وَأَخْذِهِمُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَقَدْ نُهُوا۟ عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَٰطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا
اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ …