Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 31–40 of 176

31

إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًۭا كَرِيمًۭا

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔

دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔

32

وَلَا تَتَمَنَّوْا۟ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبُوا۟ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبْنَ ۚ وَسْـَٔلُوا۟ ٱللَّهَ مِن فَضْلِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًۭا

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔

دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔

33

وَلِكُلٍّۢ جَعَلْنَا مَوَٰلِىَ مِمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ ۚ وَٱلَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَٰنُكُمْ فَـَٔاتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدًا

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو بےشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔

دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔

34

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ وَبِمَآ أَنفَقُوا۟ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ ۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٌۭ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ ۚ وَٱلَّٰتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُوهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا۟ عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيًّۭا كَبِيرًۭا

مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے

جہاں بھی آدمیوں کا کوئی مجموعہ ہو، خواہ وہ خاندان کی صورت میں ہو یا مملکت کی صورت میں، ضروری ہے کہ اس کے اوپر سردار اور سربراہ ہو، اور یہ سربراہ لازماً ایک ہی ہوسکتا ہے۔ دنیا کے بارے میں اللہ کا بنایا ہوا جو منصوبہ ہے اس میں خاندان کی سربراہی کے لیے مرد کو متعین کیاگیا ہے اور اسی کے لحاظ سے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ مرد کی بناوٹ اور عورت کی بناوٹ میں جو حیاتیاتی اور نفسیاتی فرق ہے وہ اللہ کے اسی تخلیقی منصوبہ کی مطابقت میں ہے۔ اب اگر کچھ لوگ اللہ کے منصوبہ کے خلاف چلیں تو وہ صرف بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ خدا کا کارخانہ تو مرد اور عورت کو بدستور اپنے منصوبہ کے مطابق بناتا رہے گا جس میں ’’قوامیت‘‘ کی صلاحیتیں مرد کو دی گئی ہوں گی اور ’’اطاعت‘‘ کی صلاحیتیں عورت کو۔ جب کہ ان کے معاشرتی استعمال میں خدائی تخلیق کی رعایت نہ ہورہی ہوگي۔ ایسے ہر تضاد کا نتیجہ اس دنیا میں صرف بگاڑ ہے۔

بہترین عورت وہ ہے جو اللہ کے تخلیقی منصوبہ میںاپنے کو شامل کرتے ہوئے مرد کی برتری تسلیم کرلے۔ اسی طرح بہترین مرد و ہ ہے جو اپنی برتر حيثيت کی بنا پر اس حقیقت کو بھول نہ جائے کہ خدا اس سے بھی زیادہ برتر ہے۔ خدا كي عدالت میں عورت مرد کا کوئی فرق نہیں، یہ فرق تمام تر صرف انتظام دنیا کے اعتبار سے ہے، نہ کہ آخرت میںتقسیم انعامات کے اعتبار سے۔ مرد کوچاہیے کہ وہ عورت کے حق میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا پورا اہتمام کرے۔ کوئی عورت اگر ایسی ہو جو مرد کی انتظامی بڑائی کو نہ مانے تو ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ مرد کے اندر انتقام کا جذبہ ابھر آئے یا وہ الزمات لگا کر عورت کو بدنام کرے۔ کوئی بھی برتری کسی کو انصاف کی پابندی سے بری الذمہ نہیں کرتی۔ البتہ خصوصی حالات میں مرد کو یہ حق ہے کہ عورت کے اندر اگر وہ سرتابی دیکھے تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ یہ اصلاح اولاً سمجھانے بجھانے سے شروع ہوگی۔ پھر دباؤ ڈالنے کے لیے ترکِ کلام اور ترک ِتعلق کیا جاسکتا ہے،وغيره۔

دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حَکَم (arbitrator)بنانے پر راضی ہوجائیں۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طورپر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گا جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔

35

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوا۟ حَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهِۦ وَحَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصْلَٰحًۭا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيْنَهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًۭا

اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

جہاں بھی آدمیوں کا کوئی مجموعہ ہو، خواہ وہ خاندان کی صورت میں ہو یا مملکت کی صورت میں، ضروری ہے کہ اس کے اوپر سردار اور سربراہ ہو، اور یہ سربراہ لازماً ایک ہی ہوسکتا ہے۔ دنیا کے بارے میں اللہ کا بنایا ہوا جو منصوبہ ہے اس میں خاندان کی سربراہی کے لیے مرد کو متعین کیاگیا ہے اور اسی کے لحاظ سے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ مرد کی بناوٹ اور عورت کی بناوٹ میں جو حیاتیاتی اور نفسیاتی فرق ہے وہ اللہ کے اسی تخلیقی منصوبہ کی مطابقت میں ہے۔ اب اگر کچھ لوگ اللہ کے منصوبہ کے خلاف چلیں تو وہ صرف بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ خدا کا کارخانہ تو مرد اور عورت کو بدستور اپنے منصوبہ کے مطابق بناتا رہے گا جس میں ’’قوامیت‘‘ کی صلاحیتیں مرد کو دی گئی ہوں گی اور ’’اطاعت‘‘ کی صلاحیتیں عورت کو۔ جب کہ ان کے معاشرتی استعمال میں خدائی تخلیق کی رعایت نہ ہورہی ہوگي۔ ایسے ہر تضاد کا نتیجہ اس دنیا میں صرف بگاڑ ہے۔

بہترین عورت وہ ہے جو اللہ کے تخلیقی منصوبہ میںاپنے کو شامل کرتے ہوئے مرد کی برتری تسلیم کرلے۔ اسی طرح بہترین مرد و ہ ہے جو اپنی برتر حيثيت کی بنا پر اس حقیقت کو بھول نہ جائے کہ خدا اس سے بھی زیادہ برتر ہے۔ خدا كي عدالت میں عورت مرد کا کوئی فرق نہیں، یہ فرق تمام تر صرف انتظام دنیا کے اعتبار سے ہے، نہ کہ آخرت میںتقسیم انعامات کے اعتبار سے۔ مرد کوچاہیے کہ وہ عورت کے حق میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا پورا اہتمام کرے۔ کوئی عورت اگر ایسی ہو جو مرد کی انتظامی بڑائی کو نہ مانے تو ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ مرد کے اندر انتقام کا جذبہ ابھر آئے یا وہ الزمات لگا کر عورت کو بدنام کرے۔ کوئی بھی برتری کسی کو انصاف کی پابندی سے بری الذمہ نہیں کرتی۔ البتہ خصوصی حالات میں مرد کو یہ حق ہے کہ عورت کے اندر اگر وہ سرتابی دیکھے تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ یہ اصلاح اولاً سمجھانے بجھانے سے شروع ہوگی۔ پھر دباؤ ڈالنے کے لیے ترکِ کلام اور ترک ِتعلق کیا جاسکتا ہے،وغيره۔

دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حَکَم (arbitrator)بنانے پر راضی ہوجائیں۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طورپر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گا جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔

36

۞ وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًۭا فَخُورًا

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔

جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

37

ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔

جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

38

وَٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۗ وَمَن يَكُنِ ٱلشَّيْطَٰنُ لَهُۥ قَرِينًۭا فَسَآءَ قَرِينًۭا

اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لئے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کو ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے

انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔

جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

39

وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِهِمْ عَلِيمًا

اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے

انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔

جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

40

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةًۭ يُضَٰعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًۭا

خدا کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا اور اگر نیکی (کی) ہوگی تو اس کو دوچند کردے گا اور اپنے ہاں سے اجرعظیم بخشے گا

انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔

جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.