Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 1–10 of 176

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًۭا كَثِيرًۭا وَنِسَآءًۭ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِى تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًۭا

لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اول) اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلا دیئے۔ اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت بر آری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے

درس 03 ایک نظر میں :

سورت کا یہ پہلا پیراگراف اپنی افتتاحی آیت کے ساتھ ‘ لوگوں کو صرف رب واحد اور خالق واحد کی طرف رجوع کرنے کی دعوت سے شروع ہوتا ہے ۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ تمام لوگوں کو ایک ہی ماں باپ سے پیدا کیا گیا ہے ۔ وہ ایک ہی خاندان سے بکھرے ہیں ‘ انسانی نفس ہی دراصل اصل انسانیت ہے ۔ اور انسانی خاندان ہی دراصل انسانی معاشرے کی اکائی ہے ۔ اس لئے نفس انسانی کے اندر خدا خوفی کے جذبات کو جوش میں لایا جاتا ہے اور خاندانی نظام کو جذبہ صلہ رحمی سے مستحکم کیا جاتا ہے تاکہ اس مستحکم اساس پر ایک خاندان کے اندر باہم تکافل (Social Security) اور باہم محبت کے فرائض پر وان چڑھیں ۔ اس کے بعد پوری انسانیت کے اندر باہم محبت اور باہم پشتیبانی کے اصول رائج کئے جاسکیں ۔ غرض اس سورت کے اندر کی جانے والی تمام قانون سازی اور انسانیت کی تمام شیرازہ بندی اسی اصول پر کی گئی ہے ۔

آیات کا یہ حصہ درج بالا اصول وقوانین کے ساتھ ساتھ کسی معاشرے یا کسی خاندان کے اندر پائے جانے والے یتیموں کے بارے میں معاشرتی اور اجتماعی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی ہدایات دیتا ہے ۔ یتیموں کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں کہ ان کی نگرانی کس طرح کی جائے ، ان کے مال کی نگہداشت کس طرح ہو ‘ نیز افراد خاندان کے درمیان میراث کی تقسیم کے اصول بھی وضع کئے گئے ہیں ، جن میں مختلف اطراف کے رشتہ داروں کے حصص کا تعین بھی کیا گیا ہے ۔ مختلف حالات میں حصص کا فرق بھی بتایا گیا ہے ۔ اور یہ سب کچھ اس ہمی گیر انسانی اصول کی روشنی میں کیا گیا ہے جس کا ذکر آیت افتتاحیہ میں بیان ہوا ہے ۔ یہ ہمی گیر انسانی اصول بعض آیات کی ابتدا میں بعض کے در میان میں اور بعض آیات کے خامتہ پر اس سبق میں بار بار دہرایا گیا ہے ۔ اور اس حقیقت کی توثیق کی گئی ہے کہ ان تمام ہدایت اور قانون سازی اس کا خصوصی حق ربوبیت ہے ۔ اسلامی نظام میں ہر قسم کی قانون سازی اللہ جل شانہ کی اس شان ربوبیت کا اظہار ہے ۔

موجودہ آیت کی تفسیر۔

ترجمہ : ” لوگو ! اپنے سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے ، اسی خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو ۔ اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے ۔ “

یہ خطاب تماما نسانیت سے ہے ۔ بحیثیت انسان ان سے خطاب ہے تاکہ وہ سب کے سب رب واحد کی طرف لوٹ آئیں ۔ وہی تو ہے جس نے ان کی تخلیق کی ہے اور پھر اس نے ان سب انسانوں کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے ۔ پھر اس جان سے اس کیلئے جوڑا تخلیق کیا اور پھر ان دونوں سلسلہ نسب چلا کر بہت سے مرد اور عورتوں کو پوری دنیا میں پھیلا دیا ۔

بظاہر تو یہ باتیں بہت سادہ اور ابتدائی معلوم ہوتی ہیں لیکن درحقیقت یہ عظیم حقائق ہیں ۔ یہ بہت ہی بھاری باتیں ہیں اور انسانی زندگی پر ان کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اگر یہ ” لوگ “ ان باتوں پر کان دھریں ‘ اور انہیں سمجھنے کی کوشش کریں تو ان باتوں سے اس کرہ ارض پر حیات انسانی کے اندر عظیم تغیر واقعہ ہوجائے اور لوگ جاہلیت یا مختلف جاہلیتوں سے نکل کر ایمانی زندگی ‘ ہدایت یافتہ زندگی اور انسانیت کے لائق مہذب زندگی کی جانب بسہولت منتقل ہوجائیں ‘ یہ مہذب زندگی نفس انسانی کے حسب حال ہوگی اور اس کے خالق اور رب کی مرضی کے مطابق بھی ہوگی ۔

اس آیت میں وہ ابتدائی حقائق بیان ہوئے ہیں ‘ وہ قلب ونظر کیلئے درج ذیل میدان فراہم کرتے ہیں :

(1): ۔ اس میں پوری انسانیت کو یہ بتایا ہے کہ اس کی اصل کیا ہے ؟ اور اسے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اس خالق کی طرف رجوع کرے جس نے اسے پیدا کرکے اس زمین پر بسایا ہے ۔ یہ آیات بتاتی ہے کہ ” انسانیت “ نے چونکہ اپنی اس اصلیت کو فراموش کردیا ہے ۔ اس لئے وہ سب کچھ بھول گئی ہے اور اس …

2

وَءَاتُوا۟ ٱلْيَتَٰمَىٰٓ أَمْوَٰلَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا۟ ٱلْخَبِيثَ بِٱلطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَهُمْ إِلَىٰٓ أَمْوَٰلِكُمْ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ حُوبًۭا كَبِيرًۭا

اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے

اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو ‘ تین تین ‘ چار چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا ان عورتوں کو زوجیت میں لاو جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں ۔ بےانصافی سے بچنے کیلئے یہ زیادہ قرین ثواب ہے ۔

اور عورتوں کے مہر خوشدلی کے ساتھ ادا کرو ‘ البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کردیں تو اسے تم مزے سے کھا سکتے ہو ۔

اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے ‘ نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو البتہ انہیں کھانے اور پہننے کیلئے دو اور انہیں نیک ہدایات کرو ۔

اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو ‘ یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پاو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو ‘ ایسا بھی نہ کرنا کہ حد انصاف سے تجاوز کر کے اس خوف سے ان کے مال ہی جلدی جلدی کھا جاو کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے ۔ یتیم کا جو سرپرست مالدار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بناو اور حساب لینے کے لئے اللہ کافی ہے ۔ “

جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا درج بالا موکد ہدایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے جاہلی معاشرے میں عورتوں اور بچوں اور ضعفاء کو بری طرح پامال کیا جاتا تھا ، مدینہ طیبہ کے اسلامی معاشرے میں دور جاہلیت کے یہ آثار ابھی تک باقی تھے ‘ اس لئے کہ مدینہ کا اسلامی معاشرہ اصلا عرب کے جاہلی معاشرے سے کٹ کر وجود میں آیا تھا اور قرآن مجید اس کی تہذیت وتربیت کر رہا تھا ‘ اور اسلامی جماعت کو نئی اقدار اور نئے تصورات سے مزین کیا جارہا تھا ‘ مسلمانوں کو نیا شعور دیا جارہا تھا ‘ ان کے اندر نئے خدوخال پیدا کئے جارہے تھے اور جدید رسم و رواج پیدا کئے جارہے تھے ۔

(آیت) ” واتوا الیتمی اموالھم ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم ، انہ کان حوبا کبیرا “۔ (2)

ترجمہ : ” یتیموں کے مال ان کو واپس دو ‘ اچھے کو برے مال سے نہ بدل لو ‘ ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاو ‘ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔ “

یتیموں کو وہ مال دیدو جو تمہارے تصرف میں ہیں ‘ اور یہ نہ کرو کہ یتیموں کو مال دیتے وقت ردی اموال ان کو دیدو اور قیمتی اپنے پاس رکھ لو ۔ مثلا یہ کہ ان کی اچھی اراضی خود لے لو اور اپنی کم درجے کی اراضی انہیں دیدو ‘ اسی طرح اچھے مویشی خود لے لو اور انہیں بےکار مویشی دیدو ‘ یا تقسیم کرکے وہ انہیں گھٹیا حصہ دیدو ‘ یا نقد مال میں انہیں کھوٹے سکے دیدو کیونکہ نقد میں قیمتی اور کھوٹے دونوں سکے ہوتے ہیں ۔ نیز ان کی دولت کو اپنی دولت کے اندر ملا کر بھی نہ کھاو ۔ سب کا سب یا اس کا کوئی حصہ ۔ اللہ کے نزدیک یہ گناہ کبیرہ ہے ۔ اللہ تمہیں اس گناہ کبیرہ سے متنبہ کرتا ہے ۔

یہ سب واقعات اس وقت سوسائٹی میں بالعموم ہوا کرتے تھے جب اسلام آیا اور لوگوں کو ان ہدایات سے خطاب کیا گیا ۔ اس خطاب ہی سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ مخاطبین کے اندر ایسے لوگ موجود تھے ‘ جن سے اس قسم کی غلطیاں سرزد ہوا کرتی تھیں ۔ اور یہ امور جاہلیت کے آثار باقیہ میں سے تھے ۔ ہر جاہلی نظام میں ایسے ہی امور بالعموم پائے جاتے ہیں ۔ آج ہم گاؤں اور شہروں میں جاہلیت جدیدہ کے نظاموں میں روز ان امور کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ آج بھی مختلف طریقوں سے یتیموں کے مال کھائے جاتے ہیں ‘ اور اس کیلئے مختلف حیلے اور بہانے تراشے جاتے ہیں ۔ آج کل مفصل قانونی تدابیر اور افسران حکومت کی جانب سے یتیموں کے اموال کی کڑی نگرانی کے باوجود اولیاء زیر کفالت لوگوں کے مال و جائیداد میں خرد برد کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں جو مشکلات ہیں انہیں قانون سازی اور …

3

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا۟ فِى ٱلْيَتَٰمَىٰ فَٱنكِحُوا۟ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثْنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ فَوَٰحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُوا۟

اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے

(آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم من النسآء مثنی ثلث وربع ، فان خفتم الا تعدلوا فواحدة او ماملکت ایمانکم ، ذالک ادنی الا تعولوا “۔

حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے دریافت فرمایا کہ آیت ” اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو “۔ کا مفہوم کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا بھانجے ! یہ یتیم بچی وہ تھی جو اپنے ولی کی تحویل میں ہوتی تھی ۔ یہ ولی کے ساتھ مال میں شریک ہوتی تھی ‘ اسے اس کے مال اور اس کی خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی تھی ، اس طرح اس کا ولی یہ چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ نکاح کرلے بغیر اس کے کہ اسے مہر ادا کرے ‘ اور اسے وہ حقوق دے جو اسے دوسرے دلچسپی رکھنے والے دینے کیلئے تیار ہوتے تھے ۔ چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان اولیاء کو یہ حکم دیا کہ ان کے زیر کفالت یتیموں سے صرف اس صورت ہی ہی میں نکاح کرسکتے ہیں جب ان کے ساتھ عدل کرسکیں ، ان کو ان کے معیار کے مطابق مہر ادا کرسکیں ۔ اگر وہ نہیں کرسکتے تو وہ دوسری عورتوں سے نکاح کرلیں۔ “ عروہ فرماتے ہیں ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ” اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں نے حضور ﷺ سے فتوی دریافت کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ “ ” لوگ عورتوں کے بارے میں تم سے فتوی پوچھتے ہیں ‘ کہو اللہ تمہیں ان کے معاملے میں فتوی دیتا ہے ‘ اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں ۔ یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں ‘ جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو ۔ “ (4 : 731) حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جو کہا ہے ۔ ” اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو ۔ “ یہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ اس کے پاس نہ پیسے ہوں اور نہ خوبصورتی ہو ‘ اس لئے انہیں صاحب مال و جمال یتیمہ سے بھی نکاح کرنے سے منع کردیا گیا ‘ الا یہ کہ اس کے ساتھ عدل و انصاف کیا جائے ، اس لئے کہ مال و جمال نہ ہونے کی صورت مین تو وہ ایسی یتیموں سے نکاح نہ کرتے تھے ۔ “ (بخاری)

حضرت عائشہ ؓ کی مذکورہ بالا حدیث سے ایام جاہلیت کی مروجہ رسومات میں سے بعض رسموں کی یہاں تصویر کشی کی گئی ہے اور یہ رسوم جاہلیت کے زمانہ سے اسلامی معاشرے میں بھی ابھی تک موجود تھیں ، اس لئے قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں اور ان کی ممانعت کرکے انکی جڑ کاٹ دی گئی ، غرض یہ رفیع الشان ہدایات دیکر معاملے ، کو پھر انسان کے ضمیر اور اس کے دلی تقوی کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ (آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا ” (اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو)

اس معاملے کا تعلق محض انسان کے قلب وضمیر کے ساتھ ہے اور اس کے شعور خدا خوفی سے ہے ۔ اگر ولی کو یہ خطرہ ہو کہ وہ عدل نہ کرسکے گا تو اسے چاہئے کہ وہ اس قسم کے نکاح سے اجتناب کرے ۔ لیکن آیت کی عبارت عام ہے ‘ حکم اور ہدایت یہی ہے کہ عدل کے ہر مقام پر عدل کا برتاو کیا جائے ۔ چاہے اس کا تعلق مہر کے معاملے سے ہو یا اس کے علاوہ زندگی کے دوسرے نشیب و فراز سے ہو ‘ مثلا یہ کہ وہ صرف مال کیلئے یہ نکاح کر رہا ہو اور عورت کی ذات سے اسے دلچسپی نہ ہو ‘ یا اسے اس کے ساتھ حسن معاشرے کے سلسلے میں کوئی رغبت نہ ہو ‘ یا یہ کہ مرد اور عورت کی عمر میں بہت زیادہ فرق ہو اور نباہ ممکن نہ ہو ‘ اور نہ نکاح کے معاملے میں مرد سنجیدہ ہو اور بعض اوقات صورت حال یہ ہوتی ہے کہ لڑکی شرم وحیاء کے وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتی یا اسے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اگر اس کا نکاح باہر ہوا تو اس کا مال جاتا رہے گا وغیرہ وغیرہ ‘ جن حالات میں عدل ممکن نہیں ہوتا ، قرآن کریم کا یہ طریق کار یہ ہے وہ ضمیر کے اندر چوکیدار بتھاتا ہے ۔ اور تقوی کی نگرانی قائم کرتا ہے ۔ اس کی پہلی آیت کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوا تھا (آیت) ” ان اللہ کان علیکم رقیبا “ (1) (اللہ تم پر نگرانی کررہا …

4

وَءَاتُوا۟ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحْلَةًۭ ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَىْءٍۢ مِّنْهُ نَفْسًۭا فَكُلُوهُ هَنِيٓـًۭٔا مَّرِيٓـًۭٔا

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے ذوق شوق سے کھالو

(آیت) ” واتوالنساء صدقتھن نحلة فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریئا (4)

یہ آیت عورت کے لئے ایک واضح حق (Right) کی بنیاد رکھتی ہے جو اس کا ذاتی حق ہے ۔ یعنی اس کا مہر ‘ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ دور جاہلیت میں عورت کے اس حق کو مختلف حیلوں بہانوں سے مارا جاتا تھا ، ایک صورت یہ تھی کہ عورت کا ولی اس مہر کو لے لیتا اور پھر اسے وہ خود استعمال کرتا ، اسی طرح جس طرح ایک شخص کوئی چیز فروخت کرکے زر ثمن وصول کرتا ہے ۔ ایک صورت اس حق کو مارنے کی نکاح شغار کی صورت میں تھی ۔ کہ ایک ولی الامر اپنی زیر تولیت لڑکی دوسرے شخص کو نکاح کر کے دیتا ہے ۔ اور اس کے مقابلے میں دوسرا ولی الامر اپنی تولیت میں پائی جانے والی کسی لڑکی کا نکاح پہلے ولی کا کسی رشتہ دار سے کردیتا ۔ یعنی لڑکی کے مقابلے میں لڑکی آجاتی ، یہ سودا دو اولیاء کے درمیان ہوتا اور اس سے ان دو لڑکیوں کو کچھ نہ ملتا ۔ جس طرح دو مویشیوں کو آپس میں تبادلہ کردیا جاتا ہے ۔ اسلام نے نکاح شغار کو بالکل منع کردیا ۔ اور یہ حکم دیا کہ نکاح صرف اسی صورت میں ہو کہ دونوں فریق براہ راست اس پر رضا مند ہوں اور اپنے اختیار سے معاملہ کریں ۔ اور یہ کہ مہر صرف عورت کا حق ہے ۔ وہ خود اسے وصول کرے گی ۔ اس کے ولی کو وصول کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اسلام نے مہر کے تعین کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ عورت اسے اپنے قبضہ میں لے سکے ۔ کیونکہ یہ اس کیلئے ایک فریضہ ہے ۔ یہ ایک لازمی اور واجبی حق ہے جو کسی طرح بھی منسوخ یا معطل نہیں ہو سکتا ۔ یہ لازمی کیا گیا کہ مرد اس حق کو خوشدلی کے ساتھ ادا کرے ۔ اور اسے اس طرح دلی آمادگی سے ادا کرے جس طرح شخص ھبہ صرف اپنی دلی رضامندی سے دیتا ہے یعنی ہے تو فرض لیکن اسے اس طرح طیب نفس اور خوشی سے ادا کیا جائے کہ گویا فرض نہیں ہے بہ ہے ۔ ہاں ادائیگی کے بعد اگر عورت اپنی مکمل رضا مندی اور خوشدلی کے ساتھ یہ پورا مہر یا اس کا کوئی حصہ اپنے شوہر کو لوٹادیتی ہے تو وہ اس معاملے میں پوری طرح آزاد ہے ۔ وہ بھی جو واپس کرے وہ بھی مکمل آزادی اور طیب خاطر کے ساتھ ہو ‘ کوئی جبر نہ ہو ۔ اس صورت میں مرد کیلئے بھی اس مہر کا کھانا حلال ہے ۔ بلکہ وہ اسے مزے سے کھا سکتا ہے بغیر کسی قلبی خلجان کے ۔ غرض زوجین کے درمیان تعلقات مکمل رضا مندی کے ساتھ ہونے چاہئیں ۔ فریقین مکمل طور پر مختار خود ہوں ‘ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جو معاملہ کریں دلی خوشی اور آزادی کے ساتھ کریں ، اور محبت تو چیز ہی ایسی ہے جس میں کسی جہت سے بھی کدورت نہیں ہونی چاہئے ۔

اس طرح اسلامی نظام حیات نے آثار جاہلیت میں سے ایک اور اثر کو ختم کردیا ، جو عورت کے مہر کے بارے میں عرب معاشرہ میں مروج تھا ۔ اور عورت کیلئے اس کی ذات اور اس کے مہر و مال کے بارے میں مکمل حقوق (Rights) بحال کردیئے گئے ۔ اس طرح اس کی عزت وقار کو بحال کیا گیا ۔ لیکن ان قانونی حقوق کی بحالی کے ساتھ ساتھ زن وشو کے باہمی تعلقات کو خشک قانونی پیمانوں کے حوالے بھی نہیں کردیا گیا ۔ اور اس سلسلے میں رضا مندی ‘ محبت اور باہم فیاضی کے راستے بھی کھلے رکھے گئے ہیں ۔ اس لئے کہ میاں بیوی نے مشترکہ طور پر زندگی گزارنی ہے ۔ اور اس بات کی ضرورت ہے کہ ان تعلقات کو خشک قانونی فضا سے نکال کر باہم محبت اور برواحسان کی شبنم سے تروتازہ رکھا جائے ۔

جب یہ موضوع یہاں ختم ہوتا ہے تو بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے ، چونکہ اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی تھی کہ یتیم عورتوں کے ساتھ عام عورتوں کی بات بھی ہوجائے ۔ اب یہاں یتیموں کے مالی حقوق کا ذکر بھی مناسب تھا ۔ مفصلا حکم دیا جاتا ہے کہ ان کی دولت ان کو لوٹا کردی جائے جبکہ اس سے پہلے آیت نمبر 2 میں کہ ان کی دولت انہیں دی جائے ۔

دولت چاہے یہ ییتموں کی ہو یا بالغ مرد عورتوں کی ہو ‘ یہ ان لوگوں کی انفرادی ملکیت ہونے سے بھی پہلے یہ پوری سوسائٹی کی دولت …

5

وَلَا تُؤْتُوا۟ ٱلسُّفَهَآءَ أَمْوَٰلَكُمُ ٱلَّتِى جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ قِيَٰمًۭا وَٱرْزُقُوهُمْ فِيهَا وَٱكْسُوهُمْ وَقُولُوا۟ لَهُمْ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا

اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لئے سبب معیشت بنایا ہے مت دو (ہاں) اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہے اور ان سے معقول باتیں کہتے رہو

(آیت) ” ولا توتوا السفہآء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیما وارزقوھم فیھا واکسوھم وقولوا لھم قولا معروفا “۔ (5)

نادانی اور دانائی کا پتہ بلوغ کے بعد چل جاتا ہے ۔ بالعموم نادان اور دانا کے درمیان ہو ہی جاتی ہے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ قانون کے اندر اس کیلئے کوئی فارمولا وضع کردیا جائے ، ہر خاندان اس بات کی تمیز اچھی طرح کرلیتا ہے کہ اس کے اندر نادان کون ہے اور دانا کون ہے ۔ اسے اچھی طرح تجربہ ہوتا ہے کہ یہ راشد ہے اور یہ سفیہ ہے نیز سوسائٹی سے بھی کسی شخص کے معاملات اور تصرفات پوشیدہ نہیں ہوتے ۔ لہذا جانچ پڑتال اس بات کی ہوگی کہ یتیم بالغ ہوگیا ہے یا نہیں ۔ یہاں آیت میں اس بلوغ کی تعبیر لفظ نکاح سے کی گئی ہے کیونکہ بلوغ میں سے نکاح ایک اہم اثر ہوتا ہے ۔

6

وَٱبْتَلُوا۟ ٱلْيَتَٰمَىٰ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغُوا۟ ٱلنِّكَاحَ فَإِنْ ءَانَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًۭا فَٱدْفَعُوٓا۟ إِلَيْهِمْ أَمْوَٰلَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَآ إِسْرَافًۭا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا۟ ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّۭا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًۭا فَلْيَأْكُلْ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَٰلَهُمْ فَأَشْهِدُوا۟ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبًۭا

اور یتمیوں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا۔ جو شخص آسودہ حال ہو اس کو (ایسے مال سے قطعی طور پر) پرہیز رکھنا چاہیئے اور جو بے مقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو۔ اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے

(آیت) ” وابتلوا الیتمی حتی اذا بلغوا النکاح فان انستم منھم رشدا فادفعوا الیھم اموالھم ولا تاکلوھا اسرافا وبدارا ان یکبروا ومن کان غنیا فلیستعفف ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف فاذا دفعتم الیھم اموالھم فاشھدوا علیھم وکفی باللہ حسیبا “۔ (6)

اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے یتیموں کو ان کی دولت حوالے کرنے کے سلسلے میں شریعت نے کس قدر سخت کاروائی کی ہے ۔ جب وہ بالغ ہوجائیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت بلوغ اور سیانے ہونے کے بعد جلد از جلد ان کی دولت انکے حوالے کرنے کیلئے کاروائی کرنے پر زور دیتی ہے ۔ یعنی جونہی وہ بالغ ہوں ‘ ان کی دولت ان کے حوالے کی جائے ۔ اور یہ دولت پوری کی پوری صحیح سالم ان کے حوالے کی جائے ۔ اور جب تک ولی کی حفاظت میں ہو اس کی حفاظت ایمانداری کے ساتھ کی جائے اور اسے بےدردی کے ساتھ خرچ نہ کیا جائے ۔ اس ڈر سے کہ یتیم بالغ ہونے والے ہیں اور یہ دولت انہیں لوٹانی ہوگی ۔ نیز شریعت کی پالیسی یہ ہے کہ اگر محافظ مالدار ہو تو وہ اس نگرانی اور حفاظت کا کوئی معاوضہ نہ لے اور اگر وہ نادار ہو تو اسے چاہئے کہ معروف طریقے کے مطابق کم سے کم ضرورت کی حد تک کھائے ۔ اور شریعت یہ بھی لازمی قرار دیتی ہے کہ جب کسی یتیم کو اس کا مال حوالے کیا جا رہا ہو تو اس پر شہادت ضرور قائم کی جائے ۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ کی شہادت تو ہر وقوعہ پر قائم ہے اور اللہ کے سامنے جو حساب ہوگا وہ آخری حساب ہوگا ۔

(آیت) ” وکفی باللہ حسیبا “۔ (6) ”’ اور حساب لینے کیلئے اللہ کافی ہے ۔ “

یہ تمام تشدید وتاکید اور تمام تفصیلات وتشریحات اور یہ تمام تنبیہات وتذکیرات اس حقیقت کی مظہر ہیں کہ جس معاشرے میں اسلامی نظام نافذ ہوا ۔ اس میں ہر طرف ییتموں کی حق تلفی ہو رہی تھی ۔ یتیموں کے علاوہ دوسرے کمزوروں کے مال بھی کھائے جاتے تھے ۔ اس لئے کہ اس رسم و رواج کو ختم کرنے کیلئے اس قدر تاکید وتشدید کی ضرورت پیش آئی ۔ اور جزوی تفصیلات کو قرآن کریم کے اندر قلم بند کرنے کی ضرورت لاحق ہوئی ۔ تاکہ آئندہ لوگ قانونی حیلوں اور بہانوں سے کام لیکر قانون شکنی نہ کرسکیں اور قانون سے بچنے کی کوئی راہ کھلی نہ رہے ۔

اس طرح نظام حیات مسلمانوں کی فکری اور عملی دنیا سے جاہلیت کے ایک ایک نشان مٹاتا رہا اور اس کی جگہ اسلامی جھنڈے گاڑتا رہا ۔ جاہلیت کے آثار مٹائے جاتے رہے اور معاشرے کے چہرے کو ان بدنما داغوں سے صاف کیا جاتا رہا ۔ اور ان کی جگہ اسلام کے خوبصورت خدوخال ظاہر ہوتے رہے ۔ اور یوں ایک جدید معاشرہ ڈھلتا رہا ۔ جدید معاشرے کی رسوم اور روایات قائم ہوتی چلی گئیں ۔ اس کے اصول و ضوابط اور قوانین و احکام نازل ہوتے رہے ۔ اور یہ سب کچھ خدا خوفی کی فضا میں اور اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوتا رہا ۔ اور اسلامی قانون اور اسلامی احکام کی آخری گارنٹی ذات باری کے خوف اور رضا مندی کو قرار دیا جاتا رہا حقیقت یہ ہے کہ خدا خوفی ‘ خدا کی رضا مندی اور اللہ کی نگرانی کے تصور کے سوا ‘ اس دنیا میں کسی بھی قانونی نظام کی استواری اور چلت کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔ اصل مدار اس پر ہے کہ (آیت) ” وکفی باللہ حسبیا “۔ ” اور حساب لینے کیلئے اللہ کافی ہے ۔ “

جاہلیت کی رسم یہ تھی کہ وہ لڑکیوں اور بچوں کو وراثت نہ دیتے تھے ۔ عام رواج یہی تھا ۔ البتہ بعض جگہوں پر اس کے خلاف بھی تھا مگر شاذ ۔ اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ تھی کہ یہ لوگ گھوڑے پر سوار نہیں ہوتے تھے ۔ دشمن کے مقابلے میں شریک نہ ہوتے تھے ۔ گویا اصل مدار جنگ پر تھا ۔ اسلامی نظام قانون نے میراث کو قرابت کے اصول پر استوار کیا ۔ جو تقسیم میراث کا حقیقی سبب تھا ۔ ہاں جس طرح قرابت کے مختلف درجے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اقرباء کے حصص اور فرائض میں بھی فرق ہے ۔ جیسا کہ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں ۔ نظام میراث کو اسلام نے نظام قرابت پر اس لئے استوار کیا کہ اسلام اجتماعی تکافل کے نظام کی …

7

لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا

جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت۔ اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی یہ حصے (خدا کے) مقرر کئے ہوئے ہیں

(آیت) ”۔ للرجال نصیب مما ترک الوالدن والاقربون وللنسآء نصیب مما ترک الوالدن والاقربون مما قل منہ اوکثر نصیبا مفروضا “۔ (7)

یہ وہ عام اصول ہے جس کی رو سے اسلام نے آج سے پورے چودہ سو سال قبل عورتوں کو وہ حقوق دیئے جو اس وقت مردوں کو حاصل تھے ۔ یہ فیصلہ اصولی فیصلہ تھا ۔ جس طرح یتیموں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا ‘ جبکہ اس وقت کے معاشرے میں عموما چھوٹوں اور یتیموں کے حقوق مارے جاتے تھے ۔ اور یہ حقوق اس لئے مارے جاتے تھے کہ ایام جاہلیت میں انسانوں کی قدروقیمت کا تعین انسانی لحاظ سے نہیں بلکہ اس کا تعین اس لحاظ سے کیا جاتا تھا کہ پیداواری عمل میں وہ کس قدر کام آتے ہیں اور پھر جنگ میں وہ کس قدر وہ کام آتے ہیں ۔ ان حالات میں اسلام نے ایک ربانی نظام پیش کیا ‘ جس نے سب سے پہلے انسان کو بحیثیت انسان دیکھا ۔ اس لئے کہ انسان کو انسانی حیثیت اس سے کسی حال میں بھی علیحدہ نہیں کی جاسکتی ۔ انسانی حیثیت بنیادی حیثیت ہوتی ہے ۔ اور ایک خاندان کے اندر یا ایک سوسائٹی کے اندر تمام دوسری حیثیات کا لحاظ اس کے بعد آتا ہے ۔

جیسا کہ بعد میں تفصیلات ناظرین کے سامنے آرہی ہیں ‘ اسلام کے قانون میراث میں بعض رشتہ داروں کی موجودگی سے بعض دوسرے وارث محروم ہوجاتے ہیں ۔ وہ رشتہ دار تو ہوتے ہیں لیکن ان کو وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ اس لئے کہ ان کے مقابلے میں زیادہ قریبی رشتہ دار ان سے پہلے ہی حق لے لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو محجوب کہتے ہیں ۔ اس لئے یہاں تقسیم میراث کے وقت ایسے لوگوں کیلئے غیر متعین حق رکھا جاتا ہے ۔ جب وہ تقسیم میراث کے وقت موجود بھی ہوں اور مستحق بھی ہوں ۔ یہ حق ایسے لوگوں کی دلجوئی کیلئے رکھا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ دیکھیں گے کہ مال تقسیم ہو رہا ہے اور وہ محروم ہیں ۔ اس لئے ان کی دلجوئی مطلوب ہے ۔ نیز اس سے خاندانی رشتے دار اور رابطے بھی مضبوط ہوں گے اور دلی محبت میں اضافہ ہوگا ۔ اسی طرح دوسرے یتیموں ، مسکینوں کے بارے میں بھی یہاں مشورہ دیا جاتا ہے کہ تقسیم کنندگان انہیں بھی کچھ ضرور دیں ۔

8

وَإِذَا حَضَرَ ٱلْقِسْمَةَ أُو۟لُوا۟ ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينُ فَٱرْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا۟ لَهُمْ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا

اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو۔ اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو

(آیت) ”۔ واذا حضر القسمة اولوالقربی والیتمی والمسکین فارزقوھم منہ وقولولھم قولا معروفا “۔ (8)

اس آیت کے بارے میں علماء سے بہت سے اقوال نقل ہوئے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے ۔ اور اسے آیت میراث نے منسوخ کردیا ہے جس میں تمام لوگوں کے حصص مقرر ہوچکے ہیں ۔ بعض نے اسے منسوخ اور قائم کہا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا مفہوم اور مدلول پر عمل کرنا فرض اور واجب ہے ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس پر عمل کرنا مستحب ہے ۔ یہ وارثوں کی مرضی ہے کہ وہ اس پر عمل کریں یا نہ کریں ، میرے خیال میں اس کے منسوخ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ بلکہ یہ آیات محکمات میں سے ہیں اور اس پر عمل کرنا واجب ہے ۔ اس لئے کہ ایک تو بظاہریہ مطلق ہے ۔ دوسرے یہ کہ اسلامی نظام حیات میں عام کفالت اور برواحسان کو بہت ہی پسند کیا جاتا ہے ۔ بہرحال یہ ایک مستقل مد ہے اور ان حصص کے علاوہ ہے جو آنے والی آیات کے اندر متعین کردیئے ہیں ۔

اس سے پہلے کہ وارثان کے حصص کا بیان شروع ہو ‘ ایک بار پھر تاکید کی جاتی ہے کہ یتیموں کا مال کھانا بہت ہی خطرناک جرم ہے ‘ یہ دوبارہ تاکید اس لئے کی جاتی ہے کہ اہل ایمان کے دلوں کو ایک دو شدید چٹکیاں بھریں ۔ پہلی چٹکی سے ان کے دل کے اندر پوشیدہ پدری شفقت کو جگانا مطلوب ہے ۔ بچوں کے ساتھ ہر باپ کو فطری محبت ہوتی ہے ۔ خصوصا جبکہ وہ بہت ہی ضعیف اور ناتوانی کی حالت میں ہوں اور یہ کہ خدا خوفی کا جذبہ ہی بہترین محاسب اور نگران ہوتا ہے اور دوسری چٹکی سے ان کے دلوں میں جذبات خوف اور انجام بد کے ڈر کو جگایا جاتا ہے ۔ جہنم کی آگ کا خوف اور یہ یہاں ایک محسوس ‘ مشاہد اور خوفناک انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔

9

وَلْيَخْشَ ٱلَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا۟ مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةًۭ ضِعَٰفًا خَافُوا۟ عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلْيَقُولُوا۟ قَوْلًۭا سَدِيدًا

اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں

(آیت) ”۔ ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریة ضعفا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولا سدیدا (9) ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا ، وسیصلون سعیرا “۔ (01)

یہ پہلی چٹکی دل کے پردے کو ٹچ کرتی ہے ۔ ایک حساس محبت سے بھر آنے والے باپ کے دل کو اپنے چھوٹے اور کمزور بچوں کی نسبت سے یہ تصور دیا جاتا ہے کہ ذرا سوچیں تو سہی تمہارے چھوٹے بچے ہوں ‘ ناتوان ہوں اور ان پر کوئی ترس کھانے والا نہ ہو اور نہ کوئی ان کا محافظ ونگران ہو۔ جو ان کے سرپر رحم کا ہاتھ پھیرے ۔ یہی حالت ان یتیموں کی ہے ‘ جن کی تقدیر تمہارے سپرد ہے ۔ انکے باپوں کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ چکا ہے ۔ انہیں کیا معلوم ہے کہ کل تم نہ رہو تو خود تمہارے بچے دوسرے زندہ اولیاء کی تولیت میں ہوں جس طرح یہ موجود بچے تمہاری ولایت میں ہیں ۔ اس ٹچ کے بعد انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ اس تصور کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے بارے میں خدا کا خوف ہر وقت دل میں ان کو اور اس کا بدلہ یہ ہوگا کہ کل تمہارے بچوں کا انتظام بھی اللہ ایسے ہی خدا ترس اولیاء کے ذریعے کرانے کا انتظام کرے گا ۔ جو خدا خوفی ‘ احتیاط اور محبت سے یہ ڈیوٹی سرانجام دیں گے ۔ پھر یہ نصیحت بھی کی جاتی ہے کہ وہ ان یتیموں کے بارے میں سیدھی سیدھی بات کریں ۔ یعنی اس تربیت اور نگرانی اور اس کے متاع واموال کی دیکھ بھال کے دوران ۔

اور یہ دوسرا ٹچ کیا ہے ؟ نہایت ہی خوفناک کچھ لوگ ہیں جو دھکتے انگاروں کو اس طرح کھائے جا رہے ہیں جس طرح لقمہ رزق ‘ کیا خوفناک تصویر ہے یہ ’ آخر کار جہنم میں اور پیٹ میں بھی جہنم ‘ یہ دولت جسے وہ کھا رہے ہیں ۔ یتیموں کا مال ‘ گویا وہ آگ کے دھکتے انگارے کھا رہے ہیں ۔ مال کار وہ جہنم رسید ہوں گے ۔ وہ ان کے ان معدوں اور ان کی کھال کو بھسم کر کے رکھ دے گی ۔ ظاہر میں بھی آگ اور باطن میں آگ ، مجسمہ آگ جسے پیٹ اور کھال دونوں محسوس کرتے ہیں ۔ اس تصویر کو آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور اس میں پیٹ اور جسم اور کھال سب جل رہے ہیں ۔

قرآن کریم کے اس موثر انداز تعبیر نے صحابہ کرام اور مسلمانوں کے دل و دماغ پر خوب اثر کیا ۔ ان نصوص کے موثر اشارات نے اہل ایمان کے دل و دماغ سے جاہلیت کی میل کچیل دھو کر رکھ دی ۔ ان کے دلوں کو اس قدر جھنجوڑا کہ جاہلیت کے ہر قسم کے گرد و غبار کو جھاڑ کر رکھ دیا ۔ اور اس جگہ ان مومن دلوں کے اندر خدا ترسی ‘ خدا خوفی اور احتیاط واحتساب کے جذبات پیدا کردیئے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ انہوں نے یتیموں کے مال کو اچھوت تصور کیا وہ دیکھ رہے تھے کہ اس مال کے اندر آگ ہے اور یہ تصور ان کے دلوں میں ان آیات پر تاثیرات نے پیدا کردیا تھا ۔ انکی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اموال یتامی کو چھونا تک گوارا نہ کرتے تھے ۔ اور ان اموال سے اس طرح دور بھاگتے تھے جسے لومڑی ڈر کے مارے بھاگتی ہے ۔

عطاء ابن سائب کے واسطہ سے سعید ابن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ ” تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے ، انہوں نے ان کھانا پکانا جدا کردیا ۔ ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا گیا ، بعض اوقات ان کے کھانے پینے سے کچھ چیز بچ جاتی تھی تو وہ ان کیلئے چھوڑ دی جاتی تھی کہ یا تو وہ دوسرے وقت کھائیں یا وہ چیز خراب ہوجاتی ۔ یہ معاملہ ان کیلئے تکلیف کا باعث بن گیا اس بات کی شکایت حضور ﷺ کے سامنے ہوئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(آیت) ” ویسئلونک عن الیتمی ، قل اصلاح لھم خیر ، وان تخالطوھم فاخوانکم ، واللہ یعلم المفسد من المصلح ، ولو شآء اللہ لاعنتکم “۔

ترجمہ : ” پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہو جس طرز عمل میں ان کیلئے بھلائی ہو ‘ وہی اختیار کرنا بہتر ہے ۔ اگر تم اپنا اور انکا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو ‘ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو …

10

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَٰلَ ٱلْيَتَٰمَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِى بُطُونِهِمْ نَارًۭا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًۭا

لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے

(آیت) ”۔ ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریة ضعفا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولا سدیدا (9) ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا ، وسیصلون سعیرا “۔ (01)

یہ پہلی چٹکی دل کے پردے کو ٹچ کرتی ہے ۔ ایک حساس محبت سے بھر آنے والے باپ کے دل کو اپنے چھوٹے اور کمزور بچوں کی نسبت سے یہ تصور دیا جاتا ہے کہ ذرا سوچیں تو سہی تمہارے چھوٹے بچے ہوں ‘ ناتوان ہوں اور ان پر کوئی ترس کھانے والا نہ ہو اور نہ کوئی ان کا محافظ ونگران ہو۔ جو ان کے سرپر رحم کا ہاتھ پھیرے ۔ یہی حالت ان یتیموں کی ہے ‘ جن کی تقدیر تمہارے سپرد ہے ۔ انکے باپوں کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ چکا ہے ۔ انہیں کیا معلوم ہے کہ کل تم نہ رہو تو خود تمہارے بچے دوسرے زندہ اولیاء کی تولیت میں ہوں جس طرح یہ موجود بچے تمہاری ولایت میں ہیں ۔ اس ٹچ کے بعد انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ اس تصور کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے بارے میں خدا کا خوف ہر وقت دل میں ان کو اور اس کا بدلہ یہ ہوگا کہ کل تمہارے بچوں کا انتظام بھی اللہ ایسے ہی خدا ترس اولیاء کے ذریعے کرانے کا انتظام کرے گا ۔ جو خدا خوفی ‘ احتیاط اور محبت سے یہ ڈیوٹی سرانجام دیں گے ۔ پھر یہ نصیحت بھی کی جاتی ہے کہ وہ ان یتیموں کے بارے میں سیدھی سیدھی بات کریں ۔ یعنی اس تربیت اور نگرانی اور اس کے متاع واموال کی دیکھ بھال کے دوران ۔

اور یہ دوسرا ٹچ کیا ہے ؟ نہایت ہی خوفناک کچھ لوگ ہیں جو دھکتے انگاروں کو اس طرح کھائے جا رہے ہیں جس طرح لقمہ رزق ‘ کیا خوفناک تصویر ہے یہ ’ آخر کار جہنم میں اور پیٹ میں بھی جہنم ‘ یہ دولت جسے وہ کھا رہے ہیں ۔ یتیموں کا مال ‘ گویا وہ آگ کے دھکتے انگارے کھا رہے ہیں ۔ مال کار وہ جہنم رسید ہوں گے ۔ وہ ان کے ان معدوں اور ان کی کھال کو بھسم کر کے رکھ دے گی ۔ ظاہر میں بھی آگ اور باطن میں آگ ، مجسمہ آگ جسے پیٹ اور کھال دونوں محسوس کرتے ہیں ۔ اس تصویر کو آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور اس میں پیٹ اور جسم اور کھال سب جل رہے ہیں ۔

قرآن کریم کے اس موثر انداز تعبیر نے صحابہ کرام اور مسلمانوں کے دل و دماغ پر خوب اثر کیا ۔ ان نصوص کے موثر اشارات نے اہل ایمان کے دل و دماغ سے جاہلیت کی میل کچیل دھو کر رکھ دی ۔ ان کے دلوں کو اس قدر جھنجوڑا کہ جاہلیت کے ہر قسم کے گرد و غبار کو جھاڑ کر رکھ دیا ۔ اور اس جگہ ان مومن دلوں کے اندر خدا ترسی ‘ خدا خوفی اور احتیاط واحتساب کے جذبات پیدا کردیئے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ انہوں نے یتیموں کے مال کو اچھوت تصور کیا وہ دیکھ رہے تھے کہ اس مال کے اندر آگ ہے اور یہ تصور ان کے دلوں میں ان آیات پر تاثیرات نے پیدا کردیا تھا ۔ انکی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اموال یتامی کو چھونا تک گوارا نہ کرتے تھے ۔ اور ان اموال سے اس طرح دور بھاگتے تھے جسے لومڑی ڈر کے مارے بھاگتی ہے ۔

عطاء ابن سائب کے واسطہ سے سعید ابن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ ” تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے ، انہوں نے ان کھانا پکانا جدا کردیا ۔ ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا گیا ، بعض اوقات ان کے کھانے پینے سے کچھ چیز بچ جاتی تھی تو وہ ان کیلئے چھوڑ دی جاتی تھی کہ یا تو وہ دوسرے وقت کھائیں یا وہ چیز خراب ہوجاتی ۔ یہ معاملہ ان کیلئے تکلیف کا باعث بن گیا اس بات کی شکایت حضور ﷺ کے سامنے ہوئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(آیت) ” ویسئلونک عن الیتمی ، قل اصلاح لھم خیر ، وان تخالطوھم فاخوانکم ، واللہ یعلم المفسد من المصلح ، ولو شآء اللہ لاعنتکم “۔

ترجمہ : ” پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہو جس طرز عمل میں ان کیلئے بھلائی ہو ‘ وہی اختیار کرنا بہتر ہے ۔ اگر تم اپنا اور انکا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو ‘ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو …

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.