Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 176

41

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۭ بِشَهِيدٍۢ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ شَهِيدًۭا

بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتائے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے

(آیت) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولاء شھیدا (41) یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا “۔ (42) (4 : 41۔ 42)

” پھر سوچو کہ اس وقت یہ لوگ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں (یعنی آپ کو اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے ۔ اس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے ‘ تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے ۔

پہلی آیت میں بطور تمہید کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ‘ اس لئے قیامت میں مکمل عدالت ہوگی اور اللہ کے ترازو میں بال برابر بھی کھوٹ نہ ہوگا ۔ اور یہ کہ اللہ حسنات کو کئی گنا کر دے گا اور اس پر مستزاد اللہ کی جانب سے اہل ایمان پر فضل وکرم ہوگا ۔ اللہ کی رحمت ہوگی مگر ان لوگوں پر جو رحمت کے مستحق ہوں گے اور وہاں اللہ کا فضل بھی ہوگا مگر صرف ان لوگوں پر ہوگا جو اپنے ایمان کے ذریعے اللہ کے فضل کے امیدوار ہوں گے ۔

مگر ان دوسرے لوگوں کا حال کیا ہوگا جنہوں نے ایمان کی پونجی پیش نہیں کی اور انہوں نے عمل کا سرمایہ جمع نہیں کیا ۔ انہوں کفر اور بداعمالیاں جمع کیں ۔ اس دن پھر ان کا حال کیا ہوگا ؟ اس وقت جب ہم ہر قوم سے اس قوم کے خلاف ایک گواہ لائیں گے اور اسے محمد ﷺ تمہیں امت مسلمہ پر گواہ لائیں گے ۔

یہاں آکر قیامت کا منظر صاف صاف آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ۔ یہ ایک وسیع میدان ہے ۔ تمام امتیں جگہ جگہ موجود ہیں اور ہر امت کے اعمال پر ایک گواہ پیش ہوگا ۔ یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ‘ فخر کیا ‘ غرور کیا ‘ بخل کیا ‘ بخل کے داعی رہے ۔ اللہ کے فضل کو چھپاتے رہے اور دکھاوا کرتے رہے اور کوئی کام رضائے الہی کے لئے نہ کرتے تھے ۔ یہ منظر کشی ایسی ہے کہ الفاظ کے اندر سے قریب سے قریب ہے کہ ہم انہیں دیکھ لیں ۔ وہ میدان میں کھڑے ہیں ‘ ہر امت کے رسول کو شہادت کے لئے بلایا جاتا ہے اور ہمارے رسول ﷺ کو بھی بلایا جاتا ہے اور یہ لوگ اپنے پورے کفر کے ساتھ ‘ اپنے تمام پوشیدہ اور ظاہری اعمال کے ساتھ ‘ اپنے پورے تکبر اور غرور کے ساتھ ‘ اپنی پوری کنجوسی اور دعوت بخل کے ساتھ اپنے خالق کی درگاہ میں کھڑے ہوں گے ۔ اس رازق کی عدالت میں ہوں گے جس کے فضل کو انہوں نے چھپایا اور اس کے دیئے ہوئے سے خرچ نہ کیا ۔ اب ان کے سامنے وہ دن (قیامت) ہے جس پر ان کا یقین نہ تھا ۔ پھر اسی رسول کی موجودگی میں انصاف ہوگا جس کا انہوں نے انکار کیا تھا ‘ پھر ان کا کیا حال ہوگا ؟

بیشک یہ لوگ عظیم شرمندگی اور ذلت سے دو چار ہوں گے ۔ شرمندگی اور ندامت سے انکے سرجھکے ہوں گے وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے کیونکہ انکار سے انہیں فائدہ ہی کیا ہوگا ۔

قرآن کریم کی عبارت ان مضامین کو محض ظاہری انداز میں بیان نہیں کرتی بلکہ اسے ایک نفسیاتی تصویر کشی کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے اوپر شرمندگی ‘ ذلت اور ندامت کے سائے صاف نظر آرہے ہیں ۔ ذرا الفاظ ملاحظہ کریں ۔

42

يَوْمَئِذٍۢ يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَعَصَوُا۟ ٱلرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ ٱلْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ ٱللَّهَ حَدِيثًۭا

اس روز کافر اور پیغمبر کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش ان کو زمین میں مدفون کرکے مٹی برابر کردی جاتی اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے

(آیت) ” یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا (4 : 42) ” اس وقت جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے ‘ تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے۔

اس زندہ اور متحرک انداز تعبیر کی جھلکیوں کے درمیان سے ہم ان تمام معانی کو پاتے ہیں اور یہ سب تاثرات کو چشم تصور سے دیکھ لیتے ہیں جو حشر میں کھڑے ان لوگوں کے چہروں سے عیاں ہوں گے ۔ یہ تاثرات ہم نہایت ہی گہرے ادراک کے ساتھ زندہ اور متحرک پاتے ہیں۔ دنیا کے تمام ادب پاروں کو کھنگال لیجئے ! آپ کو کسی بھی بیانیہ کلام یا تجزیہ نگاری میں یہ تاثر نہ ملے گا قیامت کے مناظر بیان کرتے ہوئے قرآن بطور خاص یہ انداز اختیار کرتا ہے اور قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی اس کے نمونے ملتے ہیں ۔

اس درس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ اللہ کی بندگی اور عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کرو ‘ نماز چونکہ اللہ کی بندگی اور عبادت کی محسوس ترین شکل ہے ‘ اس لئے اگلی آیت میں نماز کے بعض احکام کو بیان کیا جاتا ہے ۔ نیز نماز کی تیاری کے لئے طہارت کے بعض احکام بھی بیان ہوتے ہیں۔

43

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقْرَبُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمْ سُكَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا۟ مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِى سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌۭ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءًۭ فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًۭا طَيِّبًۭا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا

مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں پر مسح (کرکے تیمم) کرلو بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے

یہ بھی جماعت مسلمہ کی تربیت کی ایک اہل کڑی ہے جسے اسلامی نظام حیات نے جاہلیت کی پستیوں سے سربلند کیا ۔ شراب نوشی جاہلی معاشرے کی ایک عام اور بنیادی عادت تھی بلکہ قدیم اور جدید جاہلیتوں کی یہ امتیازی خصوصیت رہی ہے ۔ رومی معاشرہ جب اپنی ترقی کے انتہائی عروج پر تھا تو شراب نوشی اس کی ممتاز ترین خصوصیات میں سے ایک تھی ، اسی طرح فارس کے جاہلی معاشرے کی اہم خصوصیات میں سے شراب نوشی ایک اہم خصوصیت تھی ۔ آج امریکی اور یورپین تہذیب اور جاہلیت اپنے عروج پر ہیں اور شراب نوشی انکی ممتاز ترین صفت ہے ۔ افریقہ میں جو ترقی یافتہ معاشرے گزرے ہیں ان کی خصوصیات میں بھی یہ اہم خصوصیت رہی ہے ۔

سویڈن آج کے ترقی یافتہ جاہلی ممالک میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے گزشتہ صدی کے نصف آخر میں اس کا حال یہ تھا کہ اس کا ہر خاندان اپنے لئے مخصوص شراب استعمال کرتا تھا ۔ اور ان میں سے ہر فرد اوسطا بیس لیٹر شراب پیتا تھا ۔ حکومت سویڈن کو ان اعداد سے تشویش لاحق ہوئی کیونکہ اس کی وجہ سے لوگ نشے کے خطرناک حد تک عادی بنتے جارہے تھے ۔ حکومت نے یہ پالیسی اختیار کی کہ شراب خرید کر اسے سٹور کیا جائے ۔ اور انفرادی استعمال کے اعداد و شمار کی حد کو کم کرنے کی سعی کی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے عام مقامات پر شراب نوشی کی ممانعت کردی ۔ لیکن حکومت نے جلدی اپنے اقدامات سے رجوع کرلیا ہے اور عائد شدہ پابندیوں میں تخفیف کردی گئی ۔ ہوٹلوں میں شراب نوشی کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اگر کوئی کھانا کھائے تو شراب پی سکتا ہے ۔ اس کے بعد پبلک مقامات میں سے بعض مقامات پر اجازت دے دی گئی اور یہ اجازت بھی نصف رات تک دی گئی ۔ نصف رات کے بعد نبیذ اور بیر کے استعمال کی اجازت دی گئی لیکن نوجوانوں کے اندر شراب نوشی کی عادت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔

امریکہ میں ایک دفعہ حکومت نے اس بری عادت کو ختم کرنے کا ارادہ کیا ۔ 1919 ء میں اس نے قانون تحریم شراب نوشی پاس کیا ۔ اس قانون کو خشکی کا قانون کہا گیا ۔ اس لئے کہ اس نے شراب نوشی کے ذریعے آبپاشی کو منع کردیا ۔ یہ قانون صرف 14 سال تک چل سکا اور حکومت نے اسے 1923 ء میں منسوخ کردیا ۔ اس قانون کی حمایت میں حکومت امریکہ نے ریڈیو ‘ سینما ‘ تقاریر اور نشرواشاعت اور پروپیگنڈے کے جدید ترین وسائل استعمال کئے ۔ صرف شراب نوشی کے خلاف نشرواشاعت پر حکومت نے اس وقت 60 ملین ڈالر خرچ کئے اور جو کتابیں ‘ رسالے اور پمفلٹ شائع کئے گئے وہ دسیوں بلین صفحات پر مشتمل تھے ۔ اس قانون کے پاس کرنے کی وجہ سے حکومت کو 250 بلین پونڈ کے اخراجات بشکل تاوان دینے پڑے ۔ تین سو افراد لقمہ اجل بنے ۔ 335 ‘ 32 ‘ 5 افراد قید ہوئے ‘ 61 ملین پونڈ جرمانے ہوئے ‘ چار بلین اور 400 ملین پونڈ مالیت کی جائیدادیں ضبط ہوئیں ۔ لیکن ان اقدامات کے باوجود حکومت اس قانون کو منسوخ کرنے پر مجبور ہوئی اور اس نے پسپائی اختیار کی ۔

جاہلیت میں شراب نوشی ایک عادت تھی لیکن اسلام نے چند آیات نازل کر کے اس کا خاتمہ کردیا ۔ یہ ہے وہ فرق نفس انسانی اور انسانی معاشرے کے ساتھ اسلامی طرز عمل اور جاہلی طرز عمل اور طریقہ تربیت کا ۔ اور قدیم زمانے میں بھی یہ فرق تھا اور آج بھی یہ فرق اپنی جگہ قائم ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اسلام سے قبل دور جاہلیت میں شراب نوشی کا کیا حال تھا ؟ اس کی حقیقی صورت حال اس شخص کو معلوم ہوگا جو دور جاہلیت کے اشعار کا قدرے گہرا مطالعہ کرے گا ۔ ادبی موضوعات میں سے شراب اہم ترین موضوع رہا ہے جیسا کہ جاہلی زندگی میں یہ ایک اہم خصوصیت تھی ، شراب اس قدر فروخت ہوتی تھی کہ تجارت کا لفظ عام تجارت کے بجائے شراب کی فروخت کے ساتھ مخصوص ہوگیا ۔ مشہور شاعر ولید کہتا ہے۔

قد بت سامرھا وغایۃ تاجر

وافیت اذ رفعت رعز مدامھا :

(حیش و عشرت کی کئی ایسی راتیں میں نے قصہ گوئی میں بسر کیں اور ان میں شراب ایسے تاجروں …

44

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًۭا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يَشْتَرُونَ ٱلضَّلَٰلَةَ وَيُرِيدُونَ أَن تَضِلُّوا۟ ٱلسَّبِيلَ

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی رستے سے بھٹک جاؤ

درس نمبر 43 تشریح آیات :

44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57

مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے پھر اگلے سبق میں جماعت مسلمہ کو خبردار کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ ‘ اپنی صورت حالات کی درستی اور اپنے وجود کو بچانے کے اقدامات کرے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے منافق دشمن اس کے خلاف خفیہ سازشوں میں مصروف ہیں۔ جماعت مسلمہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کی طرف بھی متوجہ ہو اور ان دفاعی اقدامات پر بھی غور کرے جو اسے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے دشمن کیمپوں کے مقابلے میں کرنے ہیں۔ اس میں قانون بین الاقوام کے سلسلے میں بعض ہدایات بھی ہیں ۔ اس کے اگلے سبق میں ایک یہودی کا معاملہ آتا ہے جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں تمام دشمنیوں سے بلند ہو کر معاملہ کی گیا ۔ اس سے اگلے سبق میں شرک اور مشرکین کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے گئے ہیں اور ان بنیادوں کو حقارت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ۔ جن کے اوپر مشرک معاشرہ قائم تھا ۔ اس معرکے کے درمیاں بعض ہدایات داخلی تنظیم کے بارے میں بھی دی گئی ہیں ۔ جن کا تعلق ‘ ابتدائے سورة کے مضامین بابت خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ اب اس پارے کا آخری سبق آتا ہیں جو نفاق اور منافقین کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ سبق فیصلہ کرتا ہے کہ منافقین آگ میں سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔

ان سرسری اشارات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو داخلی اور خارجی محاذوں پر کس قدر ہمہ جہت لڑائی کا سامنا تھا ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کو کس طرح بیک وقت داخلی اور خارجی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا تھا ۔ اس لئے کہ داخلی محاذ اور خارجی محاذ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور پیوستہ تھے ۔ اور یہی معرکہ آج بھی عالمی تحریک اسلامی کو درپیش ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ اس لئے کہ اسلامی تحریک کی اساس اور حقیقت ایک ہے ۔

(آیت) ” نمبر 44 تا 46۔

(سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا) اور (واسمع وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو انکی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں “۔

اس سورة میں جن متعدد جگہ تعجب کا اظہار کیا گیا ان میں سے پہلی جائے تعجب تو یہ ہے کہ اس کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں جبکہ مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو انوکھا اور تعجب خیز ہو ۔

(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ (44) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو ۔

چونکہ انکو کتاب دی گئی تھی اس لئے ان کے شایان شان تو یہ تھا کہ وہ فورا ہدایت قبول کرتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے بڑے پیغمبر تھے اللہ نے انہیں تورات دی تھی ۔ تاکہ انہیں وہ ان کی ضلالت سے نکالے اور ان کے لئے نور اور ہدایت ہو ۔ لیکن وہ اپنی اس قسمت سے انکاری ہیں اور ہدایت چھوڑ کر ضلالت کے خریدار بن گئے ہیں ۔ خریداری سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ضلالت لینے کا پختہ ارادہ کرلیا …

45

وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِأَعْدَآئِكُمْ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِيرًۭا

اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز ہے اور کافی مددگار ہے

درس نمبر 43 تشریح آیات :

44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57

مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے پھر اگلے سبق میں جماعت مسلمہ کو خبردار کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ ‘ اپنی صورت حالات کی درستی اور اپنے وجود کو بچانے کے اقدامات کرے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے منافق دشمن اس کے خلاف خفیہ سازشوں میں مصروف ہیں۔ جماعت مسلمہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کی طرف بھی متوجہ ہو اور ان دفاعی اقدامات پر بھی غور کرے جو اسے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے دشمن کیمپوں کے مقابلے میں کرنے ہیں۔ اس میں قانون بین الاقوام کے سلسلے میں بعض ہدایات بھی ہیں ۔ اس کے اگلے سبق میں ایک یہودی کا معاملہ آتا ہے جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں تمام دشمنیوں سے بلند ہو کر معاملہ کی گیا ۔ اس سے اگلے سبق میں شرک اور مشرکین کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے گئے ہیں اور ان بنیادوں کو حقارت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ۔ جن کے اوپر مشرک معاشرہ قائم تھا ۔ اس معرکے کے درمیاں بعض ہدایات داخلی تنظیم کے بارے میں بھی دی گئی ہیں ۔ جن کا تعلق ‘ ابتدائے سورة کے مضامین بابت خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ اب اس پارے کا آخری سبق آتا ہیں جو نفاق اور منافقین کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ سبق فیصلہ کرتا ہے کہ منافقین آگ میں سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔

ان سرسری اشارات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو داخلی اور خارجی محاذوں پر کس قدر ہمہ جہت لڑائی کا سامنا تھا ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کو کس طرح بیک وقت داخلی اور خارجی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا تھا ۔ اس لئے کہ داخلی محاذ اور خارجی محاذ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور پیوستہ تھے ۔ اور یہی معرکہ آج بھی عالمی تحریک اسلامی کو درپیش ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ اس لئے کہ اسلامی تحریک کی اساس اور حقیقت ایک ہے ۔

(آیت) ” نمبر 44 تا 46۔

(سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا) اور (واسمع وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو انکی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں “۔

اس سورة میں جن متعدد جگہ تعجب کا اظہار کیا گیا ان میں سے پہلی جائے تعجب تو یہ ہے کہ اس کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں جبکہ مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو انوکھا اور تعجب خیز ہو ۔

(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ (44) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو ۔

چونکہ انکو کتاب دی گئی تھی اس لئے ان کے شایان شان تو یہ تھا کہ وہ فورا ہدایت قبول کرتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے بڑے پیغمبر تھے اللہ نے انہیں تورات دی تھی ۔ تاکہ انہیں وہ ان کی ضلالت سے نکالے اور ان کے لئے نور اور ہدایت ہو ۔ لیکن وہ اپنی اس قسمت سے انکاری ہیں اور ہدایت چھوڑ کر ضلالت کے خریدار بن گئے ہیں ۔ خریداری سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ضلالت لینے کا پختہ ارادہ کرلیا …

46

مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَٱسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍۢ وَرَٰعِنَا لَيًّۢا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًۭا فِى ٱلدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَٱسْمَعْ وَٱنظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَٰكِن لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًۭا

اور یہ جو یہودی ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ سے (تم سے گفتگو) کے وقت راعنا کہتے ہیں اور اگر (یوں) کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی بہت درست ہوتی لیکن خدان نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں

درس نمبر 43 تشریح آیات :

44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57

مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے پھر اگلے سبق میں جماعت مسلمہ کو خبردار کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ ‘ اپنی صورت حالات کی درستی اور اپنے وجود کو بچانے کے اقدامات کرے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے منافق دشمن اس کے خلاف خفیہ سازشوں میں مصروف ہیں۔ جماعت مسلمہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کی طرف بھی متوجہ ہو اور ان دفاعی اقدامات پر بھی غور کرے جو اسے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے دشمن کیمپوں کے مقابلے میں کرنے ہیں۔ اس میں قانون بین الاقوام کے سلسلے میں بعض ہدایات بھی ہیں ۔ اس کے اگلے سبق میں ایک یہودی کا معاملہ آتا ہے جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں تمام دشمنیوں سے بلند ہو کر معاملہ کی گیا ۔ اس سے اگلے سبق میں شرک اور مشرکین کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے گئے ہیں اور ان بنیادوں کو حقارت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ۔ جن کے اوپر مشرک معاشرہ قائم تھا ۔ اس معرکے کے درمیاں بعض ہدایات داخلی تنظیم کے بارے میں بھی دی گئی ہیں ۔ جن کا تعلق ‘ ابتدائے سورة کے مضامین بابت خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ اب اس پارے کا آخری سبق آتا ہیں جو نفاق اور منافقین کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ سبق فیصلہ کرتا ہے کہ منافقین آگ میں سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔

ان سرسری اشارات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو داخلی اور خارجی محاذوں پر کس قدر ہمہ جہت لڑائی کا سامنا تھا ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کو کس طرح بیک وقت داخلی اور خارجی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا تھا ۔ اس لئے کہ داخلی محاذ اور خارجی محاذ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور پیوستہ تھے ۔ اور یہی معرکہ آج بھی عالمی تحریک اسلامی کو درپیش ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ اس لئے کہ اسلامی تحریک کی اساس اور حقیقت ایک ہے ۔

(آیت) ” نمبر 44 تا 46۔

(سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا) اور (واسمع وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو انکی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں “۔

اس سورة میں جن متعدد جگہ تعجب کا اظہار کیا گیا ان میں سے پہلی جائے تعجب تو یہ ہے کہ اس کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں جبکہ مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو انوکھا اور تعجب خیز ہو ۔

(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ (44) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو ۔

چونکہ انکو کتاب دی گئی تھی اس لئے ان کے شایان شان تو یہ تھا کہ وہ فورا ہدایت قبول کرتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے بڑے پیغمبر تھے اللہ نے انہیں تورات دی تھی ۔ تاکہ انہیں وہ ان کی ضلالت سے نکالے اور ان کے لئے نور اور ہدایت ہو ۔ لیکن وہ اپنی اس قسمت سے انکاری ہیں اور ہدایت چھوڑ کر ضلالت کے خریدار بن گئے ہیں ۔ خریداری سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ضلالت لینے کا پختہ ارادہ کرلیا …

47

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ ءَامِنُوا۟ بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًۭا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهًۭا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰٓ أَدْبَارِهَآ أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّآ أَصْحَٰبَ ٱلسَّبْتِ ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ مَفْعُولًا

اے کتاب والو! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لے آؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا

درس نمبر 43 تشریح آیات :

44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57

مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے پھر اگلے سبق میں جماعت مسلمہ کو خبردار کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ ‘ اپنی صورت حالات کی درستی اور اپنے وجود کو بچانے کے اقدامات کرے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے منافق دشمن اس کے خلاف خفیہ سازشوں میں مصروف ہیں۔ جماعت مسلمہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کی طرف بھی متوجہ ہو اور ان دفاعی اقدامات پر بھی غور کرے جو اسے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے دشمن کیمپوں کے مقابلے میں کرنے ہیں۔ اس میں قانون بین الاقوام کے سلسلے میں بعض ہدایات بھی ہیں ۔ اس کے اگلے سبق میں ایک یہودی کا معاملہ آتا ہے جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں تمام دشمنیوں سے بلند ہو کر معاملہ کی گیا ۔ اس سے اگلے سبق میں شرک اور مشرکین کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے گئے ہیں اور ان بنیادوں کو حقارت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ۔ جن کے اوپر مشرک معاشرہ قائم تھا ۔ اس معرکے کے درمیاں بعض ہدایات داخلی تنظیم کے بارے میں بھی دی گئی ہیں ۔ جن کا تعلق ‘ ابتدائے سورة کے مضامین بابت خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ اب اس پارے کا آخری سبق آتا ہیں جو نفاق اور منافقین کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ سبق فیصلہ کرتا ہے کہ منافقین آگ میں سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔

ان سرسری اشارات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو داخلی اور خارجی محاذوں پر کس قدر ہمہ جہت لڑائی کا سامنا تھا ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کو کس طرح بیک وقت داخلی اور خارجی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا تھا ۔ اس لئے کہ داخلی محاذ اور خارجی محاذ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور پیوستہ تھے ۔ اور یہی معرکہ آج بھی عالمی تحریک اسلامی کو درپیش ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ اس لئے کہ اسلامی تحریک کی اساس اور حقیقت ایک ہے ۔

(آیت) ” نمبر 44 تا 46۔

(سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا) اور (واسمع وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو انکی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں “۔

اس سورة میں جن متعدد جگہ تعجب کا اظہار کیا گیا ان میں سے پہلی جائے تعجب تو یہ ہے کہ اس کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں جبکہ مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو انوکھا اور تعجب خیز ہو ۔

(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ (44) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو ۔

چونکہ انکو کتاب دی گئی تھی اس لئے ان کے شایان شان تو یہ تھا کہ وہ فورا ہدایت قبول کرتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے بڑے پیغمبر تھے اللہ نے انہیں تورات دی تھی ۔ تاکہ انہیں وہ ان کی ضلالت سے نکالے اور ان کے لئے نور اور ہدایت ہو ۔ لیکن وہ اپنی اس قسمت سے انکاری ہیں اور ہدایت چھوڑ کر ضلالت کے خریدار بن گئے ہیں ۔ خریداری سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ضلالت لینے کا پختہ ارادہ کرلیا …

48

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفْتَرَىٰٓ إِثْمًا عَظِيمًا

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

(آیت) ” نمبر : 47 تا 48۔

اہل کتاب کو ان کی صفت اہل کتاب سے پکارا گیا ‘ اس لئے کہ اس صفت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے دعوت اسلامی کو قبول کرتے اور سب سے پہلے مسلمان بن جاتے ۔

(آیت) ” یایھا الذین اوتوالکتب امنوا بما نزلنا مصدقالما معکم “۔ (4 : 47)

” اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی “۔

چونکہ ان کو کتاب دی گئی ہے ‘ اس لئے انکے لئے ہدایت قبول کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے اس لئے کہ جس اللہ نے انہیں کتاب دی ہے وہی اب انہیں دعوت ایمان دے رہا ہے کہ اس کتاب پر بھی ایمان لاؤ جو تمہارے پاس موجود کتاب کی تصدیق کر رہی ہے ۔ یہ ان کے لئے تو کوئی انوکھی بات نہیں ‘ جبکہ یہ کتاب ان کی کتابوں کی مصدق بھی ہے ۔

اگر ایمان دلائل پر موقوف ہوتا ‘ یا ظاہری اسباب پر موقوف ہوتا تو یہودی سب سے پہلے مومنین میں سے ہوتے ۔ لیکن یہودی اپنے مخصوص مفادات اور مصلحتوں کا شکار ہوگئے ۔ نیز وہ کینہ اور عناد کی وجہ سے ایمان نہ لا سکے ۔ یہ لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے بھی نہ ماننے والے تھے ۔ مزاج میں اکڑ تھی ۔ تورات نے ان کے لئے ” اکڑی ہوئی گردن رکھنے والی قوم “ کے الفاظ استعمال کئے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہ لائے ۔ اللہ کی طرف سے بھی ان کے حق میں سخت اور خوفناک تہدید آئی ۔

(آیت) ” من قبل ان نطمس وجوھا فنردھا علی ادبارھا اونلعنھم کما لعنا اصحب السبت وکان امر اللہ مفعولا “۔ (4 : 47)

” اس پر ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہم چہرے بگاڑ کر پیچھے پھیر دیں یا ان کو اسی طرح لعنت زدہ کردیں جس طرح سبت والوں کے ساتھ ہم نے کیا تھا ‘ اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے ۔

طمس الوجوہ ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ چہرے کے وہ خدوخال مٹا دیئے جائیں ‘ جن کی وجہ سے انسان انسان بنتا ہے اور چہروں کو بگاڑ کر پیچھے کی طرف موڑ دیا جانا ‘ اس طرح کہ وہ پیچھے کی طرف چلے ۔ اس سے مراد انہیں خوفناک عذاب سے ڈرانا ہے جس میں ان کے چہروں کو پیٹھ کی طرف موڑ کر پیچھے کی طرف چلنے پر مجبور کرنا شامل ہے ۔ اس عذاب میں وہ لعنت بھی شامل ہے جو اصحاب السبت پر وارد ہوئی ۔ (یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سبت کے دن شکار کرنے کی کوشش کی حالانکہ ان کی شریعت کے مطابق ان پر یہ شکار حرام تھا) اس جرم پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عملا بندر اور خنزیر بنادیا تھا ۔ نیز اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے تصورات اور دل و دماغ سے ہدایت اور بصیرت کے آثار مٹا دے اور ان کو دوبارہ کفر اور جاہلیت کی طرف لوٹا دے ۔ یعنی اس حالت کی طرف جب ان کے پاس کوئی کتاب ہدایت نہ تھی اور پھر یہ ایمان کے بعد کفر کی حالت میں چلے جائیں ۔ ایمان کے بعد دوبارہ کفر میں چلا جانا ‘ ہدایت کے بعد گمراہی میں چلا جانا ہی دراصل چہروں کا بگاڑ دینا ہے ۔ اور انسان کا الٹے پاؤں پھرنا ہر قسم کے ارتداد سے برا ہے۔

چاہے یہ مفہوم ہو یا وہ مفہوم ہو بہرحال یہ ایک خوفناک تہدید اور ڈراوا ہے جو یہودیوں کے کرخت اور متکبرانہ مزاج کے لئے مناسب سزا ہے ۔ اسی طرح ان کے برے اور خبیث اعمال کے لئے بھی یہی مناسب سزا ہے ۔

اس تہدید سے ڈر کر کعب الاحبار مسلمان ہوگئے تھے ۔ ابن ابی حاتم نے روایت نقل کی ہے اپنے والد ‘ ابن نفیل ‘ عمر ابن واقد ‘ یونس ابن جلیس ‘ ابو ادریس ‘ عائذ الخولانی کی سند سے ۔ انہوں نے کہا کہ ابو مسلم خلیلی کعب کے استاد تھے اور وہ انہیں رسول خدا ﷺ سے ملنے میں دیر کرنے پر ملامت کرتے تھے ۔ کہتے ہیں ابو مسلم نے کعب کو بھیجا کہ وہ حضور کو دیکھیں کہ آیا حضرت محمد ﷺ وہی ہیں “ کعب کہتے ہیں میں نے سواری کی اور مدینہ پہنچ گیا ۔ اچانک میں نے ایک تلاوت کرنے والے کو یہ تلاوت کرتے سنا ۔

(آیت) ” یایھا الذین اوتوالکتب امنوا بما نزلنا مصدقالما معکم من قبل ان نطمس …

49

أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں (نہیں) بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

(آیت) ” نمبر 49 تا 50۔

یہودیوں کا یہ قدیمی دعوی ہے کہ وہ اللہ کے مختار اور برگزیدہ لوگ ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس امانت کے اٹھانے اور فرائض رسالت اور دعوت کے لئے چنا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خاطر فرعون اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا ۔ بنی اسرائیل کو ارض مقدس کا وارث بنایا تھا ‘ لیکن اس کے بعد آنے والے ادوار میں انہوں نے سرے سے اسلامی نظام ہی کو ترک کردیا ۔ اور انہوں نے اس کرہ ارض پر عظیم نافرمانیوں اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب شروع کردیا ۔ ان گناہوں سے زمین بھی کانپنے لگی ۔ ان کے لئے ان کے احبار ‘ علماء نے ان چیزوں کو حلال کردیا جسے اللہ نے حرام کیا تھا ‘ اور ان پر ان چیزوں کو حرام کردیا جو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھیں ۔ انہوں نے ان غلط کاموں میں ان احبار کی پیروی شروع کردی تھی اور ان احبار نے اس طرح جو خدائی کا دعوی کیا تھا ‘ اس کا انہوں نے انکار نہ کیا حالانکہ حلال و حرام کا تعین تو اللہ کا کام تھا ۔ ان احبار نے اللہ کی شریعت میں تبدیلیاں کردیں تاکہ بادشاہوں اور شرفاء کو خوش کریں اور جمہور عوام کے رجحانات اور میلانات کی پیروی وچاپلوسی کریں ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے گویا ان کو اپنا رب بنا لیا تھا ۔ پھر انہوں نے سود کھانا شروع کردیا ۔ ان کا تعلق اپنے دین اور اپنے رب کے ساتھ کمزور ہوگیا ‘ ان جرائم اور ان کے ساتھ بیشمار دوسرے جرائم کے باوجود وہ بدستور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں ‘ اور یہ کہ ان کو آگ فقط چند دن تک چھوئے گی اور یہ کہ اللہ کے نزدیک صرف یہودی ہی نجات کے مستحق ہیں ۔ گویا دین صرف رشتہ داری تک محدود ہوگیا ہے یا دین میں بھی ذاتی تعلقات اور دوستیاں کام کرتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ بہت ہی بلند ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کو اپنے بندوں میں سے کسی کے ساتھ نہ قرابت داری ہے اور نہ نسبت ہے۔ اللہ کے بندوں کا تعلق صرف درست عقائد کی وجہ سے قائم رہ سکتا ہے ۔ عمل صالح کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے اور اسلامی نظام حیات پر ثابت قدمی سے رہ سکتا ہے ۔ جس شخص نے اس تعلق میں خلل ڈالا ‘ اس پر اللہ کا غضب نازل ہوا ۔ اور اللہ کا غضب اس وقت بہت ہی جوش میں آتا ہے جب اللہ ایک گمراہ قوم کو ہدایت بخشے مگر وہ قوم ہدایت کے مقابلے میں انحراف کی راہ اختیار کرلے ۔ ان یہودیوں کے حالات آج کے نام نہاد مسلمانوں سے مختلف نہیں ہیں ۔ ‘ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امت محمدیہ میں سے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ لازما ان کی مدد کرے گا اور یہودیوں کو ان کی سرزمین سے نکالے گا ‘ جبکہ وہ مکمل طور پر اسلام سے نکل گئے ہیں ‘ حالانکہ اسلام ان کا دین اور نظام زندگی ہے ۔ لیکن انہوں نے اسے اپنی زندگیوں سے نکال دیا ہے اور وہ اللہ کی کتاب کے مطابق کوئی فیصلہ نہیں کرتے ۔ نہ اپنے مقدمات میں نہ اپنے اقتصادی مسائل میں ۔ نہ اپنے اجتماعی معاملات میں اور نہ اپنے آداب و عادات میں ۔ ان کا اسلام صرف مسلمانوں جیسے نام رکھنے تک محدود رہ گیا ہے ۔ اور یہ کہ وہ مسلمانوں کے ملک میں پیدا ہوئے ہیں جس میں وہ کبھی زندہ رہ رہے تھے اور کبھی انہوں نے اس میں دین اسلام قائم کیا تھا اور اسلامی نظام کے مطابق تمام فیصلے کیا کرتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ رسول خدا ﷺ کے سامنے تعجب کا اظہار فرما رہے ہیں کہ یہ یہودی بھی عجیب ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بہت ہی پاک قوم سمجھتے ہیں ۔ لیکن آج کے مسلمانوں کا معاملہ تو اس تعجب انگیز صورت حالات سے بھی زیادہ تعجب انگیز ہے کیوں کہ ان کی اخلاقی حالت اس زمانے کے یہودیوں سے بھی زیادہ پست ہوچکی ہے ۔

یہ لوگوں کا کام نہیں ہے کہ وہ میاں مٹھو بن کر اپنی پاک دامنی کا ڈھنڈورا پیٹیں اور یہ شہادت کود اپنے حق میں دیں کہ وہ نیک ہیں ‘ اللہ کے قریبی ہیں اور شعب مختار ہیں ۔ بلکہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ فیصلہ دے کہ اللہ کے نزدیک پاک اور برگزیدہ کون ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں اور عملوں …

50

ٱنظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَكَفَىٰ بِهِۦٓ إِثْمًۭا مُّبِينًا

دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ (طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے

(آیت) ” نمبر 49 تا 50۔

یہودیوں کا یہ قدیمی دعوی ہے کہ وہ اللہ کے مختار اور برگزیدہ لوگ ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس امانت کے اٹھانے اور فرائض رسالت اور دعوت کے لئے چنا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خاطر فرعون اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا ۔ بنی اسرائیل کو ارض مقدس کا وارث بنایا تھا ‘ لیکن اس کے بعد آنے والے ادوار میں انہوں نے سرے سے اسلامی نظام ہی کو ترک کردیا ۔ اور انہوں نے اس کرہ ارض پر عظیم نافرمانیوں اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب شروع کردیا ۔ ان گناہوں سے زمین بھی کانپنے لگی ۔ ان کے لئے ان کے احبار ‘ علماء نے ان چیزوں کو حلال کردیا جسے اللہ نے حرام کیا تھا ‘ اور ان پر ان چیزوں کو حرام کردیا جو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھیں ۔ انہوں نے ان غلط کاموں میں ان احبار کی پیروی شروع کردی تھی اور ان احبار نے اس طرح جو خدائی کا دعوی کیا تھا ‘ اس کا انہوں نے انکار نہ کیا حالانکہ حلال و حرام کا تعین تو اللہ کا کام تھا ۔ ان احبار نے اللہ کی شریعت میں تبدیلیاں کردیں تاکہ بادشاہوں اور شرفاء کو خوش کریں اور جمہور عوام کے رجحانات اور میلانات کی پیروی وچاپلوسی کریں ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے گویا ان کو اپنا رب بنا لیا تھا ۔ پھر انہوں نے سود کھانا شروع کردیا ۔ ان کا تعلق اپنے دین اور اپنے رب کے ساتھ کمزور ہوگیا ‘ ان جرائم اور ان کے ساتھ بیشمار دوسرے جرائم کے باوجود وہ بدستور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں ‘ اور یہ کہ ان کو آگ فقط چند دن تک چھوئے گی اور یہ کہ اللہ کے نزدیک صرف یہودی ہی نجات کے مستحق ہیں ۔ گویا دین صرف رشتہ داری تک محدود ہوگیا ہے یا دین میں بھی ذاتی تعلقات اور دوستیاں کام کرتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ بہت ہی بلند ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کو اپنے بندوں میں سے کسی کے ساتھ نہ قرابت داری ہے اور نہ نسبت ہے۔ اللہ کے بندوں کا تعلق صرف درست عقائد کی وجہ سے قائم رہ سکتا ہے ۔ عمل صالح کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے اور اسلامی نظام حیات پر ثابت قدمی سے رہ سکتا ہے ۔ جس شخص نے اس تعلق میں خلل ڈالا ‘ اس پر اللہ کا غضب نازل ہوا ۔ اور اللہ کا غضب اس وقت بہت ہی جوش میں آتا ہے جب اللہ ایک گمراہ قوم کو ہدایت بخشے مگر وہ قوم ہدایت کے مقابلے میں انحراف کی راہ اختیار کرلے ۔ ان یہودیوں کے حالات آج کے نام نہاد مسلمانوں سے مختلف نہیں ہیں ۔ ‘ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امت محمدیہ میں سے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ لازما ان کی مدد کرے گا اور یہودیوں کو ان کی سرزمین سے نکالے گا ‘ جبکہ وہ مکمل طور پر اسلام سے نکل گئے ہیں ‘ حالانکہ اسلام ان کا دین اور نظام زندگی ہے ۔ لیکن انہوں نے اسے اپنی زندگیوں سے نکال دیا ہے اور وہ اللہ کی کتاب کے مطابق کوئی فیصلہ نہیں کرتے ۔ نہ اپنے مقدمات میں نہ اپنے اقتصادی مسائل میں ۔ نہ اپنے اجتماعی معاملات میں اور نہ اپنے آداب و عادات میں ۔ ان کا اسلام صرف مسلمانوں جیسے نام رکھنے تک محدود رہ گیا ہے ۔ اور یہ کہ وہ مسلمانوں کے ملک میں پیدا ہوئے ہیں جس میں وہ کبھی زندہ رہ رہے تھے اور کبھی انہوں نے اس میں دین اسلام قائم کیا تھا اور اسلامی نظام کے مطابق تمام فیصلے کیا کرتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ رسول خدا ﷺ کے سامنے تعجب کا اظہار فرما رہے ہیں کہ یہ یہودی بھی عجیب ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بہت ہی پاک قوم سمجھتے ہیں ۔ لیکن آج کے مسلمانوں کا معاملہ تو اس تعجب انگیز صورت حالات سے بھی زیادہ تعجب انگیز ہے کیوں کہ ان کی اخلاقی حالت اس زمانے کے یہودیوں سے بھی زیادہ پست ہوچکی ہے ۔

یہ لوگوں کا کام نہیں ہے کہ وہ میاں مٹھو بن کر اپنی پاک دامنی کا ڈھنڈورا پیٹیں اور یہ شہادت کود اپنے حق میں دیں کہ وہ نیک ہیں ‘ اللہ کے قریبی ہیں اور شعب مختار ہیں ۔ بلکہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ فیصلہ دے کہ اللہ کے نزدیک پاک اور برگزیدہ کون ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں اور عملوں …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.