Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 21–30 of 176

21

وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُۥ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًۭا

اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہے

(آیت) ” وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا (12)

” اور آخر تم اسے کس طرح واپس لے لوگے جبکہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔ “

یہاں افضی فعل کے مفعول کو متعین نہیں کیا گیا لفظ کو عام چھوڑ دیا گیا ‘ اس سے اس کے ہر قسم کے مدلول کا اظہار ہو سکتا ہے تمام مفاہیم پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تمام اشارات ذہن میں گردش کرتے ہیں ‘ جسمانی لطف اندوزی بھی ‘ جذبات ومیلانات بھی ‘ احسانات اور تصورات بھی ‘ راز ونیاز بھی اور وہ تمام دلچسپیاں بھی جو میاں بیوی کے درمیان ہو سکتی ہیں ۔ انسانی زندگی کے شب وروز کی ہر شکل و صورت اس لفظ افضی کے مفہوم میں آتی ہے ۔ غرض وہ تمام باتیں پردہ خیال پر آجاتی ہیں جن کا تعلق میاں بیوی کے اس اہم ادارے کی گزشتہ زمان ومکان کے ساتھ وابستہ رہی ہیں ۔ دل کی ہر دھڑکن افضاء ہے ‘ ہر مشتاقانہ نظر افضاء ہے جسم کا ہر لمس افضاء ہے ‘ غم اور امید میں شرکت افضاء ہے ۔ حال ومستقبل کی ہر مشترکہ سوچ افضاء ہے ۔ ہر پچھلی سوچ افضاء ہے اور سب سے اعلی یہ کہ دونوں کی مشراولاد بھی افضاء ہے ۔

تصورات و احساسات کا یہ ڈھیر ہے ‘ جذبات ومیلانات کی یادوں کی اس تازگی کو صرف چند الفاظ میں اسکرین پر لایا گیا ۔

(آیت) ” وقد افضی بعضکم الی بعض ” اور تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو۔ “

ان یادوں کے ہوتے ہوئے اب مرد کے لئے بعض حقیر چیزوں کا مطالبہ کرنا نہایت ہی حقیر نظر آتا ہے اور اب شرم کے مارے وہ اس مفاداتی مطالبے سے باز آجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ ماضی قریب کی عملی زندگی کے خوشگوار تصورات کو اسکرین پر دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ اب اسے وقت فراق میں یہ یادیں اذیت دیتی ہیں اور وہ یہ احساس کرتا ہے کہ یہ تمام واقعات بادل نخواستہ ہیں ۔

ان یادوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسری بات ‘ ایک دوسرا فیکٹر بھی یاد دلایا جاتا ہے ۔ گویا اسکرین پر ایک دوسری جھلک آتی ہے ۔ ایک دوسرا رنگ نمودار ہوتا ہے ۔ (آیت) ” واخذن منکم میثاقا غلیظا ‘” اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں “۔ میثاق نکاح اللہ کے نام سے اور خطبے کے ساتھ نبی کی سنت کے مطابق ۔ یہ عہد نکاح ایک عظیم عہد جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ایک مومن کے نزدیک وہ بہت بڑی بات ہے ۔ یہ نکاح اہل ایمان کے مابین ہے اور اہل ایمان اسے ایک عظیم عقد بلکہ میثاق سمجھتے ہیں ۔ اس کا احترام ان پر الازم ہے ۔

آخر میں ایک فعل شفیع کے بارے میں قطعی حرمت آتی ہے ۔ یہ فعل جاہلیت میں مروج تھا ۔ بیٹے باپ کی منکوحہ سے نکاح کرلیا کرتے تھے اور بعض اوقاقت اس حق نکاح کی وجہ سے عورتیں معطل ہوکر رہ جاتی تھیں کہ بچہ بڑا ہو اور اپنے والد کی بیوی سے نکاح کرے اور اگر بڑا ہوتا تو وہ منکوحہ والد کو مال میراث تصور کرتا ، اسلام نے اس فعل کو سخت ترین الفاظ میں حرام قرار دیا ۔

22

وَلَا تَنكِحُوا۟ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةًۭ وَمَقْتًۭا وَسَآءَ سَبِيلًا

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا

(آیت) ” ولا تنکحوا مانکح ابآوکم من النسآء الا ما قد سلف ، انہ کان فاحشة ومقتا وسآء سبیلا “۔ (22)

” اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں ان سے ہر گز نکاح نہ کرو ‘ مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا ، درحقیقت یہ ایک بےحیائی کا فعل ہے ‘ ناپسندیدہ ہے ۔ اور برا چلن ہے ۔ “

اس تحریم کی حکمت کے حوالے سے دو تین باتیں ذہن میں آتی ہیں اگرچہ انسان کے لئے یہ تو ناممکن ہی نہیں ہے کہ وہ شرعی احکام کی تمام حکمتوں اور رازوں کا احاطہ کرسکے ۔ ہمارے لئے تو بس یہی کافی ہے کہ اللہ نے یہ قانون بنایا ہے جو ہمارے لئے بنا دیا ہے ۔ اور ہمیں یقین ہے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت اور مصلحت ہوگی بہرحال جو تین چیزیں سمجھ میں آتی ہیں وہ یہ ہیں کہ سوتیلی ماں بھی ماں ہوتی ہے ‘ یہ کہ باپ کی جگہ بیٹے کا آنا سوئے ادب ہے کیونکہ اس شکل میں وہ باپ کا مساوی اور شریک ہوجاتا ہے ۔ فطرة ایک انسان اپنی بیوی کے پہلے خاوند کو ناپسند کرتا ہے ۔ یوں وہ اپنے باپ کو بھی ناپسند کرنے لگے گا ۔ تیسری بات یہ ہے کہ منکوحہ اب کے ساتھ والد کے ترکہ کے تصورات کی وابستگی ہوسکتی ہے جبکہ جاہلیت میں ایسے رواجات بھی تھے ۔ اور یہ ایک ایسا کریہہ تصور ہے جو بیک وقت مرد اور عورت دونوں کے لئے مکروہ ہے ۔ کیونکہ دونوں ایک ہی نفس سے پیدا کیے گئے ہیں اور ایک کی توہین دوسرے کی توہین ہے ۔

یہ ہیں وہ ظاہری وجوہات جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو مکروہ ناپسندیدہ اور شنیع اور بدچلنی قرار دیا ہے جبکہ ان کے علاوہ بھی بہت سے اسباب اور حکمتیں ہو سکتی ہیں ، ہاں اور جاہلیت میں جو نکاح ہوئے وہ معاف ہیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔

اس سبق کے تیسرے پیرے میں عورتوں میں سے محرمات کی فہرست دی گئی ہے ۔ یہ بھی خاندانی نظام کی تشکیل اور تنظیم کے اقدامات میں سے ایک اہم اقدام ہے ۔ خاندان کے بعد اسلامی معاشرے کی ضابطہ بندی ہے ۔

23

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَٰتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَٰتُكُمْ وَعَمَّٰتُكُمْ وَخَٰلَٰتُكُمْ وَبَنَاتُ ٱلْأَخِ وَبَنَاتُ ٱلْأُخْتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِىٓ أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِى فِى حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِى دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا۟ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَٰٓئِلُ أَبْنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنْ أَصْلَٰبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا۟ بَيْنَ ٱلْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

(آیت) ” حرمت علیکم امھتکم وبنتکم واخوتکم وعمتکم وخلتکم وبنت الاخ وبنت الاخت وامھتکم التی ارضعنکم واخوتکم من الرضاعة وامھت نسآئکم وربآئبکم التی فی حجورکم من نسآئکم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم وحلآئل ابنائکم الذین من اصلابکم وان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف ، ان اللہ کان غفورا رحیما (32) والمحصنت من النسآء الا ملکت ایمانکم “۔

محرمات ‘ یعنی وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے وہ تمام اقوام اومم میں معروف ہیں ۔ چاہے پسماندہ واقوام ہوں یا ترقی یافتہ اقوام ہوں ۔ تحریم کے اسباب اور تحریم کے درجات مختلف اقوام کے ہاں مختلف رہے ہیں ۔ قدیم پسماندہ اقوام کے اندر یہ دائرہ بہت ہی وسیع رہا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے اندر یہ سکڑتا رہا ہے ۔

اسلام میں آیت زیر بحث اور اس سے پہلی آیت میں محرمات کی تحدید کی گئی ہے ۔ بعض محرمات ابدی ہیں ۔ اور بعض وقتی ہیں ۔ بعض بہ سبب نسب ہیں ‘ بعض بوجہ رضاعت ہیں اور بعض بوجہ مصاہرت ہیں ۔

ان محرمات اور اسباب کے علاوہ اسلام نے تمام دوسری پابندیوں کو ختم کردیا ‘ جو دوسرے معاشروں کے اندر مروج تھیں ‘ مثلا وہ پابندیاں جو نسلی وجوہات کی بنا پر رائج تھیں ۔ قومی حد بندیوں کی وجہ سے رائج تھیں یا رنگ کی وجہ سے رائج تھیں یا وہ پابندیاں جو طبقاتی درجات کی وجہ سے رائج تھیں حالانکہ ان میں زوجین ایک نسل ‘ ایک وطن اور ایک علاقے کے باشندے ہوا کرتے تھے ۔ (1) (تفصیلات کے لئے دیکھئے ڈاکٹر عبدالواحد وافی کی کتاب ” خاندان اور معاشرہ “ ص 62 تا 65)

قرابت داری کی وجہ سے اسلام میں چار قسم کی عورتیں حرام ہیں ۔

(1) کسی شخص کے اصول جس قدر اوپر چلتے جائیں ‘ مثلا ماں دادیاں ‘ نانی اور یہ سب ” امہات “ کے لفظ میں شامل ہیں ۔

(آیت) ” حرمت علیکم امھتکم ” تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں ۔ “

(2) دوسری قسم کسی شخص کے فروع ہیں جس قدر نیچے چلے جائیں ۔ مثلا بیٹیوں اور بیٹیوں کی اولاد سے نکاح حرام ہے اور یہ (آیت) ” وبنتکم “ میں داخل ہیں ۔

(3) ماں اور باپ کے فروع جس قدر نیچے چلتے جائیں ۔ بہن ‘ بھانجی ‘ بھتیجی اور ان کی اولاد یہ (آیت) ” اخواتکم بنات الاخ اور (آیت) ” بنات الاخت “ میں داخل ہیں ۔

(4) نانا دادا کی پھوپھیاں اور خالائیں بھی حرام ہوں گی وغیرہ یہ سب (آیت) ” عمتکم وخلتکم “۔ میں داخل ہیں۔ لیکن اجداد کی وہ اولاد جو براہ راست نہ ہو درمیان واسطہ آجائے تو وہ جائز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چچا زاد بہن ‘ خالہ زاد ‘ پھوپی زاد کے ساتھ نکاح جائز ہے اور ان کی اولاد کے ساتھ بھی ۔

مصاہرت کی بنا پر پانچ قسم کی عورتیں حرام ہیں۔

(1) بیوی کے اصول ‘ جہاں تک اوپر کی طرف چلتے جائیں ۔ چناچہ بیوی کی ماں ‘ بیوی کی دادی ‘ بیوی کی نانی ‘ جہاں تک اوپر چلے جائیں حرام ہیں ۔ اور یہ حرمت نکاح کرتے ہیں قائم ہوجاتی ہے ۔ چاہے دخول ہوا ہو یا نہیں ۔ اور یہ (آیت) ” وامھات نسآئکم “ میں داخل ہیں۔

(2) بیوی کی فروعات جس قدر بھی نیچے جائیں ۔ مثلا بیوی کی لڑکی حرام ہے ‘ اس کی اولاد حرام ہے ‘ مرد ہو یا عورت ۔ لیکن یہ حرمت اس وقت قائم ہوتی ہے جب بیوی کے ساتھ مباشرت ہوگئی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔

(آیت) ” وربآئبکم التی فی حجورکم من نسآئکم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم “۔

”‘ اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پڑورش پائی ہو ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن وشو ہوچکا ہو ورنہ اگر تعلق زن وشو نہ ہوا تو تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔

(3) باپ دادا اور نانا کی بیویاں ‘ جس قدر اوپر چلے جائیں ۔ چناچہ باپ کی بیوی ‘ دادا ‘ اور نانا کی بیوی سے نکاح حرام ہے ۔ (آیت) ” ولا تنکحوا ما نکح ابآء کم من النسآء الا ما قدسلف “ ” اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں ان سے نکاح نہ کرو ۔ مگر جو پہلے ہوچکا ۔ “ یعنی جاہلیت میں جو ہوچکا سو ہوچکا ‘ اس لئے کہ جاہلیت …

24

۞ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۖ كِتَٰبَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ ۚ فَمَا ٱسْتَمْتَعْتُم بِهِۦ مِنْهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَٰضَيْتُم بِهِۦ مِنۢ بَعْدِ ٱلْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

پارہ نمبر 5 ایک نظر میں :

پارہ پنجم میں بھی ہم سورة نساء کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس پارے میں سورة نساء کے اہم موضوعا اور اہداف زیر بحث ہیں ‘ جن کی طرف اجمالی اشارہ پارہ چہارم کے آغاز میں کیا گیا تھا پارئہ پنجم میں بھی یہی اساسی مقاصد ہیں ۔ ان عقائد ومقاصد کے ضمن میں پھر متعدد موضوعات پر بحث چلی ہے ۔

اس پارے کے پہلے سبق میں خاندانی معاملات کی تنظیم کے باقی ماندہ امور لئے گئے ہیں اور ان تمام معاملات میں خاندان کی تنظیم ، نظام فطرت کے رجحانات اور تقاضوں کے مطابق کی گئی ہے ۔ خاندانی زندگی میں جو عارضی مشکلات ہوجایا کرتی ہیں ان میں خاندان اور عائلی زندگی کو بچانے کی تدابیر اختیار کی گئی ہیں ۔ اس طرح خاندانی نظام کو بچانے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی انتظام کیا گیا ہے کہ معاشرے میں فحاشی اور بےحیائی نہ پھیلے اور خاندانی نظام کو اور عائلی تعلقات کے تقدس کو ہر مضر اثر سے بچایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سبق میں بعض اجتماعی اور اقتصادی امور کی ضابطہ بندی بھی کی گئی ہے ۔ مثلا بعض مالی اور تجارتی امور پر بحث اور نظام وراچت کی ضابطہ بندی جس میں حقوق کا تعلق ایک خاندان پر منحصر ہوتا ہے ۔ نیز مرد اور عورت کے لئے عائلی زندگی کے دوران میں اپنے اپنے حقوق ملکیت محفوظ کئے گئے ہیں۔

یہ تمام امور اور موضوعات ‘ جس طرح کہ ہم پہلے کہہ آئے ‘ وہ انتظامات ہیں ‘ جن کے ذریعے سے اسلامی معاشرے کو تجارتی اور اقتصادی میدان میں نظام جاہلیت سے نکال کر اسلامی نظام حیات کے اندر لانا مطلوب ہے ۔ نیز بتدریج جاہلی معاشرے کے رہے سہے نشانات کو مٹانا بھی مطلوب ہے ‘ جو ابھی تک باقی تھے اور ان کی جگہ اسلامی معاشرے کے خدوخال کو اجاگر کر کے جماعت مسلمہ کو عمومی طور پر اس مقام مرتفع تک پہنچانا مقصود ہے جس میں وہ پورے عالم میں ممتاز نظر آئے ۔ چناچہ اسلامی نظام اس امت کو جاہلیت کی سطح سے بلند کرتا ہے اور اسے مزید بلندیوں پر اٹھاتا چلا جاتا ہے ۔

دوسرے سبق میں دوبارہ اسلامی تصور حیات کے اصول طے کئے گئے ہیں ۔ ان میں ایمان کی تعریف اور ایمان کی شرائط بیان کی گئی ہیں اور ایمان کے ان اصول کو دوبارہ اس لئے بیان کیا گیا ہے تاکہ جماعت مسلمہ کے اندر ‘ اجتماعی کفالت کے بعض دوسرے ضابطے وضع کئے جائیں ۔ اجتماعی کفالت کا یہ نظام پہلے خاندان کے محدود دائرے سے شروع ہوتا ہے اور پھر اس کی حدود پوری جماعت مسلمہ تک وسیع ہوجاتی ہیں ۔ اس اجتماعی کفالت اور انفاق کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ بخل اور کنجوسی کی مذمت بھی کی گئی ہے ۔ نیز دولت پر گھمنڈ کرنے ‘ اللہ کی نعمت کو چھپانے اور انفاق فی سبیل اللہ کے مقابلے میں ریاکاری کی مذمت کی گئی ہے ۔ نیز اس سبق میں عبادت الہی کے ذریعے تہذیب نفس کا طریقہ بھی سکھایا گیا ہے ‘ عبادت گزاری کے وقت جسمانی پاکیزگی کے احکام اور اسی طرح یہ حکم کہ عبادت کے وقت مسکرات سے مکمل پرہیز کی ضرورت ہے اس لئے کہ شراب نوشی اور عبادت میں تضاد ہے ۔ شراب نوشی کے متعلق یہ ابتدائی حکم تھا ‘ بعد میں شراب نوشنی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی اور یہ قرآن مجید کا خاص منہاج ہے جو وہ اصلاح کے لئے اختیار کرتا ہے یعنی تدریجی اصلاح کا طریقہ ۔

تیسرے سبق میں بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کی نسبت تمہارا موقف کیا ہونا چاہئے ۔ یہ بھی اس سورة کے اہم موضوعات میں سے ایک ہے ‘ جس میں مسلمانوں کے حوالے سے ان کی نیت کے کھوٹ اور ان کے برے منصوبوں کو طشت ازبام کیا گیا ہے ۔ ان کے اس طرز عمل پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مکاری اور کینہ پروری کو واضح کیا گیا ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں اور انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ انجام کار وہ درد ناک عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔

چوتھے سبق میں اسلام کی تعریف ‘ دین کا مفہوم اور ایمان کی شرائط کو بیان کیا گیا ہے اور یہ بات نہایت ہی فیصلہ کن اور حتمی الفاظ میں بیان کی گئی ہے …

25

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ ٱلْمُحْصَنَٰتِ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُم مِّن فَتَيَٰتِكُمُ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ ۚ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَٰنِكُم ۚ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ مُحْصَنَٰتٍ غَيْرَ مُسَٰفِحَٰتٍۢ وَلَا مُتَّخِذَٰتِ أَخْدَانٍۢ ۚ فَإِذَآ أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَٰحِشَةٍۢ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى ٱلْمُحْصَنَٰتِ مِنَ ٱلْعَذَابِ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ ٱلْعَنَتَ مِنكُمْ ۚ وَأَن تَصْبِرُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(آیت) ” ومن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المومنت فمن ما ملکت ایمانکم من فتیتکم المومنت واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض فانکحوھن باذن اھلھن واتوھن اجورھن بالمعروف محصنت غیر مسفحت ولا متخذت اخدان فاذا احصن فان اتین بفاحشۃ فعلیھن نصف ما علی المحصنت من العذاب ذالک لم خشی العنت منکم وان تصبروا خیرلکم واللہ غفور رحیم “۔ (4 : 25)

” اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات) سے نکاح کرسکے ‘ اسے چاہیے کہ تمہاری ان لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں ۔ اللہ تمہارے ایمان کا حال خوب جانتا ہے ‘ تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو ‘ لہذا ان کے سرپرستوں کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کرلو اور معروف طریقے سے ان کے مہر ادا کر دو ‘ تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں ‘ نہ آزاد شہوت رانی کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں ، پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہوجائیں اور اس کے بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو ان عورتوں (محصنات) کے لئے مقرر ہے ۔ یہ سہولت تم میں سے ان لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بند تقوی کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو ۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “۔

اسلامی نظام زندگی ‘ انسان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتا ہے ‘ جو اس کے فطری حدود کے اندر ہو ‘ اس کی وسعت اور طاقت کے مطابق ہو ‘ اس کی واقعی صورت حال کے متناسب ہو ‘ اور اس کی حقیقی ضروریات اور حاجات سے ہم آہنگ ہو ۔ اسلام کسی گمراہ انسان کو ہاتھ سے پکڑ کر گمراہی کے گڑھوں سے نکالتا ہے اور اسے اسلامی نظام حیات کی رفعت اور بلندی عطا کرتا ہے اور اس پورے عمل میں وہ اس کی فطرت اس کی قوت اس کے واقعی حالات ‘ اور اس کی حقیقی ضروریات کو ہر حال میں پیش نظر رکھتا ہے ۔ بلکہ وہ ان تمام دواعی کے تقاضے بھی پورے کرتا ہے اور اسے تدریج کے ساتھ ساتھ مقام بلند تک بھی لے جاتا ہے ۔ البتہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اسلام جاہلیت کی صورت کو کسی حالت میں بھی ایسی صورت حال تسلیم نہیں کرتا جس کے سوا چارہ کار ہی نہ ہو ‘ اس لئے کہ جاہلیت تو نام ہی گراوٹ کا ہے اور یہ انسان کو بھی گراتی ہے جبکہ اسلام کا مقصد وجود ہی یہ ہے کہ وہ اس گراوٹ سے انسانیت کو اٹھا کر مقام بلند تک لے جائے ۔ ہاں اسلام انسان کی فطرت اور حقیقت کا اعتبار کرتے ہوئے واقعیت پسند ضرور ہے ۔ اور حقیقت واقعہ یہ ہے کہ انسان بلندی اور برتری کے مقام تک چڑھنے کی قدرت بھی رکھتا ہے اور فطری داعیہ بھی ۔ واقعیت پسندی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر انسان جاہلیت کی گندگی کے اندر لت پت ہے تو اسے ایسا ہی رہنے دیا جائے ۔ (چاہے وہ کوئی جاہلیت بھی ہو) بلکہ واقعیت یہ ہے کہ انسان کی قدرت ووسعت میں یہ بات ہے کہ سربلندی حاصل کرے اور ترقی کرے اور اس کا فطری داعیہ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کے واقعات سے اچھی طرح باخبر ہے کیونکہ وہ انسان کا خالق ہے ‘ اور اس کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے ۔

اللہ ہی وہ ذات ہے جو ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو انسانوں کے دلوں میں کھٹکتی ہیں ۔ (آیت) ” الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر “۔ (67 : 14) ” کیا وہ ذات نہیں جانتی جس نے پیدا کیا اور حال یہ ہے کہ وہ نہایت ہی باریک بین اور خبردار ہے ۔ “

اسلام کے ابتدائی معاشرے میں غلام موجود تھے ‘ یہ غلام مسلمانوں اور کافروں کے درمیان ہونے والی لڑائیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتے تھے اور اس وقت تک غلام رہتے تھے جب تک ان کی غلامی کا معاملہ بین الاقوامی طور پر طے نہ ہوجائے یعنی یا ان جنگی قیدیوں کو بطور احسان مفت رہا کردیا جائے ‘ یا ان کا تبادلہ مسلمان قیدیوں کے ساتھ ہوجائے یا مالی تاوان حاصل کرکے جنگی قیدیوں کو رہا کر دیاجائے یعنی جس طرح کے حالات …

26

يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(آیت) ” یرید اللہ لیبین لکم ویھدیکم سنن الذین من قبلکم ویتوب علیکم واللہ علیم حکیم (26) واللہ یرید ان یتوب علیکم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما (27) یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “۔ (28)

” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی ۔ ہاں ‘ اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ ، اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔ “

اللہ جل شانہ اپنے بندوں کے ساتھ بہت ہی نرمی برتتے ہیں ‘ اس لئے وہ ان کے سامنے اپنی حکمت قانون سازی بھی کھول کر بیان فرماتے ہیں ۔ وہ ان کو بتاتے ہیں کہ اپنے بندوں کے لئے وہ جو نظام زندگی تجویز کرتے ہیں اس میں ان کے لئے خیر ہی خیر ہے اور سہولت ہی سہولت ہے ۔ وہ ان کو اس ممتاز اور بلند مقام پر فائز کرکے ان کی عزت افزائی کر رہے ہیں ‘ وہ بلند مقام جس میں وہ خود ان سے ہمکلام ہوتے ہیں ‘ اور وہ ان کو اپنی حکمت تشریعی بتاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ وہ ان کے سامنے اظہار خیال کرتے ہیں (آیت ) ” یرید اللہ لیبین “۔ (4 : 26) ” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے “ اس کا ارادہ ہے کہ وہ تم پر اپنی حکمت و دانائی کا انکشاف کرے ۔ وہ چاہتا ہے کہ تم اس حکمت کو بچشم سر دیکھو ‘ اس پر غور کرو ‘ اور اسے اس حال میں قبول کرو کہ تمہاری آنکھیں کھلی ہوں ‘ تمہارے دل آمادہ ہوں اور تمہاری عقل انہیں تسلیم کر رہی ہو ‘ اس لئے کہ اسلامی نظام حیات کے احکام معموں اور پہیلیوں پر مبنی نہیں ہیں ۔ وہ محض آمرانہ احکام نہیں جن کی نہ حکمت ہو اور نہ ہی ان کے کچھ مقاصد ہوں ۔ تم تو ان احکام کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہو تم اس حکمت اور فلسفے کو بھی پاسکتے ہو جو ان احکام کی تہہ میں کار فرما ہے ۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اللہ حکیم ہے ‘ یہ انسان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے اور اس کی حقیقت کو وہی شخص جانتا ہے جو حقیقت الوہیت اور حقیقت بندگی کو اچھی طرح جان سکتا ہو ‘ غرض جو شخص یہ ادراک رکھتا ہو ‘ وہی اللہ کی اس شان کریمی اور مقام لطف وکرم کو سمجھ سکتا ہے ۔

(آیت) ” ویھدیکم سنن الذین من قبلکم “۔ (4 : 26) ” اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ “ تو گویا یہی وہ منہاج حیات ہے جسے اللہ نے تمام مومنین کے لئے جاری کیا ہے ۔ وہ ایک ایسا منہاج ہے جس کی بنیادیں بہت ہی مستحکم ہیں جس کے اصول ایک ہیں ‘ جس کے مقاصد اور اہداف ہم آہنگ ہیں ‘ اور یہی منہاج جماعت مومنہ کا نظام زندگی ہے ‘ زمانہ ماضی میں بھی اور زمانہ مستقبل میں بھی ‘ اور یہی امت مسلمہ کا منہاج ہے جو صدیوں سے ایک امت چلی آرہی ہے ۔

یوں وہ تمام لوگ ‘ قرآن کریم کی نظروں میں ایک ہیں ‘ جنہوں نے راہ ہدایت کو پایا چاہے وہ جس دور میں ہوں اور جس جگہ ہوں اور پھر قرآن کریم یہ قرار دیتا ہے کہ ہر دور میں اور ہر جگہ اسلامی نظام زندگی بھی ایک رہا ہے ۔ اسی طرح زندگی کی طویل شاہراہ پر وہ قافلہ ایمان بھی ایک ہی ہے جو مسلسل حرکت میں ہے ۔ یہ وہ جھلک ہے ‘ جو ایک مسلمان کو یہ شعور عطا کرتی ہے کہ اس کی اصلیت کیا ہے ‘ اس کی امت اور پارٹی کیا ہے اس کا منہاج اور طریقہ زندگی کیا ہے ؟ ایک مومن یہ شعور پاتا ہے کہ وہ اس امت کا فرد ہے جو مومن باللہ ہے ‘ اس امت کا باہم رابطہ ” الہی منہاج “ زندگی ہے ۔ زمان ومکان کے بڑے اختلاف کے باوجود یہ رابطہ قائم رہتا ہے ‘ رنگوں اور ملکوں کے اختلاف اور دوری کے باوجود یہ تعلق قائم ودائم رہتا ہے اور ہر قوم اور ہر قبیلے کے مومنین کے درمیان …

27

وَٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلشَّهَوَٰتِ أَن تَمِيلُوا۟ مَيْلًا عَظِيمًۭا

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

(آیت) ” واللہ یرید ان یتوب علیم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما “۔ (4 : 27) ” اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ ۔ “

اس مختصر اور ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے لئے کیا چاہتے ہیں اور کیسے نظام کے ذریعے چاہتے ہیں کس طریقے سے چاہتے ہیں ؟ اور جو لوگ نظام زندگی کو صرف جنسی تعلقات (Sex) پر استوار کرنا چاہتے ہیں اور جو انسانوں کو اسلامی نظام زندگی سے ہٹانا چاہتے ہیں وہ انسان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی اسلامی منہاج سے ہٹ کر کسی دوسرے منہاج کو اختیار کرتے ہیں ان کا نظام شہوات پر مبنی ہوتا ہے ۔ صرف ایک اسلامی نظام زندگی ہی ہے جو سنجیدگی ‘ سچائی راستی اور احساس ذمہ داری پر مبنی ہے۔ باقی جس قدر نظام ہیں وہ اتباع نفس ‘ اطاعت شہوت اور فسق وفجور اور کج روی وگمراہی پر مبنی ہیں ۔

اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے منہاج سے اچھی طرح آگاہ کر رہا ہے اپنے طریقے تشریح کے ساتھ بیان کرتا ہے تو اس سے اس کی غرض کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ انسانوں پر رحمت اور شفقت کرنے کا ارادہ کرتا ہے ۔ وہ تمہیں راہ راست کی نشاندہی کرتا ہے ۔ وہ تمہیں آگاہ کرتا ہے کہ زندگی کی راہوں میں فلاں مقامات ہیں جہاں پھسلنے کا خطرہ ہے ۔ وہ سربلندی اور ترقی میں تمہاری امداد کرنا چاہتا ہے تاکہ تم بلندی کی انتہاؤں کو چھو سکو۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ اپنے نظاموں کو صرف شہوات کی تلاش پر رکھتے ہیں اور وہ لوگوں کے لئے شہوت پر مبنی نظامہائے زندگی تجویز کرتے ہیں اور انہیں خوب سجاتے ہیں جن کی اسلامی نظام حیات کی رو سے کوئی گجائش نہیں ہے ۔ اللہ نے ان کی اجازت دی ہے نہ اسے جائز قرار دیا ہے ۔ یہ لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان راہ راست سے ہٹ کر دور تک گمراہی کی راہوں پر نکل جائیں اور اسلامی نظام زندگی اور اس کی انتہائی بلندیوں سے محروم ہوجائیں۔

زندگی کے اس شعبے میں جس کی سابقہ آیات میں ہدایات دی گئیں ‘ یعنی خاندان کی شیرازہ بندی ‘ سوسائٹی کی طہارت ‘ مرد وزن کے باہمی تعلقات کے لئے واحد پاک وصاف طریقہ کار کے تعین اور اس کے سوا تمام طریقوں کے ساتھ جنسی ملاپ کی حرمت ‘ ان کی مذمت اور مسلمانوں کی فکر ونظر میں ان کی گراوٹ و قباحت کا شعور پیدا کرنے کے لئے اس شعبے میں اللہ تعالیٰ کا منصوبہ کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور ان لوگوں کا منصوبہ کیا ہے جو صرف شہوت رانی پر انسانی سوسائٹی کو استوار کرنا چاہتے ہیں ؟

اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا جو منصوبہ ہے ‘ اس کا بیان تو سابقہ آیات میں تفصیل کے ساتھ کردیا گیا ‘ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرد وزن کے اس تعلق کو منظم کرنا چاہتے ہیں ۔ اس تعلق کو پاک وصاف اور مقدس بنانا چاہتے ہیں اور اسے اس طرح استوار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جماعت مسلمہ کے لئے ہر حال میں خیر ہی خیر ہو۔

رہے وہ لوگ جو صرف شہوت رانی چاہتے ہیں تو وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ یہ فطری میلانات ہر طرح سے بےقید ہوجائیں ۔ ان پر نہ کوئی دینی پابندی ہو ‘ نہ اخلاقی پابندی ہو اور نہ کوئی اجتماعی پابندی ہو ۔ وہ چاہتے ہیں کہ شہوت کی یہ بھٹی بلاروک وٹوک گرم سے گرم تر ہوتی چلی جائے اس پر کسی قسم کا قدغن نہ ہو ‘ اور وہ اس قدر گرم ہو کہ ہر دل بےقرار ہوجائے ‘ اعصاب پر کوئی کنٹرول نہ رہے اور اس طرح کوئی گھر مطمئن نہ ہو ۔ کسی کی عزت محفوظ نہ رہے ‘ کسی خاندان کا وجود باقی نہ رہے اور انسانوں کی حالت یہ ہوجائے کہ ہو جانووں کا گلہ بن جائیں اور پھر ان کے نر (MAle) جانور مادہ (FemAle) جانوروں کو دیکھتے ہی ان پر ٹوٹ پڑیں ان کے لئے قوت ‘ وسائل اور تدبیر کے سوا کوئی ضابطہ نہ ہو ‘ یوں پورا معاشرہ ہل جائے ۔ ہر طرف فساد ہی فساد ہو ‘ آزادی کے نام پر ہر طرف شر و فساد برپا ہو …

28

يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ ٱلْإِنسَٰنُ ضَعِيفًۭا

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے

(آیت) ” یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “۔ (4 : 28) ” اللہ تم پر عائد شدہ پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔ “

گزشتہ آیات میں خاندانی نظام کے بارے میں جو احکام دیئے گئے ہیں اور قانون سازی کی گئی ہے اور جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں تو تخفیف بالکل واضح نظر آتی ہے ۔ مثلا انسان کے فطری میلانات اور جنسی خواہش کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ صرف اس جذبے کو منظم کر کے اس اک رخ تعمیری خطوط کیطرف موڑ دیا گیا ہے جس کے استعمال کے لئے پاک وصاف دائرہ کار مقرر کردیا گیا ہے ۔ اس کے لئے پاک وصاف اور بہترین ماحول بنایا گیا ہے ‘ اور یہ حکم نہیں دیا گیا کہ انسان اپنی اس فطری خواہش کو دبائے یا اس کا قلع قمع کر دے یا اسے اس طرح آزاد چھوڑ دے کہ وہ حیوانی سطح تک گر جائے اور اس کے لئے کوئی حد اور قید نہ ہو ۔

خاندانی زندگی کے علاوہ اسلامی نظام زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی قانون سازی کے سلسلے میں تخفیف اور آسانی ہر جگہ صاف نظر آتی ہے ۔ انسانی فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ انسان کی طاقت اور وسعت کو پیش نظر رکھا گیا ہے انسانی حاجات اور ضروریات کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور انسان کی تمام تعمیری قوتوں کو آزاد چھوڑا گیا ہے ۔ تاہم ان کے استعمال کے لئے ایسے حدود وقیود رکھے ہیں جن کی وجہ سے ان کے غلط استعمال کی نوبت ہی نہیں آتی ۔

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مردوزن کے جنسی تعلقات پر اسلام نے جو قیود عائد کی ہیں ان کی پابندی بہت ہی دشوار ہے اور جو لوگ آزاد شہوت رانی کے اصول پر چلتے ہیں ان کے ساتھ چلنا آسان اور فرحت بخش ہے ۔ یہ ایک عظیم غلط فہمی ہے اس لئے کہ جنسی تعلق کو بالکل آزاد چھوڑنا ‘ مرد وزن کے تعلق میں صرف لذت اندوزی کو اختیار کرنا ‘ اور عالم انسانیت میں جنسی ملاپ کو اس سطح تک لے آنا جس طرح حیوانوں میں جنسی ملاپ ہوتا ہے ‘ اور اس طرح ان تمام فرائض اور واجبات اور اجتماعی ذمہ داریوں کو ختم کردینا اور مرد وزن کے اس تعلق کو ہر قسم کے قید وبند سے آزاد کردیتا خواہ وہ اخلاقی قید ہو یا اجتماعی ‘ یہ تمام باتیں بظاہر تو بہت آسان ‘ پرکیف اور خوش کن تصور کی جائیں گی لیکن اپنے حقیقی نتائج کی روشنی میں وہ بہت ہی بھاری جان توڑ اور تباہ کن ہیں اور ایک فرد اور ایک معاشرے پر اس کے جو برے اثرات پڑتے ہیں ان کے نتائج سخت اذیت ناک مہلک اور تباہ کن ہوتے ہیں ۔ وہ معاشرے ‘ جنہوں نے جنسی آزادی کی اس بےراہ روی کو اپنایا ہے اور دینی اخلاق اور شرم وحیا کے قیود سے آزادہو گئے ہیں ‘ ان کے حالات پر ایک سرسری نظرڈالنے سے دل کانپ اٹھتا ہے بشرطیکہ دل میں زندگی کی رمق باقی ہو ۔

دنیا میں جو جو قدیم تہذیبیں نیست ونابود ہوئیں ‘ ان کی بربادی کا عامل اساسی ان کی جنسی بےراہ روی ہی تھی ۔ خواہ یہ تہذیب یونانی تہذیب ہو ‘ رومی تہذیب ہو یا قدیم ایرانی تہذیب ہو ‘ ان سب کے زوال کا اساسی سبب انکی جنسی بےراہ روی ہی تھی ۔ آج ہمارے دور میں مغربی تہذیب میں جو شکست وریخت ہورہی ہے وہ بھی اسی جنسی انارکی کی وجہ سے ہے ۔ خصوصا آج کے فرانسیسی معاشرے کی تباہی کے آثار تو بالکل ظاہر ہیں ‘ جس نے اس جنسی انار کی کو سب سے پہلے اپنایا ۔ تہذیب جدید کے دیگر ممالک ‘ امریکہ ‘ سویڈن ‘ برطانیہ ‘ اور دوسری نام نہاد ترقی یافتہ مغربی سوسائیٹوں میں اس شکست وریخت کے آثار نمودار ہوگئے ہیں فرانس میں اس جنسی انار کی کے آثار بہت پہلے نمودار ہوئے تھے ۔ 1870 کے بعد فرانس نے جس قدر جنگوں میں بھی حصہ لیا ‘ ان میں اسے دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ تمام آثار و شواہد اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں فرنچ سوسائٹی مکمل طور پر تباہی کے کنارے کھڑی ہے اور پہلی عالمی جنگ کے بعد یہ آثار اچھی طرح کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔ مولانا مودودی (رح) لکھتے ہیں :

” شہوانیت کے اس تسلط کا اولین نتیجہ یہ ہے کہ فرانسیسیوں کی جسمانی قوت رفتہ رفتہ جواب …

29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٍۢ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًۭا

مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے

آیات کا یہ سلسلہ اسلامی معاشرے کی تربیت کے ساتھ بھی متعلق ہے اور اسلامی نظام کے شعبہ قانون سے بھی اس کا تعلق ہے ۔ اسلامی نظام زندگی میں تربیت ‘ اصلاح اور قانون ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں ‘ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تکمیلی حیثیت رکھتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ایک کے سوا دوسرا مکمل نہیں ہو سکتا قانون سازی سے غرض یہ ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے کی تربیت اور اصلاح کی جائے اور لوگوں کی زندگی کے معاملات کو ایک ضابطے کے تحت لایا جائے ۔ قانون سازی کے اندر ایسی ہدایات بھی دی جاتی ہیں جن میں انسانی ضمیر کی تربیت مطلوب ہوتی ہے ۔ پھر اس قانون سازی میں اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے کہ قانون کا نفاذ بھی اچھی طرح ہو سکے اور خود اسلامی معاشرے کا شعور قانون کے نفاذ کے لئے تیار ہو اور معاشرہ یہ سمجھتا ہو کہ اس قانون کے توڑنے میں نہیں بلکہ اس کے نفاذ میں ہماری مصلحت ہے۔ اسی لئے اسلامی نظام حیات میں قانون سازی اور اصلاح وہدایت ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ دلوں کو اللہ سے جوڑا جاتا ہے ۔ اور ان میں یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ یہ ضابطہ اور یہ قانون اسی رب ذوالجلال کی طرف سے ہے جو ہمیں ہدایت دے رہا ہے ۔ یہ صرف اسلامی نظام زندگی کا خاصہ ہے کہ اس میں اجتماعی نظام کی اطاعت از خود کی جاتی ہے ۔ اور اسلامی نظام کی یہ جامعیت انسان کی واقعی اور عملی زندگی کے لئے نہایت ہی مفید ہے ۔ اس سے انسانی ضمیر کی اصلاح بھی ہوتی رہتی ہے اور قانون پر عمل بھی ۔

آیات کے اس حصے میں ہمیں حکم دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے مال ناجائز طور پر نہ کھائیں اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ دوسروں کا مال باہم رضا مندی سے تجارتی لین دین کے ذریعے ہی لیا جاسکتا ہے اور دوسروں کے مال کو ناجائز طور پر کھانے کے فعل کو انسان کے قتل سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ فعل ہلاکت اور تباہی ہے ۔ اس کے ساتھ لوگوں کو عذاب آخرت سے بھی ڈرایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جو شخص ظالمانہ طور پر دوسروں کا مال کھائے گا وہ آگ کو ضرور چھوئے گا ۔ اس وعید کے ساتھ ہی امید کی کرن بھی چمکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نرمی اور عفو و درگزر کا وعدہ بھی فرماتے ہیں اور انسان کی کمزوری اور اس کی تقصیرات کو معاف کرنے کی راہ میں بھی بتلاتے ہیں ۔ نیز دنیا میں احساس محرومی کو کم کرنے کے لئے خودی کا سبق دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر معاشرے میں کچھ لوگ خوش حال ہیں تو ان کی طرف للچائی ہوئی نظروں کے ساتھ نہ دیکھو ۔ ذات باری کو ہدف نظر بناؤ اس لئے کہ وہی تو ہے جو ان کو دینے والا ہے ۔ اس لئے تمہیں بھی جو کچھ مانگنا ہے اسی سے مانگو ۔ یہاں یہ بات بھی صاف کی جاتی ہے کہ اللہ سے مرد و عورت دونوں مانگ سکتے ہیں ۔ مردوں نے جو کچھ کمایا تو وہ انہی کا ہوگا اور عورتوں نے جو کچھ کمایا وہ انہی کا ہوگا ۔ اور مردوں اور عورتوں دونوں کی کمائی کے بارے میں اللہ کو خوب علم ہے ۔ اسی طرح اگر لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ” ولایت ارث “ کے معاہدے کر رکھے ہیں تو ان معاہدوں پر اچھی طرح عمل کیا جائے اس لئے کہ دوسرے گواہوں کے ساتھ ان پر اللہ بذات خود بھی گواہ ہے ۔ یہ ہیں موثر وجدانی اشارے اور جھلکیاں جن کے اندر قانون سازی بھی موجود ہے یہ ہیں وہ ہدایات جو انسان کی تربیت کے لئے اللہ علیم وخبیر نے بھیجی ہیں جو انسان کی جسمانی تخلیق سے بھی باخبر ہے ۔ اور اس کے نفسیاتی میلانات سے بھی اچھی طرح واقف ہے ۔ جو انسان کی ذہنی راہوں اور نشیب و فراز سے بھی اچھی طرح واقف ہے ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما (29) ومن یفعل ذالک عدوانا وظلما فسوف نصلیہ نارا وکان ذلک علی اللہ یسیرا (30)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ ‘ اپنے آپ کو قتل نہ کرو ‘ …

30

وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَٰنًۭا وَظُلْمًۭا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًۭا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًا

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

(آیت) ” ومن یفعل ذلک عدوانا وظلما فسوف نصلیہ نارا وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 30) ”

” جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “

اسلامی نظام حیات نفس انسانی کو اس کے ایک وسیع دائرے تک لے جاتا ہے یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دونوں جہانوں کو پیش نظر رکھ کر اس کے لئے ضابطہ بندی کی جاتی ہے اور اسے ہدایات دی جاتی ہیں ۔ نفس انسانی کے اندر ایک بیدار اور محتاط چوکیدار بٹھایا جاتا ہے جو ہر ہدایت کو بسروچشم قبول کرتا ہے اور ہر اسلامی قانون کو بطیب خاطر نافذ کرتا ہے ۔ پھر اسلامی سوسائٹی میں بھی ہر شخص کو دوسرے کے لئے نگران بنایا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اجتماعی طور پر بھی مسئول ہیں ۔ اگر ظلم ہوگا تو سوسائٹی کے تمام افراد گویا قتل ہوں گے اور ان پر تباہی آئے گی ، یعنی اس دنیا میں اور آخرت میں تمام ان لوگوں سے محاسبہ ہوگا جنہوں نے اپنی سوسائٹی کو ظالمانہ روش پر رہنے دیا اور اس کے باطل طور طریقوں کے بدلنے کے لئے جدوجہد نہ کی ۔ (آیت) ” وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 30) ”

” اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے “۔ اسے دنیاوی تباہی لانے اور آخری محاسبہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ نہ اس کی راہ میں کوئی حائل ہو سکتا ہے اور جب تباہی کے اسباب مہیا ہوجائیں تو اللہ کی سنت یہی ہے کہ پھر وہ آکر رہتی ہے ۔

لیکن اگر تم لوگ ممنوعات میں سے بڑی بڑی ممنوعہ چیزوں سے اجتناب کرو ‘ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کے اموال کو ظالمانہ طریقے سے کھانا اور ان کا استحصال کرنا چھوڑ دو ‘ تو اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت تمہارے شامل حال رہے گی ۔ تمہارے ساتھ نرم سلوک کیا جائے گا تمہارے دلوں کے اطمینان کے لئے اور آگ سے تمہیں بچانے کے لئے تمہارے وہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے جو کبائر نہیں ہیں بشرطیکہ تم ارتکاب ظلم اور ارتکاب فواحش سے اجتناب کرو۔

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.