Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 21–30 of 176

21

وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُۥ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَٰقًا غَلِيظًۭا

اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہیں ہے حلال تمھارے لیے یہ کہ وارث ہو جاؤ تم عورتوں کے زبردستی اور نہ روکو تم انھیں تاکہ لے لو تم کچھ (حصہ) اس (حق مہر) کا جو دیا تم نے ان کو۔ مگر یہ کہ کریں وہ بے حیائی کھلی کا کام۔ اور گزر بسر کرو تم ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے۔ پس اگر ناپسند کرو تم ان کو تو شاید کہ ناپسند کرو تم کسی چیز کو اور کر دے اللہ اس میں بھلائی بہت (19) اور اگر چاہو تم بدلنا ایک بیوی کا ایک بیوی کی جگہ اور دیا ہو تم نے ایک کو ان میں سے بہت سا مال، پس نہ (واپس) لو تم اس میں سے کچھ بھی۔ کیا لو گے تم اسے بہتان باندھ کر اور گناہ صریح سے؟(20) اور کیسے لو گے تم اسے، جبکہ ملاپ کر چکا ہے ایک تمھارا دوسرے سےاور لیا ہے ان عورتوں نے تم سے عہد پختہ(21)

[19] زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی شخص مر جاتا اور اپنے پیچھے بیوی چھوڑتا تو مرنے والے کا کوئی قریبی مثلاً بھائی یا چچا زاد بھائی وغیرہ سمجھتا تھا کہ وہ اس عورت کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ چنانچہ عورت خواہ پسند کرتی یا ناپسند کرتی وہ اس عورت پر قبضہ کر لیتا تھا اور اسے کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کرنے دیتا۔ اگر وہ چاہتا تو وہ اس کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق حق مہر پر اس سے نکاح کر لیتا۔ اور اگر وہ اسے پسند نہ کرتا تو اسے نکاح کرنے سے روک دیتا اور صرف اسی کے ساتھ اس کا نکاح کرتا جسے وہ خود منتخب کرتا اور بسااوقات وہ اس کا نکاح اس وقت تک نہ ہونے دیتا جب تک وہ مرنے والے شوہر کی میراث یا مہر میں سے اسے کچھ نہ دے دیتی۔ نیز وہ اپنی ناپسندیدہ بیوی کو بھی روک رکھتا اور دوسری جگہ نکاح نہ کرنے دیتا تاکہ وہ اپنا حق مہر اور وہ سامان ساتھ نہ لے جائے جو اس نے اسے عطا کیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور سے اہل ایمان کو منع کیا ہے۔ سوائے مندرجہ ذیل دو حالتوں کے۔۱۔ جب عورت برضا و رغبت اپنے سابقہ شوہر کے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ نکاح کر لے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ كَرۡهًا ﴾ کا مفہوم مخالف ہے۔۲۔ جب واضح بدکاری مثلاً زنا وغیرہ کا ارتکاب کرے اور فحش گوئی کے ذریعے سے اپنے شوہر کو اذیت دے، تو اس صورت میں خاوند کا اس کو اس کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر، دوسری جگہ شادی کرنے سے روکنا جائز ہے، تاکہ وہ خاوند سے وصول کردہ مال واپس کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ (یہ گویا خلع کی صورت ہے جس میں خاوند حق مہر وغیرہ واپس لے سکتا ہے)لیکن شرط یہی ہے کہ یہ روکنا عدل و انصاف کے مطابق ہو۔﴿ وَعَاشِرُوۡهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور ان سے اچھے طریقے سے گزران کرو‘‘ یہ حکم قولی اور فعلی دونوں قسم کی معاشرت (گزران)کو شامل ہے، پس شوہر پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے، اسے کوئی اذیت نہ دے اس کے ساتھ بھلائی اور حسن معاملہ سے پیش آئے۔ اس میں نان و نفقہ، اور لباس وغیرہ سب شامل ہے۔ پس زمان و مکان کے احوال کے مطابق شوہر کا بیوی سے معروف طریقے سے پیش آنا فرض ہے اور اسی طرح بیوی پر بھی فرض ہے۔ یہ چیز احوال کے تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتی ہے۔﴿ فَاِنۡ كَرِهۡتُمُوۡهُنَّ فَعَسٰۤى اَنۡ تَؔكۡرَهُوۡا شَيۡـًٔـا وَّيَجۡعَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ خَيۡرًا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اگر تم انھیں ناپسند کرو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا جانو اور اللہ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے‘‘ یعنی اے شوہرو تم اپنی بیویوں کو ناپسند کرنے کے باوجود اپنے پاس رکھو کیونکہ ایسا کرنے میں خیر کثیر ہے۔ مثلاً، اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی وصیت کو قبول کرنا ہے، جس کے اندر دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔۳۔ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ عدم محبت کے باوجود اپنے آپ کو اس کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، اس میں مجاہدۂ نفس بھی ہے اور خلق جمیل سے آراستہ ہونا بھی۔۴۔ بسااوقات ناپسندیدگی زائل ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ محبت لے لیتی ہے جیسا کہ فی الواقع ہوتا ہے۔۵۔ اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں …

22

وَلَا تَنكِحُوا۟ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةًۭ وَمَقْتًۭا وَسَآءَ سَبِيلًا

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا

اور نہ نکاح کرو تم ان سے کہ نکاح کیا تمھارے باپوں نے جن عورتوں سے مگر جو پہلے گزر گیا، بلاشبہ یہ ہے بے حیائی کا کام اور ناراضی کی بات اور برا ہے طریقہ(22)

[22] یعنی ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمھارے باپ اور دادا نکاح کر چکے ہوں ﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ﴾ ’’یہ بہت قبیح کام ہے‘‘ اور اس کی قباحت بہت بڑھی ہوئی ہے ﴿ وَّمَقۡتًا ﴾ تمھارے لیے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کی ناراضی کا باعث ہے۔ بلکہ اس کے سبب سے بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے ناراض ہو جاتا ہے، حالانکہ بیٹے کو باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم ہے ﴿ وَسَآءَؔ سَبِيۡلًا﴾(اس راستے پر) چلنے والے کے لیے یہ برا راستہ ہے۔ کیونکہ یہ جاہلیت کی قبیح رسم و عادات ہیں جن سے (معاشرے کو) پاک کرنے کے لیے اسلام آیا ہے۔

یہ آیات کریمہ نسبی محرمات، رضاعی محرمات اور سسرالی قرابت کی بنا پر محرمات، جمع کرنے کی بنا پر محرمات اور حلال عورتوں کے احکام پر مشتمل ہے۔

23

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَٰتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَٰتُكُمْ وَعَمَّٰتُكُمْ وَخَٰلَٰتُكُمْ وَبَنَاتُ ٱلْأَخِ وَبَنَاتُ ٱلْأُخْتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِىٓ أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِى فِى حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِى دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا۟ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَٰٓئِلُ أَبْنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنْ أَصْلَٰبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا۟ بَيْنَ ٱلْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا

تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

حرام کی گئی ہیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں اور تمھاری پھوپھیاں اور تمھاری خالائیں اور (بھتیجیاں) بیٹیاں بھائیوں کی اور (بھانجیاں) بیٹیاں بہنوں کی اور تمھاری مائیں وہ جنھوں نے دودھ پلایا تمھیں اور تمھاری بہنیں رضاعی اور (ساسیں) مائیں تمھاری بیویوں کی اور تمھاری سوتیلی بیٹیاں وہ جو (پرورش پائیں) تمھاری گودوں میں، ان عورتوں (کے بطن) سے کہ صحبت کی تم نے ان سے، پس اگر نہیں صحبت کی تم نے ان سے تو نہیں گناہ تم پراور (بہوئیں) بیویاں تمھارے بیٹوں کی، جو تمھاری پشتوں سے ہیں۔ اور (حرام ہے تم پر) جمع کرنا تمھارا درمیان دو بہنوں کے مگر جو پہلے گزر گیا، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا بڑا مہربان(23) اور (حرام ہیں) شادی شدہ عورتیں (بھی) مگر جن کے مالک ہوں تمھارے دائیں ہاتھ (یہ) لکھ دیا ہے اللہ نے تم پراور حلال کر دی گئی ہیں تمھارے لیے جو علاوہ ہیں ان کے (بشرطیکہ) تلاش کرو تم اپنے مالوں کے بدلے، نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے، پس جو فائدہ اٹھایا تم نے اس کے بدلے ان سے تو دو تم ان کو مہر ان کے مقرر شدہ اور نہیں گناہ تم پر اس (کمی بیشی) میں کہ باہم راضی ہو جاؤ تم ساتھ اس کے، بعد مقرر کر لینے کے، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(24)

[23] نسب کے اعتبار سے حرام عورتیں سات ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے:(۱)ماں : اس میں ہر وہ عورت داخل ہے جس سے آپ پیدا ہوئے ہیں خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر چلی جائیں۔(۲)بیٹی : بیٹی کے رشتے میں ہر وہ عورت داخل ہے جس کو آپ نے جنم دیا ہے۔(۳) بہن : اس رشتے میں تمام حقیقی، اخیافی (ماں شریک) اور علاتی (باپ شریک)بہنیں شامل ہیں۔(۴)پھوپھی : ہر وہ عورت جو آپ کے باپ یا دادا کی بہن ہے خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں۔(۵)خالہ : ہر وہ عورت جو آپ کی ماں یا آپ کی نانی کی بہن ہے خواہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں، خواہ وہ وارث ہے یا نہیں ہے۔(۷،۶) اسی طرح بھائی کی بیٹیاں (بھتیجیاں) اور بہن کی بیٹیاں (بھانجیاں) خواہ کتنی ہی دور تک نیچے چلی جائیں۔یہ وہ سات محرمات ہیں جو نسب کے اعتبار سے حرام ہیں اور ان کی حرمت پر علماء کا اجماع ہے جیسا کہ آیت کریمہ کی نص سے ظاہر ہے۔ ان مذکورہ عورتوں کے علاوہ دیگر عورتیں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہیں ﴿ وَاُحِلَّ لَكُمۡ مَّؔا وَرَآءَؔ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’ان محرمات عورتوں کے سوا دیگر تمام عورتیں تمھارے لیے حلال کر دی گئیں‘‘ مثلاً: پھوپھی کی بیٹی، چچا کی بیٹی، ماموں کی بیٹی اور خالہ کی بیٹی۔جہاں تک رضاعت کے اعتبار سے محرمات کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں رضاعی ماں اور رضاعی بہن کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اس تحریم میں رضاعی ماں کی ماں بھی شامل ہے حالانکہ حرمت کا باعث دودھ اس کا نہیں بلکہ وہ تو دودھ کے مالک یعنی رضاعی ماں کے شوہر کا ہے۔ یہ تنبیہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رضاعی ماں کا شوہر (یعنی دودھ کا مالک) دودھ پینے والے کا (رضاعی) باپ ہے۔ جب رضاعی باپ ہونا اور ماں ہونا ثابت ہو گیا تو ان کی بہنوں وغیرہ اور ان کے اصول و فروع کی حرمت ثابت ہوگئی۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’یَحْرُمُ مِنَ الرِّضَاعِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ‘ (صحیح مسلم، الرضاع، باب يحرم من الرضاعۃ.....، حديث: 1444 و سنن النسائی، النکاح، يحرم من الرضاع، حديث: 3304)’’جو رشتہ نسب کے اعتبار سے حرام ہے وہ رشتہ رضاعت کے اعتبار سے بھی حرام ہے۔‘‘ پس یہ تحریم دودھ پلانے والی کی جہت سے اور اس کے خاوند کی جہت سے پھیلے گی۔ جیسا کہ وہ تحریم نسبی اقارب میں پھیلتی ہے اور یہ تحریم دودھ پینے والے بچے میں صرف اس کی اولاد تک پھیلے گی۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ بچے نے اپنے دو سال کی عمر میں کم از کم پانچ بار دودھ پیا ہو۔ جیسا کہ سنت نے واضح کیا ہے۔سسرالی قرابت کے اعتبار سے حرام رشتے چار ہیں۔باپ دادا کی بیویاں ۔ …

24

۞ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۖ كِتَٰبَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا۟ بِأَمْوَٰلِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ ۚ فَمَا ٱسْتَمْتَعْتُم بِهِۦ مِنْهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَٰضَيْتُم بِهِۦ مِنۢ بَعْدِ ٱلْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

حرام کی گئی ہیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں اور تمھاری پھوپھیاں اور تمھاری خالائیں اور (بھتیجیاں) بیٹیاں بھائیوں کی اور (بھانجیاں) بیٹیاں بہنوں کی اور تمھاری مائیں وہ جنھوں نے دودھ پلایا تمھیں اور تمھاری بہنیں رضاعی اور (ساسیں) مائیں تمھاری بیویوں کی اور تمھاری سوتیلی بیٹیاں وہ جو (پرورش پائیں) تمھاری گودوں میں، ان عورتوں (کے بطن) سے کہ صحبت کی تم نے ان سے، پس اگر نہیں صحبت کی تم نے ان سے تو نہیں گناہ تم پراور (بہوئیں) بیویاں تمھارے بیٹوں کی، جو تمھاری پشتوں سے ہیں۔ اور (حرام ہے تم پر) جمع کرنا تمھارا درمیان دو بہنوں کے مگر جو پہلے گزر گیا، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا بڑا مہربان(23) اور (حرام ہیں) شادی شدہ عورتیں (بھی) مگر جن کے مالک ہوں تمھارے دائیں ہاتھ (یہ) لکھ دیا ہے اللہ نے تم پراور حلال کر دی گئی ہیں تمھارے لیے جو علاوہ ہیں ان کے (بشرطیکہ) تلاش کرو تم اپنے مالوں کے بدلے، نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے، پس جو فائدہ اٹھایا تم نے اس کے بدلے ان سے تو دو تم ان کو مہر ان کے مقرر شدہ اور نہیں گناہ تم پر اس (کمی بیشی) میں کہ باہم راضی ہو جاؤ تم ساتھ اس کے، بعد مقرر کر لینے کے، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(24)

[23] نسب کے اعتبار سے حرام عورتیں سات ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے:(۱)ماں : اس میں ہر وہ عورت داخل ہے جس سے آپ پیدا ہوئے ہیں خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر چلی جائیں۔(۲)بیٹی : بیٹی کے رشتے میں ہر وہ عورت داخل ہے جس کو آپ نے جنم دیا ہے۔(۳) بہن : اس رشتے میں تمام حقیقی، اخیافی (ماں شریک) اور علاتی (باپ شریک)بہنیں شامل ہیں۔(۴)پھوپھی : ہر وہ عورت جو آپ کے باپ یا دادا کی بہن ہے خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں۔(۵)خالہ : ہر وہ عورت جو آپ کی ماں یا آپ کی نانی کی بہن ہے خواہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں، خواہ وہ وارث ہے یا نہیں ہے۔(۷،۶) اسی طرح بھائی کی بیٹیاں (بھتیجیاں) اور بہن کی بیٹیاں (بھانجیاں) خواہ کتنی ہی دور تک نیچے چلی جائیں۔یہ وہ سات محرمات ہیں جو نسب کے اعتبار سے حرام ہیں اور ان کی حرمت پر علماء کا اجماع ہے جیسا کہ آیت کریمہ کی نص سے ظاہر ہے۔ ان مذکورہ عورتوں کے علاوہ دیگر عورتیں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہیں ﴿ وَاُحِلَّ لَكُمۡ مَّؔا وَرَآءَؔ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’ان محرمات عورتوں کے سوا دیگر تمام عورتیں تمھارے لیے حلال کر دی گئیں‘‘ مثلاً: پھوپھی کی بیٹی، چچا کی بیٹی، ماموں کی بیٹی اور خالہ کی بیٹی۔جہاں تک رضاعت کے اعتبار سے محرمات کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں رضاعی ماں اور رضاعی بہن کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اس تحریم میں رضاعی ماں کی ماں بھی شامل ہے حالانکہ حرمت کا باعث دودھ اس کا نہیں بلکہ وہ تو دودھ کے مالک یعنی رضاعی ماں کے شوہر کا ہے۔ یہ تنبیہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رضاعی ماں کا شوہر (یعنی دودھ کا مالک) دودھ پینے والے کا (رضاعی) باپ ہے۔ جب رضاعی باپ ہونا اور ماں ہونا ثابت ہو گیا تو ان کی بہنوں وغیرہ اور ان کے اصول و فروع کی حرمت ثابت ہوگئی۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’یَحْرُمُ مِنَ الرِّضَاعِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ‘ (صحیح مسلم، الرضاع، باب يحرم من الرضاعۃ.....، حديث: 1444 و سنن النسائی، النکاح، يحرم من الرضاع، حديث: 3304)’’جو رشتہ نسب کے اعتبار سے حرام ہے وہ رشتہ رضاعت کے اعتبار سے بھی حرام ہے۔‘‘ پس یہ تحریم دودھ پلانے والی کی جہت سے اور اس کے خاوند کی جہت سے پھیلے گی۔ جیسا کہ وہ تحریم نسبی اقارب میں پھیلتی ہے اور یہ تحریم دودھ پینے والے بچے میں صرف اس کی اولاد تک پھیلے گی۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ بچے نے اپنے دو سال کی عمر میں کم از کم پانچ بار دودھ پیا ہو۔ جیسا کہ سنت نے واضح کیا ہے۔سسرالی قرابت کے اعتبار سے حرام رشتے چار ہیں۔باپ دادا کی بیویاں ۔ …

25

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ ٱلْمُحْصَنَٰتِ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُم مِّن فَتَيَٰتِكُمُ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ ۚ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَٰنِكُم ۚ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍۢ ۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ مُحْصَنَٰتٍ غَيْرَ مُسَٰفِحَٰتٍۢ وَلَا مُتَّخِذَٰتِ أَخْدَانٍۢ ۚ فَإِذَآ أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَٰحِشَةٍۢ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى ٱلْمُحْصَنَٰتِ مِنَ ٱلْعَذَابِ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ ٱلْعَنَتَ مِنكُمْ ۚ وَأَن تَصْبِرُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

اور جو شخص نہ رکھے تم میں سے طاقت یہ کہ نکاح کرے وہ آزاد مومن عورتوں سے تو (نکاح کر لے) اس سے کہ مالک ہوئے دائیں ہاتھ تمھارے،تمھاری مومن لونڈیوں سےاور اللہ خوب جانتا ہے تمھارے ایمان کو۔ ایک تمھارا، دوسرے سے ہے، پس نکاح کر لو تم ان سے، اجازت سے ان کے مالکوں کی اور دو تم ان کو مہر ان کے موافق دستور کے، جبکہ وہ نکاح میں لائی گئی ہوں، نہ ہوں بدکاری کرنے والیں ا ور نہ بنانے والیں چھپے یار۔ پس جب وہ نکاح میں لے آئی جائیں، پھر اگر کریں وہ بے حیائی کا کام تو ان پر آدھی ہے وہ جو کہ اوپر آزاد عورتوں کے ہے سزا سے۔ یہ (اجازت) اس کے لیے ہے جو ڈرے تکلیف میں پڑنے سے تم میں سےاور یہ کہ صبر کرو تم (تو) بہتر ہے تمھارے لیے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے(25)

[25]یعنی تم میں سے جو کوئی آزاد اور مومن عورتوں کو حق مہر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے آپ پر بدکاری اور مشقت کا خطرہ ہو، تو اس کے لیے مومن لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یہ تو ظاہری احوال کے مطابق ہے ورنہ اللہ تعالیٰ مومن صادق کو خوب جانتا ہے۔ دنیاوی امور ان کے ظاہر پر مبنی ہیں اور آخرت کے احکام کا تعلق انسان کے باطن میں چھپی نیتوں کے ساتھ ہے۔﴿ فَانۡؔكِحُوۡهُنَّ۠ بِـاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ﴾ ’’پس تم لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں کی اجازت لے کر نکاح کرلو‘‘ خواہ مالک ایک ہو یا متعدد ہوں ﴿ وَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾ ’’اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو۔‘‘ یعنی اگرچہ جن کے ساتھ نکاح کیا جا رہا ہے وہ لونڈیاں ہیں تاہم ان کو مہر ادا کرنا اسی طرح فرض ہے جس طرح آزاد کو ادا کرنا فرض ہے۔ مگر لونڈیوں سے نکاح کرنا صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ وہ ﴿ مُحۡصَنٰتٍ﴾ ہوں یعنی زنا سے پاک ہوں ﴿ غَيۡرَ مُسٰفِحٰؔتٍ﴾ علانیہ بدکاری سے بچی ہوئی ہوں ﴿ وَّلَا مُتَّؔخِذٰتِ اَخۡدَانٍ﴾نہ انھوں نے خفیہ یار دوست بنا رکھے ہوں۔حاصل کلام یہ ہے کہ آزاد مسلمان کے لیے لونڈی کے ساتھ ان چار شرائط کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔(۱) لونڈیاں مومن ہوں۔ (۲) ظاہر اور باطن میں پاکباز ہوں۔ (۳) آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی استطاعت نہ ہو۔ (۴) عدم نکاح کی صورت میں بدکاری کا خوف ہو۔جب یہ شرائط پوری ہوں تو لونڈی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ بایں ہمہ لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے باز رہنا افضل ہے کیونکہ لونڈیوں سے نکاح کرنے والے کی اولاد کو غلامی کا طعنہ دیا جاتا ہے نیزیہ گھٹیا بات ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ انسان صبر کر سکتا ہواگر وہ حرام میں پڑنے سے باز نہ رہ سکتا ہو تب اس پر لونڈی سے نکاح کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌؒ﴾’’اور تمھارا صبر کرنا تمھارے لیے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘﴿ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ﴾ یعنی جب وہ نکاح کر لیں یا مسلمان ہو جائیں ﴿ فَاِنۡ اَتَيۡنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ﴾ ’’پھر اگر ان سے بے حیائی کا کام سرزد ہو تو انھیں آزاد عورتوں سے آدھی سزا دی جائے گی‘‘ یعنی جو آزاد عورتوں کی سزا ہے اس سے نصف لونڈیوں کی سزا ہے۔ وہ سزا جس کا نصف ممکن ہے کوڑوں کی سزا ہے تب ان کے لیے پچاس کوڑوں کی سزا ہے۔ رہی رجم کی بات تو لونڈیوں کے لیے رجم نہیں ہے کیونکہ رجم کا نصف ممکن نہیں۔ لہٰذا اس میں پہلا قول یہ ہے کہ اگر انھوں نے نکاح نہ کیا ہو تو ان پر کوئی حد نہیں۔ البتہ ان کو تعزیری سزا دی جائے تاکہ وہ فواحش کے ارتکاب سے باز رہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ اگر غیر مسلم لونڈیاں فواحش کا ارتکاب کریں تو ان کو بھی تعزیر کی جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کا اختتام اپنے دو اسمائے مبارک ﴿ غَفُوۡرٌؔ﴾ ’’بخشنے والا‘‘ ﴿ رَّحِيۡمٌ﴾’’نہایت رحم کرنے …

26

يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

ارادہ کرتا ہے اللہ کہ بیان کرے تمھارے لیے اور ہدایت کرے تمھیں طریقوں کی ان لوگوں کے جو تم سے پہلے ہوئے اور متوجہ ہو تم پراور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(26) اور اللہ ارادہ کرتا ہے کہ متوجہ ہو وہ تم پر اور ارادہ کرتے ہیں وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں خواہشات کی یہ کہ پھر جاؤ تم (حق سے) ، پھر جانا بہت زیادہ(27) ارادہ کرتا ہے اللہ یہ کہ آسانی کرے تم سے اور پیدا کیا گیا ہے انسان بہت کمزور(28)

[26] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے واسطے بیان کرے‘‘ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ تمھیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمھارے سامنے اسے پوری طرح واضح کر دیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور تمھیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا ﴿وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور رجوع کرے تم پر‘‘ یعنی اللہ تم پر تمھارے تمام احوال میں اور تمھارے لیے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمھارے لیے ان حدود پر ٹھہرنا ممکن ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفاء کرتے ہو جو اس نے تمھارے لیے حلال ٹھہرایا ہے، پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کی ہے، تمھارے گناہ کم ہو جاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کر دیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمھیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمھیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔

[27]﴿وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسی توبہ (رجوع) کے ساتھ تمھاری طرف توجہ کرنا چاہتا ہے جو تمھاری پراگندگی کو درست کرے، تمھارے تفرقہ کو جمعیت قلبی میں اور تمھارے بعد کو قرب میں بدل دے۔ ﴿وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ﴾ ’’اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنی شہوات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ اپنے محبوب کی رضا پر ان شہوات کو ترجیح دیتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ لوگ کفار اور نافرمانوں کی اصناف میں سے ہیں جو اپنی خواہشات کو اپنے رب کی اطاعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ چاہتے ہیں ﴿اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا﴾ ’’کہ تم (کجی کی طرف) بہت زیادہ جھک جاؤ‘‘ یعنی تم صراط مستقیم سے انحراف کر کے ان لوگوں کی راہ پر چل …

27

وَٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلشَّهَوَٰتِ أَن تَمِيلُوا۟ مَيْلًا عَظِيمًۭا

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

ارادہ کرتا ہے اللہ کہ بیان کرے تمھارے لیے اور ہدایت کرے تمھیں طریقوں کی ان لوگوں کے جو تم سے پہلے ہوئے اور متوجہ ہو تم پراور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(26) اور اللہ ارادہ کرتا ہے کہ متوجہ ہو وہ تم پر اور ارادہ کرتے ہیں وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں خواہشات کی یہ کہ پھر جاؤ تم (حق سے) ، پھر جانا بہت زیادہ(27) ارادہ کرتا ہے اللہ یہ کہ آسانی کرے تم سے اور پیدا کیا گیا ہے انسان بہت کمزور(28)

[26] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے واسطے بیان کرے‘‘ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ تمھیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمھارے سامنے اسے پوری طرح واضح کر دیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور تمھیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا ﴿وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور رجوع کرے تم پر‘‘ یعنی اللہ تم پر تمھارے تمام احوال میں اور تمھارے لیے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمھارے لیے ان حدود پر ٹھہرنا ممکن ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفاء کرتے ہو جو اس نے تمھارے لیے حلال ٹھہرایا ہے، پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کی ہے، تمھارے گناہ کم ہو جاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کر دیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمھیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمھیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔

[27]﴿وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسی توبہ (رجوع) کے ساتھ تمھاری طرف توجہ کرنا چاہتا ہے جو تمھاری پراگندگی کو درست کرے، تمھارے تفرقہ کو جمعیت قلبی میں اور تمھارے بعد کو قرب میں بدل دے۔ ﴿وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ﴾ ’’اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنی شہوات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ اپنے محبوب کی رضا پر ان شہوات کو ترجیح دیتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ لوگ کفار اور نافرمانوں کی اصناف میں سے ہیں جو اپنی خواہشات کو اپنے رب کی اطاعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ چاہتے ہیں ﴿اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا﴾ ’’کہ تم (کجی کی طرف) بہت زیادہ جھک جاؤ‘‘ یعنی تم صراط مستقیم سے انحراف کر کے ان لوگوں کی راہ پر چل …

28

يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ ٱلْإِنسَٰنُ ضَعِيفًۭا

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے

ارادہ کرتا ہے اللہ کہ بیان کرے تمھارے لیے اور ہدایت کرے تمھیں طریقوں کی ان لوگوں کے جو تم سے پہلے ہوئے اور متوجہ ہو تم پراور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(26) اور اللہ ارادہ کرتا ہے کہ متوجہ ہو وہ تم پر اور ارادہ کرتے ہیں وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں خواہشات کی یہ کہ پھر جاؤ تم (حق سے) ، پھر جانا بہت زیادہ(27) ارادہ کرتا ہے اللہ یہ کہ آسانی کرے تم سے اور پیدا کیا گیا ہے انسان بہت کمزور(28)

[26] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے واسطے بیان کرے‘‘ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ تمھیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمھارے سامنے اسے پوری طرح واضح کر دیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور تمھیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا ﴿وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور رجوع کرے تم پر‘‘ یعنی اللہ تم پر تمھارے تمام احوال میں اور تمھارے لیے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمھارے لیے ان حدود پر ٹھہرنا ممکن ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفاء کرتے ہو جو اس نے تمھارے لیے حلال ٹھہرایا ہے، پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کی ہے، تمھارے گناہ کم ہو جاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کر دیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمھیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمھیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔

[27]﴿وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسی توبہ (رجوع) کے ساتھ تمھاری طرف توجہ کرنا چاہتا ہے جو تمھاری پراگندگی کو درست کرے، تمھارے تفرقہ کو جمعیت قلبی میں اور تمھارے بعد کو قرب میں بدل دے۔ ﴿وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ﴾ ’’اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنی شہوات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ اپنے محبوب کی رضا پر ان شہوات کو ترجیح دیتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ لوگ کفار اور نافرمانوں کی اصناف میں سے ہیں جو اپنی خواہشات کو اپنے رب کی اطاعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ چاہتے ہیں ﴿اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا﴾ ’’کہ تم (کجی کی طرف) بہت زیادہ جھک جاؤ‘‘ یعنی تم صراط مستقیم سے انحراف کر کے ان لوگوں کی راہ پر چل …

29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٍۢ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًۭا

مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم اپنے مال آپس میں ناحق طریقے سے مگر یہ کہ ہو تجارت رضامندی سے آپس کی اور نہ قتل کرو تم اپنے نفسوں کو، بلاشبہ اللہ ہے تمھارے ساتھ بڑا مہربان(29) اور جو کرے گا یہ (کام) زیادتی اور ظلم سے تو عنقریب داخل کریں گے ہم اس کو آگ میں اور ہے یہ اوپر اللہ کے آسان(30)

[29] اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو باہم ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے سے منع کیا ہے اور اس میں غصب کر کے مال کھانا، چوری کے ذریعے سے مال کھانا، جوئے کے ذریعے سے مال ہتھیانا اور دیگر ناجائز اور گھٹیا طریقوں سے مال حاصل کرنا، سب شامل ہے۔ بلکہ شاید اس میں آپ کا اپنا وہ مال کھانا بھی آجاتا ہے جو آپ تکبر اور اسراف سے کھاتے ہیں کیونکہ یہ بھی باطل ہے، طریق حق نہیں ہے۔ پھر چونکہ اس نے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا ہے اس لیے اس نے تجارت اور ایسے پیشوں کے ذریعے سے، جس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو، اور جو باہم رضامندی اور جائز شرائط پر مشتمل ہوں، مال کمانا مباح قرار دے دیا۔ ﴿وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾’’اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔‘‘ یعنی ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو قتل کرے۔ اس میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا اور ایسے خطرات مول لینا شامل ہیں جن کا نتیجہ ہلاکت اور اتلاف کے سوا کچھ نہیں۔﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جان اور مال کو محفوظ کیا اور ان کو ضائع کرنے اور تلف کرنے سے منع کیا ہے اور اس کے لیے اسی طرح کی سزا تجویز کی جیسے دیگر جرائم پر حدود ہیں۔ذرا اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَكُمۡ﴾ اور ﴿وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ کے اختصار و ایجاز اور اس کی جامعیت پر غور فرمایئے کہ یہ ارشاد دوسروں کے مال اور خود اپنے مال، دوسروں کی جان اور خود اپنی جان کو شامل ہے اور ایسی عبارت کے ذریعے بیان کیا ہے جو (لَا یَاْکُلْ بَعْضُکُمْ مَالَ بَعْضٍ ) اور (لَا یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا) سے زیادہ مختصر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مؤخر الذکر عبارت دوسروں کے مال اور دوسروں کے نفس کو شامل کرنے سے قاصر ہے۔ نیز جان اور مال کی عمومیت کے ساتھ تمام اہل ایمان کی طرف اضافت کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ تمام اہل ایمان باہم محبت کرنے، باہم رحم کرنے، باہم شفقت و عاطفت سے پیش آنے میں اور اپنے مشترک مصالح میں جسد واحد کی مانند ہیں۔ کیونکہ ان کے ایمان نے ان کو دینی اور دنیاوی مصالح پر جمع کر دیا ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا کیونکہ دوسروں کا مال ہتھیانا اور کھانا ان کے لیے نقصان دہ تھا۔ تب مختلف قسم کے پیشوں کو، جن میں ان کی مصلحت تھی مثلاً تجارت، صنعت و حرفت اور اجارات وغیرہ کو، ان کے لیے مباح کر دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ﴾ ’’اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہوجائے تو وہ جائز ہے۔‘‘ یعنی تجارت تمھارے لیے مباح ہے۔ تجارت ہونے کے ساتھ ساتھ باہمی رضامندی کی شرط اس امر کی دلیل ہے کہ یہ تجارتی عقد سود پر مبنی نہ ہو۔ کیونکہ سود تجارت نہیں ہے بلکہ سود تجارت کے مقاصد کے خلاف ہے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ اس تجارتی عقد کے دونوں فریق برضا و رغبت اسے قبول کریں اور کامل رضا و رغبت یہ ہے کہ جس معاملے پر معاہدہ کیا گیا ہے وہ پوری طرح معلوم ہو کیونکہ اگر وہ چیز جس پر معاہدہ کیا گیا ہے پوری طرح معلوم نہ ہو گی۔ تو یہ معاہدہ تسلیم و رضامندی پر مبنی متصور نہ ہو گا کیونکہ جس چیز کا حصول انسان کی طاقت اور اختیار میں نہ ہو، جوا بازی ہے۔ اسی طرح دھوکے کی بیع اپنی تمام انواع سمیت باہمی رضامندی سے خالی ہوتی ہے اس لیے ایسا معاہدہ منعقد نہیں ہوتا۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ …

30

وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَٰنًۭا وَظُلْمًۭا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًۭا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًا

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم اپنے مال آپس میں ناحق طریقے سے مگر یہ کہ ہو تجارت رضامندی سے آپس کی اور نہ قتل کرو تم اپنے نفسوں کو، بلاشبہ اللہ ہے تمھارے ساتھ بڑا مہربان(29) اور جو کرے گا یہ (کام) زیادتی اور ظلم سے تو عنقریب داخل کریں گے ہم اس کو آگ میں اور ہے یہ اوپر اللہ کے آسان(30)

[29] اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو باہم ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے سے منع کیا ہے اور اس میں غصب کر کے مال کھانا، چوری کے ذریعے سے مال کھانا، جوئے کے ذریعے سے مال ہتھیانا اور دیگر ناجائز اور گھٹیا طریقوں سے مال حاصل کرنا، سب شامل ہے۔ بلکہ شاید اس میں آپ کا اپنا وہ مال کھانا بھی آجاتا ہے جو آپ تکبر اور اسراف سے کھاتے ہیں کیونکہ یہ بھی باطل ہے، طریق حق نہیں ہے۔ پھر چونکہ اس نے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا ہے اس لیے اس نے تجارت اور ایسے پیشوں کے ذریعے سے، جس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو، اور جو باہم رضامندی اور جائز شرائط پر مشتمل ہوں، مال کمانا مباح قرار دے دیا۔ ﴿وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾’’اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔‘‘ یعنی ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو قتل کرے۔ اس میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا اور ایسے خطرات مول لینا شامل ہیں جن کا نتیجہ ہلاکت اور اتلاف کے سوا کچھ نہیں۔﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جان اور مال کو محفوظ کیا اور ان کو ضائع کرنے اور تلف کرنے سے منع کیا ہے اور اس کے لیے اسی طرح کی سزا تجویز کی جیسے دیگر جرائم پر حدود ہیں۔ذرا اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَكُمۡ﴾ اور ﴿وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ کے اختصار و ایجاز اور اس کی جامعیت پر غور فرمایئے کہ یہ ارشاد دوسروں کے مال اور خود اپنے مال، دوسروں کی جان اور خود اپنی جان کو شامل ہے اور ایسی عبارت کے ذریعے بیان کیا ہے جو (لَا یَاْکُلْ بَعْضُکُمْ مَالَ بَعْضٍ ) اور (لَا یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا) سے زیادہ مختصر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مؤخر الذکر عبارت دوسروں کے مال اور دوسروں کے نفس کو شامل کرنے سے قاصر ہے۔ نیز جان اور مال کی عمومیت کے ساتھ تمام اہل ایمان کی طرف اضافت کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ تمام اہل ایمان باہم محبت کرنے، باہم رحم کرنے، باہم شفقت و عاطفت سے پیش آنے میں اور اپنے مشترک مصالح میں جسد واحد کی مانند ہیں۔ کیونکہ ان کے ایمان نے ان کو دینی اور دنیاوی مصالح پر جمع کر دیا ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا کیونکہ دوسروں کا مال ہتھیانا اور کھانا ان کے لیے نقصان دہ تھا۔ تب مختلف قسم کے پیشوں کو، جن میں ان کی مصلحت تھی مثلاً تجارت، صنعت و حرفت اور اجارات وغیرہ کو، ان کے لیے مباح کر دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ﴾ ’’اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہوجائے تو وہ جائز ہے۔‘‘ یعنی تجارت تمھارے لیے مباح ہے۔ تجارت ہونے کے ساتھ ساتھ باہمی رضامندی کی شرط اس امر کی دلیل ہے کہ یہ تجارتی عقد سود پر مبنی نہ ہو۔ کیونکہ سود تجارت نہیں ہے بلکہ سود تجارت کے مقاصد کے خلاف ہے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ اس تجارتی عقد کے دونوں فریق برضا و رغبت اسے قبول کریں اور کامل رضا و رغبت یہ ہے کہ جس معاملے پر معاہدہ کیا گیا ہے وہ پوری طرح معلوم ہو کیونکہ اگر وہ چیز جس پر معاہدہ کیا گیا ہے پوری طرح معلوم نہ ہو گی۔ تو یہ معاہدہ تسلیم و رضامندی پر مبنی متصور نہ ہو گا کیونکہ جس چیز کا حصول انسان کی طاقت اور اختیار میں نہ ہو، جوا بازی ہے۔ اسی طرح دھوکے کی بیع اپنی تمام انواع سمیت باہمی رضامندی سے خالی ہوتی ہے اس لیے ایسا معاہدہ منعقد نہیں ہوتا۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ …

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.