Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 21–30 of 176

21

وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُۥ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًۭا

اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہے

Explained together with ayah 20

22

وَلَا تَنكِحُوا۟ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةًۭ وَمَقْتًۭا وَسَآءَ سَبِيلًا

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا

وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ ۔۔ : جاہلیت کے دستور میں بیٹے کے لیے اپنے باپ کی منکوحہ (سوتیلی ماں) سے شادی کرلینا جائز تھا، ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” اہل جاہلیت ان رشتوں کو حرام سمجھتے تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے حرام کیا، سوائے باپ کی بیوی اور دو بہنوں کو جمع کرنے کے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں : ( وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ ) [ النساء : ٣٣ ] اور ( وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ ) [ النساء : ٢٣ ] [ ابن جریر : ٤؍٣٦٩، صحیح ] اللہ تعالیٰ نے اسے سخت حرام قرار دیا، حتیٰ کہ اگر باپ نے صرف عقد ہی کیا ہو تو بھی بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔ یہ سخت بےحیائی اور اللہ کی سخت ناراضگی کا باعث اور برا راستہ ہے کہ آج تم نے اپنے باپ کی منکوحہ سے نکاح کیا ہے، کل تمہاری منکوحہ سے تمہارا بیٹا نکاح کرے گا، اللہ تعالیٰ نے یہ راستہ ہی بند کردیا۔ براء بن عازب (رض) سے روایت ہے، وہ اپنے ماموں ابو بردہ (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کرلیا تھا کہ اسے قتل کردیں اور اس کا مال لے لیں۔ [ أبو داوٗد، الحدود، باب فی الرجل یزنی بحریمہ : ٤٤٥٧۔ ترمذی : ١٣٦٢۔ نسائی : ٣٣٣٤۔ ابن ماجہ : ٢٦٠٧ ] معلوم ہوا ایسا شخص واجب القتل ہے۔

23

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَٰتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَٰتُكُمْ وَعَمَّٰتُكُمْ وَخَٰلَٰتُكُمْ وَبَنَاتُ ٱلْأَخِ وَبَنَاتُ ٱلْأُخْتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِىٓ أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِى فِى حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِى دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا۟ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَٰٓئِلُ أَبْنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنْ أَصْلَٰبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا۟ بَيْنَ ٱلْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ : جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے، ایک تو پچھلی آیت میں بیان ہوا کہ باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنا حرام ہے، اب یہاں نسب کے سات حرام رشتوں کا ذکر ہے : 1 ماں : اس کے حکم میں نانی اور دادی اوپر تک، مثلاً ، پڑدادی، پڑنانی شامل ہیں۔ 2 بیٹی : اس کے حکم میں پوتی اور نواسی نیچے تک آجاتی ہیں۔ 3 بہن : سگی ہو یا علاتی یا اخیافی، بہرحال حرام ہے۔ 4 پھوپھی میں دادا کی بہن اور نانا کی بہن بھی داخل ہے۔ 5 خالہ کا لفظ ماں، نانی اور دادی سب کی بہنوں کو شامل ہے۔ (٦، ٧) بھتیجی اور بھانجی کے حکم میں ان کی بیٹیاں نیچے تک آجاتی ہیں۔ (قرطبی) - وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ ۔۔ : یعنی نسبی ماں اور بہن کی طرح دودھ کی ماں اور بہن بھی حرام ہیں۔ یہاں دو رشتوں کا ذکر ہے، مگر حدیث کی رو سے وہ ساتوں رشتے جو نسب سے حرام ہیں، دودھ سے بھی حرام ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں۔ “ [ بخاری، النکاح، باب : (وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ ) : ٥٠٩٩، عن عائشۃ ] قرآن مجید نے دودھ پینے کو حرمت کا سبب قرار دیا ہے، یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ کم از کم کتنی دفعہ دودھ پیا ہو، مگر مسلم میں ام الفضل اور عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک یا دو دفعہ دودھ پینا حرمت کا باعث نہیں ہوتا۔ “ [ صحیح مسلم، الرضاع، باب المصۃ والمصتان : ١٤٥٠، ١٤٥١ ] عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ قرآن میں اترنے والے حکم میں تھا کہ دس دفعہ دودھ پینا، جو معلوم ہو، حرام کرتا ہے، پھر وہ پانچ کے ساتھ منسوخ ہوگیا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے اور وہ قرآن میں پڑھے جاتے تھے۔ [ مسلم، الرضاع، باب التحریم بخمس رضعات : ١٤٥٢ ] یاد رہے کہ یہ دودھ پلانا اسی وقت معتبر ہوگا، جب دودھ پلانے کی مدت، یعنی دو سال کے اندر ہو۔ - وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ : اس میں بیویوں کی نانیاں اور دادیاں بھی اوپر تک شامل ہیں۔ بیوی کی ماں (ساس) حرام ہے، خواہ بیوی کو جماع سے پہلے طلاق دے دی ہو، یا اس کا انتقال ہوگیا ہو۔ - وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ : ” رَبَاءِبُ “ یہ ” رَبِیْبَۃٌ“ کی جمع ہے، یعنی بیوی کی دوسرے خاوند سے جو لڑکی ہو وہ بھی حرام ہے، بشرطیکہ اپنی بیوی ( اس لڑکی کی ماں) سے جماع کرلیا ہو، اگر قبل از جماع طلاق دے دی تو عورت کی لڑکی سے نکاح جائز ہے، اس پر علماء کا اتفاق ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)- ” فِيْ حُجُوْرِكُمْ “ (تمھاری گود میں) کی قید شرط کے طور پر نہیں، بلکہ اتفاقی ہے یعنی عام حالات میں ایسا ہوتا ہے، ورنہ اگر اس کی پرورش کسی اور جگہ ہوئی ہو تو بھی وہ حرام ہے۔- وَحَلَاۗىِٕلُ اَبْنَاۗىِٕكُمُ : حلائل، حلیلۃ کی جمع ہے۔ یعنی صلبی بیٹوں کی بیویاں نہ کہ منہ بولے بیٹوں کی بیویاں۔ ( دیکھیے سورة احزاب (٢٧) - وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ ۔۔ : یہ محل رفع میں ہے، یعنی ” حُرِّمَ عَلَیْکُمُ الْجَمْعُ بَیْنَ الْاَخْتَیْنِ “ کہ دو بہنوں کو، صلبی ہوں یا رضاعی، ایک وقت میں نکاح میں جمع رکھنا حرام ہے۔ قرآن مجید میں صرف دو بہنوں کو جمع کرنا منع ہے، مگر حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو ایک نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ “ [ بخاری، النکاح، باب لا تنکح المرأۃ علی عمتھا : ٥١٠٩، عن أبی ہریرہ ] اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ سنت بھی شریعت کا مستقل ماخذ ہے، قرآن میں صرف دو بہنوں کو جمع کرنا منع آیا ہے اور حدیث میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھی منع آیا ہے، یہ بھی ماننا پڑے گا۔ - اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭ: یعنی پہلے جو رشتے ایسے ہوچکے ان کا کچھ گناہ نہیں، اس کے یہ …

24

۞ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۖ كِتَٰبَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ ۚ فَمَا ٱسْتَمْتَعْتُم بِهِۦ مِنْهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَٰضَيْتُم بِهِۦ مِنۢ بَعْدِ ٱلْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ ۔۔ : اوپر کی آیت میں حرام رشتوں کا ذکر تھا، وہ تو بہر صورت حرام ہیں، خواہ ان میں سے کوئی عورت کسی کی لونڈی بن کر آجائے۔ اس بنا پر علماء نے لکھا ہے کہ دو بہنوں کو جمع کرنا صرف نکاح ہی میں نہیں بلکہ ایک مالک کی لونڈیاں ہوں تب بھی اسے دونوں سے صحبت حرام ہے۔ (ابن کثیر) اب یہاں فرمایا کہ جن عورتوں کے شوہر موجود ہوں ان سے نکاح بھی حرام ہے، ہاں جنگ کی صورت میں دارالحرب سے جو عورتیں قیدی بن کر آئیں تو اموال غنیمت کی تقسیم کے بعد جن کے حصہ میں آئیں گی ان کے لیے ” استبراء “ کے بعد ان سے صحبت جائز ہے، خواہ پیچھے ان کے خاوند موجود ہی کیوں نہ ہوں۔ ” استبراء “ یہ ہے کہ وہ عورت ایک حیض سے پاک ہوجائے، یا اگر حاملہ ہے تو وضع حمل ہوجائے۔ ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (٨ ھ میں) حنین کے دن اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا، ان کا مقابلہ دشمن سے ہوا تو انھوں نے مقابلہ کیا اور فتح پائی، بہت سے قیدی ان کے ہاتھ آئے، (تقسیم کے بعد جو لونڈیاں حصے میں آئیں) صحابہ کرام (رض) نے ان قیدی عورتوں سے صحبت کو گناہ سمجھا، اس لیے کہ ان کے مشرک شوہر موجود تھے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ( وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَامَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۚ ) یعنی عدت کے بعد وہ تمہارے لیے حلال کردی گئی ہیں۔ [ مسلم، الرضاع، باب جواز وطی المسبیۃ۔۔ : ١٤٥٦ ] - 2 احصان کا لفظی معنی محفوظ کرنا ہے، قرآن مجید میں یہ لفظ چند معانی میں آیا ہے :1 شادی شدہ عورتوں کے معنی میں، جیسے اس آیت کے شروع میں ” المحصنت ( جہاد کے فتحہ کے ساتھ) اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ 2 آزاد عورتوں کے معنی میں، جیسے اگلی آیت میں ہے۔ 3 پاک دامن عورتوں کے معنی میں، جیسے اس سے اگلی آیت میں اور سورة مائدہ (٥) میں ہے۔- كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ۚ : یعنی جن حرام رشتوں کا اوپر ذکر ہوا ہے، ان سے نکاح نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس کا ماننا تم پر لازم ہے۔ (ابن کثیر) - وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاۗءَ ذٰلِكُمْ : یعنی ان کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح تمہارے لیے حلال ہے۔ اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں، بشرطیکہ حدیث میں ان کی حرمت نہ آئی ہو، مثلاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی عورت کے ساتھ اس کی خالہ یا پھوپھی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا۔ ایسی ہی چند اور صورتیں بھی ہیں مثلاً چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت نکاح میں رکھنا، یا وہ عورت جس سے لعان کیا جائے یا حلالہ کرنا یا بنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بنت عدو اللہ (ابوجہل) کو ایک نکال میں جمع کرنا یا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا یا نکاح شغار یعنی وٹہ سٹہ کا نکاح جس میں یہ شرط ہو کر اگر تم رشتہ دو گے تو میں رشتہ دوں گا اس شرط کے بعد مہر مقرر ہو تم بھی نکاح حرام ہے۔ جیسا کہ سنن ابی داؤد، النکاح، باب فی الشغار میں ہے کہ عباس بن عبداللہ بن عباس نے عبد الرحمان بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا اور عبد الرحمان نے اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردیا تو معاویہ (رض) نے مروان کی طرف خط لکھ اور اسے حکم دیا کہ ان دونوں سے درمیان علیحدگی کروا دیں اور دونوں نے مہر علی معجل مقرر کیا تھا۔ (وصححہ الالبانی) - اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ ۔۔ : موضح میں ہے کہ ان مذکورہ محارم کے سوا سب حلال ہیں، مگر چار شرطوں کے ساتھ، اول یہ کہ طلب کرو، یعنی دونوں طرف سے زبانی ایجاب و قبول ہو، دوسرے یہ کہ مال یعنی مہر دینا قبول کرو، تیسرے یہ کہ ان عورتوں کو قید (دائمی قبضہ) میں لانا غرض ہو، ( صرف) مستی نکالنے کی غرض نہ ہو ( جیسے زنا میں ہوتا ہے) یعنی وہ عورت اس مرد کی بندی ہوجائے، چھوڑے بغیر نہ چھوٹے، یعنی کسی مہینے یا برس (مدت) کا ذکر نہ آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ متعہ حرام …

25

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ ٱلْمُحْصَنَٰتِ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُم مِّن فَتَيَٰتِكُمُ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ ۚ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَٰنِكُم ۚ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ مُحْصَنَٰتٍ غَيْرَ مُسَٰفِحَٰتٍۢ وَلَا مُتَّخِذَٰتِ أَخْدَانٍۢ ۚ فَإِذَآ أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَٰحِشَةٍۢ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى ٱلْمُحْصَنَٰتِ مِنَ ٱلْعَذَابِ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ ٱلْعَنَتَ مِنكُمْ ۚ وَأَن تَصْبِرُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ ۔۔ : یعنی اگر کسی شخص کی مالی حالت اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرے تو کسی دوسرے مسلمان کی لونڈی سے نکاح کرلے، بشرطیکہ وہ لونڈی مسلمان ہو۔ یہاں کسی شخص کو اپنی لونڈی سے نکاح کرنے کی اجازت کا بیان نہیں، کیونکہ اس کا لونڈی ہونا ہی مالک کے لیے اس سے صحبت کے جواز کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اس سے صحبت نہیں کرسکتا اور اس کی اولاد جائز اولاد سمجھی جائے گی، ہاں اگر نکاح ہی کرنا چاہتا ہے تو پھر اسے آزاد کر دے اور آزاد کر کے نکاح کرلے۔ (فتح القدیر) - بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ۚ: یعنی تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو اور تمہاری ملت بھی ایک ہے، پھر محض لونڈی ہونے کی وجہ سے اس سے نکاح میں تردد نہ کرو۔ (شوکانی) - فَانْكِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِهِنَّ : یعنی جیسے آزاد مسلمان عورت سے نکاح کے لیے ولی (سرپرست) کی اجازت ضروری ہے، اسی طرح لونڈی سے نکاح کے لیے بھی اس کے مالک کی اجازت ضروری ہے۔ اسی طرح غلام بھی اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرسکتا۔ - وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ : ان الفاظ سے بعض نے سمجھا ہے کہ مہر لونڈی کا حق ہے، لیکن اکثر علمائے سلف کے نزدیک یہ مہر لونڈی کے مالک کا ہوگا، لونڈی کی طرف مہر کی اضافت مجازی ہے۔ (فتح القدیر) - وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ۚ : اخدان خدن کی جمع ہے ” خفیہ آشنا “ چھپی یاری سے منع فرمایا تو نکاح میں گواہ لازم ہوئے۔ - نِصْفُ مَا عَلَي الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ۭ : ” المحصنات “ میں الف لام عہدکا ہے اس سے مخصوص محصنات یعنی کنواری آزاد عورتیں مراد ہیں کیونکہ ان کی سزا سو کوڑے ہے جس کا نصف ہوسکتا ہے شادی شدہ آزاد عورتوں کی سزا رجم ہے اس کا نہ نصف ہوسکتا ہے نہ یہاں ” المحصنات “ سے وہ مراد ہیں یعنی لونڈی اگر شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کریں تو انھیں کنواری آزاد عورتوں کی سزا سے نصف سزا دی جائے گی جو پچاس کوڑے ہے۔ جن لوگوں نے اس آیت کو رجم کے انکار کی دلیل بنایا ہے کہ چونکہ رجم کا نصف ہو نہیں سکتا ہے اس لیے رجم شریعت میں ہے ہی نہیں انھوں نے اپنی کم علمی سے الف لام کا مفہوم سمجھا ہی نہیں نہ المحصنات کی صحیح مراد سمجھی ہے۔ عبداللہ بن عیاش مخزومی فرماتے ہیں کہ عمر (رض) نے مجھے اور قریش کے چند نوجوانوں کو حکم دیا تو ہم نے حکومتی لونڈیوں میں سے کچھ لونڈیوں کو زنا کرنے کی وجہ سے پچاس پچاس کوڑے لگائے۔ [ المؤطا، الحدود، باب ما جاء فی حد الزنا : ١٦ ] - ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ : یعنی مذکورہ شرطوں کے ساتھ لونڈی سے نکاح صرف اسی صورت میں جائز ہے جب بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ (قرطبی) - وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ : اس سے اکثر علمائے سلف نے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے نکاح نہ کرنا ہی بہتر ہے، کیونکہ ایسی منکوحہ لونڈی کی اولاد بھی اس کے مالک کی غلام ہوتی ہے۔ (ابن کثیر)

26

يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُـبَيِّنَ لَكُمْ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے بیان فرما رہا ہے کہ تم کو حلال و حرام کا پتا چل جائے اور پہلے لوگوں کے عمدہ طریق کی ہدایت ہوجائے، پہلے لوگوں سے مراد انبیاء اور ان کی امتوں کے نیک لوگ ہیں۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) - وَاللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْكُمْ ۣ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم فسق و فجور کے بجائے پاکیزگی اپناؤ، مگر خواہشات کی اتباع کرنے والے بدکار چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی ان کی طرح ہر حد سے آزاد ہو کر حق سے بہت دور ہٹ جائیں، لہٰذا تم شہوت پرستوں کے کہنے میں نہ آؤ۔ مراد یہود و نصاریٰ ، مجوسی اور کمیونسٹ ہیں، جو حرام رشتوں سے بھی نکاح جائز سمجھتے ہیں، بلکہ بعض تو نکاح کا طریقہ ہی ختم کر کے جانور بن چکے ہیں، حتیٰ کہ قوم لوط کے عمل کو قانوناً جائز کرچکے ہیں۔

27

وَٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلشَّهَوَٰتِ أَن تَمِيلُوا۟ مَيْلًا عَظِيمًۭا

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

Explained together with ayah 26

28

يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ ٱلْإِنسَٰنُ ضَعِيفًۭا

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے

يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّخَفِّفَ عَنْكُمْ ۚ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کو انسان کی کمزوری کا خوب علم ہے کہ عورتوں کے معاملے میں یہ کس قدر کمزور ہے، اس لیے احکام شریعت میں اس کی سہولت کا خیال رکھا گیا ہے اور دین میں سختی نہیں برتی گئی، فرمایا : ( وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ۭ ) [ الحج : ٧٨ ] ” اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک دین آسان ہے۔ “ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر : ٣٩، عن أبی ہریرۃ (رض) ] اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں تمہارے پاس نہایت آسان حنیفی شریعت لے کر آیا ہوں۔ “ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر، قبل ح : ٣٩، عن أبی ہریرۃ (رض) ]- شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” دین اسلام میں کوئی تنگی نہیں کہ کوئی حلال کو چھوڑے اور حرام کو دوڑے۔ “ (موضح)

29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٍۢ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًۭا

مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے

لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ : کمائی کے جتنے بھی ناجائز طریقے ہیں سب کے سب ” بالباطل “ میں آجاتے ہیں، حتیٰ کہ حیلہ سازی کے ساتھ کسی کا مال کھانا بھی حرام ہے اور اپنے مال کو غلط طریقے سے اڑانا بھی اسی میں داخل ہے۔ (رازی۔ ابن کثیر)- اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً ۔۔ : یعنی وہ تجارت اور لین دین (صنعت و حرفت وغیرہ) جس میں حقیقی باہمی رضا مندی ہو، اس کے ذریعے سے کماؤ اور کھاؤ۔ آپس کی رضا مندی میں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ شرع کے خلاف نہ ہو، کیونکہ وہ حقیقی رضا مندی ہوتی ہی نہیں، مجبوری کی رضا مندی ہوتی ہے، مثلاً رشوت اور سود میں بظاہر رضا مندی ہے مگر حقیقی نہیں، کیونکہ ایک فریق دوسرے کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اسی طرح جوئے اور لاٹری وغیرہ کا معاملہ ہے کہ یہ دونوں فریق نفع کی موہوم امید کے فریب میں آکر یہ کام کر رہے ہیں، اس فریب کو حقیقی رضا مندی نہیں کہا جاسکتا۔ پورے طور پر باہمی رضا مندی میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ جب تک بیچنے والا اور خریدنے والا مجلس بیع سے الگ نہ ہوں اس وقت تک دونوں کو ایک دوسرے کی بیع رد کرنے کا حق ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” خریدو فروخت کرنے والوں میں سے ہر ایک کو (بیع فسخ کرنے کا ) اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ آپس میں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوجائیں، سوائے اس تجارت کے جس میں یہ اختیار باقی رکھا جائے۔ “ [ بخاری، البیوع، باب البیعان بالخیار ما لم یتفرقا : ٢١١١، عن ابن عمر ]- وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ : اس کے تین معانی ہوسکتے ہیں اور تینوں مراد ہیں، پہلا یہ کہ شریعت کی مخالفت کرتے ہوئے حقیقی باہمی رضا مندی کے بغیر اگر لین دین کرو گے تو اس کا نتیجہ آپس میں قتل و غارت ہوگا، جیسا کہ جوئے کے نتیجے میں ہارنے والے کے ہاتھوں کئی جیتنے والے قتل ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا یہ کام مت کرو۔ دوسرا یہ کہ ایک دوسرے کو قتل مت کرو، کیونکہ یہ اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے اور تیسرا یہ کہ خود کشی مت کرو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس شخص نے چھری کے ساتھ اپنے آپ کو قتل کیا تو جہنم میں چھری اس کے ہاتھ میں ہوگی اور وہ اس کے ساتھ اپنے پیٹ کو پھاڑے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو زہر سے قتل کیا تو جہنم میں اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا، جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پیے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں رہے گا اور جس نے پہاڑ سے گرا کر اپنے آپ کو قتل کیا تو وہ جہنم کی آگ میں گرتا رہے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہے گا۔ “ [ مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم۔۔ : ١٠٩، بخاری : ٥٧٧٨، عن أبی ہریرۃ (رض) ]

30

وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَٰنًۭا وَظُلْمًۭا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًۭا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًا

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ ۔۔ : ” ذلک “ کا اشارہ قتل نفس کی طرف بھی ہوسکتا ہے، دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانے کی طرف بھی اور سورت کی ابتدا سے یہاں تک جتنی چیزیں منع کی گئی ہیں ان سب کی طرف بھی۔ - وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا : یہ انداز بیان ڈانٹنے میں مبالغے پر دلالت کر رہا ہے۔ (رازی) موضح میں ہے : ” یعنی مغرور نہ ہوں کہ ہم مسلمان دوزخ میں کیوں کر جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ پر یہ آسان ہے۔ “

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.