Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 11–20 of 176

11

يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءًۭ فَوْقَ ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَٰحِدَةًۭ فَلَهَا ٱلنِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٌۭ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخْوَةٌۭ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ ۗ ءَابَآؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًۭا ۚ فَرِيضَةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ ۔ : اب یہاں سے وارثوں کے تفصیلی حصوں کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ حافظ ابن کثیر (رض) لکھتے ہیں کہ ” یہ دونوں آیات اور اس سورت کی آخری آیت علم وراثت میں اصول کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وراثت کے تفصیلی حصے ان تین آیات سے مستنبط ہیں اور وراثت کے حصوں سے متعلقہ احادیث بھی ان آیات ہی کی تفسیر ہیں۔ ( ابن کثیر) ایک حدیث میں ہے کہ جب جابر بن عبداللہ (رض) بیمار ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ جابر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے مال کے بارے میں دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ( یوصیکم اللہ فی اولادکم ) [ بخاری، التفسیر، باب : ( یوصیکم اللہ فی أولادکم ) : ٤٥٧٧ ] ایک حدیث میں ہے کہ سعد بن ربیع (رض) وفات پا گئے اور ان کی بیٹیوں کے چچا نے سارا ورثہ سنبھال لیا۔ سعد (رض) کی دو لڑکیاں تھیں۔ ان کی بیوی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ورثے کا سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لڑکیوں کے چچا کو پیغام بھیجا کہ سعد کی دو بیٹیوں کو دو تہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور جو بچ جائے وہ تمہارے لیے ہے۔ [ أبو داوٗد، عن جابر بن عبد اللہ الفرائض، - باب ما جاء فی میراث الصلب : ٢٨٩١، الترمذی : ٢٠٩٢۔ و أحمد : ٣؍٣٥٢، ح : ١٤٨١٠ ]- لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ۚ : مطلب یہ ہے کہ جب اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں موجود ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دگنا ملے گا، اسے دو حصے دینے کی وجہ یہ ہے کہ مرد پر عورت کی نسبت معاشی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ (مہر ہی کو لے لیجیے کہ مرد دیتا ہے، عورت لیتی ہے، اسی طرح عورت کا نان و نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوتا ہے) اس بنا پر مرد کے لیے عورت سے دگنا حصہ دینا عین قرین انصاف ہے۔ (قرطبی و ابن کثیر) - فَاِنْ كُنَّ نِسَاۗءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ ۔۔ : دو سے زیادہ ہی کا نہیں دو عورتوں کا بھی یہی حکم ہے، جیسا کہ اس آیت کے پہلے فائدے میں سعد بن ربیع (رض) کی دو بیٹیوں کو دو تہائی دینے کا ذکر ہوا ہے، پھر اس سورت کی آخری آیت میں جب دو بہنوں کو دو تہائی حصہ دیا گیا ہے تو دو بیٹیوں کو بدرجہ اولیٰ دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ بیٹی، بہن کے مقابلہ میں آدمی کے زیادہ قریب ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ دو لڑکیوں کا دو تہائی حصہ قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر) - 4 اس حکم سے چند صورتیں مستثنیٰ ہیں : 1 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَا نُوْرَثَ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ ) [ بخاری، فرض الخمس، باب لا ہجرۃ بعد الفتح : ٣٠٩٣ ] ” ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ “ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث تقسیم نہیں ہوئی۔ (دیکھیے مریم : ٦) 2 جان بوجھ کر قتل کرنے والا اپنے مقتول کا وارث نہیں ہوگا۔ یہ حکم سنت سے ثابت ہے اور اس پر اجماع ہے۔ [ ابن ماجہ، الفرائض، باب میراث القاتل : ٢٧٣٥ ] 3 اسامہ بن زید (رض) راوی ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا اور نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے۔ “ [ بخاری، الفرائض، باب لا یرث المسلم۔۔ : ٦٧٦٤] صرف باپ یا اولاد نہیں، کوئی بھی کافر اور مسلمان کسی بھی مسلمان اور کافر کا وارث نہیں ہوگا وراثت کے ضمن میں بات عام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔- وَاِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَھَا النِّصْفُ ۭ : اس سے بھی معلوم ہوا کہ جب ایک بیٹی کا نصف ہے تو دو یا دو سے زیادہ بیٹیوں کا دو تہائی ہونا چاہیے۔ - وَلِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ ۔۔ : یعنی میت کی اولاد ہونے کی صورت میں ماں باپ دونوں میں سے ہر ایک کو کل ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا، مثلا میت کی ایک بیٹی اور ماں باپ ہیں تو ترکہ کے چھ مساوی حصے کرلیے جائیں۔ بیٹی کو تین حصے (نصف) ماں کو ایک حصہ (سدس) باپ …

12

۞ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌۭ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌۭ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ تُوصُونَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌۭ يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمْرَأَةٌۭ وَلَهُۥٓ أَخٌ أَوْ أُخْتٌۭ فَلِكُلِّ وَٰحِدٍۢ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوٓا۟ أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِى ٱلثُّلُثِ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصَىٰ بِهَآ أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّۢ ۚ وَصِيَّةًۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌۭ

اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تمہاری بیویاں مال چھوڑ کر مریں اور ان کی کوئی اولاد نہ ہو تو تمہیں آدھا مال ملے گا اور اگر ان کی اولاد ہے، ایک یا زائد بیٹے بیٹیاں یا پوتے یا پڑپوتے، خواہ تم سے یا کسی اور خاوند سے تو تمہیں چوتھا حصہ ملے گا اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہاری بیویوں کو چوتھا حصہ ملے گا اور تمہارے فوت ہونے کی صورت میں اگر تمہاری اولاد یا اولاد کی اولاد ہے، پھر وہ خواہ ان بیویوں سے ہے یا کسی اور سے، بہرحال بیویوں کو آٹھواں حصہ ملے گا، قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد، پھر بیوی ایک ہو یا زیادہ سب چوتھائی یا آٹھویں حصے میں شریک ہوں گی، اس پر اجماع ہے۔ - يُّوْرَثُ كَلٰلَةً : اگر کوئی مرد یا عورت مرجائے، اس کا نہ والد ہو نہ اولاد تو اسے ” کلالہ “ کہتے ہیں۔ بعض ایسی میت کے وارثوں ” کلالہ “ کہتے ہیں۔ بہرحال دونوں پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ - وَّلَهٗٓ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ: بھائی بہن تین طرح کے ہوتے ہیں : 1 عینی یعنی جن کے ماں باپ ایک ہوں۔ 2 علاتی، یعنی جن کا باپ ایک ہو، مائیں مختلف ہوں۔ 3 اخیافی، جن کی ماں ایک ہو اور باپ مختلف ہوں۔ یہاں بالاتفاق اخیافی بھائی بہن مراد ہیں، جیسا کہ ایک قراءت میں بھی ہے۔ - 4 اخیافی بھائی چار احکام میں دوسرے وارثوں سے مختلف ہیں : 1 یہ صرف ماں کی جہت سے ورثہ لیتے ہیں۔ 2 ان میں سے مرد اور عورت کو مساوی حصہ دیا جاتا ہے۔ 3 ان کو صرف میت کے کلالہ ہونے کی صورت میں حصہ ملتا ہے۔ 4 خواہ کتنے ہی ہوں ان کا حصہ ثلث سے زیادہ نہیں ہوتا، مثلاً ایک میت کا شوہر، ماں، دو اخیافی اور دو عینی بھائی موجود ہوں تو جمہور اہل علم کے نزدیک شوہر کو نصف (٢؍١) ملے گا، ماں کو سدس (٦؍١) ملے گا اور بقیہ تہائی حصے میں اخیافی بھائیوں کے ساتھ عینی بھائی بھی شریک ہوں گے۔ عمر (رض) نے ایک مقدمہ میں یہی فیصلہ صادر فرمایا تھا۔ صحابہ میں سے عثمان، ابن مسعود، ابن عباس اور زید بن ثابت (رض) اور ائمہ میں سے امام مالک اور امام شافعی ; کا یہی مسلک ہے، البتہ علی (رض) اخیافی بھائیوں کو دیگر سگے بھائیوں کے عصبہ ہونے کی وجہ سے محروم قرار دیتے ہیں۔ امام شوکانی (رض) نے اس دوسرے مسلک کو ترجیح دی ہے۔ (ابن کثیر۔ فتح القدیر)- فَھُمْ شُرَكَاۗءُ فِي الثُّلُثِ : ایک سے زیادہ ہوں تو مرد ہو یا عورتیں، یا مرد اور عورتیں ملے ہوئے ہوں، سب میں تیسرا حصہ برابر تقسیم کردیا جائے گا، یعنی یہاں مرد کو عورت پر فضیلت نہیں ہوگی، جیسا کہ آیت میں : ” شُرَكَاۗءُ فِي الثُّلُثِ “ سے معلوم ہوتا ہے۔ عمر (رض) نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا اور ظاہر ہے کہ ایسا فیصلہ محض اجتہاد سے نہیں کیا جاسکتا۔ (ابن کثیر)- ۙغَيْرَ مُضَاۗرٍّ ۚ : یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اس کا تعلق وصیت اور قرض دونوں سے ہے۔ وصیت میں نقصان پہنچانا ایک تو یہ ہے کہ تہائی مال سے زیادہ وصیت کرے، اس صورت میں تہائی سے زائد وصیت کا نفاذ نہیں ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی وارث کو مزید رعایت سے زائد مال دلوایا جائے، اس کا بھی اعتبار نہیں ہوگا، الا یہ کہ تمام وارث برضا و رغبت اسے قبول کرلیں۔ قرض میں نقصان پہنچانا یہ ہے کہ محض وارثوں کا حق تلف کرنے کے لیے مرنے والا اپنے ذمے کسی ایسے قرض کا اقرار کرے جو حقیقت میں اس کے ذمے نہ ہو۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ” وصیت میں نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔ “ [ السنن الکبریٰ للنسائی ١٠؍٦٠، ح : ١١٠٢٦ و سندہ صحیح ]

13

تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے وراثت کو حدود اللہ قرار دیا اور اس حکم کی اطاعت پر جنت اور فوز عظیم کا وعدہ فرمایا ہے اور نافرمانی اور حدود اللہ کی پامالی کی صورت میں ہمیشہ کی آگ اور عذاب مہین کی سزا سنائی ہے افسوس کہ بڑے بڑے بظاہر متقی لوگ بھی بہنوں کو ان کا حصہ نہیں دیتے اکثر لوگ کوشش کرتے ہیں کہ جائداد بیٹوں کو دے دیں اور بیٹیوں کو محروم کردیں اسی طرح اگر کوئی وارث کمزور ہو تو اسے بھی وراثت سے حصہ نہیں دیتے ان سب کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور اس کے رسوا کن عذاب اور ہمیشہ کی آگ سے ڈرنا چاہیے۔

14

وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدْخِلْهُ نَارًا خَٰلِدًۭا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٌۭ مُّهِينٌۭ

اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا اس کو خدا دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا

Explained together with ayah 13

15

وَٱلَّٰتِى يَأْتِينَ ٱلْفَٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمْ فَٱسْتَشْهِدُوا۟ عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةًۭ مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَأَمْسِكُوهُنَّ فِى ٱلْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّىٰهُنَّ ٱلْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ ٱللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًۭا

مسلمانو تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا خدا ان کے لئے کوئی اور سبیل (پیدا) کرے

وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ ۔۔ : اوپر کی آیات میں عورتوں کے ساتھ احسان اور ان کے مہر ادا کرنے اور مردوں کے ساتھ ان کو وراثت میں شریک قرار دے کر ان کے حقوق کی حفاظت کا بیان تھا، اب یہاں سے عورتوں کی تادیب اور ان پر سختی کا بیان ہے، تاکہ عورت اپنے آپ کو بالکل ہی آزاد نہ سمجھے۔ (قرطبی) پہلی آیت میں زنا کار عورتوں کی سزا بیان کی کہ زنا شہادت سے ثابت ہوجائے تو انھیں تاعمر گھر میں محبوس رکھا جائے، یہاں تک کہ وہ مرجائیں، یا اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کوئی دوسری سزا نازل فرما دے۔ اسلام میں زنا کار عورتوں کے لیے یہ پہلی سزا ہے جو بعد میں حد زنا نازل ہونے سے منسوخ ہوگئی۔ سورة نور میں جو سو کوڑوں کی سزا نازل ہوئی ہے، یہاں ” سبیلا “ سے اسی طرف اشارہ ہے۔ دوسری آیت میں زانی مرد اور زنا کار عورت کے متعلق یہ حکم دیا گیا کہ ان کو اذیت دی جائے اور ذلیل کیا جائے، حتیٰ کہ تائب ہوجائیں، یہ سزا پہلی سزا کے ساتھ ہی ہے، بعد میں یہ دونوں سزائیں منسوخ ہوگئیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھ سے (احکام دین) لو، اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لیے سبیل پیدا فرما دی ہے کہ کنوارا کنواری کے ساتھ (زنا کرے) تو اس کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ (زنا کرے) تو ان کے لیے سو کوڑے اور سنگسار ہے۔ “ [ مسلم، الحدود، - باب حد الزنی : ١٦٩٢، عن عبادۃ بن الصامت (رض) ] مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نور (٢) ۔- اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ : چونکہ زنا کی سزا نہایت سخت ہے، اس لیے اس پر گواہی بھی زیادہ مضبوط رکھی۔ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جو چیز شمار کی جا رہی ہے، وہ مذکر ہو تو عدد مؤنث ہوتا ہے، اس لیے ” اربعہ “ کی وجہ سے ترجمہ ” چار مرد “ کیا ہے۔ - وَالَّذٰنِ يَاْتِيٰنِھَا : بعض علماء نے اس سے مراد قوم لوط کا عمل کرنے والے دو مرد لیے ہیں اگرچہ ” الذان “ کے لفظ میں، جو تثنیہ مذکر کے لیے آتا ہے اس کی گنجائش ہے، مگر یہ مطلب نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے، نہ کسی صحابی سے، بلکہ طبری اور ابن ابی حاتم نے اپنی حسن سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے، انھوں نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ عورت جب زنا کرتی تو گھر میں بیٹھی رہتی یہاں تک کہ فوت ہوجاتی اور ابن عباس نے (وَالَّذٰنِ يَاْتِيٰنِھَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْھُمَا ۚ ) کے متعلق فرمایا کہ مرد جب زنا کرتا تو اسے تعزیہ اور جوتے مارنے کے ساتھ ایذاء دی جاتی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد یہ آیات نازل فرمائیں : (اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۠) [ النور : ٢ ] یعنی زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد کو سو کوڑے مارو۔ پھر اگر وہ شادی شدہ ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے مطابق انھیں رجم کردیا جائے گا یہ ہے وہ ” سبیل “ جو اللہ نے فرمایا ” اَوْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لَھُنَّ سَبِيْلًا ‘ (یہاں تک کہ انھیں موت اٹھائے جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ بنا دے) اسی طرح طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے نقل کیا ہے کہ ” وَالَّذٰنِ يَاْتِيٰنِھَا مِنْكُمْ “ سے مراد زنا کرنے والے مرد عورت ہیں۔ علاوہ ازیں ” يَاْتِيٰنِھَا “ میں ” ہا “ کی ضمیر پچھلی آیت میں مذکور الفاحشہ کی طرف جا رہی ہے جس سے اس مقام پر مراد زنا ہے۔ اس فاحشہ سے مراد قوم لوط کا عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ رہا ” اللذان “ تثنیہ مذکر کا لفظ تو دو افراد اگر مذکر و مؤنث ہوں تو ان کے لیے تثنیہ مذکر کی ضمیر عام استعمال ہوتی ہے اس میں کوئی قباحت نہیں۔

16

وَٱلَّذَانِ يَأْتِيَٰنِهَا مِنكُمْ فَـَٔاذُوهُمَا ۖ فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابًۭا رَّحِيمًا

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے

Explained together with ayah 15

17

إِنَّمَا ٱلتَّوْبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٍۢ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍۢ فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًۭا

خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھے ہیں۔ پھر جلد توبہ قبول کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَي اللّٰهِ : یہاں ” علی اللہ “ کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمہ لے لیا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ (قرطبی) یہاں ایک سوال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالۃ سے گناہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی جہالۃ سے گناہ نہ کرے بلکہ دیدہ دانستہ علم رکھتے ہوئے گناہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہی نہیں۔ جواب اس کا یہ ہے ” بجھالۃ “ یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بھی لیتے ہیں تو ” من قریب “ یعنی جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں، کہ یہاں ” بجہالۃ “ کی قید احتراز کے لیے نہیں ہے، بلکہ بیان واقعہ کے لیے ہے، یعنی ہر گناہ ہوتا ہی جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہے۔ گناہ کرنے والا اس کے انجام سے بیخبر ہو کر ہی گناہ کی جرأت کرتا ہے اگر اس کا انجام پوری طرح اس کی آنکھوں کے سامنے ہو تو وہ کبھی گناہ کا ارتکاب نہ کرسکتے، ” من قریب “ کا مفہوم یہ ہے کہ موت کے آثار مشاہدہ کرنے سے پہلے پہلے تائب ہوجاتے ہیں۔ ان دو شرطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)

18

وَلَيْسَتِ ٱلتَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ حَتَّىٰٓ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ ٱلْمَوْتُ قَالَ إِنِّى تُبْتُ ٱلْـَٰٔنَ وَلَا ٱلَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا

اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی موت آموجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے

وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ ۔۔ : یعنی ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ کو اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ موت کے وقت اس کی روح حلق تک نہ پہنچ جائے۔ “ [ ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل۔۔ : ٣٥٣٧، عن ابن عمر (رض) ] آخری وقت میں تو فرعون نے بھی توبہ کرلی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ ) [ یونس : ٩١ ] ” کیا اب ؟ حالانکہ بیشک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔ “- وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ : یعنی جو لوگ مرتے دم تک شرک میں مبتلا رہتے ہیں اور موت کے آثار دیکھ کر توبہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْا اٰمَنَّا باللّٰہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ (84) فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ اِِیْمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْکٰفِرُوْنَ ) [ المؤمن : ٨٤، ٨٥ ] ” پھر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو انھوں نے کہا ہم اس اکیلے اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا انکار کیا جنھیں ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے تھے۔ پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا، جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔ “ [ نیز دیکھیے الأنعام : ١٥٨ ] رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول فرماتے ہیں، جب تک حجاب نہ گرے۔ “ صحابہ نے دریافت کیا : ” حجاب گرنے سے کیا مراد ہے ؟ “ فرمایا : ” یہ کہ جان نکلے اور وہ مشرک ہو۔ “ [ أحمد : ٥؍١٧٤، ح : ٢١٥٧٨ عن أبی ذر ]

19

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا۟ ٱلنِّسَآءَ كَرْهًۭا ۖ وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا۟ بِبَعْضِ مَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّآ أَن يَأْتِينَ بِفَٰحِشَةٍۢ مُّبَيِّنَةٍۢ ۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُوا۟ شَيْـًۭٔا وَيَجْعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيْرًۭا كَثِيرًۭا

مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے

اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭ : زنا وغیرہ کے سلسلہ میں ضمناً توبہ کے احکام بیان فرمانے کے بعد اب یہاں سے پھر عورتوں کے حقوق کا بیان ہو رہا ہے اور اس سے مقصد عورتوں کو اس ظلم و زیادتی سے نجات دلانا ہے جو جاہلیت میں ان پر روا رکھی جاتی تھی۔ اس کے مخاطب یا تو شوہر کے اولیاء ہیں، جیسا کہ امام بخاری (رض) اور دوسرے محدثین نے اس آیت کی شان نزول میں ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں میت کے اولیاء دوسری چیزوں کی طرح اس کی بیوی کے بھی مالک ہوتے تھے، ان میں سے اگر کوئی چاہتا تو خود اس سے شادی کرلیتا، یا کسی دوسرے سے شادی کردیتے ( اور مہر خود لے لیتے) اور اگر چاہتے تو عورت کو کلیتاً شادی سے ہی روک دیتے ( حتیٰ کہ وہ مرجاتی اور اس کے مال کے وارث خود بن جاتے) عورت کے اولیاء کو اس سلسلہ میں کوئی اختیار نہ ہوتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور عورت پر ان کے تسلط کو ختم کردیا۔ [ بخاری، التفسیر، باب لا یحل لکم ۔۔ : ٤٥٧٩ ] اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے مخاطب شوہر ہوں، چناچہ بعض علماء نے اس کی شان نزول میں لکھا ہے کہ وہ عورتوں کو طلاق نہ دیتے بلکہ تنگ کرتے رہتے، تاکہ اگر مرجائیں تو ان کے وارث بن جائیں اور اگر طلاق لینا چاہیں تو جو کچھ انھیں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پہلی صورت میں اس کا حاصل یہ ہے کہ خاوند کے مرنے کے بعد اسے نکاح سے روکنا جائز نہیں، بلکہ وہ جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے اور خاوند کے اولیاء اس طرح زبردستی اس کے وارث نہیں بن سکتے۔ دوسری صورت میں، یعنی جب شوہر مخاطب ہوں، تو خلاصہ یہ ہوگا کہ شوہر کے لیے جائز نہیں کہ عورت سے مہر واپس لینے کی غرض سے اسے تنگ کرتا رہے اور طلاق نہ دے، حتی کہ وہ خلع پر مجبور ہوجائے۔ یہ دوسری صورت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اور ابن عطیہ وغیرہ نے اسی کو پسند کیا ہے، اس لیے کہ آیت کے بقیہ حصے کا تعلق بلا شک و شبہ شوہروں ہی کے ساتھ ہے، کیونکہ واضح بےحیائی کے ارتکاب کی صورت میں خاوند ہی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے روک رکھے، تاکہ اسے مہر وغیرہ، جو کچھ دیا ہے، واپس لے کر طلاق دے، شوہر کے اولیاء کو یہ اختیار نہیں ہے۔ (فتح القدیر۔ قرطبی) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب عام مسلمانوں سے ہو، جس میں شوہر، میت کے اولیاء اور دوسرے مسلمان سبھی آجاتے ہوں۔ (فتح القدیر)- اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ : ابن کثیر (رض) کا قول ہے کہ ابن عباس (رض) ، عکرمہ اور ضحاک ; نے ” نَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ “ سے مراد سرکشی اور نافرمانی لی ہے، مگر ابن جریر (رض) نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اسے عام رکھا جائے اور یہ فحش کلامی، بد خلقی، ایذا رسانی، زنا اور اس قسم کے جملہ رذائل کو شامل ہو اور مطلب یہ ہوگا کہ اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو تم اسے خلع لینے پر مجبور کرسکتے ہو، تاکہ وہ لیا ہوا مال واپس کر دے۔ - 3 وعاشروہن بالمعروف : یہ عورتوں سے متعلق تیسرا حکم ہے کہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( خَیْرُُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَھْلِہِ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَھْلِیْ ) [ ابن ماجہ، النکاح، باب حسن معاشرۃ : ١٩٧٧، عن ابن عباس (رض) ۔ ترمذی : ٣٨٩٥ ] ” تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہت رہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ “ - فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى ۔۔ : یہ بھی ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنے کی بات کی تکمیل ہے، یعنی اگر کسی اخلاقی کمزوری یا بد صورت ہونے کی وجہ سے تمہیں ان سے نفرت ہوجائے اور ان کو طلاق دینا چاہو تو بھی فوراً طلاق نہ دو ، بلکہ بہتر طریقے سے انھیں اپنے پاس رکھو، ہوسکتا ہے کہ ان کی صحبت سے خیر کثیر، یعنی صالح اولاد حاصل ہوجائے یا مال میں برکت ہوجائے اور تمہاری نفرت محبت میں تبدیل ہوجائے۔ …

20

وَإِنْ أَرَدتُّمُ ٱسْتِبْدَالَ زَوْجٍۢ مَّكَانَ زَوْجٍۢ وَءَاتَيْتُمْ إِحْدَىٰهُنَّ قِنطَارًۭا فَلَا تَأْخُذُوا۟ مِنْهُ شَيْـًٔا ۚ أَتَأْخُذُونَهُۥ بُهْتَٰنًۭا وَإِثْمًۭا مُّبِينًۭا

اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟

وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ ۔۔ : یہ عورتوں سے متعلق چوتھا حکم ہے۔ جب پہلی آیات میں بیان فرمایا کہ اگر صحیح طریقے سے ساتھ نہ رہنے کی وجہ عورت کی جانب سے ہو تو مہر واپس لینے کے لیے اسے تنگ کرنا جائز ہے، یہاں بتایا کہ جب زیادتی شوہر کی جانب سے ہو تو پھر عورت سے فدیۂ طلاق لینا ممنوع اور حرام ہے۔ یعنی بلاوجہ تنگ کر کے ان سے مہر واپس لو گے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بہتان باندھ کر مہر واپس لے رہا ہے اور اس صورت میں تم ان پر دوہرا ظلم کرو گے، ایک بلاوجہ تنگ کرنا اور دوسرا مہر واپس لینا، اس لیے اسے ” اثما مبینا “ فرمایا۔ - وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مہر کی کوئی حد معین نہیں ہے خاوند اپنی حیثیت کے مطابق جتنا مہر دینا چاہے دے سکتا ہے اس مقام پر امیر المومنین عمر بن خطاب (رض) کے مہر زیادہ رکھنے سے منع کرنے پر ایک عورت کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے جس نے زیادہ مہر کے جواز کے لیے یہ آیت پڑھی تو عمر (رض) نے فرمایا کہ عمر سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے۔ اور اس سے کئی دشمنان صحابہ عمر (رض) پر طعن کرتے ہیں۔ عورت کا واقعہ کسی صحیح سند سے ثابت نہیں تفصیل کے لیے دیکھیں ارواء الغلیل (١٩٢٧)- وَكَيْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَقَدْ اَفْضٰى ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ جماع کے بعد دیا ہوا مہر واپس نہیں ہوسکتا۔ چناچہ آپ نے لعان کرنے والے مرد کے مہر واپس لینے کے مطالبے پر فرمایا تھا : ” اگر تم نے اپنی بیوی پر زنا کی بات سچ کہی ہے تو مہر اس کے عوض ہے جو تم نے اس کی شرمگاہ اپنے لیے حلال کی اور اگر اس پر جھوٹ کہا ہے تو پھر تو (مہر کی واپسی) زیادہ ہی بعید ہے۔ “ [ بخاری، الطلاق، باب قول الإمام للمتلاعنین۔۔ ٥٣١٢۔ مسلم : ٥؍١٤٩٣، عن ابن عمر ]- وَّاَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا : ” پختہ عہد “ سے مراد عقد نکاح ہے، یعنی تمہارا یہ کہنا کہ میں نے فلاں عورت سے نکاح قبول کیا۔ اب طلاق کی صورت میں دو ہی راستے میں ( فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۭ ) [ البقرہ : ٢٢٩ ] ” اور ظاہر ہے کہ طلاق دے کر مہر نہ دینا ان دونوں میں سے ایک بھی نہیں۔ “

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.