Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 31–40 of 176

31

إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًۭا كَرِيمًۭا

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ ۔۔ : کبیرہ گناہ وہ ہیں جن کے متعلق قرآن یا حدیث میں صاف طور پر دوزخ کی وعید آئی ہو، یا اللہ کے غصے کا اظہار ہوتا ہو، یا شریعت میں ان پر حد مقرر کی گئی ہو اور ” سَیِّءَاتُّ “ وہ گناہ ہیں جن سے صرف منع کیا گیا ہو اور ان پر وعید وارد نہ ہوئی ہو۔ (رازی۔ ابن کثیر)- نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ : یعنی اگر تم کبائر سے اجتناب کرتے رہو گے تو ہم تمہارے صغیرہ گناہ تمہارے نیک اعمال کی وجہ سے معاف فرما دیں گے۔ بعض روایات میں کبائر کا شمار بھی آیا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، جوا، شراب نوشی اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا وغیرہ، مگر ان کی کوئی تحدید نہیں ہے، یہ سات سے ستر بلکہ سات سو تک بھی ہوسکتے ہیں اور بعض علماء نے اپنی کتابوں میں کبیرہ گناہوں کو جمع بھی کیا ہے، جن کا ذکر قرآن یا حدیث میں آیا ہے، جیسے امام ذہبی (رض) کی ” اَلْکَبَاءِرُ “ اور امام ہیثمی (رض) کی ” اَلزَّوَاجِرْ عَنِ اقْتَرِافِ الْکَبَاءِرِ “ مزید دیکھیے سورة نجم (٣٢)

32

وَلَا تَتَمَنَّوْا۟ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبُوا۟ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا ٱكْتَسَبْنَ ۚ وَسْـَٔلُوا۟ ٱللَّهَ مِن فَضْلِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًۭا

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ ۔۔ : یعنی یہ نہ کہو کہ کاش یہ درجہ یا مال مجھے مل جائے، یہ تقدیر پر راضی نہ ہونے کی دلیل ہے اور اگر یہ بھی ہو کہ اس کے پاس یہ نعمت نہ رہے تو حسد ہے، جس کی بہت مذمت آئی ہے، ام سلمہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ مرد لوگ جہاد کرتے ہیں، ہم اس سے محروم ہیں، میراث میں بھی ہمارا نصف حصہ ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ( وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ ) (أحمد : ٦؍٣٢٢) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب نیک اعمال سے ہے، مرد کو محض مرد ہونے کی وجہ سے عورت پر عمل میں فضیلت نہیں ہے اور عورت محض عورت ہونے کی وجہ سے نیک عمل کے ثواب سے محروم نہیں ہے، لہٰذا تم بجائے حسد کے اللہ تعالیٰ کا فضل چاہا کرو۔ (ابن کثیر۔ بغوی)

33

وَلِكُلٍّۢ جَعَلْنَا مَوَٰلِىَ مِمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ ۚ وَٱلَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَٰنُكُمْ فَـَٔاتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدًا

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو بےشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ ۔۔ : اس آیت کریمہ کے پہلے حصے میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کے ورثا اور رشتے دار ہوتے ہیں، جو اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث بنتے ہیں۔ آیت کے دوسرے حصے (ۭوَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِيْبَھُمْ ۭ ) کا مفہوم یہ ہے کہ تم نے جو حلف یا معاہدہ کسی کے ساتھ کیا ہوا ہے تو اس کا حصہ اسے دو ۔ ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب مہاجرین مدینہ آئے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ قائم کردیا تھا، انصاری کا وارث اس کے رشتے داروں کی بجائے مہاجر ہوتا تھا، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی : ( وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ ) تو وہ (وراثت جو مہاجرین اور انصار کے درمیان قائم کی گئی تھی) منسوخ ہوگئی، پھر فرمایا : ( ۭوَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ ) سے مراد یہ ہے کہ نصرت، اعانت اور نصیحت کی صورت میں انھیں ان کا حصہ دو ، کیونکہ میراث سے ان کا تعلق ختم ہوگیا ہے، ہاں البتہ ان کے لیے وصیت کی جاسکتی ہے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : ( وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ ۔۔ ) : ٤٥٨٠ ] نیز دیکھیے سورة انفال کی آخری آیت۔ - مولانا محمد عبدہ (رض) لکھتے ہیں کہ آیت میں ” موالی “ سے مراد عصبہ ہیں اور عصبہ کی وراثت میں ” اَلْاَقْرَبُ فَالْاَقْرَبُ “ کا اصول مقرر ہے، یعنی اول سب سے قریبی، پھر دوسرا اور ایک حدیث میں بھی ( فَلِاَوْلٰی رَجُلٍ ذَکَرٍ ) کے الفاظ ہیں، یعنی اصحاب فروض سے جو کچھ بچ جائے گا وہ عصبہ میں سے اس شخص کو ملے گا جو میت کے مردوں میں سب سے زیادہ قریب ہوگا اور اس پر علماء کا اجماع بھی ہوچکا ہے۔ (دیکھیے فتح الباری : ٦؍٢٩٤۔ المحلٰی : ٩؍٢٧١۔ احکام القرآن للجصاص : ٢؍٢٢٤)

34

ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ وَبِمَآ أَنفَقُوا۟ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ ۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٌۭ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُ ۚ وَٱلَّٰتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهْجُرُوهُنَّ فِى ٱلْمَضَاجِعِ وَٱضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا۟ عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيًّۭا كَبِيرًۭا

مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ ۔۔ : شریعت نے گھر کے بندوبست اور انتظام کے لیے مرد کو گھر کا قوام (نگران، ذمہ دار) قرار دیا ہے اور عورت کو اس کے ماتحت رکھا ہے۔ قرآن نے اس کی دو وجہیں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ مرد کو طبعی طور پر امتیاز حاصل ہے کہ وہ منتظم بنے اور دوسرے یہ کہ گھر کے سارے اخراجات بیوی کے نفقہ سمیت مرد کے ذمے ہیں۔ اس بنا پر گھر کا نگران بننے کا حق مرد کو ہے عورت کو نہیں۔ یہی حال حکومتی امور کا ہے کہ مسلمانوں کا خلیفہ یا امیر عورت نہیں ہوسکتی، بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَنْ یُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْ اَمْرَہُمُ امْرَأَۃً ) ” وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا حاکم عورت کو بنا لیا۔ “ [ بخاری، المغازی، باب کتاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إلی کسریٰ و قیصر : ٤٤٢٥ ]- فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ ۔۔ : اس آیت کی تشریح وہ حدیث کرتی ہے جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ” بہترین بیوی وہ ہے جسے اگر تم دیکھو تو تمہیں خوش کرے، اگر تم اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں نہ ہو تو تمہارے پیچھے وہ تمہارے مال کی اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔ “ پھر رسول للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : ( اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ ) [ مسند أبی داوٗد الطیالسی : ابن جریر، ٤؍٦٢، و صححہ صاحب ہدایۃ المستنیر ]- حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ ۭ : یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دے کر ان کے حقوق محفوظ کردیے ہیں، اس کے بدلے میں وہ خاوندوں کی غیر موجودگی میں ان کے مال اور عزت و آبرو کی حفاظت رکھتی ہیں۔ [ دیکھیے نسائی، النکاح، باب أی النساء خیر : ٣٢٣٣ ] یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان کے مال و عزت اور حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور خیانت سے کام نہیں لیتیں۔ (شوکانی) - وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ ۔۔ : نشوز کا لفظی معنی ” اونچا ہونا، چڑھائی کرنا ہے “ اور عورت کے نشوز کا معنی ” خاوند سے بغض رکھنا اور اس کی اطاعت سے اپنے آپ کو اونچا سمجھنا ہے۔ “ ( مفردات) عورت پر مرد کا بہت بڑا حق ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ (اللہ کے سوا) کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ “ [ ترمذی، الرضاع، باب ما جاء فی حق۔۔ : ١١٥٩۔ أبو داوٗد : ٢١٤٠، عن أبی ہریرۃ (رض) ]- عورت نافرمانی کا رویہ اختیار کرے تو خاوند کو حالات کے مطابق تین چیزوں کا اختیار دیا گیا ہے، تینوں یکے بعد دیگرے اور اکٹھی بھی ہوسکتی ہیں، نصیحت کرنا، ایک ہی بستر میں رہ کر انھیں چھوڑنا اور انھیں مارنا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض ناگزیر حالات میں مارنے کی اجازت دی، مگر فرمایا : ” چہرے پر مت مارو، اسے بد صورت نہ کہو اور اسے مت چھوڑو مگر گھر میں۔ “ [ أبو داوٗد، النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا : ٢١٤٢، عن حکیم بن معاویۃ (رض) ] اسی طرح ایسی مار سے بھی منع کیا جس سے سخت چوٹ آئے۔ [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ١٢١٨، عن جابر (رض) ] اور فرمایا : ” تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارے جس طرح غلام کو مارتے ہیں، پھر دن کے آخر حصے میں اس سے جماع کرے گا۔ “ [ بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من ضرب النساء : ٥٢٠٤ ]- فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا : یعنی اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو ان پر زیادتی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو، مثلاً طلاق دینا، تنگ کر کے خلع پر مجبور کرنا وغیرہ۔

35

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوا۟ حَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهِۦ وَحَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصْلَٰحًۭا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيْنَهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًۭا

اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا : پہلے صرف عورت کی طرف سے نشوز کا ذکر تھا اب اگر دونوں کی طرف سے نفرت اور مخالفت کا سلسلہ چل نکلے اور جدائی کا اندیشہ ہو تو حاکم کو چاہیے کہ میاں بیوی دونوں کی طرف ان کے خاندان کا ایک ایک سمجھدار آدمی بطور حکم (پنچ یا منصف) مقرر کردیں، اگر وہ دونوں اصلاح کرانے میں مخلص ہوں گے تو اللہ تعالیٰ دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ اگر اصلاح کی کوئی صورت نہ بنے تو کیا انھیں علیحدگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں ؟ بعض علماء نے فرمایا کہ اگر میاں بیوی دونوں اسے صلح یا جدائی کا اختیار دیں کہ تم جو فیصلہ کرو ہمیں منظور ہوگا تو اسے علیحدگی کے فیصلہ کا بھی اختیار ہے۔ اور بعض نے فرمایا کہ اگر وہ حاکم جس نے اسے حکم مقرر کیا ہے اسے صلح یا جدائی دونوں کے فیصلے کا اختیار دیتا ہے تو اسے علیحدگی کے فیصلے کا اختیار رہے ورنہ نہیں مگر جمہور علماء کا کہنا ہے کہ حکم مقرر کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ حکم دونوں فریقوں کے معاملات کا جائزہ لے کر صلح یا تفریق کا جو فیصلہ کردیں نافذ ہوگا۔ اس کے لیے میاں بیوی یا حاکم کے اسے الگ اختیار دینے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم میں زیادہ زور موافقت کرانے کی کوشش پر دیا گیا ہے۔

36

۞ وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًۭا فَخُورًا

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

وَاعْبُدُوا اللّٰهَ ۔۔ : میاں بیوی کے معاملات کے بعد دوسرے حقوق والوں کے ساتھ احسان کا ذکر ہے، مگر ابتداء اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حکم اور شرک سے منع کرنے سے کی ہے، کیونکہ ہر کام کی ابتدا اس سے ہوتی ہے، جیسا کہ اس سورت کا موضوع عموماً عورتوں کے مسائل ہیں، مگر سورت کی ابتدا ( اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ) سے کی ہے۔ (ابن عاشور) - وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا : یعنی کسی چیز کو کسی صورت میں اس کا شریک نہ بنانا۔ اس کا شریک نہ بنانا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا مالک و مختار تسلیم کیا جائے اور اس کی کسی صفت میں کسی زندہ یا مردہ مخلوق کو شریک قرار نہ دیا جائے، تمام مرادیں اور حاجات اسی سے مانگی جائیں کہ وہی عالم میں متصرف ہے، کوئی اور نہیں۔ - وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا : توحید کا حکم دینے کے بعد درجہ بدرجہ رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کے حقوق بیان فرمائے۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اول حق اللہ تعالیٰ کا، پھر ماں باپ کا اور پھر ان سب کا درجہ بدرجہ۔ “ (موضح) انسان کے عدم سے وجود میں آنے کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کے بعد ماں باپ بنتے ہیں، اس لیے ان کا حق پہلے رکھا۔ - وَّبِذِي الْقُرْبٰى : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مسکین پر صدقہ صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ، صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔ “ [ ترمذی، الزکاۃ، باب ما جاء فی الصدقۃ۔۔ : ٦٥٨ ] اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو شخص پسند کرے کہ اس کے لیے اس کا رزق فراخ کیا جائے اور اس کے نشان قدم میں تاخیر کی جائے تو چاہیے کہ وہ اپنی رشتے داری کو ملائے۔ “ [ مسلم، البر والصلۃ، باب صلۃ الرحم۔۔ : ٢١؍٢٥٥٧ ]- وَالْيَتٰمٰي : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ “ آپ نے اپنی دو انگلیوں شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر بتایا۔ [ بخاری، الأدب، باب فضل من یقول یتیمًا : ٦٠٠٥، عن أبی ہریرۃ (رض) ] 6 مسکین کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة توبہ کی آیت (٦) ۔ - وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ : قرابت والے ہمسائے سے مراد رشتے دار ہمسایہ ہے اور اجنبی ہمسائے سے مراد غیر رشتے دار ہمسایہ ہے۔ ہمسائیگی کے حقوق کی نگہداشت میں متعدد احادیث وارد ہیں، ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جبریل (علیہ السلام) مجھے ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث قرار دے دیں گے۔ “ [ بخاری، الأدب، باب الوصاۃ بالجار : ٦٠١٥، عن ابن عمر ] اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دفعہ فرمایا : ” اللہ کی قسم وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا۔ “ صحابہ نے پوچھا : ” کون شخص ؟ “ فرمایا : ” وہ شخص جس کی ایذا رسانیوں سے اس کا ہمسایہ بےخوف نہ ہو۔ “ [ بخاری، الأدب، باب إثم من لا یؤمن : ٦٠١٦، عن أبی شریح (رض) ]- وَالصَّاحِبِ بالْجَـنْۢبِ : پہلو کے ساتھی سے ہم نشین دوست، سفر کا ساتھی، بیوی، علم سیکھنے کے لیے آنے والے یا کاروباری سلسلے میں پاس آ بیٹھنے والے سب مراد ہیں۔ - وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ : مسافر سے مراد اکثر سلف کے نزدیک مہمان بھی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام ( عزت افزائی) کرے۔ “ [ بخاری، الأدب، باب من کان یؤمن۔۔ : ٦٠١٨، عن أبی ہریرۃ (رض) ] - وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ : اس سے مراد غلام اور لونڈیاں ہیں، کیونکہ وہ ملکیت میں ہونے کی وجہ سے بالکل ہی بےبس ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آخری وصیت کرتے ہوئے فرمایا : ” نماز اور تمہارے غلام (ان دونوں کا خاص خیال رکھنا) ۔ “ [ أبو داوٗد، الأدب، باب فی حق المملوک : …

37

ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

اس آیت میں بخل کی مذمت کی گئی ہے اور بخیل کے لیے کافر کا لفظ استعمال کیا ہے، کیونکہ کافر کا معنی چھپانے والا ہے اور بخیل بھی اللہ کی نعمت کو چھپانے والا ہوتا ہے۔ بعض سلف نے اس آیت میں بخل کے لفظ کو یہودیوں کے بخل پر محمول کیا ہے، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات اور علامات کو لوگوں سے چھپاتے تھے۔ غرض بخل مال کا ہو یا علم کا شدید مذموم ہے۔ (ابن کثیر)

38

وَٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۗ وَمَن يَكُنِ ٱلشَّيْطَٰنُ لَهُۥ قَرِينًۭا فَسَآءَ قَرِينًۭا

اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لئے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کو ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے

بخیلوں کی مذمت کے بعد اب ریا کاری سے خرچ کرنے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے اور انھیں شیطان کا ساتھی قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ تین آدمیوں کو سب سے پہلے آگ میں جھونکا جائے گا اور وہ ہیں : 1 ریا کار عالم 2 ریا کار مجاہد 3 اور ریا کار سخی۔ “ [ مسلم، الأمارۃ، باب من قاتل للریاء۔۔ : ١٩٠٥ ]- شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” مال دینے میں بخل کرنا جیسا اللہ کے نزدیک برا ہے ویسا ہی خلق کے دکھانے کو دینا۔ قبول وہ ہے جو ان حق داروں کو دے جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے اور پھر اللہ کے یقین اور آخرت کی توقع سے دے۔ “ (موضح)

39

وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِهِمْ عَلِيمًا

اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے

بخل اور ریاکاری کی مذمت کے بعد ایمان و طاعت اور صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی، پھر مزید ترغیب کے لیے فرمایا کہ جب ذرا ذرا سی چیز کا اللہ تعالیٰ کئی گنا اجر دیتے ہیں، پھر لوگ کیوں نیک کاموں میں سستی کرتے اور ریا کاری سے کام لے کر اپنے اجر کو ضائع کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو خبر دی ہے کہ وہ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ ایک نیکی ہوگی تو اسے بھی بڑھا چڑھا کر اپنے پاس سے اجر عظیم دے کر نجات کا باعث بنا دے گا۔ ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ( ایک طویل حدیث) میں فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ( فرشتوں سے) فرمائے گا، تم جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی خیر ( یعنی ایمان) کو پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال لاؤ، چناچہ وہ بہت سی مخلوق کو نکال لائیں گے۔ “ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد ابو سعید (رض) فرمایا کرتے تھے : ” اگر تم مجھے اس حدیث میں سچا نہ جانو تو یہ آیت پڑھو : ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا ) [ مسلم، الإیمان، باب معرفۃ الطریق الرؤیۃ : ١٨٣ ] بیشک اللہ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر ایک نیکی ہوگی تو اسے دگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا، یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھائی ہے۔

40

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةًۭ يُضَٰعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًۭا

خدا کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا اور اگر نیکی (کی) ہوگی تو اس کو دوچند کردے گا اور اپنے ہاں سے اجرعظیم بخشے گا

Explained together with ayah 39

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.