Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 31–40 of 176

31

إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًۭا كَرِيمًۭا

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

اگر بچو گے تم ان بڑے گناہوں سے کہ روکے جاتے ہو تم ان سے تو دور کر دیں گے ہم تم سے تمھاری برائیاں اور داخل کریں گے تمھیں جگہ میں عزت کی(31)

[31] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر وہ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کریں گے تو وہ ان کے تمام گناہ اور برائیاں بخش دے گا اور انھیں اچھا ٹھکانا عطا کرے گا جہاں خیر کثیر ہو گا اور وہ ہے جنت جو ایسی نعمتوں پر مشتمل ہے جو کسی آنکھ نے کبھی دیکھی نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی بشر کے حاشیہ خیال میں ان کا گزر ہوا ہے۔ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب میں ان فرائض کا بجا لانا بھی شامل ہے جن کو ترک کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ نماز پنجگانہ، نماز جمعہ، رمضان کے روزے رکھنا وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا ’’نماز پنجگانہ، اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان کے مابین جو گناہ سرزد ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو مٹا دیتا ہے بشرطیکہ کبائر سے بچتے رہیں۔‘‘(صحیح مسلم، الصلوٰۃ، باب الصلوات الخمس ......الخ، حديث:552)گناہ کبیرہ کی بہترین تعریف یہ ہے : گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جو دنیا میں حد کا موجب ہو یا آخرت میں اس پر سخت وعید آئی ہو یا اس کے مرتکب کے ایمان کی نفی یا اس پر لعنت کی گئی ہو یا اس گناہ پر سخت غصے کا اظہار کیا گیا ہو۔

32

وَلَا تَتَمَنَّوْا۟ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبُوا۟ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبْنَ ۚ وَسْـَٔلُوا۟ ٱللَّهَ مِن فَضْلِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًۭا

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

اور نہ تمنا کرو تم اس چیز کی کہ فضیلت دی اللہ نے اس کے ساتھ بعض تمھارے کو بعض پر، مردوں کے لیے حصہ ہے اس سے جو کمایا انھوں نے اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس سے جو کمایا انھوں نےاور سوال کرو تم اللہ سے اس کے فضل کا بلاشبہ اللہ ہے ساتھ ہر چیز کے خوب جاننے والا(32)

[32]اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ وہ اس چیز کی تمنا نہ کریں جو اس نے اپنے فضل و کرم سے دوسروں کو عطا کی ہے۔ خواہ یہ ممکن امور ہوں یا غیر ممکن۔ چنانچہ عورتیں مردوں کے خصائص کی تمنا نہ کریں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ نہ صاحب فقر اور صاحب نقص، مالداری اور کاملیت کی مجرد تمنا کریں کیونکہ ایسی مجرد تمنا حسد کے زمرے میں شمار ہوتی ہے یعنی دوسروں پر اللہ تعالیٰ کی نعمت دیکھ کر اس سے اس کے سلب ہونے اور خود کو حاصل ہونے کی تمنا کرنا۔ نیز یہ تمنا اس امر کی مقتضی ہے کہ تمنا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ کاہلی اور جھوٹی تمناؤں میں گرفتار ہے جو عمل اور محنت سے عاری ہوتی ہیں۔ البتہ صرف دو امور محمود ہیں۔(۱)بندہ اپنی استطاعت اور مقدرت بھر اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول کے لیے کوشش اور جدوجہد کرے۔(۲) اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم کا سوال کرے، اپنے نفس پر بھروسہ کرے نہ اپنے رب کے سوا کسی اور پر۔بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِلرِّؔجَالِ نَصِيۡبٌ مِّؔمَّؔا اكۡتَسَبُوۡا ﴾ ’’مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انھوں نے کیے۔‘‘ یعنی مردوں کے نتیجہ خیز اعمال میں ان کا حصہ ہے ﴿ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّؔمَّؔا اكۡتَسَبۡنَ ﴾ ’’اور عورتوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو وہ کمائیں‘‘ پس ان میں سے تمام لوگ وہی کچھ حاصل کرتے ہیں جو انھوں نے کمایا اور جس میں انھوں نے محنت کی ﴿ وَسۡـَٔؔلُوا اللّٰهَ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور اللہ سے اس کا فضل مانگتے رہو۔‘‘ یعنی اپنے دین و دنیا کے تمام مصالح میں صرف اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔یہ بندۂ مؤمن کا کمال اور اس کی سعادت کا عنوان ہے۔ وہ شخص اس سے محروم ہے جو عمل کو چھوڑ دیتا ہے، اپنے نفس پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنے آپ کو اپنے رب کا محتاج نہیں سمجھتا۔ یا اس میں دونوں چیزیں جمع ہیں۔ (عمل کرتا ہے نہ رب کی طرف رجوع اور اس پر اعتماد) یہ شخص خائب و خاسر اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمًا ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ پس وہ صرف اسے عطا کرتا ہے جو اس کے علم میں اس کا اہل ہوتا ہے اور اسے محروم کر دیتا ہے جو اس کے علم میں غیرمستحق ہوتا ہے۔

33

وَلِكُلٍّۢ جَعَلْنَا مَوَٰلِىَ مِمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ ۚ وَٱلَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَٰنُكُمْ فَـَٔاتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدًا

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو بےشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

اور ہر ایک کے لیے بنائے ہم نے وارث اس (مال) کے جو چھوڑا ماں باپ نے اور قریب تر رشتے داروں نےاور وہ لوگ کہ (جن سے) گرہ باندھی (عہد کیا) تمھارے دائیں ہاتھوں نے تو دو تم ان کو حصہ ان کا۔ بلاشبہ اللہ ہے اوپر ہر چیز کے گواہ(33)

[33]﴿ وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور واسطے ہر ایک کے‘‘ یعنی تمام لوگوں میں سے ﴿ جَعَلۡنَا مَوَالِيَ ﴾ ’’ہم نے وارث بنائے‘‘ وہ اس کی سرپرستی کرتے ہیں اور وہ بھی نصرت و حمایت اور دیگر معاملات میں معاونت کے ذریعے سے ان کی سرپرستی کرتا ہے ﴿ مِمَّؔا تَرَكَ الۡوَالِدٰؔنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ﴾ ’’اس مال کے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت دار‘‘ اس میں اصول و فروع اور حواشی کے تعلق سے تمام رشتہ دار شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ قرابت کے اعتبار سے وارث (موالی) ہیں۔ پھر سرپرستوں (موالی) کی ایک اور قسم کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ عَقَدَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ ﴾ ’’جن سے تمھارا معاہدہ ہوا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے ساتھ تم باہم نصرت و حمایت کر کے، اور مال میں اشتراک کا معاہدہ کر کے ایک دوسرے کے حلیف بنے ہو۔یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انعام ہے۔ سرپرست ایک دوسرے کی وہاں مدد کرتے ہیں جہاں ان میں سے تنہا آدمی کسی چیز پر قادر نہیں ہوتا۔ ﴿ فَاٰتُوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ ﴾ ’’پس ان کو ان کا حصہ دو‘‘ یعنی غیر معصیت کے امور میں اپنے سرپرستوں اور رشتہ داروں کو نصرت و معاونت اور اپنی مدد سے حصہ دو۔ مگر میراث ان لوگوں کا حق ہے جو رشتہ داروں میں سب سے زیادہ قریب ہیں ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدًا﴾ ’’بے شک ہر چیز اللہ کے روبرو ہے‘‘ یعنی وہ ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے اپنے علم کے ذریعے سے تمام امور کی، اپنی بصر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تمام حرکات کی اور اپنی سمع کے ذریعے سے ان کی تمام آوازوں کی خبر رکھتا ہے۔

34

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ وَبِمَآ أَنفَقُوا۟ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ ۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٌۭ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ ۚ وَٱلَّٰتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُوهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا۟ عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيًّۭا كَبِيرًۭا

مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے

مرد حاکم ہیں اوپر عورتوں کے بہ سبب اس کے جو فضیلت دی اللہ نے ان میں سے بعض کو اوپر بعض کےاور بہ سبب اس کے جو خرچ کرتے ہیں وہ اپنے مالوں سے۔ پس نیک عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں، حفاظت کرنے والیاں پیٹھ پیچھے ساتھ حفاظت کرنے اللہ کے۔ اور وہ عورتیں کہ ڈرتے ہو تم ان کی سرکشی سے تو نصیحت کرو تم ان کو اور الگ کر دو ان کو خواب گاہوں میں اور مارو انھیں، پھر اگر اطاعت کریں وہ تمھاری تو نہ تلاش کرو ان پر کوئی راہ (ستانے کی)۔ بلاشبہ اللہ ہے بہت بلند نہایت بڑا(34)

[34] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے ﴿ اَلرِّؔجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ ﴾ ’’مرد عورتوں کے نگران، محافظ ہیں‘‘ یعنی مرد عورتوں سے اللہ تعالیٰ کے حقوق کا التزام کروانے والے، ان سے ان کے فرائض کی حفاظت کروانے والے اور ان کو مفاسد سے روکنے والے ہیں۔ اور اس اعتبار سے وہ عورتوں پر قوام ہیں۔ اور مردوں پر فرض ہے کہ وہ عورتوں سے ان امور کا التزام کروائیں۔ وہ عورتوں پر اس اعتبار سے بھی قوام ہیں کہ وہ ان پر خرچ کرتے ہیں اور انھیں لباس اور مسکن مہیا کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کیا ہے جو عورتوں پر مردوں کے قوام ہونے کا موجب ہے، فرمایا ﴿ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ ﴾’’اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی اس سبب سے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے نیز اس سبب سے کہ وہ ان پر خرچ کرتے ہیں۔ پس مردوں کی عورتوں پر فضیلت کی متعدد وجوہات ہیں۔(۱)تمام بڑے بڑے منصب مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں، نبوت، رسالت، اور بہت سی عبادات مثلاً جہاد، عیدین اور جمعات وغیرہ میں مردوں کو اختصاص حاصل ہے۔(۲)اللہ تعالیٰ نے مردوں کو وافر عقل، وقار، صبر اور وہ جفاکشی عطا کی ہے جو عورتوں میں نہیں پائی جاتی۔(۳) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اپنی بیویوں پر خرچ کرنے کی ذمہ داری عطا کی ہے بلکہ بہت سے اخراجات ایسے ہیں جو صرف مردوں سے مختص ہیں اور اس اعتبار سے عورتوں سے ممتاز ہیں۔ شاید اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور اس لیے بھی کہ وہ (مرد) خرچ کرتے ہیں۔‘‘ کا یہی سر نہاں ہے یہاں جملے میں مفعول کو حذف کرنا، عمومی نان و نفقہ اور اخراجات کی دلیل ہے۔ان تمام توضیحات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد عورت کے آقا اور والی کی حیثیت رکھتا ہے اور عورت اپنے شوہر کے پاس ایک اسیر کی مانند ہے۔ پس مرد کی ذمہ داری اور اس کا کام یہ ہے کہ وہ ان امور کا انتظام کرے جن کی رعایت رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور عورت کی ذمہ داری اور اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے رب اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَالصّٰؔلِحٰؔتُ قٰنِتٰؔتٌ ﴾ ’’تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مطیع ہوتی ہیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ کی اطاعت کرنے والی ہیں ﴿ حٰؔفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی ہیں حتیٰ کہ وہ ان کی عدم موجودگی میں بھی ان کی اطاعت کرتی ہیں۔ اپنی عفت کی حفاظت کے ذریعے سے اپنے شوہر کی اور اس کے مال کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی توفیق سے ہے ان کی طرف سے کچھ بھی نہیں، کیونکہ نفس تو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے مگر جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو رنج میں ڈالنے والے دینی اور دنیاوی امور میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا ﴿ وَالّٰتِيۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ ﴾ ’’اور وہ عورتیں، جن کی نافرمانی سے تم ڈرتے ہو‘‘ یعنی ان کا اطاعت سے باہر نکلنا، قول و فعل کے ذریعے سے اپنے شوہر کی نافرمانی کرنا۔ اس صورت میں شوہر آسان سے آسان طریقے سے اس کی تادیب کرے ﴿ فَعِظُوۡهُنَّ ﴾ ’’ان کو نصیحت کرو۔‘‘ یعنی شوہر کی اطاعت، اور اس کی نافرمانی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکام بیان کر …

35

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوا۟ حَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهِۦ وَحَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصْلَٰحًۭا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيْنَهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًۭا

اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

اور اگر ڈرو تم اختلاف سے درمیان ان دونوں کے تو مقرر کر دو ایک منصف مرد کے کنبے سے اور ایک منصف عورت کے کنبے سے۔ اگر چاہیں گے یہ دونوں (منصف) صلح کروانا تو موافقت پیدا کر دے گا اللہ ان دونوں کے درمیان، بے شک اللہ ہے جاننے والا خبردار(35)

[35] یعنی اگر تمھیں میاں بیوی کے مابین مخالفت، دوری اور ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہنے کا خوف ہو، حتی کہ ان میں سے ہر ایک، ایک کنارے پر ہو (یعنی اختلاف و نفرت کی انتہا پر ہو)﴿ فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’تو ایک منصف مرد والوں میں سے اورایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو‘‘ یعنی دو مکلف، مسلمان، عادل اور عاقل مردوں کو ثالث بنا لو جو میاں بیوی کے مابین تمام معاملات کو جانتے ہوں اور وہ جمع اور تفرقہ کو بھی جانتے ہوں۔ مذکورہ تمام صفات لفظ حَکَم سے مستفاد ہیں کیونکہ کوئی شخص اس وقت تک حَکَم (منصف) بننے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ ان صفات کا حامل نہ ہو۔ وہ دونوں حَکَم (منصف) ان شکایات پر غور کریں جو وہ ایک دوسرے کے خلاف رکھتے ہوں، پھر دونوں حکم، میاں بیوی کی جو ذمہ داری بنتی ہے دونوں سے اس کا التزام کروائیں۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر رہے تو دونوں حکم دوسرے فریق کو، رزق اور خلق میں جو کچھ میسر ہے، اس پر راضی رہنے پر آمادہ کریں۔ میاں بیوی کے درمیان معاملات کی اصلاح کرنے اور ان کو اکٹھا رکھنے کے لیے جو طریقہ بھی ممکن ہو، ثالث اس کے استعمال سے گریز نہ کریں۔اگر صورتحال یہاں تک پہنچ جائے کہ ان دونوں کے درمیان اصلاح اور ان کا اکٹھا رہنا ممکن نہ ہو بلکہ اس سے دشمنی، قطع تعلق اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اضافہ ہوتا ہو اور دونوں حکم یہ رائے رکھتے ہوں کہ ان میں علیحدگی دونوں کے لیے بہتر ہے، تو دونوں میں تفریق کروا دیں۔ دونوں کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ شوہر کی رضامندی سے مشروط نہیں ہے جیسا کہ یہ معنی دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں ثالثوں کو ’’حکم‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے اور حکم وہ ہوتا ہے جو فیصلہ کرے خواہ اس کے فیصلے پر محکوم علیہ راضی نہ ہو۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَؔفِّقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اگر یہ دونوں چاہیں گے کہ صلح کرا دیں تو اللہ ان کے درمیان موافقت کر دے گا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ مبارک رائے اور فریقین کے درمیان محبت اور الفت پیدا کرنے والے دلکش کلام کے ذریعے سے ان میں موافقت پیدا کر دے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے باخبر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمام ظاہر و باطن کو جاننے والا اور تمام خفیہ امور اور تمام بھیدوں کی اطلاع رکھنے والا ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی خبر ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ جلیل القدر احکام اور خوبصورت قوانین مشروع فرمائے۔

36

۞ وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًۭا فَخُورًا

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

اور عبادت کرو تم اللہ کی اور نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو اور (کرو) ماں باپ کے ساتھ احسان اور رشتے داروں کے ساتھ اور یتیموں (کے ساتھ) اور مسکینوں (کے ساتھ) اور پڑوسی قرابت دار اور پڑوسی اجنبی (کے ساتھ) اور ہم نشیں (کے ساتھ) اور مسافر کے ساتھ اور (ان کے ساتھ) جن کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہے اترانے والا فخر کرنے والا(36) وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل کرنے کا اور چھپاتے ہیں وہ جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کیا ہم نے کافروں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا(37) اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں مال اپنے دکھلاوے کے لیے لوگوں کو اور نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اللہ کے اور نہ ساتھ یوم آخرت کے اور جو شخص کہ ہو شیطان اس کا ہم نشیں تو برا ہے وہ ہم نشیں(38)

[37,36] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ واحد اور لا شریک ہے۔ یہ درحقیقت اس کی عبودیت کے دائرے میں داخل ہونے، محبت، تذلل اور ظاہری اور باطنی تمام عبادات میں اخلاص کے ساتھ اس کے تمام اوامر و نواہی کی تعمیل کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک اصغر اور شرک اکبر ہر قسم کے شرک سے روکتا ہے۔ کسی فرشتہ، کسی نبی، ولی یا دیگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے منع کرتا ہے جو خود اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص واجب ہے۔ جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے۔ وہ کائنات کی پوری تدبیر کر رہا ہے جس میں اس کا کوئی شریک ہے نہ معاون اور مددگار۔اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور اپنے حقوق کے قیام کا حکم دینے کے بعد حقوق العباد کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے (حقوق العباد کے مراتب میں اصول یہ قائم فرمایا ہے) جو سب سے زیادہ قریب ہے اس کے سب سے زیادہ حقوق ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو‘‘ یعنی ان کے ساتھ احسان کرو ان سے اچھی گفتگو، ان کے ساتھ تخاطب میں نرمی اور فعل جمیل کر کے ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے ممنوعہ امور سے اجتناب اور ان کی ضروریات پر خرچ کر کے، ان کے دوستوں اور دیگر متعلقین کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کر کے اور ان رشتے داریوں کو قائم اور ان کے حقوق ادا کر کے، جن سے صرف والدین کی وجہ سے رشتے داری ہے۔احسان (یعنی حسن سلوک) کی دو اضداد ہیں، برا سلوک اور عدم احسان (حسن سلوک نہ کرنا) اور ان دونوں سے روکا گیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَّبِذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’او رقرابت والوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی دیگر اقرباء کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ۔یہ آیت کریمہ تمام اقارب کو شامل ہے۔ خواہ وہ زیادہ قریبی ہوں یا قدرے دور کے رشتہ دار ہوں۔ ان کے ساتھ قول و فعل کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آئے اور اپنے قول و فعل سے ان کے ساتھ قطع رحمی نہ کرے۔ ﴿ وَالۡيَتٰمٰى ﴾ ’’اور یتیموں کے ساتھ‘‘ یعنی وہ چھوٹے بچے جو اپنے باپ سے محروم ہو گئے ہوں تمام مسلمانوں پر ان کا حق ہے۔۔۔ خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔۔۔ کہ وہ ان کی کفالت کریں ان کے ساتھ نیک سلوک کریں، ان کی دلجوئی کریں، ان کو ادب سکھائیں اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی بہترین تربیت کریں۔ ﴿ وَالۡمَسٰكِيۡنِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کو فقر و حاجت نے بے حرکت اور عاجز کر دیا ہو ،جنھیں اتنی ضروریات زندگی حاصل نہ ہوں جو ان کو کفایت کر سکیں اور نہ ان کو جن کے یہ کفیل ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو ضروریات زندگی مہیا کی جائیں ان کا فقر و فاقہ دور کیا جائے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دی جائے اور حتی الامکان ان امور کا انتظام کیا جائے۔ ﴿ وَالۡجَارِ ذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’اور رشتہ دار ہمسایوں کے ساتھ‘‘ یعنی رشتہ دار پڑوسی، اس کے دو حقوق ہیں۔ پڑوس کا حق اور قرابت کا حق۔ پس وہ …

37

ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

اور عبادت کرو تم اللہ کی اور نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو اور (کرو) ماں باپ کے ساتھ احسان اور رشتے داروں کے ساتھ اور یتیموں (کے ساتھ) اور مسکینوں (کے ساتھ) اور پڑوسی قرابت دار اور پڑوسی اجنبی (کے ساتھ) اور ہم نشیں (کے ساتھ) اور مسافر کے ساتھ اور (ان کے ساتھ) جن کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہے اترانے والا فخر کرنے والا(36) وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل کرنے کا اور چھپاتے ہیں وہ جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کیا ہم نے کافروں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا(37) اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں مال اپنے دکھلاوے کے لیے لوگوں کو اور نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اللہ کے اور نہ ساتھ یوم آخرت کے اور جو شخص کہ ہو شیطان اس کا ہم نشیں تو برا ہے وہ ہم نشیں(38)

[37,36] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ واحد اور لا شریک ہے۔ یہ درحقیقت اس کی عبودیت کے دائرے میں داخل ہونے، محبت، تذلل اور ظاہری اور باطنی تمام عبادات میں اخلاص کے ساتھ اس کے تمام اوامر و نواہی کی تعمیل کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک اصغر اور شرک اکبر ہر قسم کے شرک سے روکتا ہے۔ کسی فرشتہ، کسی نبی، ولی یا دیگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے منع کرتا ہے جو خود اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص واجب ہے۔ جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے۔ وہ کائنات کی پوری تدبیر کر رہا ہے جس میں اس کا کوئی شریک ہے نہ معاون اور مددگار۔اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور اپنے حقوق کے قیام کا حکم دینے کے بعد حقوق العباد کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے (حقوق العباد کے مراتب میں اصول یہ قائم فرمایا ہے) جو سب سے زیادہ قریب ہے اس کے سب سے زیادہ حقوق ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو‘‘ یعنی ان کے ساتھ احسان کرو ان سے اچھی گفتگو، ان کے ساتھ تخاطب میں نرمی اور فعل جمیل کر کے ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے ممنوعہ امور سے اجتناب اور ان کی ضروریات پر خرچ کر کے، ان کے دوستوں اور دیگر متعلقین کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کر کے اور ان رشتے داریوں کو قائم اور ان کے حقوق ادا کر کے، جن سے صرف والدین کی وجہ سے رشتے داری ہے۔احسان (یعنی حسن سلوک) کی دو اضداد ہیں، برا سلوک اور عدم احسان (حسن سلوک نہ کرنا) اور ان دونوں سے روکا گیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَّبِذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’او رقرابت والوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی دیگر اقرباء کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ۔یہ آیت کریمہ تمام اقارب کو شامل ہے۔ خواہ وہ زیادہ قریبی ہوں یا قدرے دور کے رشتہ دار ہوں۔ ان کے ساتھ قول و فعل کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آئے اور اپنے قول و فعل سے ان کے ساتھ قطع رحمی نہ کرے۔ ﴿ وَالۡيَتٰمٰى ﴾ ’’اور یتیموں کے ساتھ‘‘ یعنی وہ چھوٹے بچے جو اپنے باپ سے محروم ہو گئے ہوں تمام مسلمانوں پر ان کا حق ہے۔۔۔ خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔۔۔ کہ وہ ان کی کفالت کریں ان کے ساتھ نیک سلوک کریں، ان کی دلجوئی کریں، ان کو ادب سکھائیں اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی بہترین تربیت کریں۔ ﴿ وَالۡمَسٰكِيۡنِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کو فقر و حاجت نے بے حرکت اور عاجز کر دیا ہو ،جنھیں اتنی ضروریات زندگی حاصل نہ ہوں جو ان کو کفایت کر سکیں اور نہ ان کو جن کے یہ کفیل ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو ضروریات زندگی مہیا کی جائیں ان کا فقر و فاقہ دور کیا جائے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دی جائے اور حتی الامکان ان امور کا انتظام کیا جائے۔ ﴿ وَالۡجَارِ ذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’اور رشتہ دار ہمسایوں کے ساتھ‘‘ یعنی رشتہ دار پڑوسی، اس کے دو حقوق ہیں۔ پڑوس کا حق اور قرابت کا حق۔ پس وہ …

38

وَٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۗ وَمَن يَكُنِ ٱلشَّيْطَٰنُ لَهُۥ قَرِينًۭا فَسَآءَ قَرِينًۭا

اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لئے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کو ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے

اور عبادت کرو تم اللہ کی اور نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو اور (کرو) ماں باپ کے ساتھ احسان اور رشتے داروں کے ساتھ اور یتیموں (کے ساتھ) اور مسکینوں (کے ساتھ) اور پڑوسی قرابت دار اور پڑوسی اجنبی (کے ساتھ) اور ہم نشیں (کے ساتھ) اور مسافر کے ساتھ اور (ان کے ساتھ) جن کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہے اترانے والا فخر کرنے والا(36) وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل کرنے کا اور چھپاتے ہیں وہ جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کیا ہم نے کافروں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا(37) اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں مال اپنے دکھلاوے کے لیے لوگوں کو اور نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اللہ کے اور نہ ساتھ یوم آخرت کے اور جو شخص کہ ہو شیطان اس کا ہم نشیں تو برا ہے وہ ہم نشیں(38)

[37,36] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ واحد اور لا شریک ہے۔ یہ درحقیقت اس کی عبودیت کے دائرے میں داخل ہونے، محبت، تذلل اور ظاہری اور باطنی تمام عبادات میں اخلاص کے ساتھ اس کے تمام اوامر و نواہی کی تعمیل کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک اصغر اور شرک اکبر ہر قسم کے شرک سے روکتا ہے۔ کسی فرشتہ، کسی نبی، ولی یا دیگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے منع کرتا ہے جو خود اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص واجب ہے۔ جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے۔ وہ کائنات کی پوری تدبیر کر رہا ہے جس میں اس کا کوئی شریک ہے نہ معاون اور مددگار۔اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور اپنے حقوق کے قیام کا حکم دینے کے بعد حقوق العباد کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے (حقوق العباد کے مراتب میں اصول یہ قائم فرمایا ہے) جو سب سے زیادہ قریب ہے اس کے سب سے زیادہ حقوق ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو‘‘ یعنی ان کے ساتھ احسان کرو ان سے اچھی گفتگو، ان کے ساتھ تخاطب میں نرمی اور فعل جمیل کر کے ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے ممنوعہ امور سے اجتناب اور ان کی ضروریات پر خرچ کر کے، ان کے دوستوں اور دیگر متعلقین کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کر کے اور ان رشتے داریوں کو قائم اور ان کے حقوق ادا کر کے، جن سے صرف والدین کی وجہ سے رشتے داری ہے۔احسان (یعنی حسن سلوک) کی دو اضداد ہیں، برا سلوک اور عدم احسان (حسن سلوک نہ کرنا) اور ان دونوں سے روکا گیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَّبِذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’او رقرابت والوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی دیگر اقرباء کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ۔یہ آیت کریمہ تمام اقارب کو شامل ہے۔ خواہ وہ زیادہ قریبی ہوں یا قدرے دور کے رشتہ دار ہوں۔ ان کے ساتھ قول و فعل کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آئے اور اپنے قول و فعل سے ان کے ساتھ قطع رحمی نہ کرے۔ ﴿ وَالۡيَتٰمٰى ﴾ ’’اور یتیموں کے ساتھ‘‘ یعنی وہ چھوٹے بچے جو اپنے باپ سے محروم ہو گئے ہوں تمام مسلمانوں پر ان کا حق ہے۔۔۔ خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔۔۔ کہ وہ ان کی کفالت کریں ان کے ساتھ نیک سلوک کریں، ان کی دلجوئی کریں، ان کو ادب سکھائیں اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی بہترین تربیت کریں۔ ﴿ وَالۡمَسٰكِيۡنِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کو فقر و حاجت نے بے حرکت اور عاجز کر دیا ہو ،جنھیں اتنی ضروریات زندگی حاصل نہ ہوں جو ان کو کفایت کر سکیں اور نہ ان کو جن کے یہ کفیل ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو ضروریات زندگی مہیا کی جائیں ان کا فقر و فاقہ دور کیا جائے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دی جائے اور حتی الامکان ان امور کا انتظام کیا جائے۔ ﴿ وَالۡجَارِ ذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’اور رشتہ دار ہمسایوں کے ساتھ‘‘ یعنی رشتہ دار پڑوسی، اس کے دو حقوق ہیں۔ پڑوس کا حق اور قرابت کا حق۔ پس وہ …

39

وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِهِمْ عَلِيمًا

اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے

اور کیا ہوتا (نقصان) ان کا، اگر ایمان لے آتے وہ ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے اور خرچ کرتے وہ اس (مال) سے جو دیا ان کو اللہ نے؟ اور ہے اللہ ساتھ ان کے خوب جاننے والا(39)

[39] یعنی ان کے لیے کون سا حرج اور ان پر کون سی مشقت ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں، جو کہ سراسر اخلاص ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں وہ مال خرچ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے اور جس مال سے ان کو نوازا ہے۔ تب اس صورت میں وہ اخلاص اور انفاق کو جمع کریں گے۔ چونکہ اخلاص ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک سر نہاں ہے جس کی اطلاع صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بندے کے تمام احوال کو جانتا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ بِهِمۡ عَلِيۡمًا ﴾ ’’اللہ ان سب کو خوب جانتا ہے۔‘‘

40

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةًۭ يُضَٰعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًۭا

خدا کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا اور اگر نیکی (کی) ہوگی تو اس کو دوچند کردے گا اور اپنے ہاں سے اجرعظیم بخشے گا

بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرتا برابر ایک ذرے کےاور اگر ہو کوئی نیکی تو دگنا کر دے گا اس کو اور دے گا اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(40) پس کیا حال ہوگا جب لائیں گے ہم ہر امت سے ایک گواہ اور لائیں گے ہم آپ کو (اے رسول!) ان پر گواہ(41) اس دن چاہیں گے وہ لوگ، جنھوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی انھوں نے رسول کی کاش کہ برابر کر دی جائے ساتھ ان کے زمین اور نہ چھپا سکیں گے وہ اللہ سے کوئی بات(42)

[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کامل عدل و فضل کے بارے میں خبر دیتا اور آگاہ فرماتا ہے کہ وہ عدل کے متضاد صفات، یعنی ظلم سے۔ خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر۔ پاک ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ ﴾ ’’اللہ کسی کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کرتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی نیکیوں میں ذرہ بھر کمی کرے گا نہ اس کی برائیوں میں ذرہ بھر اضافہ کرے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰۷ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾(الزلزال : 99؍7۔8)’’جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘﴿ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا ﴾ ’’اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے‘‘ یعنی وہ اس نیکی کو دس گنا یا اس کے حسب حال، اس کے نفع کے مطابق اور نیکی کرنے والے کے اخلاص، محبت اور کمال کے مطابق اس سے بھی کئی گنا زیادہ کر دے گا ﴿ وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے‘‘ یعنی وہ عمل کے ثواب سے زیادہ عطا کرے گا۔ مثلاً وہ اسے دیگر اعمال کی توفیق سے نوازے گا، بہت سی نیکی اور خیر کثیر عطا کرے گا۔

[41] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا﴾ ’’پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے‘‘ وہ کیسے حالات ہوں گے اور وہ عظیم فیصلہ کیسا ہو گا۔ جو اس حقیقت پر مشتمل ہو گا کہ فیصلہ کرنے والا کامل علم، کامل عدل اور کامل حکمت کا مالک ہے اور وہ مخلوق میں سب سے زیادہ سچی شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔ یہ شہادت انبیاء ومرسلین کی شہادت ہے جو وہ اپنی امتوں کے خلاف دیں گے اور جن کے خلاف فیصلہ ہو گا وہ بھی اس کا اقرار کریں گے۔ اللہ کی قسم یہ وہ فیصلہ ہے جو تمام فیصلوں میں سب سے زیادہ عام، سب سے زیادہ عادل اور سب سے عظیم ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں جن کے خلاف فیصلہ ہو گا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے کمال فضل، عدل و انصاف اور حمدوثناء کا اقرار کرتے رہ جائیں گے۔ وہاں کچھ لوگ فوز و فلاح، عزت اور کامیابی کی سعادت سے بہرہ ور ہوں گے اور کچھ فضیحت و رسوائی اور عذاب مہین کی بدبختی میں گرفتار ہوں گے۔

[42] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ ﴾ ’’جس روز کافر اور رسول کے نافرمان آرزو کریں گے‘‘ یعنی ان میں اللہ اور اس کے رسول کا انکار اور رسول کی نافرمانی اکٹھے ہو گئے ہیں ﴿ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’کہ کاش انھیں زمین کے ساتھ ہموار کر دیا جاتا‘‘ یعنی وہ خواہش کریں گے کہ کاش زمین انھیں نگل لے اور وہ مٹی ہو کر معدوم ہو جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾(النباء : 78؍40)’’اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا۔‘‘﴿ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور وہ نہیں چھپا سکیں گے اللہ سے کوئی بات‘‘ بلکہ وہ اپنی بداعمالیوں کا اعتراف کریں گے ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ اس روز اللہ تعالیٰ انھیں پوری پوری جزا دے گا۔ یعنی ان کی جزائے حق۔ اور …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.