Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 1–10 of 176

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًۭا كَثِيرًۭا وَنِسَآءًۭ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِى تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًۭا

لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اول) اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلا دیئے۔ اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت بر آری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ : یعنی پوری نوع انسانی آدم (علیہ السلام) کی نسل سے ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ”(قیامت کے دن) لوگ آدم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور کہیں گے، اے آدم آپ انسانوں کے باپ ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ “ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : ( لقد أرسلنا ۔۔ ) : ٣٣٤٠، عن أبی ہریرہ (رض) ] ایک جان سے پیدا کرنے سے یہ توجہ دلانا بھی مقصود ہے کہ تم تمام انسان ایک شخص کی اولاد ہو، کوئی اور رشتہ داری نہ ہو تو یہ رشتہ داری کیا کم ہے، اس کا خیال ہی رکھو اور اپنے کمزوروں کی مدد کرتے رہو۔- 2 وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ اوپر کا ہوتا ہے، سو اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ بیٹھو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اس طرح فائدہ اٹھاؤ گے کہ اس میں برابر ٹیڑھا پن ہوگا۔ “ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ : ٣٣٣١، ٥١٨٤، عن أبی ہریرہ (رض) ] بعض روایات میں ہے : ( وَ کَسْرُہَا طَلاَقُہَا ) ” اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔ “ [ مسلم، الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء : ٥٩؍٧١٥۔ بخاری : ٥١٨٤ ]- قرآن کی آیت سے معلوم ہوا کہ حواء[ آدم (علیہ السلام) سے پیدا ہوئیں۔ حدیث سے ثابت ہوا کہ پسلی سے پیدا ہوئیں، اس کی کیفیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان نہیں کی۔ بعض لوگ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ عورت میں کچھ ٹیڑھا پن رہتا ہی ہے، اس لیے اسے پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے، مگر قرآن کے صریح الفاظ کہ آدم سے اس کی بیوی کو پیدا کیا، ان کے ساتھ حدیث ملائیں تو اس کا پسلی سے پیدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہاں، اس کی کجی بھی اپنی جگہ درست ہے۔ - تَسَاۗءَلُوْنَ بِهٖ وَالْاَرْحَامَ : یعنی جس اللہ کا نام لے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اس اللہ سے ڈرو۔ ” وَالْاَرْحَامَ “ اس کا عطف لفظ ” اللہ “ پر ہے، یعنی ” وَاتَّقُوا الْأَرْحَامَ “ کہ قطع رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی سے بچو۔ ” الْاَرْحَامَ ‘ کو میم کے کسرہ سے پڑھنا غلط ہے اور قواعد نحویہ کی رو سے بھی ٹھیک نہیں، ہاں معنی کے اعتبار سے صحیح ہے، یعنی جس رشتہ داری کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ (قرطبی) شوکانی (رض) فرماتے ہیں کہ تمام علمائے شریعت و لغت کا اتفاق ہے کہ ” الارحام “ سے محرم اور غیر محرم تمام رشتے مراد ہیں۔ قرآن و حدیث میں قطع رحمی کی بہت مذمت آئی ہے۔ دیکھیے سورة محمد (٢٢، ٢٣) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” رشتے داری کو توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ “ [ بخاری، الأدب، باب إثم القاطع : ٥٩٨٤، عن جبیر بن مطعم (رض) ] اور فرمایا : ” جو شخص چاہے کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کے نشان ( قدم) دیر تک رکھے جائیں وہ اپنی رشتے داری کو ملائے۔ “ [ بخاری، الأدب، باب من بسط لہ فی الرزق۔۔ : ٥٩٨٣، عن أبی أیوب الأنصاری (رض) ]- رَقِيْبًا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ کی عبادت کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔ سو اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ “ [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ٥٠۔ مسلم : ٨، عن أبی ہریرۃ و عمر ]

2

وَءَاتُوا۟ ٱلْيَتَٰمَىٰٓ أَمْوَٰلَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا۟ ٱلْخَبِيثَ بِٱلطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَهُمْ إِلَىٰٓ أَمْوَٰلِكُمْ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ حُوبًۭا كَبِيرًۭا

اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے

وَاٰتُوا الْيَــتٰمٰٓى اَمْوَالَھُمْ : یعنی جب یتیم بالغ ہوجائیں تو ان کے اموال ان کے سپرد کر دو اور یہ نہ کرو کہ یتیم کے مال سے اچھی چیز (طیب) لے کر اس کی جگہ ردی چیز (خبیث) رکھ دو ۔ طیب اور خبیث حلال اور حرام کے معنی میں بھی آتے ہیں، اس لیے بعض نے یہ معنی کیا ہے کہ اپنا حلال مال چھوڑ کر دوسرے کا مال مت کھاؤ جو تمہارے لیے حرام ہے۔ “ آیت میں ” الٰی “ بمعنی ” مَعَ “ ہے، یعنی ان کے اموال کو ناجائز طریقے سے کھانے کے لیے اپنے مالوں کے ساتھ مت ملاؤ، ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ ہاں، اصلاح کی نیت سے ملانا جائز ہے۔ [ دیکھیے البقرۃ : (٢٢٠) ]

3

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا۟ فِى ٱلْيَتَٰمَىٰ فَٱنكِحُوا۟ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثْنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ فَوَٰحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُوا۟

اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے

وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا ۔۔ : اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ عروہ بن زبیر (رض) کے ایک سوال کے جواب میں ام المومنین عائشہ (رض) نے فرمایا کہ ” بعض یتیم لڑکیاں کچھ لوگوں کی پرورش میں ہوتیں، وہ ان لڑکیوں کے مال اور جمال کی وجہ سے ان سے نکاح کرلیتے، لیکن انھیں اپنے گھر کی لڑکیاں سمجھ کر پرائے گھر کی لڑکیوں جیسا نہ تو مہر دیتے اور نہ ان کے دوسرے حقوق ویسے ادا کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انھیں ایسا کرنے سے منع فرمایا کہ اگر تم یتیم لڑکیوں سے ان کے مہر اور نفقات میں انصاف نہیں کرسکتے تو ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے، جو تمہیں پسند ہوں، نکاح کرلو۔ [ بخاری، التفسیر، باب : - ( وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا ) : ٤٥٧٤ ]- مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ: اس آیت سے ابن عباس (رض) اور جمہور علماء نے لکھا ہے کہ ایک شخص کے لیے بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں اپنے حرم میں رکھنا جائز نہیں، یہ صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے۔ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ سنت سے بصراحت یہ مسئلہ ثابت ہے۔ ابن کثیر (رض) فرماتے ہیں کہ شافعی (رض) نے جو فرمایا، اس پر علماء کا اجماع ہے۔ غیلان بن سلمہ ثقفی (رض) جب مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ان میں سے چار کا انتخاب کرلو۔ “ [ أحمد : ٢؍١٤، ح : ٤٦٣٠۔ ابن ماجہ، النکاح، باب الرجل یسلم و عندہ ۔۔ : ١٩٥٣، عن ابن عمر ] مزید صحابہ کے واقعات ابن کثیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ - قرطبی (رض) لکھتے ہیں : ” رافضی (شیعہ) اور بعض دوسرے لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ شادیاں چار سے زائد بھی جائز ہیں، مگر یہ لغت اور سنت سے جہالت کا نتیجہ ہے۔ - فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا ۔۔ : اس سے بعض لوگوں نے ایک سے زیادہ شادیوں کے ناجائز ہونے پر استدلال کیا ہے کہ اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرو گے تو ایک بیوی پر اکتفا کرو یا لونڈی پر۔ اس کے ساتھ وہ دوسری آیت بھی ملاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۗءِ وَلَوْ حَرَصْتُم ) [ النساء : ١٢٩ ] ” اور تم ہرگز نہ کرسکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری (عدل) کرو، خواہ تم حرص بھی کرو۔ “ خلاصہ دونوں کا یہ نکالا کہ جب عدل ہو ہی نہیں سکتا تو مرد ایک سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ ان حضرات نے وہی کام کیا ہے جو ( لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ ) والے حضرات کرتے ہیں کہ آگے ( وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى ) [ النساء : 43 ] پڑھتے ہی نہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کا پورا فرمان یوں ہے : ” اور تم ہرگز نہ کرسکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری کرو، خواہ تم حرص بھی کرو، پس مت جھک جاؤ (ایک کی طرف) مکمل جھک جانا کہ اس (دوسری) کو لٹکائی ہوئی کی طرح چھوڑ دو ، اور اگر تم اصلاح کرو اور ڈرتے رہو تو بیشک اللہ ہمیشہ سے بیحد بخشنے والا، بیحد مہربان ہے۔ “ معلوم ہوا وہ عدل جو انسان کر ہی نہیں سکتا، یعنی دلی میلان، وہ واجب ہی نہیں۔ زیادہ بیویاں ہمارے نبی اور اصحاب کی سنت ہے۔ - ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا : یعنی اگر کسی کو خوف ہے کہ وہ اتنا عدل بھی نہیں کرسکتا جتنا واجب ہے کہ رات رہنے اور نان و نفقہ میں بھی برابری نہیں کرسکتا، کیونکہ دلی محبت اور میلان و صحبت میں تو برابری ممکن ہی نہیں، تو ایک بیوی رکھے یا لونڈیاں، یہ زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔ بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے : ” یہ زیادہ قریب ہے کہ تمہارے عیال زیادہ نہ ہوجائیں اور تم فقیر نہ ہوجاؤ “ اور پھر اس پر برتھ کنٹرول کی بنیاد رکھ دی ہے کہ بچے کم پیدا کرو۔ حالانکہ بچے تو لونڈیوں سے بھی پیدا ہوتے ہیں اور لونڈیوں کی تعداد بھی مقرر نہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا، چناچہ فرمایا : ” ان عورتوں سے نکاح کرو جو …

4

وَءَاتُوا۟ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحْلَةًۭ ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَىْءٍۢ مِّنْهُ نَفْسًۭا فَكُلُوهُ هَنِيٓـًۭٔا مَّرِيٓـًۭٔا

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے ذوق شوق سے کھالو

جاہلیت میں عورتوں کا مہر لوگ خود لے لیتے اور انھیں کچھ بھی نہیں دیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی سے دو ، پھر اگر کوئی عورت خوش دلی سے مہر کا کچھ حصہ یا سارا شوہر کو دے دے تو وہ خاوند کے لیے جائز ہے اور خوش دلی سے کھا سکتا ہے، لیکن اگر عورت شوہر کی بد اخلاقی یا برے برتاؤ کی وجہ سے معاف کرے اور شوہر قبول کرے تو یہ اس آیت کے خلاف ہے۔ اسی طرح اگر دھوکا دے کر مہر معاف کروالے، پھر طلاق دے دے تو وہ بھی جائز نہیں ہوگا، بلکہ مہر دینا پڑے گا، کیونکہ وہ خوش دلی کے خلاف ہے۔

5

وَلَا تُؤْتُوا۟ ٱلسُّفَهَآءَ أَمْوَٰلَكُمُ ٱلَّتِى جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ قِيَٰمًۭا وَٱرْزُقُوهُمْ فِيهَا وَٱكْسُوهُمْ وَقُولُوا۟ لَهُمْ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا

اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لئے سبب معیشت بنایا ہے مت دو (ہاں) اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہے اور ان سے معقول باتیں کہتے رہو

یہاں بےسمجھوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مال کے انتظام کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ اس میں چھوٹے بچے اور ناتجربہ کار بیوی بھی آجاتی ہے اور نادان یتیم بھی، یعنی اگر یتیم ناتجربہ کار اور کم عقل ہوں تو وصی یا متولی کو چاہیے کہ یتیم کے مال سے اس کے کھانے پینے اور لباس کا انتظام کرتا رہے، مگر وہ مال اس کے سپرد نہ کرے۔ ابوموسیٰ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ تین آدمی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی ایک وہ آدمی جس کی بیوی بدخلق تھی پھر اس نے اسے طلاق نہیں دی اور ایک آدمی جس کا کسی شخص کے ذمے مال تھا مگر اس نے اس پر کوئی گواہ نہیں بنایا اور ایک وہ آدمی جس نے کسی سفینہ (بےوقوف) کو اپنا مال دے دیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم بیوقوفوں کو اپنے مال مت دو ۔ (صحیح الجامع : ٣٠٧٥) اس آیت سے علماء نے سفیہ (کم عقل) پر ” حجر “ (پابندی) کا حکم اخذ کیا ہے کہ حاکم وقت اس کے لین دین پر پابندی لگا سکتا ہے۔ (قرطبی)

6

وَٱبْتَلُوا۟ ٱلْيَتَٰمَىٰ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغُوا۟ ٱلنِّكَاحَ فَإِنْ ءَانَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًۭا فَٱدْفَعُوٓا۟ إِلَيْهِمْ أَمْوَٰلَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَآ إِسْرَافًۭا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا۟ ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّۭا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًۭا فَلْيَأْكُلْ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَٰلَهُمْ فَأَشْهِدُوا۟ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبًۭا

اور یتمیوں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا۔ جو شخص آسودہ حال ہو اس کو (ایسے مال سے قطعی طور پر) پرہیز رکھنا چاہیئے اور جو بے مقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو۔ اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے

وَابْتَلُوا الْيَتٰمٰى ۔۔ : بلوغت کے لیے مرد کی علامت احتلام اور عورت کی حیض ہے، علی (رض) نے فرمایا : ” میں نے ( بلوغت کے سلسلے میں) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن کر یہ یاد رکھا ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں اور دن سے لے کر رات تک خاموشی نہیں۔ “ [ أبو داوٗد، الوصایا، باب ما جاء متی ینقطع الیتم : ٢٨٧٣ ] عطیہ قرظی (رض) بیان کرتے ہیں : ” قریظہ کے دن ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو جس کے (زیر ناف) بال اگے تھے اسے قتل کردیا گیا اور جس کے بال نہیں اگے تھے اسے قتل نہیں کیا گیا، میں ان میں سے تھا جن کے بال ابھی نہیں اگے تھے، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔ “ [ أبو داوٗد، الحدود، باب فی الغلام یصیب الحد : ٤٤٠٤ ]- جنگ میں شرکت کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن عمر (رض) کو چودہ سال کی عمر میں احد میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ خندق میں جائزہ لیا گیا تو پندرہ سال کے تھے، آپ نے اجازت دے دی۔ نافع نے عمر بن عبد العزیز (رح) کو یہ حدیث پہنچائی تو انھوں نے کہا : ” بچے اور بڑے کا یہی فرق ہے۔ “ [ بخاری، الشہادات، باب بلوغ الصبیان۔۔ : ٢٦٦٤ ] مگر ظاہر ہے کہ یہ فرق بچے اور اس بڑے کا ہے جسے جنگ میں شرکت کی اجازت ہے۔ محج بلوغت کی علامت احتلام ہے اگر اس کا علم نہ ہو سکے تو زیر ناف بال اگنا ہے۔- فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا : یعنی یتیموں کا امتحان اور ان کی تربیت کرتے رہو، جس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ پہلے تھوڑا سا مال دے کر ان کو کسی کام پر لگا کر دیکھو کہ آیا وہ مال کو بڑھاتے ہیں یا نہیں، پھر جب وہ بالغ ہوجائیں اور ان میں رشد ہو تو بلا توقف مال ان کے حوالے کر دو ۔ ” رشدا “ سے مراد عقلی اور دینی صلاحیت ہے، پس بالغ ہونے کے علاوہ مال کی سپرد داری کے لیے رشد بھی شرط ہے، اگر کسی شخص میں رشد نہیں ہے تو خواہ وہ بوڑھا ہی کیوں نہ ہوجائے متولی یا وصی کو چاہیے کہ وہ مال اس کے حوالے نہ کرے۔ ( قرطبی۔ ابن کثیر )- 3 ” فَلْيَسْتَعْفِفْ “ عَفَّ یَعِفُّ (ض) کا معنی بچنا ہے۔ فلیستعفف باب استفعال میں حروف کی زیادتی کی وجہ سے ترجمہ ” بہت بچے “ کیا گیا ہے۔ - 4 ۚ وَمَنْ كَانَ فَقِيْرًا ۔۔ : جانا پہچانا طریقہ یہی ہے کہ اس کے اموال کی نگرانی کی اجرت، جو معروف ہے، لے لے۔ دوسرا یہ کہ زیادہ سے زیادہ اتنا لے لے جس سے اس کی ضرورت پوری ہو سکے۔ - 5 فَاَشْهِدُوْا عَلَيْھِمْ ۭ : یتیم کے متولی یا وصی کو حکم ہے کہ گواہوں کے رو برو مال واپس کرے، تاکہ کل کو اس پر کوئی الزام نہ آئے۔ ( وَكَفٰى باللّٰهِ حَسِـيْبًا ) کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگوں کو تو مطمئن کرلو گے، مگر اصل حساب تو اللہ تعالیٰ نے لینا ہے، اس کا خاص خیال رکھو۔

7

لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا

جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت۔ اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی یہ حصے (خدا کے) مقرر کئے ہوئے ہیں

لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ۔ : اس آیت میں ایک اصولی حکم دیا ہے کہ ماں باپ اور رشتے داروں کی چھوڑی ہوئی جائداد میں، چاہے وہ کسی نوعیت کی ہو، جس طرح مردوں کا حق ہے اسی طرح عورتوں اور چھوٹے بچوں، حتیٰ کہ جنین کا بھی حق ہے۔ اس سے عرب کے جاہلی دستور کی تردید مقصود ہے۔ جس کے مطابق عورتوں اور بچوں کو میت کے متروکہ مال اور جائداد سے محروم کردیا جاتا اور صرف بالغ لڑکے ہی جائداد پر قبضہ کرلیتے تھے۔ اس آیت کی شان نزول اور مردوں اور عورتوں کے حصوں کی تعیین بعد کی آیات میں آرہی ہے۔ (ابن کثیر)

8

وَإِذَا حَضَرَ ٱلْقِسْمَةَ أُو۟لُوا۟ ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينُ فَٱرْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا۟ لَهُمْ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا

اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو۔ اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو

یعنی وارثوں کو چاہیے کہ متروکہ مال میں سے کچھ حصہ بطور صدقہ و خیرات ان رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں کو بھی دیں جو خاندان میں موجود ہوں اور تقسیم کے وقت موقع پر پہنچ جائیں اور اگر وہ لوگ زیادہ حرص کریں تو ” ان سے اچھی بات کہو۔ “ یعنی معذرت کرو کہ یہ وارثوں کا مال ہے، تمہارا حق نہیں ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ یہ حکم ” فرائض “ یعنی وارثوں کے حصے مقرر ہونے سے پہلے تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لیے اب یہ بخشش نہیں ہے، اب صدقہ و خیرات میت کی وصیت ہی سے ہوسکتا ہے، لیکن بخاری میں ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یہ آیت محکم ہے، منسوخ نہیں اور وارثوں کو حکم ہے کہ تقسیم ترکہ کے وقت رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں۔ [ بخاری، التفسیر، باب و إذا حضر القسمۃ ۔۔ : ٢٧٥٩ ]

9

وَلْيَخْشَ ٱلَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا۟ مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةًۭ ضِعَٰفًا خَافُوا۟ عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلْيَقُولُوا۟ قَوْلًۭا سَدِيدًا

اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں

وَلْيَخْشَ الَّذِيْنَ ۔۔ : یہ حکم میت کی وصیت سن کر نافذ کرنے والوں کو ہے اور ان لوگوں کو بھی جو یتیموں کے سرپرست اور وصی مقرر ہوں۔ ان سب کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے میت کی اولاد اور یتیموں کے مفاد کا اسی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی چھوٹی اور بےبس اولاد کے مفاد کا خیال رکھا جائے، لہٰذا انھیں یتیموں سے بہتر سلوک کرنا چاہیے اور ان کی عمدہ سے عمدہ تعلیم و تربیت کرنی چاہیے۔ یتیموں کے اولیاء سے اس آیت کا تعلق زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ بعد میں یتامیٰ کی حق تلفی کرنے والوں کے متعلق جو وعید آرہی ہے اولیاء کی اس کے ساتھ زیادہ مناسبت پائی جاتی ہے۔ ویسے عام مسلمانوں کو بھی یتیموں کے ساتھ خاص احسان اور سلوک کرنے کا حکم ہے۔

10

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَٰلَ ٱلْيَتَٰمَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِى بُطُونِهِمْ نَارًۭا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًۭا

لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے

اس آیت میں یتیموں کے مال کی حفاظت اور اس سے اجتناب کی مزید تاکید کی گئی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” سات تباہ کن چیزوں سے اجتناب کرو۔ “ صحابہ نے عرض کیا : ” یا رسول اللہ وہ کیا ہیں ؟ “ فرمایا : ” اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، اس جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن، بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔ “ [ بخاری، الحدود، باب رمی المحصنات : ٦٨٥٧، عن أبی ہریرہ ]

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.