Muslim99Muslim99
← Tafsir library

4. An-Nisaa

The Women · Medinan · 176 ayahs

سُورَةُ النِّسَاءِ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 171–176 of 176

171

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ إِنَّمَا ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلْقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌۭ مِّنْهُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۖ وَلَا تَقُولُوا۟ ثَلَٰثَةٌ ۚ ٱنتَهُوا۟ خَيْرًۭا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ سُبْحَٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٌۭ ۘ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًۭا

اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور کا کلمہٴ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اوراس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :211

یہاں اہل کتاب سے مراد عیسائی ہیں اور غلو کے معنی ہیں کسی چیز کی تائید و حمایت میں حد سے گزر جانا ۔ یہودیوں کا جرم یہ تھا کہ مسیح کے انکار اور مخالفت میں حد سے گزر گئے ، اور عیسائیوں کا جرم یہ ہے کہ وہ مسیح کی عقیدت میں محبت میں حد سے گزر گئے ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :212

اصل میں لفظ”کلمہ“ استعمال ہوا ہے ۔ مریم کی طرف کلمہ بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے حضرت مریم علیہا السلام کے رحم پر یہ فرمان نازل کیا کہ کسی مرد کے نطفہ سے سیراب ہوئے بغیر حمل کا استقرار قبول کر لے ۔ عیسائیوں کو ابتداءً مسیح علیہ السلام کی پیدائش بے پدر کا یہی راز بتایا گیا تھا ۔ مگر انہوں نے یونانی فلسفہ سے گمراہ ہو کر پہلے لفظ کلمہ کو ”کلام“ یا ”نطق “ ( ) کا ہم معنی سمجھ لیا ۔ پھر اس کلام و نطق سے اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت کلام مراد لے لی ۔ پھر یہ قیاس قائم کیا کہ اللہ کی اس ذاتی صفت نے مریم علیہا السلام کے بطن میں داخل ہو کر وہ جسمانی صورت اختیار کی جو مسیح کی شکل میں ظاہر ہوئی ۔ اس طرح عیسائیوں میں مسیح علیہ السلام کی الوہیت کا فاسد عقیدہ پیدا ہوا اور اس غلط تصور نے جڑ پکڑ لی کہ خدا نے خود اپنے آپ کو یا اپنی ازلی صفات میں سے نطق و کلام کی صفت کو مسیح کی شکل میں ظاہر کیا ہے ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :213

یہاں خود مسیح کو رُوْحٌ مِّنْہُ ( خدا کی طرف سے ایک روح ) کہا گیا ہے ، اور سورہ بقرہ میں اس مضمون کو یوں ادا کیا گیا ہے کہ اَیَّدْ نٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ( ہم نے پاک روح سے مسیح کی مدد کی ) ۔ دونوں عبارتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مسیح علیہ السلام کو وہ پاکیزہ روح عطا کی تھی جو بدی سے ناآشنا تھی ۔ سراسر حقانیت اور راست بازی تھی ، اور از سر تا پا فضیلت اخلاق تھی ۔ یہی تعریف آنجناب کی عیسائیوں کو بتائی گئی تھی ۔ مگر انہوں نے اس میں غلو کیا ، رُوْحٌ مِّنَ اللہِ کو عین روح اللہ قرار دے لیا ، اور روح القدس ( ) کا مطلب یہ لیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اپنی روح مقدس تھی جو مسیح کے اندر حلول کر گئی تھی ۔ اس طرح اللہ اور مسیح کے ساتھ ایک تیسرا خدا روح القدس کو بنا ڈالا گیا ۔ یہ عیسائیوں کا دوسرا زبردست غلو تھا جس کی وجہ سے وہ گمراہی میں مبتلا ہوئے ۔ لطف یہ ہے کہ آج بھی انجیل متی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ “فرشتے نے اسے ( یعنی یوسف نجار کو ) خواب میں دکھائی دے کر کہا کہ اے یوسف ابن داؤد ، اپنی بیوی مریم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر ، کیونکہ جو اس کے پیٹ میں ہے وہ روح القدس کی قدرت سے ہے” ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :214

یعنی اللہ کو واحد الٰہ مانو اور تمام رسولوں کی رسالت تسلیم کرو جن میں سے ایک رسول مسیح بھی ہیں ۔ یہی مسیح علیہ السلام کی اصلی تعلیم تھی اور یہی امر حق ہے جسے ایک سچے پیرو مسیح کو ماننا چاہیے ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :215

یعنی تین الہٰوں کے عقیدے کو چھوڑ دو خواہ وہ کسی شکل میں تمہارے اندر پایا جاتا ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ عیسائی بیک وقت توحید کو بھی مانتے ہیں اور تثلیث کو بھی ۔ مسیح علیہ السلام کے صریح اقوال جو اناجیل میں ملتے ہیں ان کی بنا پر کوئی عیسائی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ خدا بس ایک ہی خدا ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں ہے ۔ ان کے لیے یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں ہے کہ توحید اصل دین ہے ۔ مگر وہ جو ایک غلط فہمی ابتداء میں ان کو پیش آگئی تھی کہ کلام اللہ نے مسیح کی شکل میں ظہور کیا اور روح اللہ نے اس میں حلول کیا ، اس کی وجہ سے انہوں نے مسیح اور روح القدس کی الوہیت کو بھی خداوند عالم کی الوہیت کے ساتھ ماننا خواہ مخواہ اپنے اوپر لازم کرلیا ۔ اس زبردستی کے التزام سے ان کے لیے یہ …

An-Nisaa 4:171Listen in Qur'an →
172

لَّن يَسْتَنكِفَ ٱلْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًۭا لِّلَّهِ وَلَا ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ ٱلْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًۭا

مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندے ہوں اور نہ مقرب فرشتے (عار رکھتے ہیں) اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا

Explained together with ayah 171

An-Nisaa 4:172Listen in Qur'an →
173

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِۦ ۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْتَنكَفُوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًۭا

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کو ان کا پورا بدلا دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔ اور جنہوں نے (بندوں ہونے سے) عاروانکار اور تکبر کیا ان کو تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے

Explained together with ayah 171

An-Nisaa 4:173Listen in Qur'an →
174

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُم بُرْهَٰنٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ نُورًۭا مُّبِينًۭا

لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے

Explained together with ayah 171

An-Nisaa 4:174Listen in Qur'an →
175

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱعْتَصَمُوا۟ بِهِۦ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِى رَحْمَةٍۢ مِّنْهُ وَفَضْلٍۢ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَٰطًۭا مُّسْتَقِيمًۭا

پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کے بہشتوں) میں داخل کرے گا۔ اور اپنی طرف (پہچنے کا) سیدھا رستہ دکھائے گا

Explained together with ayah 171

An-Nisaa 4:175Listen in Qur'an →
176

يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِى ٱلْكَلَٰلَةِ ۚ إِنِ ٱمْرُؤٌا۟ هَلَكَ لَيْسَ لَهُۥ وَلَدٌۭ وَلَهُۥٓ أُخْتٌۭ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌۭ ۚ فَإِن كَانَتَا ٱثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا ٱلثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ۚ وَإِن كَانُوٓا۟ إِخْوَةًۭ رِّجَالًۭا وَنِسَآءًۭ فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۗ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا۟ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (خدا) دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا کلالہ بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا۔ اور اگر بہن مرجائے اور اس کے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا اور اگر (مرنے والے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اس لئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :219

یہ آیت اس سورہ کے نزول سے بہت بعد نازل ہوئی ہے ۔ بعض روایات سے تو یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن کی سب سے آخری آیت ہے ۔ یہ بیان اگر صحیح نہ بھی ہو تب بھی کم از کم اتنا تو ثابت ہے کہ یہ آیت سن ۹ ہجری میں نازل ہوئی ۔ اور سورہ نساء اس سے بہت پہلے ایک مکمل سورہ کی حیثیت سے پڑھی جا رہی تھی ۔ اسی وجہ سے اس آیت کو ان آیات کے سلسلہ میں شامل نہیں کیا گیا جو احکام میراث کے متعلق سورہ کے آغاز میں ارشاد ہوئی ہیں ، بلکہ اسے ضمیمہ کے طور پر آخر میں لگا دیا گیا ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :220

کَلَالہ کے معنی میں اختلاف ہے ۔ بعض کی رائے میں کَلَالہ وہ شخص ہے جو لا ولد بھی ہو اور جس کے باپ اور دادا بھی زندہ نہ ہوں ۔ اور بعض کے نزدیک محض لا ولد مرنے والے کو کلالہ کہا جاتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آخر وقت تک اس معاملہ میں متردد رہے ۔ لیکن عامہ فقہاء نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اس رائے کو تسلیم کرلیا ہے کہ اس کا اطلاق پہلی صورت پر ہی ہوتا ہے ۔ اور خود قرآن سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ، کیونکہ یہاں کلالہ کی بہن کو نصف ترکہ کا وارث قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ اگر کلالہ کا باپ زندہ ہو تو بہن کو سرے سے کوئی حصہ پہنچتا ہی نہیں ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :221

یہاں ان بھائی بہنوں کی میراث کا ذکر ہو رہا ہے جو میت کے ساتھ ماں اور باپ دونوں میں ، یا صرف باپ میں مشترک ہوں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک خطبہ میں اس معنی کی تصریح کی تھی اور صحابہ میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہ کیا ، اس بنا پر یہ مُجْمَع علیہ مسئلہ ہے ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :222

یعنی بھائی اس کے پورے مال کا وارث ہوگا اگر کوئی اور صاحب فریضہ نہ ہو ۔ اور اگر کوئی صاحب فریضہ موجود ہو ، مثلاً شوہر ، تو اس کا حصہ ادا کرنے کے بعد باقی تمام ترکہ بھائی کو ملے گا ۔

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :223

یہی حکم دو سے زائد بہنوں کا بھی ہے ۔

An-Nisaa 4:176Listen in Qur'an →

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.