Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 171–176 of 176

171

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ إِنَّمَا ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلْقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌۭ مِّنْهُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۖ وَلَا تَقُولُوا۟ ثَلَٰثَةٌ ۚ ٱنتَهُوا۟ خَيْرًۭا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ سُبْحَٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٌۭ ۘ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًۭا

اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور کا کلمہٴ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اوراس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے

(آیت) ” نمبر : 171۔

نصرانیوں کا عقیدہ تثلیث غلو فی الدین ‘ حدود سے تجاوز اور حق سے روگردانی ہے اس لئے اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں وہی کچھ کہیں جو حق ہو ‘ مثلا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے یا یہ کہ وہ تین میں سے ایک ہے ۔

ان کے ہاں نظریہ تثلیث مختلف ادوار کے اندر ان کی فکری اتار چڑھاؤ کے مطابق بدلتا رہا ہے ۔ لیکن اللہ کی طرف بیٹے کی نسبت کرکے انسان کی فطری ناپسندیدگی کی وجہ سے اور دور جدید کی عقلیت پسندی کی وجہ سے وہ اس ابنیت کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ اس بیٹے کی ولادت اس طرح نہیں ہوئی جس طرح عام بشر کی ولادت ہوتی ہے بلکہ اس کی حقیقت اس طرح ہے جس طرح باپ کو بیٹے سے محبت ہوتی ہے اور تین میں سے ایک کی تشریح وہ اس طرح کرتے ہیں جس طرح ایک کی تین صفات ہوتی ہیں ۔ اگرچہ آج تک وہ ان ناقابل فہم اور متضاد تصورات کو انسانی فہم وادراک کے اندر داخل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ آخر کار انہوں نے یہ قرار دیا ہے کہ وہ غیبی معمے ہیں اور ان کی حقیقت کا ادراک اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے رازوں سے پردہ اٹھائیں گے ۔

اللہ کی ذات شرکت اور مشابہت سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کی ذات اپنی مخلوق سے علیحدہ ذات ہو۔ خالق اور مخلوق کے درمیان جدائی اور مالک اور مملوک کے درمیان علیحدگی ایک قابل فہم تصور ہے جس کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے ۔

(آیت) ” انما اللہ الہ واحد سبحنہ ان یکون لہ ولد لہ ما فی السموت والارض “۔ (4 : 171) (اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے ۔ وہ پاک ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو ۔ زمین و آسمان کی ساری چیزین اس کی ملک ہیں)

اگر لوگوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بن باپ پیدا ہوجانا عجیب لگتا ہے اور وہ اس دنیا میں رات دن جو کچھ دیکھتے ہیں ‘ اس کے خلاف لگتا ہے تو یہ تعجب اس لئے ہوتا ہے کہ یہ واقعہ معروف اور متعاد طریقہ کار سے ذرا ہٹ کر ہے ۔ لیکن لوگ جس چیز کو روز دیکھتے ہیں وہ بھی پوری حقیقت نہیں ہے اور انکے سامنے یہ کائنات جن قوانین کے مطابق چل رہی ہے اللہ کی پوری سنت ان کے اندر محدود نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو ان سنتوں اور قوانین کا خالق ہے۔ وہ ان کو دہراتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے ان میں تصرف بھی کرسکتا ہے ۔ اس کی مشیت پر کوئی حد اور قید عائد نہیں ہے ۔

(آیت) ” انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ القھا الی مریم وروح منہ (4 : 171) (مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے (جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی)

مختصرا یہ کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور انکی پوزیشن اور دوسرے رسولوں کی پوزیشن میں کچھ فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ وہ وہی حیثیت رکھتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی ہے اور وہ اسی برگزیدہ گروہ اور مختاران برائے منصب رسالت میں سے ایک ہیں جو انسانی تاریخ کے طویل ترین دور میں وقتا فوقتا مبعوث ہوتے رہے ۔

(آیت) ” وکلمتہ القھا الی مریم “۔ (4 : 171) (ایک فرمان تھا جو مریم کی طرف بھیجا “ قریب الفہم تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو براہ راست اپنے فرمان سے پیدا کیا ۔ اس تکوینی حکم اور فرمان کے لئے قرآن کن فیکون کے الفاظ استعمال کرتا ہے ۔ اللہ نے مریم کی طرف یہ حکم متوجہ کیا اور اس کے بطن میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق ہوگئی اور یہ کسی باپ کے نطفے کے بغیر ہوئی ۔ یعنی اس طرح نہ ہوئی جس طرح انسان کی عمومی زندگی کی روٹین میں ہوتا ہے اور اللہ کا یہ فرمان اور یہ کلمہ وہ ہے جو ہر چیز کو عدم سے وجود میں لایا ہے ۔ اس لئے یہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو …

An-Nisaa 4:171Listen in Qur'an →
172

لَّن يَسْتَنكِفَ ٱلْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًۭا لِّلَّهِ وَلَا ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ٱلْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًۭا

مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندے ہوں اور نہ مقرب فرشتے (عار رکھتے ہیں) اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا

(آیت) ” نمبر 172 تا 173۔

قرآن کریم نے عقیدہ توحید لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی بڑی کوشش کی ہے ۔ ایسی وحدانیت جس کے اندر شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو اور نہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کیلئے کسی قسم کا تشبہ لازم آتا ہو ۔ قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ اللہ جیسا کوئی بھی نہیں ہے اور نہ کوئی چیز اس جیسی ہے ۔ نہ اللہ کی ماہیت میں اس کا کوئی شریک ہے ۔ نہ صفت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ نہ خاصیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ اور قرآن کریم نے خالق اللہ اور مخلوقات کے درمیان ایک ہی رابطہ جائز رکھا ہے ۔ اور وہی حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا تمام اشیاء (جس میں زندہ مخلوق بھی ہے) اس کے بندے اور تابع فرمان ہیں ۔ جو شخص بھی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ دیکھے گا کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو ذہن نشین کرانے کیلئے بہت ہی زور دیا ہے۔ اس حقیقت کے ہر پہلو کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ اس طرح کہ انسان کے دماغ میں کوئی شیڈ ‘ کوئی شک اور کوئی پیچیدگی نہ رہے ۔

پھر قرآن نے مزدی یہ دعوی بھی کیا ہے کہ یہ وہ حقیقت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو مبعوث فرمایا ہے اس لئے قرآن کریم نے ہر رسول کی سیرت کے واقعات بیان کرتے وقت اور ہر رسول کی دعوت کا خلاصہ پیش کرتے وقت یہ کہا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت عقیدہ توحید کی طرف رہی ہے ۔ نوح (علیہ السلام) کی رسالت کا یہی عقیدہ رہا ہے اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا محور بھی عقیدہ توحید رہا ہے ہر رسول کی دعوت میں یہ فقرہ بنیادی رہا ہے ۔ (یاقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” اے قوم ! اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ “ لہذا یہ بات نہایت ہی تعجب انگیز تھی کہ ان سماوی ادیان کے پیروکاروں میں سے کوئی شخص یا قوم عقیدہ توحید کے اندر تحریف کرے ‘ حالانکہ ان ادیان میں عقیدہ توحید مرکزی نکتہ رہا ہے اور ان ادیان نے اسے نہایت ہی قطعی اور فیصلہ کن انداز میں پیش کیا ہے ۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی دین سماوی کے پیروکار اللہ کے لئے کسی کو بیٹے یا بیٹیاں قرار دیں ۔ یا یہ کہ ذات باری اقانیم کی صورت میں کسی مخلوق کے اندر امتزاج اختیار کرے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے عقائد صرف باہر کے بت پرستوں ہی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔

اسلام میں تو الوہیت اور عبودیت باہم متقابل ہیں یہی اسلام کی اساس ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان حاکم و محکوم اور معبود اور عابد کے سوا کوئی اور تعلق نہیں ہوسکتا تھا ۔ محکوم اور عابد مخلوق ہوگی اور حاکم اور معبود اللہ ہوگا ۔

جب تک لوگ اس سیدھے نظریے اور عقیدے کو قبول نہ کریں گے نہ ان کی زندگی درست ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کے تصورات درست ہو سکتے ہیں ورنہ ان کے خیالات میں خواہ مخواہ کوئی شیڈ کوئی ملاوٹ اور کوئی شبہ موجود رہے گا ۔

ہاں یہ درست ہے کہ لوگوں کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی اور نہ ان کی سوچ میں ٹھہراؤ پیدا ہو سکتا ہے جب تک انہیں اپنے اور اپنے رب کے درمیان اس رابطے کا یقین نہ ہوجائے کہ رب ان کا حاکم ہے اور وہ اس کے محکوم ہیں۔ رب خالق ہے اور وہ مخلوق ہیں ۔ رب ان کا مالک ہے اور وہ اس کے مملوک ہیں ۔ یہ سب بندے اور مخلوقات اپنی اس حیثیت میں ایک جیسے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ کا بیٹا نہیں ہے ۔ کسی کے ساتھ اللہ کا امتزاج نہیں ہے اس لئے اللہ کے ساتھ کسی کی کوئی قرابت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ کسی کے پاس ایمان اور عمل کی کوئی پونجی ہو اور وہ اس پونجی کو اللہ کے سامنے قلبی رجحان کے ساتھ پیش کرے اور یہ تقرب وہ ہے جو اللہ کے ساتھ اس کی مخلوق میں ہر شخص حاصل کرسکتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ کوئی اللہ کا بیٹا ہے یا یہ کہ کسی کے ساتھ اللہ نے امتزاج اختیار کرلیا ہے تو یہ کسی بشر کو بھی حاصل نہیں ہے ۔

جب تک لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ حقیقت نہیں بیٹھ جاتی کہ وہ سب کے سب ایک ہی رب کے بندے اور غلام ہیں ‘ اس وقت تک ان کی زندگی …

An-Nisaa 4:172Listen in Qur'an →
173

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِۦ ۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْتَنكَفُوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًۭا

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کو ان کا پورا بدلا دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔ اور جنہوں نے (بندوں ہونے سے) عاروانکار اور تکبر کیا ان کو تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے

(آیت) ” نمبر 172 تا 173۔

قرآن کریم نے عقیدہ توحید لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی بڑی کوشش کی ہے ۔ ایسی وحدانیت جس کے اندر شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو اور نہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کیلئے کسی قسم کا تشبہ لازم آتا ہو ۔ قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ اللہ جیسا کوئی بھی نہیں ہے اور نہ کوئی چیز اس جیسی ہے ۔ نہ اللہ کی ماہیت میں اس کا کوئی شریک ہے ۔ نہ صفت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ نہ خاصیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ اور قرآن کریم نے خالق اللہ اور مخلوقات کے درمیان ایک ہی رابطہ جائز رکھا ہے ۔ اور وہی حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا تمام اشیاء (جس میں زندہ مخلوق بھی ہے) اس کے بندے اور تابع فرمان ہیں ۔ جو شخص بھی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ دیکھے گا کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو ذہن نشین کرانے کیلئے بہت ہی زور دیا ہے۔ اس حقیقت کے ہر پہلو کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ اس طرح کہ انسان کے دماغ میں کوئی شیڈ ‘ کوئی شک اور کوئی پیچیدگی نہ رہے ۔

پھر قرآن نے مزدی یہ دعوی بھی کیا ہے کہ یہ وہ حقیقت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو مبعوث فرمایا ہے اس لئے قرآن کریم نے ہر رسول کی سیرت کے واقعات بیان کرتے وقت اور ہر رسول کی دعوت کا خلاصہ پیش کرتے وقت یہ کہا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت عقیدہ توحید کی طرف رہی ہے ۔ نوح (علیہ السلام) کی رسالت کا یہی عقیدہ رہا ہے اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا محور بھی عقیدہ توحید رہا ہے ہر رسول کی دعوت میں یہ فقرہ بنیادی رہا ہے ۔ (یاقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” اے قوم ! اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ “ لہذا یہ بات نہایت ہی تعجب انگیز تھی کہ ان سماوی ادیان کے پیروکاروں میں سے کوئی شخص یا قوم عقیدہ توحید کے اندر تحریف کرے ‘ حالانکہ ان ادیان میں عقیدہ توحید مرکزی نکتہ رہا ہے اور ان ادیان نے اسے نہایت ہی قطعی اور فیصلہ کن انداز میں پیش کیا ہے ۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی دین سماوی کے پیروکار اللہ کے لئے کسی کو بیٹے یا بیٹیاں قرار دیں ۔ یا یہ کہ ذات باری اقانیم کی صورت میں کسی مخلوق کے اندر امتزاج اختیار کرے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے عقائد صرف باہر کے بت پرستوں ہی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔

اسلام میں تو الوہیت اور عبودیت باہم متقابل ہیں یہی اسلام کی اساس ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان حاکم و محکوم اور معبود اور عابد کے سوا کوئی اور تعلق نہیں ہوسکتا تھا ۔ محکوم اور عابد مخلوق ہوگی اور حاکم اور معبود اللہ ہوگا ۔

جب تک لوگ اس سیدھے نظریے اور عقیدے کو قبول نہ کریں گے نہ ان کی زندگی درست ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کے تصورات درست ہو سکتے ہیں ورنہ ان کے خیالات میں خواہ مخواہ کوئی شیڈ کوئی ملاوٹ اور کوئی شبہ موجود رہے گا ۔

ہاں یہ درست ہے کہ لوگوں کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی اور نہ ان کی سوچ میں ٹھہراؤ پیدا ہو سکتا ہے جب تک انہیں اپنے اور اپنے رب کے درمیان اس رابطے کا یقین نہ ہوجائے کہ رب ان کا حاکم ہے اور وہ اس کے محکوم ہیں۔ رب خالق ہے اور وہ مخلوق ہیں ۔ رب ان کا مالک ہے اور وہ اس کے مملوک ہیں ۔ یہ سب بندے اور مخلوقات اپنی اس حیثیت میں ایک جیسے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ کا بیٹا نہیں ہے ۔ کسی کے ساتھ اللہ کا امتزاج نہیں ہے اس لئے اللہ کے ساتھ کسی کی کوئی قرابت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ کسی کے پاس ایمان اور عمل کی کوئی پونجی ہو اور وہ اس پونجی کو اللہ کے سامنے قلبی رجحان کے ساتھ پیش کرے اور یہ تقرب وہ ہے جو اللہ کے ساتھ اس کی مخلوق میں ہر شخص حاصل کرسکتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ کوئی اللہ کا بیٹا ہے یا یہ کہ کسی کے ساتھ اللہ نے امتزاج اختیار کرلیا ہے تو یہ کسی بشر کو بھی حاصل نہیں ہے ۔

جب تک لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ حقیقت نہیں بیٹھ جاتی کہ وہ سب کے سب ایک ہی رب کے بندے اور غلام ہیں ‘ اس وقت تک ان کی زندگی …

An-Nisaa 4:173Listen in Qur'an →
174

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُم بُرْهَٰنٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ نُورًۭا مُّبِينًۭا

لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے

(آیت) ” نمبر 174۔

(آیت) ” یایھا الناس قد جآء کم برھان من ربکم “۔ (4 : 174) (” لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آگئی ہے “

قرآن کریم ایک ایسا کلام ہے جس کے اندر ایسے شواہد موجود ہیں کہ وہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے ۔ اس کے اندر ربانی کاریگری کے شواہد پائے جاتے ہیں اور اس کو یہ شواہد انسانوں کے کلام سے ممتاز کرتے ہیں۔ کلام الہی میں الفاظ کی نشست وبرخاست اور روانی قابل دید ہوتی ہے ۔ اور کلام اللہ کی فصاحت اور بلاغت ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس سے نہ صرف یہ کہ انکار نہیں کیا جاسکتا بلکہ بعض واقعات ایسے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جو ناقابل یقین نظر آتے ہیں مثلا وہ لوگ جو عربی زبان سے بالکل ناواقف ہیں وہ بھی جب قرآن مجید کی تلاوت سنتے ہیں تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے ۔

ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ہم لوگ بحری جہاز پر سوار تھے ۔ بحراوقیانوس میں جانب امریکہ سفر کر رہے تھے ۔ ہم نے عرشہ پر جمعہ کی نماز کا اہتمام کیا ۔ ہم میں سے چھ آدمی مختلف عرب ممالک کے باشندے تھے اور کچھ دوسری قومیتوں اور نوبہ کے حبشی بھی تھے جو جہاز کے عملے میں شامل تھے ۔

میں نے خطبہ دیا اور خطبے میں قرآن کریم کی بعض آیات تلاوت کیں ۔ اس جہاز کے تمام باشندے ہمارے نماز کے اس اجتماع کو گھیرے ہوئے تھے ۔ یہ مختلف قومیتوں کے لوگ تھے ۔ غور سے دیکھ رہے تھے ۔

نماز کے بعد بہت سے لوگ ہمارے پاس آتے اور اپنے تاثرات بیان کرتے رہے ۔ لیکن ان میں یوگوسلاویہ کی ایک محترمہ بہت ہی متاثر تھی ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ اپنی وہ اپنی کمزور انگریزی میں ہم سے یوں کہنے لگی کہ تمہاری عبادت کے اندر جو خشوع و خضوع ہے میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی ۔ مجھے تمہاری زبان کا ایک لفظ بھی نہیں آتا لیکن اس زبان کے اندر ایک ایسا صوتی ترنم ہے جو کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ خطیب کے خطبہ میں بعض جملے نہایت ہی ممتاز ہیں اور ان کا مجھ پر بہت ہی اثر ہوا ہے ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ خاص فقرے قرآنی آیات کے وہ حصے اور ٹکڑے تھے جو اپنی فصاحت وبلاغت کے اندر نہایت ہی ممتاز ہوتے ہیں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے ہاں یہ قاعدہ کلیہ ہے اور ہر قاری کی تلاوت قرآن کا سامعین پر ضرور ایسا ہی اثر ہوتا ہے لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ یہ قرآن کا بالکل ایک واضح وصف ہے کہ اس کی آواز ایسے لوگوں کو بھی مسحور کردیتی ہے جو بالکل عربی نہیں جانتے ۔

رہے وہ لوگ جو عربی کا خاص ذوق رکھتے ہیں اور جو عربی کے مختلف اسالیب سے واقف ہیں ‘ ان پر قرآن کے اثرات کی عجیب و غریب حکایات تاریخ کا حصہ ہیں ۔ جب حضور خود اہل کعبہ پر قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے ۔ تو اخنس ابن شریق ‘ ابو سفیان ابن حرب ‘ اور ابو جہل کا قصہ بہت ہی مشہور ہے ۔ سیرت ابن ہشام میں اس کی تفصیلات مذکور ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک رات ابوسفیان ابن حرب ‘ ابوجہل اور اخنس ابن شریق ثقفی ‘ بنی زہرہ کے حلیف رات کے وقت اپنی اپنی جگہ سے چل پڑے تاکہ حضور کا کلام سنیں جبکہ آپ رات کے وقت اپنے گھر میں نماز کے وقت تلاوت فرماتے تھے ۔ ہر شخ ایک بیٹھ گیا اور قرآن کریم کی تلاوت سے لطف اندوز ہوتا رہا ۔ ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کے بارے میں خبر نہ تھی ۔ وہ رات کے وقت کلام الہی سنتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی ۔ جب واپس ہونے لگے تو یہ سب ایک دوسرے سے راستے میں مل گئے ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو سخت سست کہا اور یہ بات نوٹ کی گئی کہ اگر کسی عام شخص نے دیکھ لیا تو وہ اس تحریک کا شکار ہوجائے گا ‘ پھر وہ واپس چلے گئے ، جب دوسری رات ہوئی تو پھر تینوں نہ رہ سکے اور پھر اپنے اپنے خفیہ مقامات پر بیٹھ گئے ‘ رات کو قرآن کریم سنتے رہے ‘ جب صبح ہونے لگی تو اتفاقا پھر راستے میں تینوں کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے پہلے طرح ایکدوسرے کو ملامت کی ۔ جب تیسری رات ہوئی تو …

An-Nisaa 4:174Listen in Qur'an →
175

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱعْتَصَمُوا۟ بِهِۦ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِى رَحْمَةٍۢ مِّنْهُ وَفَضْلٍۢ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَٰطًۭا مُّسْتَقِيمًۭا

پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کے بہشتوں) میں داخل کرے گا۔ اور اپنی طرف (پہچنے کا) سیدھا رستہ دکھائے گا

(آیت) ” نمبر 175۔

جب کسی انسان کے اندر ذوق ایمان پیدا ہوجائے تو وہ فورا اللہ کی پناہ میں آنے کی سعی شروع کردیتا ہے ۔ بشرطیکہ ایمان صحیح ہو اور نفس انسانی اللہ کی حقیقت کو پا چکے اور اسے معلوم ہوجائے کہ اللہ کی بندگی کا مفہوم کیا ہے ۔ جب یہ حقیقت کوئی پالے تو اس کے سامنے اللہ کی پناہ میں پہنچ جانے کے سوا اور کوئی راہ ہی نہیں رہتی اس لئے کہ اللہ ہی بادشاہت اور قدرت کا مالک ہے ۔ اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل کے سائے میں لے لیتا ہے ۔ اس دنیا میں بھی ان پر اللہ کی رحمت سایہ فگن ہوتی ہے اور آخرت میں بھی ان پر رحمت اور فضل وکرم ہوتا ہے ‘ وہ عاجلہ میں بھی کامیاب اور آجلہ میں بھی کامیاب ۔ پس صحیح ایمان ایک گھنے سائے والا ایک ایسا پرنم باغ ہے جس کے اندر انسان روح ‘ بےچین روح ‘ حیران وپریشان روح نہایت ہی خوشگوار باد نسیم پاتی ہے اور اطمینان و سکون حاصل کرتی ہے ۔ جبکہ اجتماعی لحاظ سے ایمان ایک ایسا اصول حیات ہے جس کے اوپر اجتماعی زندگی پاکیزگی ‘ احترام شرافت ‘ آزادی اور استحکام کے ساتھ بسر ہوتی ہے ۔ ہر انسان کو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ وہ صرف اللہ کا بندہ ہے اور اس کے سوا جس قدر اشیاء اس کائنات میں ہیں ان کا وہ سردار ہے ۔ اسلام کے ایمانی نظام زندگی کے سوا کسی اور نظام کے اندر یہ تصور ناپید ہے ۔ صرف اسلام اس دنیا میں ایک ایسا نظام ہے جس کا مقصد وحید صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے جیسے لوگوں کی غلامی سے نکالا جائے اور صرف اللہ کی بندگی میں داخل کیا جائے ۔ یہ نظریہ انسان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ صرف اللہ کو اپنا حاکم سمجھتا ہے اور لوگ تمام کے تمام لوگ ‘ اللہ کے بندے ہوکر ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ بادشاہت اور حاکمیت صرف اللہ کیلئے خاص ہوجاتی ہے اور انسان انسان کا غلام نہیں رہتا ۔ دوسرے نظاموں میں اگرچہ بظاہر وہ آزاد نظر آتا ہے لیکن حقیقتا وہ دوسروں کا غلام ہوتا ہے ۔

پس جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہ بہرحال اللہ کی رحمت اور فضل میں ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی اس زندگی میں بھی رحمت میں ہوتے ہیں اور اخروی زندگی میں بھی رحمت میں ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” ویھدیھم الیہ صراطا مستقیما “۔ (4 : 185) ” اللہ انکو اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ دکھا دے گا “۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اس فقرے میں لفظ الیہ ” اپنی طرف “ سے یوں نظر آتا ہے کہ انسان قدم بہ قدم اس کی طرف بڑھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہاتھ پکڑ کر مومنین کو اپنی طرف آگے بڑھا رہے ہیں ۔ انکو اللہ کی طرف آنے کے لئے بالکل سیدھے راستے کے ذریعے لے جایا رہا ہے ۔ وہ قدم بہ قدم اللہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس ایک لفظ سے عبادت کی خوبی اور حسن کو صرف وہ شخص ہی پاسکتا ہے جس نے علی وجہ البصیرت اللہ پر ایمان اپنے اندر پیدا کرلیا ہو اور اس نے راہ ایمان کو پختہ طور پر پکڑ لیا ہو ۔ اسے راہ حق پر ہونے کا پختہ یقین ہو ۔ اسے ہر لمحہ یہ بات محسوس ہوتی ہو کہ وہ راہ حق کا مسافر ہے ۔ اور راستے اس کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور وہ ہر لمحہ آگے ہی بڑھ رہا ہے ۔ سیدھے راستے پر واضح پالیسی کے ساتھ ۔ یہ ایک مفہوم ہے جس کا تعلق ذوق یقین کے ساتھ ہے اور اس کا احساس اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ذوق اور ذائقہ درست نہ ہو ۔

An-Nisaa 4:175Listen in Qur'an →
176

يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِى ٱلْكَلَٰلَةِ ۚ إِنِ ٱمْرُؤٌا۟ هَلَكَ لَيْسَ لَهُۥ وَلَدٌۭ وَلَهُۥٓ أُخْتٌۭ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَتَا ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا ٱلثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ۚ وَإِن كَانُوٓا۟ إِخْوَةًۭ رِّجَالًۭا وَنِسَآءًۭ فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۗ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا۟ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (خدا) دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا کلالہ بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا۔ اور اگر بہن مرجائے اور اس کے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا اور اگر (مرنے والے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اس لئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(آیت) ” نمبر 176۔

یہ اس سورة کا آخری سبق ہے اس سورة کا آغاز خاندانی تعلقات کی استواری سے ہوا تھا ۔ افراد خاندان کے درمیان تعلقات کی درستی سے ہوا تھا اور اس کے درمیان بعض اہم اجتماعی معاملات کا بیان بھی ہوا تھا ۔ اب یہ آخری سبق میراث کلالہ کے بارے میں ۔ حضرت ابوبکر ؓ اور دوسرے اصحاب کے مطابق کلالہ وہ ہے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور نہ اس کے والدین ہوں ۔

کلالہ کے بارے میں بعض احکام سورة کے آغاز میں بیان میراث کے وقت آگئے تھے ۔ مثلا یہ کہ اگر کلالہ کے عصبات نہ ہوں اور اس کی میراث کے حقدار صرف ماں کی طرف سے بہن بھائی ہوں ۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ۔

(آیت) ” وان کان رجل یورث کللۃ اوامراۃ ولہ اخ او اخت فلکل واحد منھما السدس فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین غیر مضآر وصیۃ من اللہ ، واللہ علیم حلیم “۔ ( سورة نمبر 12 آیت نمبر 12 آخری حصہ)

” اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم طلب ہے بےاولاد ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں مگر اس کا ایک بھائی یا بہن موجود ہو تو بھائی بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے ۔ جب کہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو ۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا اور بینا اور نرم خو ہے ۔ “ (آیت) ” 11 ‘ 12)

اب کلالہ کی دوسری شکل کا بیان کیا جاتا ہے جو وہاں نہ کیا گیا تھا ۔ اگر متوفی کے والدین اور اولاد نہ ہو اور صرف ایک حقیقی بہن ہو یا باپ کی طرف سے بہن ہو تو وہ نصف ترکہ کی حقدار ہوگی ۔ لیکن اگر ایسی بہن مر جائے تو اس کا تمام ترکہ یہ بھائی لے گا۔ اصحاب قروض کے حصص کے سوا اگر اس عورت کے والدین اور اولاد نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں اگر میت کی ایک کے بجائے دو بہنیں ہوں حقیقی ہوں یا صرف باپ کی طرف سے ہوں تو وہ دو تہائی کی حقدار ہوں گی ۔ اگر بہت سے بھائی بہن موجود ہوں تو مطابق اصول مرد کا حصہ عورت کے دو حصوں کے برابر ہوگا ۔ ہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر حقیقی بہن بھائی موجود ہوں تو پھر صرف باپ میں شریک بہن یا بھائی محروم ہوجائیں گے ۔

یہ آیت میراث ختم ہوجاتی ہے اور اس پر اس سورة کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ اور آخر میں وہی قرآنی تنبیہ اور اختتامیہ آتا ہے کہ تمام باتوں کا مآل اور مرجع اللہ ہی کی طرف ہے اس طرح تمام حقوق واوجبات اور تمام مالی اور غیر مالی امور میں شریعت کی پابندی کو لازمی کردیا جاتا ہے ۔

(آیت) ” یبین اللہ لکم ان تضلوا ، واللہ بکل شیء علیم (4 : 176) ” اللہ تمہارے لئے احکام کی توضیح کرتا ہے کہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے “۔ یہ نہایت ہی جامع آیت ہے ۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے میراث میراث کا بھی اور دوسرے امور کا بھی ، خاندانی تعلقات کا بھی اور اجتماعی امور کا بھی ۔ احکام کا بھی اور قانون سازی کا بھی ، یا تو تم ہر معاملے میں اللہ کے احکام کی تابعداری کرو گے یا پھر گمراہی میں پڑو گے ۔ تمہارے زندگی بسر کرنے کے صرف دو طریقے ہیں ۔ کوئی تیسر اطریقہ نہیں ہے ۔ یا تو طریقہ ہدایت ہے ۔ جو اللہ نے بیان کیا ہے اور یا کوئی دوسرا طریقہ ہے جو گمراہی ہے ۔ اللہ نے سچ کہا ہے ۔ (آیت) ” فما ذا بعد الحق الا الضلال “ ” سچائی کے علاوہ گمراہی کے سوا اور کیا ہے “۔

An-Nisaa 4:176Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.