Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 21–30 of 176

21

وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُۥ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًۭا

اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہے

مرنے والے کے مال میں یقیناًبعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے — عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لاکر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کونبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی واستحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر وبرداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنّتوں میں داخل کيے جائیں گے۔

جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کرکے علیٰحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتاہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عهد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہو تب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ تحریری عہد کی۔

’’جو ہوچکا سو ہوچکا ‘‘ کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔

’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نه ہو مگر اللہ نے اس کے اندر تمھارے لیے کوئی بڑی بھلائی رکھ دی ہو‘‘ — یہ فقرہ یہاں اگرچہ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم بتاتے ہوئے اس کے درمیان ایک ایسی کلی ہدایت دے دیتا ہے جس کا تعلق آدمی کی پوری زندگی سے ہو۔

دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا ناگزیر ہے۔ کوئی شخص بالکل اگ تھلگ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اب چوں کہ طبیعتیں الگ الگ ہیں، اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے ان کے درمیان لازماً شکایات پیدا ہوں گی۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک خرابی آدمی کے سامنے آتی ہے اور وہ بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں کوئی خیر کا پہلو موجود ہے۔ کبھی کسی واقعہ میں آدمی کے لیے صبر کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے۔ کبھی اس کے اندر اللہ کی طرف رجوع اور انابت کی غذا ہوتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی تکلیف میںکوئی بڑا سبق چھپا ہوا ہوتا ہے، وغیرہ۔

22

وَلَا تَنكِحُوا۟ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةًۭ وَمَقْتًۭا وَسَآءَ سَبِيلًا

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا

مرنے والے کے مال میں یقیناًبعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے — عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لاکر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کونبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی واستحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر وبرداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنّتوں میں داخل کيے جائیں گے۔

جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کرکے علیٰحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتاہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عهد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہو تب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ تحریری عہد کی۔

’’جو ہوچکا سو ہوچکا ‘‘ کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔

’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نه ہو مگر اللہ نے اس کے اندر تمھارے لیے کوئی بڑی بھلائی رکھ دی ہو‘‘ — یہ فقرہ یہاں اگرچہ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم بتاتے ہوئے اس کے درمیان ایک ایسی کلی ہدایت دے دیتا ہے جس کا تعلق آدمی کی پوری زندگی سے ہو۔

دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا ناگزیر ہے۔ کوئی شخص بالکل اگ تھلگ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اب چوں کہ طبیعتیں الگ الگ ہیں، اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے ان کے درمیان لازماً شکایات پیدا ہوں گی۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک خرابی آدمی کے سامنے آتی ہے اور وہ بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں کوئی خیر کا پہلو موجود ہے۔ کبھی کسی واقعہ میں آدمی کے لیے صبر کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے۔ کبھی اس کے اندر اللہ کی طرف رجوع اور انابت کی غذا ہوتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی تکلیف میںکوئی بڑا سبق چھپا ہوا ہوتا ہے، وغیرہ۔

23

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَٰتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَٰتُكُمْ وَعَمَّٰتُكُمْ وَخَٰلَٰتُكُمْ وَبَنَاتُ ٱلْأَخِ وَبَنَاتُ ٱلْأُخْتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِىٓ أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِى فِى حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِى دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا۟ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَٰٓئِلُ أَبْنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنْ أَصْلَٰبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا۟ بَيْنَ ٱلْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

انسان کے اندر بہت سی فطری خواہشیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک شہوانی خواہش ہے جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ شریعت تمام انسانی جذبات کی حد بندی کرتی ہے۔ اسی طرح اس نے شہوانی جذبات کے لیے بھی حدود اور ضابطے مقرر کيے ہیں۔ شریعت الٰہی کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان صرف وہی شہوانی تعلق صحیح ہے جو نکاح کی صورت میں ایک سنجیدہ معاشرتی معاہدہ کی حیثیت سے قائم ہو۔ پھر یہ کہ جس طرح فطری جذبات کی تسکین ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ خاندانی زندگی میں تقدس کی فضا موجود رہے۔ اس مقصد کے لیے نسب یا رضاعت یا مصاہرت کے تحت قائم ہونے والے کچھ رشتوں کو حرام قرار دے دیاگیا تاکہ بالکل قریبی رشتوں کے درمیان تعلق، شہوانی جذبات سے اوپر رہے۔

انسان کی عزت وبڑائی کا معیار وہ دکھائی دینے والی چیز يں نہیں ہیں جن پر لوگ ایک دوسرے کی عزت وبڑائی کو ناپتے ہیں۔ بلکہ بڑائی کا معیار وہ نہ دکھائی دینے والا ایمان ہے جو صرف اللہ کے علم ميں ہوتا ہے۔ گویا کسی کا عزت والا ہونا یا بے عزت والا ہونا ایسی چیز نہیں جو آدمی کو معلوم ہو۔ یہ تمام تر نامعلوم چیز ہے اور اس کا فیصلہ آخرت میں اللہ کی عدالت میں ہونے والا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو آدمی سے برتری کا احساس چھین لیتا ہے۔ اور برتری کا احساس ہی وہ چیز ہے جو بیشتر معاشرتی خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔

24

۞ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۖ كِتَٰبَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ ۚ فَمَا ٱسْتَمْتَعْتُم بِهِۦ مِنْهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَٰضَيْتُم بِهِۦ مِنۢ بَعْدِ ٱلْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

انسان کے اندر بہت سی فطری خواہشیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک شہوانی خواہش ہے جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ شریعت تمام انسانی جذبات کی حد بندی کرتی ہے۔ اسی طرح اس نے شہوانی جذبات کے لیے بھی حدود اور ضابطے مقرر کيے ہیں۔ شریعت الٰہی کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان صرف وہی شہوانی تعلق صحیح ہے جو نکاح کی صورت میں ایک سنجیدہ معاشرتی معاہدہ کی حیثیت سے قائم ہو۔ پھر یہ کہ جس طرح فطری جذبات کی تسکین ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ خاندانی زندگی میں تقدس کی فضا موجود رہے۔ اس مقصد کے لیے نسب یا رضاعت یا مصاہرت کے تحت قائم ہونے والے کچھ رشتوں کو حرام قرار دے دیاگیا تاکہ بالکل قریبی رشتوں کے درمیان تعلق، شہوانی جذبات سے اوپر رہے۔

انسان کی عزت وبڑائی کا معیار وہ دکھائی دینے والی چیز يں نہیں ہیں جن پر لوگ ایک دوسرے کی عزت وبڑائی کو ناپتے ہیں۔ بلکہ بڑائی کا معیار وہ نہ دکھائی دینے والا ایمان ہے جو صرف اللہ کے علم ميں ہوتا ہے۔ گویا کسی کا عزت والا ہونا یا بے عزت والا ہونا ایسی چیز نہیں جو آدمی کو معلوم ہو۔ یہ تمام تر نامعلوم چیز ہے اور اس کا فیصلہ آخرت میں اللہ کی عدالت میں ہونے والا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو آدمی سے برتری کا احساس چھین لیتا ہے۔ اور برتری کا احساس ہی وہ چیز ہے جو بیشتر معاشرتی خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔

25

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ ٱلْمُحْصَنَٰتِ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُم مِّن فَتَيَٰتِكُمُ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ ۚ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَٰنِكُم ۚ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ مُحْصَنَٰتٍ غَيْرَ مُسَٰفِحَٰتٍۢ وَلَا مُتَّخِذَٰتِ أَخْدَانٍۢ ۚ فَإِذَآ أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَٰحِشَةٍۢ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى ٱلْمُحْصَنَٰتِ مِنَ ٱلْعَذَابِ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ ٱلْعَنَتَ مِنكُمْ ۚ وَأَن تَصْبِرُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

انسان کے اندر بہت سی فطری خواہشیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک شہوانی خواہش ہے جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ شریعت تمام انسانی جذبات کی حد بندی کرتی ہے۔ اسی طرح اس نے شہوانی جذبات کے لیے بھی حدود اور ضابطے مقرر کيے ہیں۔ شریعت الٰہی کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان صرف وہی شہوانی تعلق صحیح ہے جو نکاح کی صورت میں ایک سنجیدہ معاشرتی معاہدہ کی حیثیت سے قائم ہو۔ پھر یہ کہ جس طرح فطری جذبات کی تسکین ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ خاندانی زندگی میں تقدس کی فضا موجود رہے۔ اس مقصد کے لیے نسب یا رضاعت یا مصاہرت کے تحت قائم ہونے والے کچھ رشتوں کو حرام قرار دے دیاگیا تاکہ بالکل قریبی رشتوں کے درمیان تعلق، شہوانی جذبات سے اوپر رہے۔

انسان کی عزت وبڑائی کا معیار وہ دکھائی دینے والی چیز يں نہیں ہیں جن پر لوگ ایک دوسرے کی عزت وبڑائی کو ناپتے ہیں۔ بلکہ بڑائی کا معیار وہ نہ دکھائی دینے والا ایمان ہے جو صرف اللہ کے علم ميں ہوتا ہے۔ گویا کسی کا عزت والا ہونا یا بے عزت والا ہونا ایسی چیز نہیں جو آدمی کو معلوم ہو۔ یہ تمام تر نامعلوم چیز ہے اور اس کا فیصلہ آخرت میں اللہ کی عدالت میں ہونے والا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو آدمی سے برتری کا احساس چھین لیتا ہے۔ اور برتری کا احساس ہی وہ چیز ہے جو بیشتر معاشرتی خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔

26

يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔

ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔

27

وَٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلشَّهَوَٰتِ أَن تَمِيلُوا۟ مَيْلًا عَظِيمًۭا

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔

ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔

28

يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ ٱلْإِنسَٰنُ ضَعِيفًۭا

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے

زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔

ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔

29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٍۢ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًۭا

مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے

ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔

دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔

30

وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَٰنًۭا وَظُلْمًۭا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًۭا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًا

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔

دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.