مخالف ہوگئے۔ انھوںنے آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو اس شبہ میں مبتلا کرنا شروع کیا کہ یہ خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں بلکہ محض ذاتی حوصلہ کے تحت دین خدا کے عَلَم بردار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ مگر اس معرکہ میںاللہ غیر جانب دار نہیں۔ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے وفاداروں کا ساتھ دے گا اور انھیں کامیاب کرکے رہے گا۔

’’لعنت‘‘ دراصل بے حسی کی آخری صورت ہے۔ آدمی کی بے حسی جب اس نوبت کو پہنچ جائے کہ اس کوحق اور ناحق کی کوئی تمیز نہ رہے تو اسی کو لعنت کہتے ہیں۔

45

وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِأَعْدَآئِكُمْ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِيرًۭا

اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز ہے اور کافی مددگار ہے

اللہ کی کتاب کسی گروہ کو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اپنی سوچ اور اپنے عمل کو درست کرے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے، جیسا کہ یہود ہوئے، توخدا کی کتاب سے وہ ہدایت کے بجائے گمراہی کی غذا لینے لگتی ہے۔ خدا کے احکام اس کے لیے خشک جزئیاتی بحثوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔اب اس کے یہاں اعتقادیات کے نام پر فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ وہ اس کے لیے ایسی سرگرمیوں کی تعلیم دینے والی کتاب بن جاتی ہے جس کا آخرت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسے لوگ اپنی روایتی نفسیات کی وجہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی ہر بات کو خدا کی بات ثابت کریں وہ اپنے عمل کا دینی جواز فراہم کرنے کے لیے خدا کی کتاب کو بدل دیتے ہیں۔ خدا کے کلمات کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا کروہ اس کی خود ساختہ تشریح کرتے ہیں۔ وہ الفاظ میں الٹ پھیر کرکے اس سے ایسا مفہوم نکالتے ہیں جس کا اصل خدائی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیںہوتا۔

’’یہود کو کتاب کا کچھ حصہ ملاتھا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو خدا کی کتاب کے الفاظ پڑھنے کو ملے مگر خدا کی کتاب پر عمل کرنا جو اصل مقصود تھا، اس سے وہ دور رہے۔ لفظ کے معاملہ میں وہ حامل کتاب بنے رہے مگر عمل کے معاملہ میں انھوںنے عام دنیا دارانہ قوموںکا راستہ اختیار کرلیا۔ مزید یہ کہ عام لوگ دنیاداری کو دنیا داری کے نام پر کرتے ہیں اور انھوں نے یہ ڈھٹائی کی کہ اپنی دنیاداری کے لیے خدا کی کتاب سے سند پیش کرنے لگے۔

پھر ان کی گمراہی اپنی ذات تک نہیں رکی۔ وہ اپنے کو خدا کے دین کا نمائندہ سمجھتے تھے اس لیے جب غیریہودی عربوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دینا شروع کیا تو یہود اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کے لیے خود پیغمبر کے مخالف ہوگئے۔ انھوںنے آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو اس شبہ میں مبتلا کرنا شروع کیا کہ یہ خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں بلکہ محض ذاتی حوصلہ کے تحت دین خدا کے عَلَم بردار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ مگر اس معرکہ میںاللہ غیر جانب دار نہیں۔ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے وفاداروں کا ساتھ دے گا اور انھیں کامیاب کرکے رہے گا۔

’’لعنت‘‘ دراصل بے حسی کی آخری صورت ہے۔ آدمی کی بے حسی جب اس نوبت کو پہنچ جائے کہ اس کوحق اور ناحق کی کوئی تمیز نہ رہے تو اسی کو لعنت کہتے ہیں۔

46

مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَٱسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍۢ وَرَٰعِنَا لَيًّۢا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًۭا فِى ٱلدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَٱسْمَعْ وَٱنظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَٰكِن لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًۭا

اور یہ جو یہودی ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ سے (تم سے گفتگو) کے وقت راعنا کہتے ہیں اور اگر (یوں) کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی بہت درست ہوتی لیکن خدان نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں

اللہ کی کتاب کسی گروہ کو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اپنی سوچ اور اپنے عمل کو درست کرے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے، جیسا کہ یہود ہوئے، توخدا کی کتاب سے وہ ہدایت کے بجائے گمراہی کی غذا لینے لگتی ہے۔ خدا کے احکام اس کے لیے خشک جزئیاتی بحثوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔اب اس کے یہاں اعتقادیات کے نام پر فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ وہ اس کے لیے ایسی سرگرمیوں کی تعلیم دینے والی کتاب بن جاتی ہے جس کا آخرت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسے لوگ اپنی روایتی نفسیات کی وجہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی ہر بات کو خدا کی بات ثابت کریں وہ اپنے عمل کا دینی جواز فراہم کرنے کے لیے خدا کی کتاب کو بدل دیتے ہیں۔ خدا کے کلمات کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا کروہ اس کی خود ساختہ تشریح کرتے ہیں۔ وہ الفاظ میں الٹ پھیر کرکے اس سے ایسا مفہوم نکالتے ہیں جس کا اصل خدائی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیںہوتا۔

’’یہود کو کتاب کا کچھ حصہ ملاتھا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو خدا کی کتاب کے الفاظ پڑھنے کو ملے مگر خدا کی کتاب پر عمل کرنا جو اصل مقصود تھا، اس سے وہ دور رہے۔ لفظ کے معاملہ میں وہ حامل کتاب بنے رہے مگر عمل کے معاملہ میں انھوںنے عام دنیا دارانہ قوموںکا راستہ اختیار کرلیا۔ مزید یہ کہ عام لوگ دنیاداری کو دنیا داری کے نام پر کرتے ہیں اور انھوں نے یہ ڈھٹائی کی کہ اپنی دنیاداری کے لیے خدا کی کتاب سے سند پیش کرنے لگے۔

پھر ان کی گمراہی اپنی ذات تک نہیں رکی۔ وہ اپنے کو خدا کے دین کا نمائندہ سمجھتے تھے اس لیے جب غیریہودی عربوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دینا شروع کیا تو یہود اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کے لیے خود پیغمبر کے مخالف ہوگئے۔ انھوںنے آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو اس شبہ میں مبتلا کرنا شروع کیا کہ یہ خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں بلکہ محض ذاتی حوصلہ کے تحت دین خدا کے عَلَم بردار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ مگر اس معرکہ میںاللہ غیر جانب دار نہیں۔ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے وفاداروں کا ساتھ دے گا اور انھیں کامیاب کرکے رہے گا۔

’’لعنت‘‘ دراصل بے حسی کی آخری صورت ہے۔ آدمی کی بے حسی جب اس نوبت کو پہنچ جائے کہ اس کوحق اور ناحق کی کوئی تمیز نہ رہے تو اسی کو لعنت کہتے ہیں۔

47

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ ءَامِنُوا۟ بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًۭا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهًۭا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰٓ أَدْبَارِهَآ أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّآ أَصْحَٰبَ ٱلسَّبْتِ ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ مَفْعُولًا

اے کتاب والو! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لے آؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتاہے مگروہ حقیقۃً نہیں سنتا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نه ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی ناسمجھی کا حال ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا ديے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سُن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پچھلے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لیے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لیے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لیے آدمی کا اس طرح اندھا بہرا ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو اپنی توفیق سے محروم کردیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھاتو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا — بے حسی جب اپنی آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم پیغمبروں کی نسل سے ہیں، اس بنا پر ہمارا گر وہ مقدس گروہ ہے۔ انھوں نے بے شمار روایتیں اور کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو ان کے نسلي شرف اور گروہی فضیلت کی تصدیق کرتی تھیں۔ وہ انھیں خوش خیالیوں میں جی رہے تھے انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ قائم کرلیا تھا کہ ہر وہ شخص جو یہودی ہے اس کی نجات یقینی ہے۔ کوئی یہودی کبھی جہنم کی آگ میں نہیں ڈالا جائے گا۔

’’وہ اپنے کو پاکیزہ ٹھہراتے ہیں حالاں کہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ ٹھہرائے‘‘ کا فقره اس خیال کی تردید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنا پر کسی کو فضیلت یا شرف نہیں مل جاتا۔ بلکہ اس کا تعلق خدا کے قانون عدل سے ہے۔ جو شخص خدائی قانون کے مطابق اپنے کو شرف کا مستحق ثابت کرے وہ شر ف والا ہے اور جو شخص اپنے عمل سے اپنے کو مستحق ثابت نہ کرسکے وہ محض کسی گروہ سے وابستگی کی بنا پر شرف کا مالک نہیں بن جائے گا۔

گروہی نجات کا عقیدہ خواہ یہودی قائم کریں یا کوئی اور ایسا عقیدہ بنالے، وہ سراسر باطل ہے۔ جو لوگ ایسا عقیدہ بناتے ہیں وہ اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مگر یہ خدا پر جھوٹ لگانا ہے۔ کیوں کہ خدا نے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی۔ خدا اگر ایک انسان اور دوسرے انسان میں گروہی تعلق کی بنا پر فرق کرنے لگے تو یہ ظلم ہوگا اور خدا سراسر عدل ہے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں۔

48

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفْتَرَىٰٓ إِثْمًا عَظِيمًا

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتاہے مگروہ حقیقۃً نہیں سنتا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نه ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی ناسمجھی کا حال ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا ديے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سُن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پچھلے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لیے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لیے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لیے آدمی کا اس طرح اندھا بہرا ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو اپنی توفیق سے محروم کردیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھاتو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا — بے حسی جب اپنی آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم پیغمبروں کی نسل سے ہیں، اس بنا پر ہمارا گر وہ مقدس گروہ ہے۔ انھوں نے بے شمار روایتیں اور کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو ان کے نسلي شرف اور گروہی فضیلت کی تصدیق کرتی تھیں۔ وہ انھیں خوش خیالیوں میں جی رہے تھے انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ قائم کرلیا تھا کہ ہر وہ شخص جو یہودی ہے اس کی نجات یقینی ہے۔ کوئی یہودی کبھی جہنم کی آگ میں نہیں ڈالا جائے گا۔

’’وہ اپنے کو پاکیزہ ٹھہراتے ہیں حالاں کہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ ٹھہرائے‘‘ کا فقره اس خیال کی تردید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنا پر کسی کو فضیلت یا شرف نہیں مل جاتا۔ بلکہ اس کا تعلق خدا کے قانون عدل سے ہے۔ جو شخص خدائی قانون کے مطابق اپنے کو شرف کا مستحق ثابت کرے وہ شر ف والا ہے اور جو شخص اپنے عمل سے اپنے کو مستحق ثابت نہ کرسکے وہ محض کسی گروہ سے وابستگی کی بنا پر شرف کا مالک نہیں بن جائے گا۔

گروہی نجات کا عقیدہ خواہ یہودی قائم کریں یا کوئی اور ایسا عقیدہ بنالے، وہ سراسر باطل ہے۔ جو لوگ ایسا عقیدہ بناتے ہیں وہ اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مگر یہ خدا پر جھوٹ لگانا ہے۔ کیوں کہ خدا نے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی۔ خدا اگر ایک انسان اور دوسرے انسان میں گروہی تعلق کی بنا پر فرق کرنے لگے تو یہ ظلم ہوگا اور خدا سراسر عدل ہے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں۔

49

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں (نہیں) بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتاہے مگروہ حقیقۃً نہیں سنتا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نه ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی ناسمجھی کا حال ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا ديے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سُن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پچھلے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لیے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لیے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لیے آدمی کا اس طرح اندھا بہرا ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو اپنی توفیق سے محروم کردیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھاتو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا — بے حسی جب اپنی آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم پیغمبروں کی نسل سے ہیں، اس بنا پر ہمارا گر وہ مقدس گروہ ہے۔ انھوں نے بے شمار روایتیں اور کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو ان کے نسلي شرف اور گروہی فضیلت کی تصدیق کرتی تھیں۔ وہ انھیں خوش خیالیوں میں جی رہے تھے انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ قائم کرلیا تھا کہ ہر وہ شخص جو یہودی ہے اس کی نجات یقینی ہے۔ کوئی یہودی کبھی جہنم کی آگ میں نہیں ڈالا جائے گا۔

’’وہ اپنے کو پاکیزہ ٹھہراتے ہیں حالاں کہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ ٹھہرائے‘‘ کا فقره اس خیال کی تردید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنا پر کسی کو فضیلت یا شرف نہیں مل جاتا۔ بلکہ اس کا تعلق خدا کے قانون عدل سے ہے۔ جو شخص خدائی قانون کے مطابق اپنے کو شرف کا مستحق ثابت کرے وہ شر ف والا ہے اور جو شخص اپنے عمل سے اپنے کو مستحق ثابت نہ کرسکے وہ محض کسی گروہ سے وابستگی کی بنا پر شرف کا مالک نہیں بن جائے گا۔

گروہی نجات کا عقیدہ خواہ یہودی قائم کریں یا کوئی اور ایسا عقیدہ بنالے، وہ سراسر باطل ہے۔ جو لوگ ایسا عقیدہ بناتے ہیں وہ اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مگر یہ خدا پر جھوٹ لگانا ہے۔ کیوں کہ خدا نے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی۔ خدا اگر ایک انسان اور دوسرے انسان میں گروہی تعلق کی بنا پر فرق کرنے لگے تو یہ ظلم ہوگا اور خدا سراسر عدل ہے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں۔

50

ٱنظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَكَفَىٰ بِهِۦٓ إِثْمًۭا مُّبِينًا

دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ (طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتاہے مگروہ حقیقۃً نہیں سنتا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نه ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی ناسمجھی کا حال ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا ديے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سُن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پچھلے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لیے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لیے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لیے آدمی کا اس طرح اندھا بہرا ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو اپنی توفیق سے محروم کردیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھاتو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا — بے حسی جب اپنی آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم پیغمبروں کی نسل سے ہیں، اس بنا پر ہمارا گر وہ مقدس گروہ ہے۔ انھوں نے بے شمار روایتیں اور کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو ان کے نسلي شرف اور گروہی فضیلت کی تصدیق کرتی تھیں۔ وہ انھیں خوش خیالیوں میں جی رہے تھے انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ قائم کرلیا تھا کہ ہر وہ شخص جو یہودی ہے اس کی نجات یقینی ہے۔ کوئی یہودی کبھی جہنم کی آگ میں نہیں ڈالا جائے گا۔

’’وہ اپنے کو پاکیزہ ٹھہراتے ہیں حالاں کہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ ٹھہرائے‘‘ کا فقره اس خیال کی تردید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنا پر کسی کو فضیلت یا شرف نہیں مل جاتا۔ بلکہ اس کا تعلق خدا کے قانون عدل سے ہے۔ جو شخص خدائی قانون کے مطابق اپنے کو شرف کا مستحق ثابت کرے وہ شر ف والا ہے اور جو شخص اپنے عمل سے اپنے کو مستحق ثابت نہ کرسکے وہ محض کسی گروہ سے وابستگی کی بنا پر شرف کا مالک نہیں بن جائے گا۔

گروہی نجات کا عقیدہ خواہ یہودی قائم کریں یا کوئی اور ایسا عقیدہ بنالے، وہ سراسر باطل ہے۔ جو لوگ ایسا عقیدہ بناتے ہیں وہ اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مگر یہ خدا پر جھوٹ لگانا ہے۔ کیوں کہ خدا نے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی۔ خدا اگر ایک انسان اور دوسرے انسان میں گروہی تعلق کی بنا پر فرق کرنے لگے تو یہ ظلم ہوگا اور خدا سراسر عدل ہے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.