20: جوکنیزیں جہاد کے دوران گرفتار کرکے دارالاسلام لائی جاتی تھیں، اور ان کے شوہر دارالحرب میں رہ جاتے تھے، ان کا نکاح ان شوہروں سے ختم ہوجاتا تھا۔ لہٰذا جب وہ دارالاسلام میں آنے کے بعد ایک حیض کی مدت پوری کرلیتیں ،اور ان کو پچھلے شوہر سے حمل نہ ہوتا توان کا نکاح دارالاسلام کے کسی مسلمان سے جائز تھا۔ مگر یہ حکم انہی باندیوں کا ہے جو شرعی طور پر باندی بنائی گئی ہوں۔ آج کل ایسی کنیزوں یا باندیوں کا کہیں وجود نہیں ہے۔
21: مقصد یہ ہے کہ نکاح ایک دیرپا تعلق کا نام ہے جس کا مقصد صرف جنسی خواہش پوری کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک مضبوط خاندانی نظام کا قیام ہے جس میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں کے پابند ہوتے ہیں، اور اس رشتے کو عفت وعصمت کے تحفظ اور بقائے نسل اِنسانی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ صرف شہوت نکالنے کے لئے ایک عارضی تعلق پیدا کرلینا، خواہ وہ پیسے خرچ کرکے ہی کیوں نہ ہو، ہرگز جائز نہیں ہے۔